19/08/2026
عصر حاضر میں جس طرح میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، کیا قرآن مجید میں اس پر کوئی دلیل ہے؟
جواب: جی ہاں! اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے:
قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَـفۡرَحُوۡا۔
"فرما دیجئے: (یہ سب کچھ) الله کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے (جو بعثتِ محمدی صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے تم پر ہوا ہے) پس مسلمانوں کو چاہئے کہ اس پر خوشیاں منائیں۔" (سورۃ يونس، آیت نمبر 58)
اس آیت مبارکہ کے دو پہلوؤں پر غور کرتے ہیں:
1. آمد و بعثتِ مصطفٰی ﷺ — سب سے بڑا فضل و رحمت
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر جملہ مفسرین و سلف صالحین کے نزدیک اس آیت میں فضل و رحمت سے مراد دین، قرآن، شریعت، اور آمد و بعثتِ محمدی ﷺ ہے۔ بغور دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ امت کو ملنے والی ہر نعمت کا مرکز ذاتِ مصطفٰی ﷺ ہے، لہٰذا آپ کی آمد کائنات کے لیے سب سے بڑا اللہ تعالٰی کا فضل اور اس کی رحمت ہے۔
2. اظہارِ مسرت کا شرعی و معاصر اسلوب
قرآن مجید نے فضل و رحمت پر خوشی کا حکم دیا ہے۔ جہاں اسلامی تناظر میں شروع سے نماز، روزہ، تلاوت، صدقہ و کھانا کھلانا خوشی کے اظہار کا ذریعہ ہیں، وہیں عصر حاضر میں شرق تا غرب بچوں کی ولادت، عقیقہ، شادی بیاہ، نیا گھر، نئی نوکری، وطن کی آزادی جیسی ہر خوشی میں کیک کٹنگ، جھنڈیاں، لائٹنگ اور ڈیکوریشن جیسے مباح امور بھی خوشی کے اظہار کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ جب یہ تمام صورتیں جائز ہیں تو پھر کائنات کی سب سے بڑی نعمت کی آمد پر ان کا استعمال سب سے زیادہ حق بجانب ہے۔
حافظ فرحان ثنائی
(سینئر ریسرچ اسکالر، FMRi لاہور،
صدر منہاج القرآن علماء کونسل ضلع گوجرانوالہ)