24/07/2026
حضرت الامیر
جمیعت اشاعت التوحید والسنہ پنجاب
جانشینِ خطیب اسلام ولی ابنِ ولی سفیر اشاعت مولانا
سید شفاءاللہ شاہ صاحب بخاری مدظلہ العالی
توحید وسنت
24/07/2026
حضرت الامیر
جمیعت اشاعت التوحید والسنہ پنجاب
جانشینِ خطیب اسلام ولی ابنِ ولی سفیر اشاعت مولانا
سید شفاءاللہ شاہ صاحب بخاری مدظلہ العالی
23/07/2026
قسط دوم
از قلم : رانا قیصر نوید
خادم نوجوانان توحید وسنت
کیا اہل جنوں دب جائیں گے
اہل جفا کی موجوں سے
مولانا اشرف علی رحمتہ اللہ علیہ کو اللہ کے سپرد کرنے کے بعد جماعت کے بڑے جماعت کے مستقبل مزید بہتر سے بہترین بنانے کے لئے مشاورت کا عمل شروع کرتے ہیں ۔
مختلف جماعتی احباب سے رائے لینے کا عمل شروع کیا جاتا ہے تاکہ جس کے کندھوں پر یہ بھاری ذمہ داری ڈالی جائے وہ جماعت کے مشن جماعت کے کاز کو لیکر اسطرح آگے بڑھے کہ اشاعت توحید وسنت کو وہ مقام دلا سکے جس کی وہ اصل حقدار ہے
مشاورت کے اس عمل میں پنجاب بھر سے مخلص علما اکرام سے رابطے کئے جاتے ہیں مختلف ناموں پر غور و خوض کیا جانا شروع ہوتا ہے ہر پہلو کا جائزہ لیا جاتا ہے جماعت کے ہی ایک بہت بڑے قداور عالم ربانی جو کہ جماعت کے نائب امیر وکیل صحابہ علامہ عطا اللہ بندیالوی صاحب مدظلہ جوکہ کئی موقع پر اپنی رائے دے چکے تھے کی رائے کو مزید اہمیت دیتے ہوئے احباب کے سامنے رکھا جاتا ہے
پیر و مرشدولی ابن ولی پیر سید ضیا اللہ شاہ صاحب بخاری مدظلہ
کے پاس جہاں لوگ مولانا اشرف علی رحمتہ اللہ کی تعزیت کے لئے پہنچتے ہیں وہاں پر یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ شاہ جی آئندہ جماعت کی ذمہ داری کس کو دینا چاہئے ہے
تو شاہ جی ہر ایک سے یہی فرماتے کہ آپ بھی اللہ سے مانگو میں بھی اللہ سے مانگتا ہوں
اللہ پاک ہم سے کوئی بہتر فیصلہ کروایں
نوٹ ( یہاں شاہ جی سے مولانا اشرف علی رحمتہ اللہ کی تعزیت اس لئے بھی کرنے احباب جاتے رہے جہاں شاہ جی جماعت کے ناظم اعلی پاکستان ہیں وہاں مولانا اشرف علی رحمتہ اللہ علیہ شاہ جی کو اپنا بھائی کہتےتھے اور تادم آخر اس رشتہ کی لاج رکھی آج بھی شیخ کی اولاد حضرت شاہ جی کو چچا جی کہہ کر بلاتی ہے )
اسطرح جہاں مختلف ارا سامنے آتی ہیں وہاں اس بات کو بھی مدنظر رکھا جاتا رہا کہ شیخ القران رحمتہ اللہ کےخانوادہ اور جامعہ تعلیم القران کو بھی کسی صورت جماعت اور جماعتی احباب سے دور نہ کیا جائے اور شیخ کی اولاد جماعت کی صف اول میں شریک ہو اور اس کے لئے سوچ بچار کی جاتی ہے تو اس موقع پر آگے آتے ہیں محسن جماعت ایسی شخصیت جس نے ہمیشہ اپنی جان سے بڑھ کر جماعت کو اہمیت دی جس کے لئے ایک عام کارکن اشاعت اپنی اولاد سے بڑھ کر ہے جنہوں نے ہمیشہ اپنا مال اپنی اولاد اپنا مدرسہ اپنا وقت جماعت کے لئے وقف رکھا ہے جنہوں نے جماعتی کام کرنے والے کارکنوں کی خدمت اس طرح کی کہ پیسہ بھی جیب سے لگایا برتن بھی گھر سے لئے کھانا بھی خود پکایا اور کھانا کھلانے کے بعد برتنوں کو دھویا بھی خود یا اپنے حقیقی بیٹوں سے یہ خدمت کروائی جی ہاں جن کی جماعتی خدمات کا تذکرہ اگر یہاں شروع کر دیا جائے تو شاید ختم ہی نہ ہو اس لئے انہی الفاظ پر اکتفا کرتے ہوئے انکا نام لکھ دیتے ہیں جی وہ شخصیت ہیں شاہین جمعیت محسن جماعت مولانا نصر اللہ خاں راشد مدظلہ ناظم اعلی اشاعت توحید وسنت پنجاب
جوکہ ایک دفعہ پھر باوجود اپنی اہلیہ کی شدید علالت کے جوکہ بعد ازاں اللہ کی مہمان بھی بن گئی مشاورت کے لئے خود حضرت شاہ جی کی خدمت میں حاظر ہوتے ہیں اور تاریخی الفاظ کے ساتھ بخوشی یہ قربانی دینے کے لئے خود کو پیش کرتے ہیں کہ اگر میرا عہدہ چھوڑنے سے جماعت کو بہترین تنظیمی ڈھانچے میں ڈالا جا سکتا ہے تو میں بخوشی اپنا عہدہ چھوڑ نے کے لئے تیار ہوں ( واہ شاہین جمعیت آپ کے احسانات اشاعت توحید کے لوگ کبھی نہیں اتار سکتی سلام عقیدت آپکو
22/07/2026
قسط اول
ازقلم : رانا قیصر نوید
خادم نوجوانان توحید وسنت پنجاب
(نوٹ ہم اپنی تحریر میں اپنے ہر ہر لفظ کے ذمہ دار ہیں )
کسی کے متفق ہونے نہ ہونے کے نہیں
کیا اہل جنوں دب جائیں گے
اہل جفا کی موجوں سے
موت ایک اٹل حقیقت ہے جو ہر ذی روح کو آنی ہی آنی ہے
انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا لیکن موت سے مبرا نہ کیا بلکہ کائنات کی سب عظیم ہستی نبی آخر زماں کو بھی موت کا جام پینا پڑا
لیکن انسان کو زندگی ملی کتنی ملی یہ تو کسی کو نہیں پتہ البتہ اس کو گزارنے کے طریقے برے واضح اللہ رب العزت نے بتا دئیے اور پھر انسان کو اختیار بھی دیا کہ دو ہی راستے جو مرضی چن لے اچھی زندگی گزار کر آو گے تو تمھارے لئے انعام ہیں بری گزار کر آو گے تو پھر سزا ملے گی
لیکن آج کا یہ دور جو کہ یقینا ایک پر فتن دور بن چکا ہے جہاں برائی کرنا بہت آسان اور نیکی کرنا مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے وہاں پر اگر اللہ پاک اپنے کچھ خاص بندوں سے دین کا کام لے لیں تو یہ یقینا ان کے لئے بہت بڑا اللہ کا انعام ہے -
اور کام میں بھی اگر اللہ اپنے دین کا کام لیں اور اہل حق علما کا ساتھ دیں اور قران و سنت جیسی عظیم دولت سے مالا مال بھی کر دیں تو یقینا یہ بہت بڑی خوش نصیبی ہے -
اور اگر یہ کہا جائے کہ آج کی طائف منصورہ اہل حق کی جماعت جمعیت اشاعت توحید وسنت ہے تو بالکل بھی غلط نہ ہو گا کیونکہ اگر کوئی جماعت آج بھی قرانی رنگ میں رنگ کر اور انبیا علیہ سلام کے طریقہ پر دنیا کے سامنے دین حق کا بیان کر رہی تو وہ صرف اور صرف اشاعت توحید وسنت ہے -
اور اسی جماعت کی ترجمانی کرنےکے لئے اہل حق علما کی قیادت کرنا بھی کسی سعادت سے کم نہیں
ملک پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ صوبہ پنجاب میں میں اہل حق کے علما نے ہمیشہ شرک و بدعت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کا کردار ادا کیا ہے اور شرک و بدعت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں توحید وسنت کی قندیلیں روشن کی ہیں لیکن حق کے راستوں پر ازمائشیں بھی آتی ہیں اور اہل توحید کے لئے بھی جہاں اور بہت سی آزمائشیں تھیں وہاں 23 اپریل 2026 کا دن بھی بہت بڑی ازمائش لیکر طلوع ہوا جب اس جماعت صوبہ پنجاب کے امیر جبل استقامت صبر و برداشت کا مجسمہ مولانا اشرف علی رحمتہ اللہ علیہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ( انا للہ وانا الیہ راجعون ) پوری کی پوری جماعت سوگوار ہو گئی جہاں یہ صدمہ مولانا کے اہل خانہ کے لئے بہت بڑا تھا اسطرح جمعیت اشاعت توحید وسنت پنجاب بھی جیسے یتیم ہو گئی اور کیوں نہ ہوتی حضرت کا وجود یقینا ایک شفیق باپ کیطرح کا تھا جس نے اپنا ادارہ جس میں انکے اباو اجداد کا خون پسینہ شامل تھا پل بھر میں اہل باطل کے حملہ سے جلا کر خاکستر کر دیا گیا جس کے جوان سالہ لائق ترین بیٹے کو دن دھاڑے بھرے بازار میں شہید کر دیا گیا ہو جس کو غیر تو غیر اپنوں نے بھی ستانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ہو جس پر اہل حق ہونے کے دعویداروں نے زبانی اور عملی نشتر چلائیں ہوں اور اس نے کبھی اف نہ کی ہو
اور اس بات پر ہی کاربند رہے ہوں
کہ
اپنوں کی نشتر سہہ لینا ٹکرانا فقظ بیگانوں سے
ایسے فرد کا دنیا سے چلے جانا یقینا ایسا خلا تھا کہ جس کو پر کرنا بہت مشکل کام تھا
لیکن جہاں یہ صدمہ بہت بڑا تھا وہاں حضرت الامیر کے جنازہ میں لاکھوں فرزندان اسلام کا اکھٹا ہونا اور اس جنازہ کو تاریخی جنازہ بنا دینا بھی آپ کی اللہ کے ہاں اللہ تعالی کی رضا حاصل ہونے کا واضح ثبوت تھا اللہ پاک حضرت کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے
امین
افراد چلے جاتے ہیں لیکن مشن باقی رہتے ہیں اسی مشن کو آگے بڑھانے کے لئے جماعت کے لئے اگلا مرحلہ آپ کی جگہ کسی ایسے فرد کا چناو تھا جو اس اہل حق کے قافلہ کو لیکر آگے بڑھ سکے
جاری ہے
21/07/2026
بسم الله الرحمن الرحيم
جمعیت اشاعت التوحید والسنہ پنجاب: امیرِ صوبہ سید شفاء اللہ شاہ صاحب کی قیادتی بصیرت اور معترضین کا علمی جائزہ
تحریکات اور دعوتی جماعتوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی فعال، متحرک اور مخلص قائد کو اہم مسئولیت سونپی جاتی ہے، تو جہاں مخلصین کے دلوں میں امید کی کرن روشن ہوتی ہے، وہاں کچھ طبقات کی طرف سے تنقید اور اعتراضات کی صدائیں بھی ابھرتی ہیں۔ جمعیت اشاعت التوحید والسنہ پنجاب کے مرکزی امیر کی حیثیت سے محترم سید شفاء اللہ شاہ صاحب کا انتخاب جماعت کے لیے ایک عظیم اور نیک فال ہے۔
شاہ جی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ مسلکِ توحید و سنت کے فروغ اور نوجوانوں کی اصلاح و تربیہ کے حوالے سے ایک گراں قدر اور روزِ روشن کی طرح عیاں تاریخ رکھتے ہیں۔
سید شفاء اللہ شاہ صاحب: صلاحیت، خلوص اور خدمات کا عمل پیراں
شاہ جی کی حیاتِ مستعار کا بڑا حصہ دعوت و ارشاد، توحید کی نشر و اشاعت اور تنظیمی استحکام میں گزرا ہے۔ ان کی جن خصوصیات نے انہیں عوام و خواص میں مقبول بنایا، ان میں سے چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
* تسلسل اور استقامت (۲۰ سالہ اجتماعِ عام): گزشتہ دو دہائیوں (۲۰ سال) سے باقاعدگی کے ساتھ صوبائی و مرکزی سطح پر "اجتماعِ عام" کا انعقاد کروانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ شاہ جی کی لگن، اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں اور شب و روز کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
* عوام الناس اور نچلی سطح تک رسائی (صوبائی کنونشنز): انہوں نے صرف مرکز تک محدود رہنے کے بجائے پورے پنجاب کے اضلاع اور تحصیلوں میں منظم کنونشنز کا انعقاد کر کے جماعت کا پیغام گھر گھر پہنچایا اور دعوتی کام کو متحرک رکھا۔
* نوجوان نسل کی تربیت اور اتحاد: موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج نوجوانوں کی صحیح فکری و اخلاقی تربیت ہے۔ شاہ جی نے نوجوان طبقے کو انتشار و افتراق سے بچا کر ایک لڑی میں پرویا ہے اور ان کی توانائیاں توحید و سنت کی خدمت کے لیے وقف کی ہیں۔
* حلم اور بلند حوصلی: قیادت کے لیے جس بردباری اور حلم کی ضرورت ہوتی ہے، شاہ جی اس کا عمل نمونہ ہیں۔ مخالفتوں اور تنقید کے باوجود اپنے کام میں مگن رہنا ان کا خاصہ ہے۔
معترضین کے اعتراضات کا علمی و منهجى جائزہ
تنقید اگر اصلاحی ہو تو سر آنکھوں پر، لیکن اگر اس کی بنیاد کینہ، حسد یا ذاتی عناد پر ہو تو شریعتِ اسلامیہ اور عقلِ سلیم دونوں کی نظر میں اس کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ جو حضرات شاہ جی کی قیادت پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں، ان کے سامنے درج ذیل علمی و دینی حقائق رکھنا ضروری ہیں:
۱. قیادت کا معیار: "الکفاءۃ والأمانۃ" (اہلیت اور امانت)
اسلامی شریعت میں کسی مسئولیت یا امارت کے لیے بنیادی معیارات اہلیت (Capacity)، سابقہ خدمات (Track Record) اور تقویٰ و امانت ہیں۔
* قرآن مجید میں ارشاد ہے:
> "إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ" (سورۃ القصص: ۲۶)
> (بیشتر اور بہترین شخص جسے آپ کوئی ذمہ داری دیں، وہ ہے جو طاقتور/اہل اور امانت دار ہو)
>
شاہ جی کا 20 سالہ عملی تجربہ، صوبائی سطح پر کامیابی سے تقریبات کا انعقاد اور تنظیمی جوڑ توڑ میں ان کی مہارت اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ وہ اس منصب کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں۔
۲. حسد اور کینہ: نیکیوں کو مٹانے والا مرض
اگر اعتراض کی وجہ محض ذاتی بغض يا حسد ہے تو نبی کریم ﷺ کی ہدایت ہمارے سامنے ہے:
> "إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ، فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ" (سنن ابی داؤد)
> (حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔)
>
کسی بھائی کی انتظامی صلاحیتوں اور قبولیتِ عامہ پر اعتراض کرنے کے بجائے جماعت کی بہتری کے لیے ان کا دست و بازو بننا ہی حقیقی اسلامی اور مسلکی بھائی چارے کا تقاضا ہے۔
۳. عمل اور نیت کا فرق
جو لوگ خود میدانِ عمل سے دور رہتے ہیں اور دن رات محنت کرنے والوں پر اعتراضات جڑتے ہیں، ان کے لیے تاریخ کا سبق یہی ہے کہ "کام کرنے والے ہی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں"۔ جو شخص ۲۰ سال سے میدان میں ڈٹا ہوا ہے، اس کی عملی خدمات اس کے حق میں سب سے بڑی دلیل ہیں۔ نقد برائے نقد کی شرعی و علمی دنیا میں کوئی وقعت نہیں ہوتی جب تک کہ اس کے پاس کوئی قطعی اور شرعی دلیل نہ ہو۔
حرفِ آخر
جمعیت اشاعت التوحید والسنہ پنجاب کے تمام کارکنان، منتظمین اور وابستگان کو چاہیے کہ وہ شاہ جی کی قیادت میں متحد ہو کر مسلکِ حق، توحید اور ردِّ بدعت و خرافات کا کام مزید تیز کریں۔
معترضین کے اعتراضات اور کینہ پروری کا بہترین جواب یہ ہے کہ اپنے کام اور کردار کی رفتاربڑھا دی جائے۔ شاہ جی کے لیے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی ان کو صحت و سلامتی کے ساتھ اس عظیم منصب کو احسن طریقے سے نبھانے، حق و صداقت کا پرچم بلند رکھنے اور شباب و شیوخ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد رکھنے کی توفیقِ کاملہ عطا فرمائے۔ آمین!
منجانب ۔ ڈاکٹر محمد بشارت لیکچرار دی یونیورسٹی آف چناب گجرات
نظریات کا محافظ ✌️
ہمارا قائد۔۔۔۔🔥
امیر محترم جمعیت اشاعت توحید وسنہ پنجاب
20/07/2026
یہ وہ عظیم شخصیت ہے جسکے جماعت احسان نہیں اتار سکتی ۔۔
وہ شخصیت واقعی شاہین جمعیت اور مجاہد ملت کی عملی تصویر ہے ۔۔
جہاں جماعت میں قربانیوں کا ذکر ہوگا ۔ تو اگر انصاف کرنے والا قربانیوں کا ذکر کرے گا تو اس شخصیت کا نام صف اول میں رکھے گا ۔۔
یہ وہ شخصیت ہے جس نے جماعت پر اپنا مال و متاع اور اپنی جان تک نچھاور کی ہے ۔ اس شخصیت نے نہ صبح دیکھی نہ شام دیکھی ۔ بلکہ جماعت کے مشن اور نظریات کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کیا ۔۔
اور آج ایک عظیم قربانی دے کر اپنا پھر جماعت کے اوپر احسان کردیا ۔۔
یہ وہ شخصیت ہے جو نہ کسی عہدے کی لالچ رکھنے والی ہے ۔ اور نہ مفاد ۔ بلکہ مشن اور نظریات کی خاطر سب کچھ قربان کرنے والی شخصیت ہے۔۔
لوگ زبانی جمع خرچ تک تو بہت امام حسن رض کی قربانی کا ذکر کرتے رہتے ہیں ۔ اور لوگوں سے کریڈٹ لینے کی خاطر شو بازی کرتے رہتے ہیں ۔۔ لیکن اس شخصیت نے آج اپنے عہدے کی قربانی دے کر امام حسن رض کے کردار کا عملی جامہ پہنا کر ثابت کیا ہے کہ ہم صرف امام حسن رض کے کردار کا زبانی جمع خرچ تک نہیں ، بلکہ عملی تصویر ہیں ۔۔ یاد رکھنا جماعت کے ساتھ مخلص ایسے لوگ ہوتے ہیں ۔ جو قربانیاں دیتے ہیں ۔
ہماری دعا ہے اللہ پاک ، شاہین جمعیت مجاہد ملت حضرت مولانا نصر اللہ خان راشد صاحب کو جزائے خیر عطاء فرمائے ۔۔ اور انکے علم و عمل اور عمر میں مزید برکات کا نزول فرمائے ۔۔
20/07/2026
اشاعت توحید وسنہ پنجاب کے شاہینوں کو بہت بہت مبارک ہو
اللہ تعالٰی خاندان پیر بخاری اور خاندان شیخ القرآن کو ہمیشہ خوش رکھے آمین ثم آمین
خادم نوجوانان توحید وسنت
شاہین جمعیت کے بیان سے خوب صورت کلیپ
مولانا قاری عطاء الرحمن صاحب رحمہ اللہ
کا بیان کس کس کو پسند ہے
کمینٹ میں جواب دیں
پیرومرشد اولاد علی پیر سید ضیاء اللہ شاہ بخاری صاحب
سے کون کون محبت کرتا ہے کمینٹ میں جواب دیں
خادم نوجوانان توحید وسنت