Hafiz Farhan Sanai

Hafiz Farhan Sanai Senior Islamic Research Scholar, Educationist, Blogger and Social Media Activist

عصر حاضر میں جس طرح میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، کیا قرآن مجید میں اس پر کوئی ...
19/08/2026

عصر حاضر میں جس طرح میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، کیا قرآن مجید میں اس پر کوئی دلیل ہے؟
جواب: جی ہاں! اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے:
قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَـفۡرَحُوۡا۔
"فرما دیجئے: (یہ سب کچھ) الله کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے (جو بعثتِ محمدی صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے تم پر ہوا ہے) پس مسلمانوں کو چاہئے کہ اس پر خوشیاں منائیں۔" (سورۃ يونس، آیت نمبر 58)
اس آیت مبارکہ کے دو پہلوؤں پر غور کرتے ہیں:
​1. آمد و بعثتِ مصطفٰی ﷺ — سب سے بڑا فضل و رحمت
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر جملہ مفسرین و سلف صالحین کے نزدیک اس آیت میں فضل و رحمت سے مراد دین، قرآن، شریعت، اور آمد و بعثتِ محمدی ﷺ ہے۔ بغور دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ امت کو ملنے والی ہر نعمت کا مرکز ذاتِ مصطفٰی ﷺ ہے، لہٰذا آپ کی آمد کائنات کے لیے سب سے بڑا اللہ تعالٰی کا فضل اور اس کی رحمت ہے۔
​2. اظہارِ مسرت کا شرعی و معاصر اسلوب
قرآن مجید نے فضل و رحمت پر خوشی کا حکم دیا ہے۔ جہاں اسلامی تناظر میں شروع سے نماز، روزہ، تلاوت، صدقہ و کھانا کھلانا خوشی کے اظہار کا ذریعہ ہیں، وہیں عصر حاضر میں شرق تا غرب بچوں کی ولادت، عقیقہ، شادی بیاہ، نیا گھر، نئی نوکری، وطن کی آزادی جیسی ہر خوشی میں کیک کٹنگ، جھنڈیاں، لائٹنگ اور ڈیکوریشن جیسے مباح امور بھی خوشی کے اظہار کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ جب یہ تمام صورتیں جائز ہیں تو پھر کائنات کی سب سے بڑی نعمت کی آمد پر ان کا استعمال سب سے زیادہ حق بجانب ہے۔
حافظ فرحان ثنائی
(سینئر ریسرچ اسکالر، FMRi لاہور،
صدر منہاج القرآن علماء کونسل ضلع گوجرانوالہ)

کیا قرآن مجید میں انبیاء کرام علیہم السلام کے میلاد کے تذکرے موجود ہیں؟جواب: جی ہاں، قرآن مجید میں اللہ تعالٰی نے کئی ان...
18/08/2026

کیا قرآن مجید میں انبیاء کرام علیہم السلام کے میلاد کے تذکرے موجود ہیں؟
جواب: جی ہاں، قرآن مجید میں اللہ تعالٰی نے کئی انبیاء کرام علیہم السلام کی ولادت اور میلاد کے تذکرے بیان کیے ہیں۔
1۔ سورت القصص کی ابتدائی 14 آیات مبارکہ میں اللہ تعالٰی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے پہلے کے حالات، ان کی ولادت، ان کے بہ امرِ الٰہی صندوق میں ڈالے جانے، پھر فرعون کے محل میں پرورش پانے اور رضاعت کے لیے ان کی والدہ کی طرف لوٹائے جانے، اور جوانی اور بعثت تک ایک ایک چیز کا بیان کیا ہے۔ یہی ان کا میلاد نامہ ہے۔
2۔ پھر سورت مریم کی آیات 16 تا 35 میں اللہ رب العزت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے میلاد کے احوال کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالٰی کے امر سے حضرت مریم علیہا السلام کے پاس آئے، اور وہ امید سے ہوئیں۔ وضع حمل کے وقت ان کی تکیف، اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ولادت، اور حضرت مریم علیہا السلام کو چشمے کا شیریں پانی اور تازہ کھجوریں عطا ہونے کا ذکر ہوا۔ پھر وہ قوم کے پاس آئیں، حضرت عیسٰی علیہ السلام نے پنگھوڑے میں کلام کیا، اور مقام رسالت کو ذکر کیا۔ یہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کا میلاد ہے۔
قرآن مجید سے ثابت ہوا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات میلاد کو بیان کرنا عین حق اور اللہ تعالٰی کی سنت اور طریقہ ہے۔ سو اللہ تعالٰی کے حبیب کریم حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد پاک کے ذکر میں آپ کے والدین ماجدین سمیت آباء و اجداد کا تذکرہ، آپ کی ولادت مبارکہ کی پرنور ساعتوں کا ذکر، حضرت حلیمہ سعدیہ کا گود میں لینے کا ذکر، اور فضائل و کمالات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیان بھی عین سنت الٰہیہ اور قرآن مجید کی پیروی میں ہے۔
حافظ فرحان ثنائی
(سینئر ریسرچ اسکالر، FMRi لاہور،
صدر منہاج القرآن علماء کونسل ضلع گوجرانوالہ)

کیا قرآن مجید سے انبیاء کرام علیہم السلام کا میلاد کا دن منانا ثابت ہے؟جواب: جی ہاں، قرآن مجید میں انبیاء کرام علیہم الس...
17/08/2026

کیا قرآن مجید سے انبیاء کرام علیہم السلام کا میلاد کا دن منانا ثابت ہے؟
جواب: جی ہاں، قرآن مجید میں انبیاء کرام علیہم السلام کا میلاد کا دن منانا ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دن ان پر خصوصی طور پر سلام بھیجنا ثابت ہے۔ یہ انبیاء کرام علیہم السلام کا میلاد کا دن منانے کا ثبوت ہے، کیوں کہ قرآن جس چیز سے روکنا چاہے اس پر ممانعت کا حکم وارد کر دیتا ہے۔
1۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی ولادت کے دن ان پر خصوصی سلام اللہ تعالیٰ نے خود بھیجا، ارشاد فرمایا:
وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ۔
’’اور یحییٰ پر سلام ہو ان کے میلاد کے دن۔‘‘
(سورۃ مریم: 15)
یہ آیت مبارکہ واضح کرتی ہے کہ نبی کی ولادت کا دن قرآن میں باعثِ سلامتی اور خیر و برکت قرار دیا گیا ہے۔
2۔ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی ولادت اور میلاد کے دن کا ذکر خود فرمایا:
وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ۔
’’اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن۔‘‘
(سورۃ مریم: 33)
یعنی قرآن نے ایک نبی کے یومِ ولادت کو خود اس نبی کی زبان سے بیان فرمایا۔
جب بنی اسرائیل کے انبیاء کرام علیہم السلام کے میلاد کے دن ان پر سلام بھیجنا، ان کا ذکر خیر کرنا سلامتی، عافیت اور رحمت کا باعث ہے، تو سارے نبیوں و رسولوں کے سردار، حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کے دن کو منانا، آپ پر سلام بھجینا، ذکر خیر کرنا سب سے بڑھ کر سلامتی، عافیت، اور رحمت و برکت کا باعث ہے۔
حافظ فرحان ثنائی
(سینئر ریسرچ اسکالر، FMRi لاہور،
صدر منہاج القرآن علماء کونسل ضلع گوجرانوالہ)

برکاتِ اولیاء کے سبب فتح و نصرت اور رزق کی فراہمیحضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ...
03/08/2026

برکاتِ اولیاء کے سبب فتح و نصرت اور رزق کی فراہمی
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لَنْ تَخْلُو الْأرْضُ مِنْ أَرْبَعِيْنَ رَجُلًا مِثْلَ إِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلِ الرَّحْمٰنِ، فَبِهِمْ يُسْقَوْنَ، وَبِهِمْ يُنْصَرُوْنَ، مَا مَاتَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَبْدَلَ اللهُ مَکَانَهُ آخَرَ. وَقَالَ قَتَادَةُ: لَسْنَا نَشُکُّ أَنَّ الْحَسَن مِنْهُمْ.
’’زمین کبھی بھی (ایسے) چالیس آدمیوں سے خالی نہیں ہو گی جو خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مانند ہوں گے۔ انہی کے تصدق سے لوگوں کو سیراب کیا جائے گا اور انہی کے صدقے ان کی مدد کی جائے گی۔ ان میں سے کوئی آدمی اس دنیا سے پردہ نہیں کرتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی اور آدمی کو لے آتا ہے۔"
’’حضرت قتادہ بیان کرتے ہیں ہم اس میں کچھ شک نہیں کرتے کہ حضرت حسن (بصری) ان میں سے ہیں۔‘‘
1. طبرانی، المعجم الأوسط، 4: 247، رقم: 4101
2۔ ھیثمی، مجمع الزوائد، 10: 63 (امام ھیثمی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔ )
محقق: حافظ فرحان ثنائی (سینئر ریسرچ اسکالر، فرید ملت ریسرچ انسٹیٹیوٹ لاہور، وصدر منہاج القرآن علماء کونسل ضلع گوجرانوالہ)

حضور سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب "کشف المحجوب" کے "نواں کشف حجاب۔ صحبت اور اس ...
02/08/2026

حضور سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب "کشف المحجوب" کے "نواں کشف حجاب۔ صحبت اور اس کے آداب و احکام" میں ادب سے متعلق شرح و بسط سے گفتگو کرتے ہیں۔ وہ اس کی ابتداء میں لکھتے ہیں کہ
اللہ تعالٰی فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾ [التحريم: 6]
"اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ۔"
اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ أي أدبوهم. (یعنی اپنے اہل و عیال کو ادب سکھاؤ۔) یہ تفسیر دراصل حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ ہے۔ (أدب المجالسة، لابن عبدالبر، 1: 106)
پھر باختلاف الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان درج کیا:
إن الله أَدَّبَنِي فأَحْسَنَ تَأْدِيبِي۔ (آداب الصحبة لأبي عبد الرحمان السلمي: 124)
(بے شک اللہ تعالٰی نے مجھے ادب سکھایا، یہاں تک کہ میرا ادب حد کمال کو پہنچ گیا۔)
حسن ادب کی وضاحت میں حضرت علی ہجویری رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ
"دین اور دنیا کے جملہ معاملات کی خوبصورتی اور تمیز آداب ہی پر منحصر ہے۔ ہر طرح کے لوگوں اور مختلف جگہوں کے اپنے الگ الگ آداب ہوتے ہیں۔
​دنیا کے تمام انسان—خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب، عقیدے یا نظریے سے ہو— وہ کافر ہوں یا مسلمان، ملحد ہوں یا موحد، سنی ہوں یا بدعتی، اس بات پر متفق ہیں کہ آپس کے معاملات میں اچھے اخلاق اور ادب ہی سب سے بہترین چیز ہے۔ ادب کے بغیر دنیا کا کوئی بھی رواج یا طریقہ قائم نہیں رہ سکتا۔
• ​اخلاق کی حفاظت: لوگوں کے درمیان شرافت اور مروت ادب ہی سے قائم رہتی ہے۔
• ​دین کی حفاظت: دین میں سنت پر عمل بھی ادب ہی کا نتیجہ ہے۔
• ​عزت کی حفاظت: دنیا میں انسان کی عزت اور وقار کی بنیاد بھی ادب ہی پر ہے۔
​یہ تینوں باتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں: جس شخص میں شرافت (مروت) نہیں ہوگی، وہ سنت پر صحیح طور پر عمل نہیں کر سکے گا؛ اور جو سنت کی پاسداری نہیں کرے گا، وہ اپنی اور دوسروں کی عزت کا خیال بھی نہیں رکھ سکے گا۔"
محقق: حافظ فرحان ثنائی (سینئر ریسرچ اسکالر، فرید ملت ریسرچ انسٹیٹیوٹ لاہور، وصدر منہاج القرآن علماء کونسل ضلع گوجرانوالہ)

جنت تین نفوس قدسیہ کی طلب گار اور مشتاقحضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے...
27/07/2026

جنت تین نفوس قدسیہ کی طلب گار اور مشتاق
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى ثَلاَثَةٍ: عَلِيٍّ، وَعَمَّارٍ، وَسَلْمَانَ۔
"بے شک جنت تین افراد کی مشتاق (شائق) ہے: علی، عمار اور سلمان (فارسی) رضی اللہ عنہم۔" (سنن الترمذی # 3797 - امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔)

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی سیرت کا ایک گوشہ:ایمانی بصیرت اور فیصلہ سازی کا اعلٰی معیار  ام المؤمنین حضرت عائشہ صد...
24/07/2026

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی سیرت کا ایک گوشہ:
ایمانی بصیرت اور فیصلہ سازی کا اعلٰی معیار
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ​
"مَا خُيِّرَ عَمَّارٌ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلاَّ اخْتَارَ أَرْشَدَهُمَا"۔
"عمار کو جب بھی دو امور کے درمیان اختیار دیا گیا، تو انہوں نے ان میں سے ہمیشہ زیادہ رشد و ہدایت والے راستے کو چنا۔"(سنن الترمذی: 3799، سنن ابن ماجہ: 122۔ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔)
اس حدیثِ مبارکہ کی تین بنیادی جہتوں سے شرح درج ذیل ہے:
​۱. فنی و لغوی شرح (Linguistic & Textual Analysis)
◦ ​«مَا ... إِلاَّ»: یہ عربی زبان میں استثناء مفرغ اور حصر (Limitation/Emphasis) کا اسلوب ہے۔ اس کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا یہ عمل کوئی اتفاقی بات نہیں تھی، بلکہ ان کی سیرت اور بصیرت کا مستقل اور دائمی طرۂ امتیاز تھا۔
◦ ​«خُيِّرَ»: فعلِ مجهول (Passive Voice) ہے، جو اشارہ کرتا ہے کہ خواہ اختیار دینے والا اللہ کی تقدیر ہو، حالات ہوں یا دیگر انسان—ہر موڑ پر ان کا انتخابِ فکر و عمل بے عیب رہا۔
◦ ​«أَرْشَدَهُمَا»: اسمِ تفضیل (Superlative Degree) ہے جو "رُشد" سے ماخوذ ہے۔ "رُشد" کا مطلب ہے ہدایت، عقل مندی، نفع بخش اور صحیح ترین راستے کو اپنانا۔ یعنی وہ صرف "اچھے" اور "برے" میں سے اچھے کو نہیں چنتے تھے، بلکہ دو اچھے کاموں میں سے بھی زیادہ صائب اور افضل کا انتخاب کرتے تھے۔
​۲. ایمانی و روحانی شرح (Spiritual & Faith Dimension)
(1) ایمانی فراست اور "نورِ بصیرت": رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: «اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ» (مؤمن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے)۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی زندگی اس ایمانی بصیرت کا عملی نمونہ تھی۔ وہ معاملات کو ظاہری مفاد یا جذباتی رو میں بہہ کر نہیں، بلکہ تقویٰ اور رضائے الٰہی کے ترازو میں تول کر پرکھتے تھے۔
(2) حق کی پہچان کا معیار: یہ حدیث بتاتی ہے کہ جب انسان کا باطن پاک ہو اور وہ اللہ کی اطاعت میں کامل ہو، تو اللہ تعالی اس کے دل میں ایسا "فرقان" (حق و باطل میں فرق کرنے والی کسوٹی) پیدا فرما دیتا ہے کہ وہ پرفتن اور پیچیدہ حالات میں بھی گمراہ نہیں ہوتا۔
(3) فتنوں کے دور میں مشعلِ راہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی اختلافات (جنگِ صفین وغیرہ) کے موقع پر بہت سے صحابہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے موقف کو دیکھتے تھے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی اس پیشگوئی اور تزکیے کی روشنی میں سب جانتے تھے کہ عمار رضی اللہ عنہ کا قدم ہمیشہ حق اور رشد کی طرف ہی اٹھے گا۔
​۳. عصری شرح و تطبیق (Contemporary Relevance
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذکور ارشاد مبارک حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے قوتِ فیصلہ (Decision-Making)، اعلیٰ فکری بصیرت اور اخلاقی معیارات کی سند ہے۔ اگر ہم اس حدیث کو عصرِ حاضر کے تناظر میں دیکھیں، تو یہ فیصلہ سازی کا ایک ایسا عالمگیر اصول (Framework) فراہم کرتی ہے جس کی ضرورت آج کے پیچیدہ انسان کو ہر قدم پر پیش آتی ہے۔
​(1). آپشنز کی بھر مار اور صحیح کا انتخاب (Decision Fatigue & Choice Architecture)
​موجودہ دور "معلومات اور اختیارات کی بھر مار" کا دور ہے۔ ہم روزانہ سیکڑوں فیصلے کرتے ہیں—کیرئیر، سوشل میڈیا، معلومات کی تصدیق، اور طرزِ زندگی سے متعلق۔ انسان کے پاس جب مختلف راستے اور نظریات سامنے آتے ہیں، تو وہ اکثر آسان، جلدی فائدہ دینے والے یا نفس کو بھانے والے راستے کو چن لیتا ہے۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا اسوہ سکھاتا ہے کہ جب بھی دو چیزوں کے درمیان انتخاب کرنا پڑے، تو صرف آسان یا فائدے مند راستے کو نہ دیکھو، بلکہ "أَرْشَد" (زیادہ ہدایت، بااصول اور پائیدار خیر) والے راستے کو ترجیح دو، چاہے وہ راستہ وقتی طور پر مشکل یا کٹھن ہی کیوں نہ ہو۔
​(2). تنازعات میں درمیانی اور ہدایت والا راستہ
​جب سماجی، معاشی یا خاندانی سطح پر دو راستے ہوں—ایک ایسا جس میں ضد، انا اور نفاق ہو، اور دوسرا جس میں اصلاح، صلح اور صبر ہو۔ اس کشمکش میں نفس انسان کو انا کی تسکین والے راستے کی طرف اکساتا ہے۔ جبکہ اس حدیث کی روح یہ تقاضا کرتی ہے کہ انسان اپنی انا (Ego) کو مار کر وہ راستہ چنے جو معاشرے کی جوڑ توڑ کے بجائے اصلاح اور سلامتی کی طرف جاتا ہو۔
​(3). افضل کا انتخاب (Prioritization):
فقہِ اسلام میں ایک اہم اصول "ترجیحات کا فہم" (Understanding Priorities) ہے۔ بسا اوقات دو جائز یا اچھے کاموں میں سے ایک زیادہ اہم ہوتا ہے۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا کردار ہمیں سکھاتا ہے کہ "اچھے" پر قناعت کرنے کے بجائے ہمیشہ "بہترین اور سب سے زیادہ بابرکت" راستے کو ترجیح دینی چاہیے۔
​حاصلِ کلام
​حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمانا دراصل امت کے لیے ایک معیار (Standard) مقرر کرنا ہے کہ
​"زندگی کے ہر موڑ پر، جب بھی آسان بمقابلہ درست، مفاد بمقابلہ اصول، اور نفع بمقابلہ حق کا مقابلہ آئے—تو ہمیشہ 'درست، بااصول اور حق' (أرشد) کا انتخاب کرو۔"
​یہ حدیث مبارک عصرِ حاضر کے ہر فرد کو ایک خوددار، بااصول اور بصیرت مند انسان بننے کا درس دیتی ہے۔
محقق: حافظ فرحان ثنائی (سینئر ریسرچ اسکالر، فرید ملت ریسرچ انسٹیٹیوٹ لاہور، وصدر منہاج القرآن علماء کونسل ضلع گوجرانوالہ)

وضو کے چار فرائضاللہ تبارک وتعالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاة...
22/07/2026

وضو کے چار فرائض
اللہ تبارک وتعالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْن۔
​"اے ایمان والو! جب (تمہارا) نماز کے لیے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو (وضو کے لیے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں سمیت (دھو لو)..." (سورة المائدة: 6)
اس آیت مبارکہ سے وضو کے چار بنیادی فرائض ثابت ہوتے ہیں:
1. ​چہرہ دھونا: پیشانی کے بالوں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک پورا چہرہ ایک بار دھونا۔
2. ​دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا: دونوں ہاتھوں کو انگلیوں کے پوروں سے لے کر کہنیوں سمیت اچھی طرح ایک بار دھونا۔
3. ​سر کا مسح کرنا: بھیگے ہوئے ہاتھ سے کم از کم چوتھائی سر کا مسح کرنا (تَر ہاتھ سر پر پھیرنا)۔
4. ​دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا: دونوں پاؤں کو ٹخنوں (گٹوں) سمیت اچھی طرح ایک بار دھونا۔
محقق: حافظ فرحان ثنائی (سینئر ریسرچ اسکالر، فرید ملت ریسرچ انسٹیٹیوٹ لاہور، وصدر منہاج القرآن علماء کونسل ضلع گوجرانوالہ)

یزید لعین کی کھلم کھلا بے دینی، اور فسوق و فجور پر اہلِ مدینہ کی بغاوت (اکابر تابعین کی گواہیاں)امامِ عالی مقام امام حسی...
13/07/2026

یزید لعین کی کھلم کھلا بے دینی، اور فسوق و فجور پر اہلِ مدینہ کی بغاوت (اکابر تابعین کی گواہیاں)
امامِ عالی مقام امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد یزید نے مدینہ طیبہ پر ایک ناتجربہ کار، کم سِن نوجوان عثمان بن محمد بن ابی سفیان کو گورنر مقرر کر دیا۔ اس نے یزید کی حمایت دلانے کے لیے مدینہ طیبہ سے کثیر زعماء و قائدین پر مشتمل ایک وفد یزید کے پاس دمشق بھیجا، تاکہ وہ رشوت کے طور پر ان پر مال و زر لُٹائے، اور یہ اس سے مرعوب ہوں۔ اس وفد میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اولاد میں سے حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ، حضرت عبد اللہ بن ابی عمرو بن حفص بن المغیرہ المخزومی، اور حضرت المنذر بن الزبیر بن العوام و دیگر شامل تھے۔
دمشق پہنچنے پر یزید نے ان کی خوب آو بھگت کی، اور سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے رشوت کے طور پر حضرت عبد اللہ بن حنظلہ کو ایک لاکھ درہم، اور ان کے آٹھ صاحب زادوں میں سے ہر ایک کو دس دس ہزار درہم دیئے۔ اس وفد کے واپس مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد یزید پلید کے متعلق کیا تاثرات تھے۔ آگے روایت کے الفاظ پڑھیے:
فلما قدم أولئك النفر الوفد المدينة قاموا فيهم فأظهروا شتم يزيد وعيبه وقالوا: قدمنا من عند رجل ليس له دين يشرب الخمر، ويضرب بالطنابير ويعزف عنده القيان ويلعب بالكلاب ويسمر عنده الحراب، وهم اللصوص، وإنا نشهدكم أنا قد خلعناه. وقام عبد الله بن حنظلة الغسيل فقال: جئتكم من عند رجل لو لم أجد إلا بني هؤلاء لجاهدته بهم، وقد أعطاني وأكرمني وما قبلت منه عطاءه إلا لأتقوى به. فخلعه الناس وبايعوا عبد الله بن حنظلة الغسيل على خلع يزيد وولوه عليهم.
’’پھر جب وہ وفد مدینہ پہنچا، تو وہ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور یزید کو علانیہ برا بھلا کہنے اور اس کے عیب بیان کرنے لگے؛ انہوں نے کہا: ہم ایک ایسے شخص کے پاس سے آئے ہیں جس کا کوئی دین نہیں، وہ شراب پیتا ہے، موسیقی کے ساز بجاتا ہے، اس کے پاس گانے والیاں ناچ گانا کرتی ہیں، وہ کتوں سے کھیلتا ہے اور ڈاکو اور چور اس کے پاس رات گزارتے ہیں۔ ہم تمہیں گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہم نے (اپنے اوپر مسلط) اس یزید کی بیعت توڑ دی ہے۔ پھر عبداللہ بن حنظلہ (غسیل الملائکہ) کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں تمہارے پاس ایک ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں کہ اگر مجھے (اس کے خلاف لڑنے کے لیے) اپنے ان بیٹوں کے علاوہ کوئی اور نہ بھی ملا، تو میں ان ہی کے ساتھ اس کے خلاف جہاد کروں گا۔ اس نے مجھے (رشوت کے طور پر) مال و ہدیہ دیا اور میری عزت افزائی کی، اور میں نے اس کا یہ مال صرف اس لیے قبول کیا تاکہ میں اس کے ذریعے (اس کے خلاف) طاقت حاصل کروں۔ چناچہ لوگوں نے یزید کی بیعت توڑ دی اور عبداللہ بن حنظلہ کو اپنا امیر منتخب کر کے ان کے ہاتھ پر یزید کی معزولی کی بیعت کر لی۔‘‘
اُس وفد میں سے حضرت المنذر بن الزبیر بن العوام کسی کام کی غرض سے ابنِ زیاد کے پاس گئے تھے، یزید نے اسے لکھا کہ انہیں قید کر دو، مگر وہ ان کا دوست تھا تو اس نے حضرت المنذر کو چھوڑ دیا۔ جب یہ واپس مدینہ منورہ پہنچے تو انہوں نے بھی آ کر یزید کے متعلق بتایا:
إنه قد أجازني بمائة ألف ولا يمنعني ما صنع بي أن أخبركم خبره، والله إنه ليشرب الخمر، والله إنه ليسكر حتى يدع الصلاة! وعابه بمثل ما عابه به أصحابه وأشد.
)تاریخ الطبری، 5: 480، 481، المنتظم فی تاریخ الملوک والامم لابن الجوزی، 6: 7، والکامل فی التاریخ لابن الاثیر، 3: 203، 204، تاریخ ابن کثیر، 8: 216(
’’بے شک اس (یزید) نے مجھے ایک لاکھ (درہم یا دینار بطور رشوت) دیا، لیکن جو کچھ اس نے میرے ساتھ (سلوک) کیا، وہ مجھے اس بات سے نہیں روک سکتا کہ میں تمہیں اس کا اصل حال نہ بتاؤں۔ اللہ کی قسم! وہ یقیناً شراب پیتا ہے، اور اللہ کی قسم! وہ اس حد تک نشے میں دھت ہو جاتا ہے کہ نماز تک چھوڑ دیتا ہے! اور انہوں نے یزید میں وہی عیب نکالے جو ان کے ساتھیوں نے نکالے تھے، بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت عیب بیان کیے۔‘‘
ان تاریخی حقائق کا خلاصہ یہ ہوا کہ جب مدینہ کے معززین کا وفد یزید بن معاویہ کے دربار سے واپس مدینہ طیبہ لوٹا، تو انہوں نے مدینہ کے لوگوں کے سامنے گواہی دی کہ یزید امارت کے منصب کا ہر گز اہل نہیں ہے۔ وہ تو ایک عام مسلمان کے اخلاقی معیار پر بھی پورا نہیں اترتا۔ انہوں نے یزید کو بے دین، شرابی، نماز کا تارک، ناچ گانے کا رسیا، کتوں سے کھیلنے والا اور چوروں و لٹیروں کا سرپرست قرار دیا۔ اس وفد کی گواہی کے بعد مدینہ کے لوگوں نے یزید کے خلاف باقاعدہ بغاوت کا اعلان کر دیا اور عبداللہ بن حنظلہ کو اپنا امیر بنا لیا۔ اس کے جواب میں یزید لعین نے مسلم بن عقبہ کی قیادت میں ایک بڑا لشکر مدینہ بھیجا، جس کے نتیجے میں "واقعہ حرّہ" پیش آیا، جہاں مدینہ منورہ میں شدید قتل و غارت گری ہوئی اور ہزاروں صحابہ و تابعین شہید ہوئے۔
محقق: حافظ فرحان ثنائی (سینئر ریسرچ اسکالر، فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لاہور، و صدر منہاج القرآن علماء کونسل ضلع گوجرانوالہ)

یزید کی بے دینی، بغض اہل بیت اطہار، اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی جرأت و حق گوئی​ایک شامی بدطینت شخص نے مولا علی شیر ...
07/07/2026

یزید کی بے دینی، بغض اہل بیت اطہار، اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی جرأت و حق گوئی
​ایک شامی بدطینت شخص نے مولا علی شیر خدا علیہ السلام کی صاحبزادی فاطمہ کو کنیز کے طور پر مانگا، جس پر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے جرأت و شجاعت سے خون حیدری کا حق ادا کرتے ہوئے یزید کو تاریخی جوابات دیئے۔
قالت زينب: "كذبت والله ولؤمت! ما ذلك لك وله (ليزيد)" فغضب يزيد فقال لھا: "كذبتِ، واللہ إن ذلك لي، ولو شئت أن أفعله لفعلت." قالت: "كلا! والله، ما جعل الله ذلك لك إلا أن تخرج من ملتنا، وتدين بغير ديننا. قالت: فغضب يزيد، واستطار ثم قال: إياي تستقبلين بهذا؟ إنما خرج من الدين أبوك و أخوك، فقالت زينب: بدين الله ودين أبي ودين أخي وجدي، اهتديت أنت وأبوك وجدك. قال: كذبت يا عدوة الله، قالت: أنت أمير المؤمنين مسلط، تشتم ظالما، وتقهر بسلطانك.
"سیدہ زینب (سلام اللہ علیہا) نے فرمایا: اللہ کی قسم! تو نے جھوٹ بولا ہے اور کمینگی دکھائی ہے! یہ (حق) نہ تیرے پاس ہے اور نہ ہی اس (یزید) کے پاس۔ اس پر یزید غصے میں آ گیا اور اس نے آپ سے کہا: تو نے جھوٹ بولا ہے، خدا کی قسم! یہ یقیناً میرا حق ہے، اور اگر میں ایسا کرنا چاہوں تو ضرور کر سکتا ہوں۔ آپ نے جواباً فرمایا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اللہ نے تمہیں یہ حق نہیں دیا، الا یہ کہ تم ہماری ملت (اسلام) سے خارج ہو جاؤ اور ہمارے دین کے سوا کوئی اور دین اختیار کر لو۔ راوی کہتا ہے کہ (یہ سن کر) یزید غصے سے تلخ ہو گیا اور آپے سے باہر ہو گیا، پھر کہنے لگا: تو میرے سامنے اس طرح (جرأت سے) بات کرتی ہے؟ دین سے تو تیرا باپ اور تیرا بھائی خارج ہوئے تھے! سیدہ زینب نے فرمایا: اللہ کے دین، میرے باپ کے دین، میرے بھائی کے دین اور میرے نانا کے دین ہی کے ذریعے تو نے، تیرے باپ نے اور تیرے دادا نے ہدایت پائی تھی (اگر تم مسلمان ہو)۔ یزید نے (طیش میں آ کر) کہا: اے خدا کی دشمن! تو نے جھوٹ کہا۔ سیدہ زینب نے فرمایا: تم (اس وقت) مسلمانوں پر مسلط کیے گئے امیر ہو، ظالم بن کر گالیاں دے رہے ہو اور اپنی سلطنت کے بل بوتے پر قہر ڈھا رہے ہو۔" [ابن جرير الطبري، تاريخ الطبري، 6: 265 || ابن الأثير، الكامل في التاريخ، 4: 35 || ابن کثیر، البداية والنهاية، 8: 194]
اس روایت سے درج ذیل نکات اخذ ہوئے:
1_ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ "سب سے افضل جہاد جابر حاکم کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے"۔ سیدہ زینب نے اس فرمان کی عملی تصویر بن کر دکھایا۔ چچا، بھائیوں اور بیٹوں کے جنازے اٹھانے اور قید ہونے کے باوجود، آپ کے لہجے میں کوئی خوف یا لغزش نہیں آئی۔ یزید کو اپنی طاقت، سلطنت اور قہر پر ناز تھا، جبکہ سیدہ زینب کے پاس ایمان اور سچائی کی طاقت تھی۔
2_ یزید بے دینی کی روش پر سیدہ فاطمہ بنت علی سلام اللہ علیہا کو کنیز کے طور پر شامی بدطینت شخص کے حوالے کرنا چاہتا تھا، مگر سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی للکار نے اس کی بے دینی کا جنازہ نکال دیا۔
3_ یزید نے بغض اہل بیت کا اظہار کرتے ہوئے معاذ اللہ اہلِ بیت پر دین سے نکلنے کا الزام لگایا، تو سیدہ زینب نے اسے ایک ایسا تاریخی جواب دیا جس نے بنو امیہ کے اقتدار کی بنیادیں ہلا دیں۔ آپ نے یاد دلایا کہ "تم جس دین کے نام پر آج تخت پر بیٹھے ہو، وہ دین میرے نانا، میرے باپ اور میرے بھائی کی قربانیوں کی بدولت ہی تم تک پہنچا ہے"۔ یعنی اہلِ بیت ہی دین کے اصل محافظ اور وارث ہیں، اور ان کے بغیر اسلام کا تصور ہی ممکن نہیں۔
4_ آخر میں سیدہ زینب نے یزید کو "أنت أمير المؤمنين مسلط" (تم مسلط کیے گئے امیر ہو) کہہ کر اس کے غاصبانہ اور جابرانہ نظام کا پردہ چاک کر دیا۔ آپ نے واضح کر دیا کہ طاقت کے بل بوتے پر حکومت حاصل کر لینے سے کوئی شرعی یا اخلاقی طور پر مسلمانوں کا سچا قائد نہیں بن جاتا۔
​5_ سیدہ زینب نے ثابت کیا کہ اسلام میں عورت صرف مظلومیت کی تصویر نہیں، بلکہ ضرورت پڑنے پر وہ وقت کے فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کے محلوں میں حق کی للکار بن سکتی ہے۔ آپ کا یہ خطبہ رہتی دنیا تک کے مظلوموں کے لیے حوصلہ اور طاقت کا سرچشمہ ہے۔
محقق: حافظ فرحان ثنائی (سینئر ریسرچ اسکالر، فرید ملت ریسرچ انسٹیٹیوٹ لاہور، وصدر منہاج القرآن علماء کونسل ضلع گوجرانوالہ)

Address

Khatikan
Gujranwala

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hafiz Farhan Sanai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category