18/09/2021
*ایک ہفتہ کورونا کے باعث لاک ڈاؤن لگا۔ تعلیمی ادارے بند ہوئے۔*
*اور پھر وفاقی وزیرتعلیم نے میٹرک اور انٹر کے طلبہ کو پاس کرکے۔۔ سپلی ختم کرنے اور سال میں دو سالانہ امتحان لینے کا اعلان کردیا*۔
*کورونا لاک ڈاؤن کے باعث اس سارے عمل کو بڑی آسانی سے ہضم کرلیا گیا۔*
*لیکن یہ دراصل ایجوکیشن سسٹم کی تبدیلی کا وہ مرحلہ تھا جسے 2025 کے بعد آنا تھا۔*
*عوام اور تعلیمی اداروں کو راضی کرنا تھا۔ مگر حکومت نے ابھی اسے آسانی کے ساتھ نہ صرف لاگو لاگو کردیا۔ بلکہ عوام نے بھی مان لیا۔*
*یہ سسٹم دراصل میٹرک اور انٹر کو اکٹھا کر ایک چار سالہ ایجوکیشن سسٹم کرنے کی طرف ابتدائی قدم ہے۔ جس کو مکمل کرنے کی مدت2025 سے 2033 تک کی تھی۔*
*جیسے دو سالہ گریجویشن اور دو سالہ ماسٹرز کو ختم کرکے ایک بی ایس کی چار سالہ سمیسٹر وائز ڈگری لائی گئی ہے۔*
*ایسے ہی میٹرک اور انٹر کو اکٹھا کرکے ان کی جگہ چار سالہ ڈگری سمیسٹر وائز کرکے لانچ کی جانی ہے۔ جس کا نام میٹرک ہوگا۔ سٹوڈنٹ مڈل کے بعد گروپ کا انتخاب کرکے میٹرک میں داخل ہوگا۔ بی ایس کے لیے ایچ ای سی کا مشکل ترین ٹیسٹ پاس کرکے چند سٹوڈنٹس بی ایس میں جائیں گے۔*
*اور*
*بی ایس کی چھلنی سے گزرنے والے پی ایچ ڈی کی طرف جانے سے پہلے یوگیٹ کے نام پر چھلنی دے گزریں گے۔ اور بمشکل چند ہی طلبہ پی ایچ ڈی کرسکیں گے۔*
یہ نظام تعلیم مکمل نافذ ہونے کے بعد ایجوکیشن سسٹم میں۔۔۔مڈل کے بعد
میٹرک (چار سالہ) ،
گریجویشن (چار سالہ)
اور
پی ایچ ڈی (کم از کم دو سالہ زیادہ سے زیادہ پانچ سالہ)
کا ایجوکیشن سسٹم بن جائے گا۔
پی ایچ ڈی کے بعد بھی کسی کی پسلی ہوئی تو وہ ڈی لیٹ کرسکتا ہے۔
ایم بی بی ایس کے بجائے ہیلتھ سائنسز کو آگے لایا جائے گا۔ جس میں ہر طالب علم جاسکے گا۔ اور یہ سادہ بی ایس کے برابر ہوگی۔
انجئیرنگ کے لیے تو بی ایس کی ڈگری ہی اب جاری ہورہی ہے۔ جو ایکویلینس میں سادہ بی ایس کے برابر ہے۔
اس سسٹم کے فوائد تو ہیں کہ۔۔۔
طلبہ کو کوالٹی ایجوکیشن میسر آئے گی۔
معاشرے میں مفید علوم شامل نصاب ہوں گے۔
ایجوکیٹڈ افراد کم مگر بہترین ہوں گے
تو دوسری طرف
اس کا بڑا نقصان یہ ہے کہ
کم طلبہ تعلیم حاصل کرسکیں گے۔
کم طلبہ آگے آئیں گے۔
بہت تھوڑے طلبہ ہی پاس ہوکر نوکریوں کی کوشش کریں گے۔
حکومت کے لیے بےروزگاری کی ٹینشن بھی ختم ہو جائے گی۔ کہ اکثریت نوکریوں کی اہل ہی نہیں رہے گی۔
مڈل کے بعد فی سمیسٹر بیس بیس ، تیس تیس ہزار دینا غریب کے بس کی بات قطعاً نہیں۔
اس لیے غریب کا بچہ مڈل سے آگے نہیں پڑھ پائے گا۔
یوں۔۔۔
ملک میں تعلیمی نظام ایک بار پھر مشرف دور سے پہلے والے معیار یعنی انڈر میٹرک تک پہنچ جائے گا۔
دوسری طرف دینی مدارس کے طلبہ کی ایکویلینس بھی ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہو جائے گی۔
آخری ڈگری جس سند کے برابر ہے۔ وہی ختم۔۔۔ تو پھر ایکویلینس کس کے برابر؟
پہلے چھے درجات کی ایکویلینس پہلے سے ہی نہیں ہورہی۔۔۔
سمیسٹر سسٹم کے لازمی مضامین نہ پڑھانے کے باعث ایکویلینس ملے گی نہیں۔
آج الحاق الحاق کھیلنے والے دینی مدارس کے امتحانی بورڈز بس چند سال میں ہی آٹومیٹک طریقے سے بےاثر ہونے والے ہیں۔
مگر جاگنا انہوں نے ابھی نہیں۔۔۔ کہ۔۔
ابھی ایک دوسرے کو آپس میں سبق سکھانا ۔۔۔اہم ترین''۔۔۔ کام ہے۔
رہ گئی ایکویلینس اور ڈگری۔۔۔ تو یہ طلبہ کا مسئلہ ہے۔ وہ تب دیکھا جائے گا جب پیدا ہوگا۔
منقول