Professor Tariq Naseem Awan

Professor Tariq Naseem Awan

Share

For sharing information of news and views

21/09/2024

ڈپریشن

Depression
ڈپریشن - اداسی - افسردگی - دکھی پن

تعارف:

وقتاً فوقتا ہم سب اداسی، مایوسی اور بیزاری میں مبتلا ہو تے ہیں۔ عمو ماً یہ علامات ایک یا دو ہفتے میں ٹھیک ہو جاتی ہیں اور ہماری زندگیوں میں ان سے بہت زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ کبھی یہ اداسی کسی وجہ سے شروع ہوتی ہے اور کبھی بغیر کسی وجہ کے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ عام طور سے ہم خود ہی اس اداسی کا مقابلہ کر لیتے ہیں۔بعض دفعہ دوستوں سے بات کرنے سے ہی یہ اداسی ٹھیک ہوجاتی ہے اور کسی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن طبّی اعتبار سے اداسی اسوقت ڈپریشن کی بیماری کہلانے لگتی ہے جب:



• اداسی کا احساس بہت دنوں تک رہے اور ختم ہی نہ ہو

• اداسی کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ زندگی کے روز مرہ کے معمولات اس سے متاثر ہونے لگیں۔
ڈپریشن میں کیسا محسوس ہوتا ہے؟

ڈپریشن کی بیماری کی شدت عام اداسی کے مقابلے میں جو ہم سب وقتاً فوقتاً محسوس کرتے ہیں کہیں زیادہ گہری اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اس کا دورانیہ بھی عام اداسی سے کافی زیادہ ہوتا ہےاور مہینوں تک چلتا ہے۔ درج ذیل ًعلامات ڈپریشن کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر مریض میں تمام علامات مو جود ہوں لیکن اگر آپ میں ان میں سے کم از کم چار علامات موجود ہوں تو اس بات کا امکان ہے کہ آپ ڈپریشن کے مرض کا شکار ہوں۔



۱۔ ہر وقت یا زیادہ تر وقت اداس اور افسردہ رہنا

۲۔ جن چیزوں اور کاموں میں پہلے دلچسپی ہو ان میں دل نہ لگنا، کسی چیز میں مزا نہ آنا

۳۔ جسمانی یا ذہنی کمزوری محسوس کرنا، بہت زیادہ تھکا تھکا محسوس کرنا

۴۔ روز مرہ کے کاموں یا باتوں پہ توجہ نہ دے پانا

۵۔ اپنے آپ کو اوروں سے کمتر سمجھنے لگنا، خود اعتمادی کم ہو جاناا

۶۔ ماضی کی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے اپنے آپ کو الزام دیتے رہنا، اپنے آپ کو فضول اور ناکارہ سمجھنا

۷۔ مستقبل سے مایوس ہو جانا

۸۔ خودکشی کے خیالات آنا یا خود کشی کی کوشش کرنا

۹۔ نیند خراب ہو جاناا

۱۰۔ بھوک خراب ہو جانا
ڈپریشن کیوں ہو جاتا ہے؟

بعض لوگوں میں ڈپریشن کی کوئی خاص وجہ ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ بہت سے لوگوں کو جو اداس رہتے ہیں اور ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں اپنی اداسی کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔اس کے باوجود ان کا ڈپریشن بعض دفعہ اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ انھیں مدد اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
•معاملاتَ زندگی

بعض تکلیف دہ واقعات مثلا کسی قریبی عزیز کے انتقال، طلاق، یا نوکری ختم ہوجانے کے بعد کچھ عرصہ اداس رہنا عام سی بات ہے۔ اگلے کچھ ہفتوں تک ہم لوگ اس کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور بات کرتے رہتے ہیں۔پھر کچھ عرصہ بعد ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیتے ہیں اور اپنی روز مرہ کی زندگی میں واپس آ جاتے ہیں۔لیکن بعض لوگ اس اداسی سے باہر نہیں نکل پاتے اور ڈپریشن کی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔
• حالات وواقعات

اگر ہم تنہا ہوں، ہمارے آس پاس کوئی دوست نہ ہوں، ہم ذہنی دباؤ کا شکار ہوں، یا ہم بہت زیادہ جسمانی تھکن کا شکار ہوں، ان صورتوں میں ڈپریشن کی بیماری ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
• جسمانی بیماریاں

جسمانی طور پر بیمار لوگوں میں ڈپریشن ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ بیماریاں ایسی بھی ہو سکتی ہیں جو زندگی کے لیے خطرناک ہوں مثلا کینسر یا دل کی بیماریاں، یا ایسی بھی ہو سکتی ہیں جو بہت لمبے عرصے چلنے والی اور تکلیف دہ ہوں مثلاً جوڑوں کی تکلیف یا سانس کی بیماریاں۔ نوجوان لوگوں میں وائرل انفیکشن مثلاً فلو کے بعد ڈپریشن ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
• شخصیت

ڈپریشن کسی کو کسی بھی وقت ہو سکتا ہےلیکن بعض لوگوں کو ڈپریشن ہونے کا خطرہ اور لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ ہماری شخصیت بھی ہو سکتی ہے اوربچپن کے حالات و تجربات بھی۔
• شراب نوشی

جو لوگ الکحل بہت زیادہ پیتے ہیں ان میں سے اکثر لوگوں کو ڈپریشن ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ یہ پتہ نہیں چلتا کہ انسان شراب پینے کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو گیا ہے یا ڈپریشن کی وجہ سے شراب زیادہ پینے لگا ہے۔جو لوگ شراب بہت زیادہ پیتے ہیں ان میں خود کشی کرنے کا خطرہ عام لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔
• جنس

خواتین میں ڈپریشن ہونے کا امکان مرد حضرات سے زیادہ ہوتا ہے۔
• موروثیت

ڈپریشن کی بیماری بعض خاندانوں میں زیادہ ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے والدین میں سے کسی ایک کو ڈپریشن کی بیماری ہے تو آپ کو ڈپریشن ہونے کا خطرہ اورلوگوں کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ ہے۔
مینک ڈپریشن یا بائی پولر ڈس آرڈر کیا ہے؟

جن لوگوں کو شدید ڈپریشن ہوتا ہے ان میں سے تقریباً دس فیصد لوگوں کو ایسےتیزی کے دورے بھی ہوتے ہیں جب وہ بغیر کسی وجہ کے بہت زیادہ خوش رہتے ہیں اور اور نارمل سے زیادہ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس تیزی کے دورے کو مینیا اور اس بیماری کو بائی پولر ڈس آرڈر کہتے ہیں۔ اس بیماری کی شرح مردوں اور عورتوں میں برابر ہے اور یہ بیماری بعض خاندانوں میں زیادہ ہوتی ہے۔
کیا ڈپریشن انسان کی ذاتی کمزوری کا دوسرا نام ہے؟

جس طرح سے ذیابطیس ایک بیماری ہے اور بلڈ پریشر کا بڑھ جانا ایک بیماری ہے اسی طرح سے ڈپریشن بھی ایک بیماری ہے۔ یہ بیماری کسی بھی انسان کو ہو سکتی ہے چاہے وہ اندر سے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو۔ جیسے اور بیماریوں کے مریض ہمدردی اور علاج کے مستحق ہوتے ہیں اسی طرح سے ڈپریشن کے مریض بھی ہمدردی اور علاج کے مستحق ہوتے ہیں، تنقید اور مذاق اڑائے جانے کے نہیں۔
ڈپریشن میں آپ کس طرح سے اپنی مدد کر سکتے ہیں؟
•اپنی جذباتی کیفیات کو راز نہ رکھیں۔

اگر آپ نے کوئی بری خبر سنی ہو تو اسے کسی قریبی شخص سے شیئر کر لیں اور انھیں یہ بھی بتائیں کہ آپ اندر سے کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ اکثر دفعہ غم کی باتوں کوکسی قریبی شخص کے سامنے بار بار دہرانے، رو لینے اور اس کے بارے میں بات کرنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔
•جسمانی کام کریں۔

کچھ نہ کچھ ورزش کرتے رہیں، چاہے یہ صرف آدھہ گھنٹہ روزانہ چہل قدمی ہی کیوں نہ ہو۔ ورزش سے انسان کی جسمانی صحت بھی بہتر ہوتی ہے اور نیند بھی۔ اپنے آپ کو کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھیں چاہے یہ گھر کے کام کاج ہی کیوں نہ ہوں۔ اس سے انسان کا ذہن تکلیف دہ خیالات سے ہٹا رہتا ہے۔
•اچھا کھانا کھائیے۔

متوازن غذا کھانا بہت ضروری ہےچاہے آپ کا دل کھانا کھانے کو نہ چاہ رہا ہو۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں سے سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ڈپریشن میں لوگ کھانا کھانا چھوڑ دیتے ہیں جس سے بدن میں وٹامنز کی کمی ہو جاتی ہے اور طبیعت اور زیادہ خراب لگتی ہے۔
•شراب نوشی سسے دور رہیں ۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ شراب پینے سے ان کے ڈپریشن کی شدت میں کمی ہو جاتی ہے۔ حقیقت میں شراب پینے سے ڈپریشن اور زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ اس سے وقتی طور پر کچھ گھنٹوں کے لیے تو فائدہ ہو سکتا ہے لیکن بعد میں آپ اور زیادہ اداس محسوس کریں گے۔ زیادہ شراب پینے سے آپ کے مسائل اور بڑھتے ہیں، آپ صحیح مدد نہیں لے پاتےاور آپ کی جسمانی صحت بھی خراب ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
•نیند

نیند کے نہ آنے سے پریشان نہ ہوں۔ اگر آپ سو نہ سکیں تو پھر بھی آرام سے لیٹ کر ٹی وی دیکھنے یا ریڈیو سننے سے آپ کو ذہنی سکون ملے گا اور آپ کی گھبراہٹ بھی کم ہو گی۔
•ڈپریشن کی وجہ کو دور کرنے کی کوشش کریں۔

اگر آپ کولگتا ہے کہ آپ کو اپنے ڈپریشن کی وجہ معلوم ہے تو اس کو لکھنے اور اس پہ غور کرنے سے کہ اسے کیسے حل کیا جائے ڈپریشن کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
•مایوس نہ ہوں۔

اپنے آپ کو یاد دلاتے رہیں کہ:

آپ جس تجربے سے گزر رہے ہیں اس سے اور لوگ بھی گزر چکے ہیں۔

ایک نہ ایک روز آپ آپ کا ڈپریشن ختم ہو جائے گا چاہے ابھی آپ کو ایسا نہ لگتا ہو۔
ڈپریشن کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے؟

ڈپریشن کا علاج باتوں (سائیکو تھراپی) کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے، اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے ذریعے بھی اور بیک وقت دونوں کے استعمال سے بھی۔ آپ کے ڈپریشن کی علامات کی نوعیت، ان کی شدت اور آپ کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ کے لیے ادویات کا استعمال زیادہ بہتر ہے یا سائیکو تھراپی۔ ہلکے اور درمیانی درجے کے ڈپریشن میں سائیکوتھراپی کے استعمال سے طبیعت ٹھیک ہو سکتی ہے لیکن اگر ڈپریشن زیادہ شدید ہو تو دوا دینا ضروری ہو جاتا ہے۔
باتوں کے ذریعے علاج (سائیکوتھراپی)

ڈپریشن میں اکثر لوگوں کو اپنے احساسات کسی با اعتماد شخص کے ساتھ شیئر کرنے سے طبیعت بہتر محسوس ہوتی ہے۔بعض دفعہ اپنے احساسات رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ بانٹنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ماہر نفسیات (سائیکولوجسٹ) سے بات کرنا زیادہ آسان لگتا ہے۔سائیکوتھراپی کے ذریعے علاج میں وقت لگتا ہے۔ عام طور سے آپ کو ماہر نفسیات سے ہر ہفتے ایک گھنٹے کے لیے ملنا ہوتا ہے اور اسکا دورانیہ ۵ ہفتے سے ۳۰ ہفتے تک ہو سکتا ہے۔
اینٹی ڈپریسنٹ ادویات۔

اگر آپ کا ڈپریشن شدید ہو یا کافی عرصے سے چل رہا ہو تو ہو سکتا ہے کہ آپ کا ڈاکٹر آپ کو اینٹی ڈپریسنٹ ادویات تجویز کرے۔ ان ادویات سے اداسی کم ہوتی ہے، زندگی بہتر لگنے لگتی ہے اور حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں بہتری ہوتی ہے۔ یاد رکھیے کہ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کا فائدہ دوا شروع کرنے کے بعد فوراً نظر آنا شروع نہیں ہوتا بلکہ اس میں ۲ سے ۳ ہفتے لگ سکتے ہیں۔بعض لوگوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دوا شروع کرنے کے بعد چند ہی دنون میں ان کی نیند بہتر ہو جاتی ہے اور گھبراہٹ کم ہو جاتی ہے لیکن ڈپریشن کم ہونے میں کئی ہفتے لگتے ہیں۔
اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کس طرح کام کرتی ہیں؟

انسانی دماغ میں متعدد کیمیائی مواد موجود ہیں جو ایک خلیے سے دوسرے خلیے تک سگنل پہنچاتے ہیں۔ایسا سمجھا جاتا ہے کہ ڈپریشن میں دو خاص کیمیکلز کی کمی ہوتی ہےجنھیں سیروٹونن اور نارایڈرینلین کہا جاتا ہے ۔ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات ان کیمیکلز کی مقدار دماغ میں بڑھانے میں مددگار ہو تی ہیں۔
اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے مضر اثرات۔

دوسری تمام ادویات کی طرح ڈپریشن مخا لف ادویات کے بھی مضر اثرات ہو تے ہیں مگر عام طور سے یہ شدید نہیں ہوتے اور دوا لیتے رہنے سے کچھ عرصے میں ختم ہو جاتے ہیں ۔ ایس ایس آر آئی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات شروع کے دنوں میں کچھ مریضوں میں متلی اور بے چینی پیدا کرتی ہیں۔ ٹرائی سائکلسٹ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لینے سے شروع کے چند ہفتوں میں منہ کی خشکی اور قبض کی شکایات ہو سکتی ہیں۔ اگر یہ مضر اثرات بہت شدید نہ ہوں تو امکان یہی ہے کہ آپ کا ڈاکٹر آپ کو کہے گا کہ دوا جاری رکھیں کیونکہ اکثر مریضوں میں دوا جاری رکھنے سے یہ اثرات کم یا ختم ہو جاتے ہیں۔



بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کولینے سے نیند آتی ہےاس لیے ان کو رات سونے سے پہلے لینے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ غنودگی کی صورت میں گاڑی چلانے اور بڑی مشینری کے استعمال سے گریز کریں۔ بعض ادویات کا بعض دوسری ادویات کے ساتھ ری ایکشن ہو سکتا ہےاس لیے اپنے ڈاکٹر کو ہر اس دوا سے آگاہ کریں جو آپ استعمال کر رہے ہیں۔ اگر آپ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لینے کے ساتھ ساتھ شراب پینا جاری رکھیں گے تو آپ کو بہت زیادہ نیند آئے گی اور دوا کا پورا فائدہ بھی نہیں ہو گا۔



دوا شروع کرنے کے بعد اپنے ڈاکٹر کو باقاعدگی سے دکھاتے رہیں تا کہ وہ یہ دیکھ سکے کہ آپ کو دوا سے فائدہ ہو رہا ہے کہ نہیں اور اس کے مضر اثرات تو نہیں ہو رہے۔اینٹی ڈپریسنٹ ادویات طبیعت صحیح ہو جانے کے بعد بھی کم از کم مزید چھ مہینے تک جاری رکھنی پڑتی ہیں ورنہ بیماری کی علامات واپس آنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات آہستہ آہستہ بند کی جاتی ہیں۔ اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر خود سے اچانک دوا بند نہ کریں۔



اکثر لوگ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات شروع کرنے سے پہلے پریشان ہوتے ہیں کہ وہ ان کے عادی ہو جائیں گےاور پھر انھیں ساری عمر ان دوائیوں کو لینا پڑے گا۔ یہ خیال صحیح نہیں، انسان اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کا س طرح سے عادی نہیں بنتا جیسے لوگ نیند کی دوائیوں مثلاً ویلیم، شراب یا نکوٹین کے عادی ہو جاتے ہیں۔ان نشہ آور چیزوں کے برعکس نہ اینٹی ڈپریسنٹ ادویہ کا فائدہ برقرار رکھنے کے لیے ان کی مقدار بڑھانی پڑتی ہے اور نہ ہی ان کی شدید طلب ہوتی ہے۔ البتہ اگر آپ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کو اچانک بند کریں تو گھبراہٹ، پتلا پاخانہ اور ڈراؤنے خواب کی شکایات ہو سکتی ہیں۔اگر دوائیں آہستہ آہستہ بند کی جائیں تو یہ شکایات ش*ذ و نادر ہی ہوتی ہیں۔
کیا مجھے ماہر نفسیاتی امراض (سائیکائٹرسٹ) کو دکھانا ہو گا؟

ڈپریشن کے بہت سارے مریض اپنے فیملی ڈاکٹر کے علاج سے ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ کی طبیعت اس سے صحیح نہ ہو تو ہو سکتا ہے آپ کو ماہر نفسیاتی امراض (سائیکائٹرسٹ) کو دکھانے کی ضرورت پڑے۔ سائیکائٹرسٹ ڈاکٹر ہو تے ہیں اور اس کے بعد انہوں نے نفسیاتی امراض کے علاج میں مزید تربیت حاصل کی ہو تی ہے
علاج نہ کرانے کی صورت میں کیا ہو تا ہے؟

اچھی خبر یہ ہے کہ ڈپریشن کے اسی فیصد مریض علاج نہ کروانے کے باوجود بھی ٹھیک ہو جاتے ہیں لیکن اس میں چار سے چھ مہینے یا اس سے بھی زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔آپ سوچیں گے کہ پھر علاج کروانے کی کیا ضرورت ہے؟ وجہ یہ ہے کہ باقی بیس فیصد مریض بغیر علاج کے اگلے دو سال تک ڈپریشن میں مبتلا رہیں گے اور پہلے سے یہ بتانا ممکن نہیں ہوتا کہ کون ٹھیک ہو جائے گا اور کون ٹھیک نہیں ہو گا۔اس کے علاوہ اگر علاج سے چند ہفتوں میں طبیعت بہتر ہو سکتی ہے تو انسان کئی مہینو ں تک اتنی شدید تکلیف کیوں برداشت کرتا رہے۔ کچھ لوگوں کا ڈپریشن اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ وہ خود کشی کر لیتے ہیں۔ اسی لیے اگر آپ کے ڈپریشن کی علامات کی شدت بڑھ گئی ہے اور ان میں کوئی کمی نہیں ہو رہی، آپ کے ڈپریشن نے آپکے کام، دلچسپیوں، اور رشتہ داروں اور دوستوں سے تعقات کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے، یا آپ کو اس طرح کے خیالات آنے لگے ہیں کہ آپکے زندہ رہنے کا کوئی فائدہ نہیں اور دوسرے لوگوں کے حق میں یہی بہتر ہے کہ آپ مر جائیں، تو آپ کو فوراً اپنا علاج کروانے کے لیے اپنے ڈاکٹر یا سائکائٹرسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔

12/07/2024
Photos from ‎طبی مشورے Health Cure with Natural Herbs‎'s post 03/07/2024
29/06/2024

مٹی_کےبرتن کا استعمال

مٹی کے برتن میں کھانا آہستہ آہستہ پکتا ہے
اس کے برعکس سِلور، سٹیل، اور پریشر کُکر میں کھانا جلدی جلدی تیار ہوتا ہے لیکن
یہ کھانا پکتا نہیں بلکہ گلتا ھے،
تو سب سے پہلے اپنے برتن بدلیں، جن لوگوں نے برتن بدل لیے، اُن کی زِندگی بدل گئی،
2- کُوکِنگ آئل
کوکنگ آئل وہ استعمال کریں،
جو کبھی نہ جَمے،
دُنیا کا سب سے بہترین تیل جو جمتا نہیں،
وہ زیتون کا تیل ہے،
لیکن یہ مہنگا ھے، ہمارے جیسے غریب لوگوں کے لیے سرسوں کا تیل ہے،
سرسوں کا تیل جمتا نہیں،
یہ وہ واحد تیل ہے،
جو ساری عُمر نہیں جمتا،
اور اگر جم جائے تو سرسوں نہیں ہے،
ہتھیلی پر سرسوں جمانے والی بات
بھی اسی لیے کی جاتی ہے
کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے
سرسوں کے تیل کی ایک خوبی یہ بھی ھے کہ اس کے اندر جس چیز کو بھی ڈال دیں گے،
اس کو جمنے نہیں دیتا،
اس کی زِندہ مِثال اچار ہے
جو اچار سرسوں کے تیل کے اندر رہتا ہے
اس کو جالا نہیں لگتا،
اور اِن شاءالله جب یہ سرسوں کا تیل آپ کے جسم کے اندر جاۓ گا تو آپ کو کبھی بھی فالج،
مِرگی یا دل کا دورہ نہیں ہوگا،
أپ کے گُردے فیل نہیں ہونگے،
پوری زندگی آپ بلڈ پریشر سے محفوظ رہیں گے،
اِن شاء الله
کیونکہ
سرسوں کا تیل نالیوں کو صاف کرتا ہے،
جب نالیاں صاف ہوجاٸیں گی تو دل کو زور نہیں لگانا پڑے گا،
سرسوں کے تیل کے فاٸدے ہی فاٸدے ہیں،
ہمارے دیہاتوں میں جب جانور بیمار ہوتے ہیں تو بزرگ کہتے ہیں کہ ان کو سرسوں کا تیل پلاٸیں،
أج ہم سب کو بھی سرسوں کے تیل کی ضرورت ہے،

3- نمک (نمک بدلیں)
نمک ہوتا کیا ھے؟
نمک اِنسان کا کِردار بناتا ھے،
ہم کہتے ہیں بندہ بڑا نمک حلال ھے،
یا پھر
بندہ بڑا نمک حرام ھے
نمک انسان کے کردار کی تعمیر کرتا ھے،
ہمیں نمک وہ لینا چاہیٸے جو مٹی سے آیا ہو،
اور وہ نمک أج بھی پوری دنیا میں بہترین پاکستانی کھیوڑا کا گُلابی نمک ھے،
پِنک ہمالین نمک 25 ڈالر کا 90 گرام یعنی 4000 روپے کا نوے گرام اور چالیس ہزار روپے کا 900 گرام بِکتا ھے،
اور ہمارے یہاں دس تا بِیس روپے کلو ھے،
بدقسمتی دیکھیں
ہم گھر میں آیوڈین مِلا نمک لاتے ہیں،
جس نمک نے ہمارا کردار بنانا تھا،
وہ ہم نے کھانا چھوڑ دیا۔
اس لٸے میری أپ سے گذارش ھے کہ ہمیشہ پتھر والا نمک استعمال کریں،

4- مِیٹھا
ہم سب کے دماغ کو چلانے کے لٸے میٹھا چاہیٸے،
اور میٹھا الله نے مٹی میں رکھا ہے ،
یعنی گَنّا اور گُڑ،
اور ہم نے گُڑ چھوڑ کر چِینی کھانا شروع کر رکھی ہے ،
خدارا گُڑ استعمال کریں گڑ

5- پانی
انسان کے لیے سب سے ضروری چیز پانی ہے ،
جس کے بغیر انسان کا زندہ رہنا ممکن نہیں،
پانی بھی ہمیں مٹی سے نِکلا ہُوا ہی پینا چاہیٸے،
پوری دنیا میں زمزم کا پانی سب سے بہترین پانی ہے،
اس کے بعد پھر پنچاب اور وادئ ھزارہ کا پانی ہے ،
اہم بات
کبھی بھی گندم کو چھان کر استعمال نہ کریں،
گندم جس حالت میں آتی ہے،
اُسے ویسے ہی استعمال کریں،
یعنی سُوجی، میدہ اور چھان وغیرہ نکالے بغیر
کیونکہ
ہمارے آقا کریم حضرت محمد بغیر چھانے أٹا کھاتے تھے،
تو پھر طے یہ ہوا کہ ہمیں یہ پانچ کام کرنے چاہٸیں،
1- مٹی کے برتن،
2- سرسوں کا تیل،
3- گُڑ،
4- پتھر والا نمک،
اور
5- زمین کے اندر والا پانی،
یاد رہے یہ پانی مٹی کے برتن میں رکھ کر مٹی کے گلاس یا پیالے میں پئیں،
اس کے علاوہ گندم کا ان چھنا آٹا،
اب سوال یہ ہے کہ ہم یہ ساری چیزیں کیوں لیں ؟
یہ ساری چیزیں ہم نے اس لیے لینی ہیں کہ اسی میں ہماری صحت ہے،
ہم پیدا بھی مٹی سے ہوئے ہیں اور واپس دفن بھی اسی مٹی میں ہونا ہے ..

29/06/2024

جنت کا مبارک درخت ( مکمل مضمون)
پاکستان میں زیتون ”شجرة مبارکہ“ کی کاشت
۔السلام علیکم دوستو۔۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ زیتون کا تیل سالن کے طور پر استعمال کرو اور اسے ( سر اور بدن میں ) لگاؤ ۔ یہ مبارک درخت سے حاصل ہوتا ہے ۔ صحیح ابن ماجہ
پاکستان اپنی ضرورت کا صرف تیس سے پینتیس فیصد کھانے کا تیل پیدا کرتا ہے باقی تمام تیل باہر سے منگواتا ہے۔۔ اور ہر پاکستانی سالانہ اوسط چوبیس لٹیر تیل استعمال کرتا ہے جو عالمی معیار کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے۔ ہندوستان میں یہ شرع انیس لیٹر ہے۔پاکستان ہر سال تین سے چار سو ارب روبے کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے بدقسمتی یہ ہے یہ تمام کھایا جانے والا تیل غیر معیاری اور نچلے درجے کا ہے۔

کیا زیتون کا تیل کھانا پکانے میں تلنے میں استعمال ہو سکتا ہے؟
یہ فیصلہ کرنے میں کہ کون سا تیل کھانا پکانے کے لیے استعمال کرنا ہے یا نہی ، تیل کا استحکام۔۔ "سموک" یعنی جلنے کے نقطہ سے زیادہ اہم ہے۔ زیتون کا تیل اولیک ایسڈ اور دوسرے مرکبات سے بھرپور ہوتا ہے جو انہیں بہت مستحکم بناتا ہے۔ ایکسٹرا ورجن زیتون کے تیل میں پولیفینول اور اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو تیل کے ٹوٹنے اور فری ریڈیکلز کی تشکیل سے لڑتے ہیں۔ اس کی وجہ سے، اضافی ورجن زیتون کا تیل سب سے زیادہ مستحکم کھانا پکانے کا تیل پایا گیا ہے۔ اسکا سموک لیول مختلف ھالتوں میں 370 f سے 410 فارن ھائیٹ تک ہے۔۔۔ جو کہ بہت بلند ہے۔۔۔

۔۔زیتون کا زکر قرآن مجید میں چھے جگہ آیا ہے اللہ رب کعبہ نے قران عزیز میں اسے "مبارک درخت" قرار دیا ہے۔ اور اسکے تیل کے نور کو اپنے نور سے تتشبیح دیا ہے
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ[35]

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد] اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے، جس میں ایک چراغ ہے، وہ چراغ ایک فانوس میں ہے، وہ فانوس گویا چمکتا ہوا تارا ہے، وہ (چراغ) ایک مبارک درخت زیتون سے روشن کیا جاتا ہے، جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔ اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہو جائے، خواہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو۔ نور پر نور ہے، اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ [35]
اور قرآن عظیم میں دوسری جگہ اسکی قسم بھی کھائ ہے
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ. وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ (1)
قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی
اور تیسری جگہ فرمایا
ِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَشَجَرَةً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَيۡنَآءَ تَنۡۢبُتُ بِالدُّهۡنِ وَصِبۡغٍ لِّلۡاٰكِلِيۡنَ

"اور (اسی پانی سے) طور سینا سے ایک درخت(زیتون ) اُگتا ہے جو روغن لئے اُگتا ہے اور کھانے والوں کو سالن کا
اسکے بارے میں جناب رسول کریم ﷺ کے ارشاد گرامی کی تعداد چالیس سے اوپر بتائ جاتی ہے
(سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زیتون کا تیل لگاو اور اس کا سالن بناو، کیونکہ وہ بابرکت ہے۔“ قال الشيخ الالباني: صحيح)
دنیا میں زیتون کا نوے فیصد استعمال تیل کے لیے کیا جاتا باقی دس فیصد مربے اچار بنانے کے کام آتا ہے ویسے تو زیتون کے تیل کے بے شمار فائدے ہیں لیکن کچھ درج زیل ہیں
بیڈ کولیسٹرول سے نجات
بلڈ پریشر سے نجات
پیٹ کی چربی سے نجات
کینسر کے خلاف زبردست قوت مدافعت
اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور
آنتوں کی صحت میں بہتری
سوزش کو کم کرنے والی خصوصیات
اسٹروک کے خطرات میں کمی
دل کی بیماریوں سے بچاؤ
ہڈیوں کی صحت میں بہتری
دماغی امراض کے خطرات میں کمی
زیتون کے درخت پر خزاں نہی آتی یہ سدا بہار ہے۔ انتہائ گرم و سرد موسم کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے دنیا میں سپین اور اٹلی اسکے سب سے بڑے سپلائر ہیں۔ غیر ملکی ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس اس کی کاشت کا رقبہ سپین اور اٹلی کے مقابل ڈبل سے بھی کافی زیادہ ہے
شجر کاری کی اہمیت دین اسلام میں مسلمہ ہے اپ اس کی اہمیت کا اندازہ اس قول رسول کریم ﷺ سے بخوبی لگا سکتے ہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں سبز ٹہنی ہو اور وہ اس بات پر قادر ہو کہ قیامت قائم ہونے سے پہلے وہ اسے لگا لے گا تو ضرور لگائے ۔ (مسند احمد)
ارشادِ نبویؐ ہے :’’اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہے اور وہ اسے لگا سکتا ہے تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو۔(مسند احمد )
پھل دار درخت لگانے کی اہمیت کا اندازہ اپ رسول اقدس ﷺ کے اس مبارک قول سے لگا سکتے ہیں
عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی بھی مسلمان ( جو ) درخت لگاتا ہے ، اس میں سے جو بھی کھایا جائے وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے ، اور اس میں سے جو چوری کیا جائے وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور جنگلی جانور اس میں سے جو کھا جائیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور جو پرندے کھا جائیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور کوئی اس میں ( کسی طرح کی ) کمی نہیں کرتا مگر وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے ۔‘‘ صحیح مسلم
۔سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس مسلمان نے کوئی درخت لگایا اور اس کا پھل آدمیوں اور جانوروں نے کھایا تو اس لگانے والے کے لیے صدقہ کا ہے۔“
(صحیح بخاری)

15/06/2024

عید قربان پر تمام اسرائیلی مشروبات کوکا کولا پیپسی سے پرہیز کریں۔

02/06/2024

معدے اور جگر کی گرمی کا علاج نوجوانوں کے لئے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Gujranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Gujranwala
52250