Karamat Ali Karamat

Karamat Ali Karamat

Share

Works at Fikr e Wasif Ali Wasif r.a

28/04/2026

*درود کب قبول ہوتا ہے؟ درود تب قبول ہوتا ہے جب درود یاد کرتے کرتے آپ کی آنکھ میں آنسو آ جائیں ۔ تو درود قبول ہو گیا ۔
دعا کب قبول ہوتی ہے؟ جب انسان پر رِقت طاری ہو ۔ صرف رِقت طاری ہو اور رونا نہ ہو ۔ تو انسان کو جس وقت ٹھیس لگے اور وہ دعا کرے تو اس وقت دعا قبول ہو جاتی ہے ۔

(گفتگو والیم 25 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 223)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

27/04/2026

*اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ اتنا "جھلا" انسان ہے کہ آخری دم تک کام میں گم رہتا ہے ، اِسے سمجھ نہیں آتی Till such time کہ جب اسے کہا جاتا ہے کہ یہ وقت ختم ہو گیا ۔ کہتے ہیں کہ اگر عزرائیل ؑ کپڑا بیچنے والے دوکاندار کی طرف جائے گا تو وہ عزرائیل ؑ کو گاہک سمجھے گا ۔ عزرائیل ؑ کہے گا کہ میں آ گیا ہوں ۔ وہ کہے گا کہ ایک گز اور ماپنے دو ۔ وہ کہاں ماپنے دیتا ہے ۔
ایک مستری کا آخری وقت آ گیا تو اسے کہا گیا کہ تو کلمہ پڑھ ، تو وہ کہتا ہے کہ ایک فٹ ، دو فٹ ، چار فٹ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ کلمہ نہیں پڑھے گا بلکہ فٹوں کے حساب سے چلتا جائے گا ۔ تو ہر کوئی اپنے اپنے خیال میں ہے ۔
تو جو آدمی جس خیال میں مرے گا اُسی خیال میں اُٹھے گا اور جس خیال میں وہ زندہ ہے اُسی میں مرے گا ۔ اب یہ راز ہے اگر آپ کو سمجھ آ جائے تو ۔ آپ جس خیال میں چل رہے ہیں یہی آپ کی عاقبت ہے ۔ ابھی موت آ جائے تو اس خیال میں مرو گے اور اسی میں آپ اُٹھو گے ۔ لہٰذا اپنے خیال کو ، اپنے علم کو اور اپنی بات کو سمجھو کہ آپ کدھر جا رہے ہو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ غلط پائے جاؤ ۔ اگر یہاں پر سانس نکل جائے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ دل میں کوئی اور شعبہ پایا جائے ۔ اس لیے دل کو ابھی سے صاف کرو ۔ اس میں کوئی مہلت نہیں ہوتی کہ اس کو کل سے ٹھیک کر لیں گے ۔ کیا کل قبر میں جا کے ٹھیک کریں گے ۔ کل تو آنا ہی نہیں ہے ، آج کا دن ہی ہے ، آج کا واقعہ ہے ۔ اس لیے دل کو خواہشات کے بُتوں سے آزاد کر لو ، پھر یہی کعبہ ہے ۔کعبۂ دل اسے کہتے ہیں ، اسی کے اندر وہ رہتا ہے حضورِ قلب ۔ یوں سمجھ لو کہ اس قلب کو حضورِ قلب ہے جس کو حضور ﷺ کی یاد ہے ۔۔۔۔۔۔۔

(گفتگو 24 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 226 ، 227)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

26/04/2026

*اگر ہم یہ کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دیدار کرائے اور آپ رخصت ہونے کا جلدی انتظام کریں ، آج ہی ، تو آپ کیا کہیں گے؟ کہ تھوڑے سے کام رہتے ہیں ، بچوں کا خیال ، دیکھ بھال وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کو فوری طور پر جانے کی تمنا نہیں ہوتی ، خواہش ضرور ہے ۔بس یہ جو رکاوٹ ہے یہی آپ کا پردہ ہے ۔ اس کو دُور کرو ۔ کبھی فرائض کے نام پر ، کبھی مجبوریوں کے نام پر ، کبھی کسی اور چیز کے نام پر ۔

اگر آپ کو یہ کہا جائے کہ ہم بیٹھے ہیں اور وہ دوست جس کی تمنا تھی وہ باہر ہے ، تو پھر نکل جاوء ناں کمرے سے ۔ لیکن نکلتا نہیں ہے ۔ آپ کو کہا جائے کہ آپ کے دوست آئے ہوئے ہیں ، باہر چلو ۔ کہتا ہے کہ دھوپ کا موسم ہے ورنہ دوست کی تو بہت تمنا ہے

اس لیے آپ لوگ اگر کلمہ پڑھتے ہو ، اگر آپ کو یقین ہے اور محبت ہے ، بانئ دینِ مُبیںؐ سے محبت ہے تو پھر جہاں اُن کا مقام ہے اُس طرف رجوع کرنے کی خواہش ہونی چاہیے ۔ یہاں جو آستانہ ہے ، مدینہ شریف ہے ، یہ تو آستانہ ظاہر ہوا ناں ، سفر کا مقام ہوا ، لیکن جو ذات کے ساتھ تعلق ہے ، جس مقام پر بھی وہ ذات ہو ، اس سے رجوع کرنا چاہیے ۔ جس آدمی کو ماضی کے کسی بزرگ سے کوئی نسبت ہو جائے اُس کو حال کی زندگی ترک کرنے میں کوئی دیر نہیں ہے ۔ بات سمجھ آ رہی ہے کہ نہیں آ رہی؟ اس لیے یہ حال کی زندگی جو ہے یہ آپ کے لیے سرمایہ ہے ، سرمایہ ء ایثار ، قربانی کا سرمایہ ہے ۔ آپ یہ دُنبا پال رہے ہو اور جب قربانی کا موسم آ جائے تو اِسے ذبح کر دینا ۔ آپ کہتے ہیں کہ اگلے سال کریں گے ۔ یہ نہیں ہونا چاہیے ۔ دین کی اتنی سی خواہش ہے کہ آپ اپنی زندگی میں یہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساری زندگی جو ہے یہ دین نہیں ، سارا وجود دین نہیں ہے ، ممکن ہی نہیں ہے ۔ ایک عمل ، دل کی خواہش ، رجوع الی اللہ ، رجوع الی الرسول ہو ۔ رجوع ہی کرنا ہے ۔ جس نے فضل کا انتظار کیا اُس پر فضل شروع ہو گیا ۔ جس نے تکلیف پر شُکر کیا اُس کا شکر منظور ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(گفتگو والیم 29 ........... صفحہ نمبر 74)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

25/04/2026

سوال:
محبت خود کی جاتی ہے یا کسی کی عطا ہوتی ہے؟
جواب:
محبت محبوب کی عطا ہے - محبوب صرف ایک چیز دیتا ہے اور وہ ہے محبت ، باقی چیزیں آپ عطا کرتے ہو - اب یہ جو محبوب کا حق ہے یہ اس کے پاس رہنے دو کہ محبوب جس پر چاہے مہربان ہو جائے، جسے چاہے فراق کے سفر پر روانہ کر دے اور جسے چاہے وصال کی حاضری کے لیے بلا لے - یہ سب محبوب کے کام ہیں - محبوب ایک ہی ہوتا ہے سب کا - محبوبوں کے نام الگ الگ ہوتے ہیں لیکن محبوب ایک ہی ہوتا ہے - تو محبوب جو ہیں وہ فراق میں بھی پرورش پاتے رہے ہیں اور وصال میں بھی پلتے رہے ہیں - محبتیں ان دیکھی بھی پلتی رہی ہیں اور دیکھ کے بھی پلتی رہی ہیں - تو محبت میں آخری بات یہی ہے کہ محبت جو ہے یہ محبوب کی عطا ہے - اور ایک شعبہ یہ بھی کہتا ہے کہ محبوب کی محبت کی عطا ہے - اب یہ مجاز کی حد تک تو صحیح ہے، حقیقت میں جب انسان داخل ہوتا ہے تو پھر سب عطائیں محبوب کی ہیں ، وہاں محب کچھ نہیں ہے -

دیدار کے قابل تو کہاں میری نظر ہے
یہ تیری عنایت ہے کہ رخ تیرا ادھر ہے

محبوب ایک ہے اور دو انسان دیکھنے والے ہیں ، ایک محبت ہوتی ہے ، دوسرے کو نہیں ہوتی ________اب آپ کیا کہتے ہیں ؟ کہ محبوب نے ایک پر تو اپنا جلوہ آشکار کیا لیکن دوسرے پر نہیں کیا - تو جس پر چاہے اس پر اپنا جلوہ آشکار کر دے اور اسے محبوب بنا دے اور اس کو محبت ہو جائے گی - محبوب جس پر آشکار نہیں ہو گا اسے محبت نہیں ہو گی - محبت جو ہے یہ عطائے جلوہ محبوب ہے
گفتگو 3____________صفحہ نمبر 292
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

24/04/2026

سوال:-

سر! کبھی کبھی بغیر کسی وجہ کے خوف کا احساس ہوتا ہے تو وہ کیا ہوتا ہے؟

جواب:-

* خوف ، دو کیفیات پیدا کرتا ہے ۔ ایک تو یہ بگاڑ پیدا کرتا ہے اور ایک اطاعت پیدا کرتا ہے ۔ اگر کسی بزرگ ہستی کی طرف سے دیا ہوا خوف ہے تو پھر اس سے آپ میں اطاعت پیدا ہو جائے گی ۔ دوسرے خوف کا تعلق آنے والے زمانے سے ہوتا ہے ۔ خوف کا Healthy Effect یہ ہے کہ وہ آپ کو باغی ہونے سے بچائے گا ۔ جس شخص کو خوف آ گیا ، وہ باغی نہیں ہو گا ۔ خوف کسی بد اعمالی کی سزا ہے ۔
جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہو جاتا ہے تو پھر وہ کہتے ہیں ۔ "لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون" اللہ دو کاموں سے بندوں کو بچاتا ہے کہ آنے والے واقعات کا اندیشہ کوئی نہیں رہتا اور گزرے ہوئے کا ڈر کوئی نہیں ہوتا ہے کیونکہ گزرے ہوئے پر انہوں نے توبہ کر لی اور اللہ کے حوالے کر دیا کہ جو ہو گا بہتر ہو گا ۔ اس لئے یہ ان کی شان میں بیان ہے کہ " لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون" یعنی انہیں نہ آنے والی چیز کا ڈر ہے اور نہ ہی گزرے ہوئے زمانے کا ڈر ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اب جو ہو گیا ہے وہ گرفت میں نہیں آئے گا کیونکہ ہم نے توبہ کر لی ہے ۔ اور جو آنے والا ہے اس کو ہم نے اللہ پر چھوڑ دیا ہے کہ جو آئے گا انشاءلله تعالیٰ بہتر ہی آئے گا ۔
بندہ بہتر ہو جائے تو واقعات بہتر ہو جاتے ہیں اور حالات بہتر ہو جاتے ہیں ۔ بندہ اگر بد ہے تو بادشاہ بن کر بھی بد رہے گا ۔ کتنے ہی بادشاہ ہیں جن کو آپ بُرا کہتے ہیں ۔ آدھا ملک بادشاہ کو ہمیشہ ہی بُرا کہتا ہے ۔ تو مطلب یہ ہوا کہ دنیاوی عزت کوئی شے نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ مہربانی کرے تو عزت بنتی ہے ۔ مثلاً قائداعظم ؒ کو عزت ملی ، اور بڑی عزت ملی ۔ اس کے بعد کسی کو بھی عزت نہیں ملی ۔ اب اللہ اپنا فضل کرے ۔ آمین!

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

(گفتگو والیم 5 .............. صفحہ نمبر 50)

23/04/2026

سوال:-
سر! کسی پر احسان کرنے کے کیا کیا درجے ہیں ، اس کی وضاحت فرما دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب:-
*پہلا درجہ یہ ہے کہ غصہ نہ کیا جائے ۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ اسے معاف کر دیا جائے ۔ جس عمل نے ، اس کی جس بد عملی نے آپ کے اندر ناپسندیدگی کا اظہار پیدا کیا ، یعنی غصہ پیدا کیا ، اسے معاف کر دیا ۔ اور پھر تیسرا درجہ یہ ہے کہ اس پر ہو سکے تو احسان کر دیا جائے ۔ احسان ، معافی کا اگلا درجہ ہے ۔ وہ کیا درجہ ہو گا؟ ۔ کہ اگر چور آ جائے تو ایک غصہ نہ کیا جائے اس کو معاف کر دیا جائے ، رپورٹ نہ کی جائے ، ہو سکے تو اس کو پیسے دے دیئے جائیں جس کے لیے وہ آیا ہے ۔ تھوڑی سی رعایت کر دی جائے اس کے ساتھ ۔ پھر وہ انسان بن جائے گا ۔ یہ ہے احسان ۔ احسان کا معنٰی یہ ہے کہ اس کے عمل اور نیت کے برعکس آپ کا عمل ہو ۔ جو آپ کی طرف بُری نیت کے ساتھ آیا وہ آپ کی طرف سے اچھا عمل لے کے جائے ۔ احسان یہ ہے ۔ دوسروں کے حقوق سے زیادہ دینا احسان ہے ۔ ابتدائی عمل اس کا یہ ہے کہ اپنا حق لوگوں پر واجب ہو اور وہ چھوڑ دے ۔ پہلا حق بنتا ہے سلام کرانے کا ، وہ چھوڑ دیا جائے Acknowledgement جس کو آپ کہتے ہو ، اس کی خواہش چھوڑ دی جائے اور سماجی ، معاشی ، معاشرتی ، نفسیاتی اور دوسری قسم کے جو حقوق ہوتے ہیں ، ان حقوق کو ترک کر دیا جائے ، یعنی کہ چھوڑ دیا جائے ، اور دوسروں کے حقوق ادا کئے جائیں ۔ تو احسان یہ ہے کہ کسی کا حق تو نہیں ہے لیکن احسان کا حکم ہے
یاد رکھنا ، دوسرے کا حق انسان ہونے کی حیثیت سے معافی تک ہے ۔ Punishment کا حق بھی ہے قانون کی حیثیت سے ، لیکن آپ قانون نہ بنو ، آپ انسان بنو ۔ قانون ایک اور معاملہ ہے ۔ State ایک اور معاملہ ہے ، انسان ایک اور چیز ہے ۔ انسان بن کے اگر یہاں سے نکل جاوء تو آپ کامیاب ہو گئے ۔ اس لیے اللہ کریم نے ان کو Address نہیں کیا جو عام ”کالا نعام“ ہوتے ہیں بلکہ انسان کو Address کیا ہے اور Non-Belivers میں سے بھی وہ انسان یاایھا الناس جو ہیں ۔ Non-Belive یا Believer کچھ بھی ہو ، انسان ہونے کا درجہ جو ہے ، یہ بڑا مقام ہے
انسان ہم اُس کو کہیں گے جس کے پاس سانس کے ساتھ ساتھ احساس بھی موجود ہو ۔ تو وہ انسان ہے ۔ انسان وہ ہے جس کے پاس تھوڑی سی ماضی کی یاد ہو اور مستقبل کا خیال ہو ۔ جس کے پاس ماضی کی یاد نہیں اور مستقبل کا اندیشہ نہیں ہے ، اس کو آپ انسان نہیں کہیں گے جانوروں اور انسانوں میں ایک چیز کا ضرور فرق رہتا ہے کہ جانوروں اور پرندوں کے پاس یادداشت نہیں ہے جو آپ کے ہاں ہے ، کہ بچہ انگلینڈ گیا اور خط کا انتظار ہی کرتے جاوء دروازے پہ کھڑے ہو کے ۔ ان کا بچہ اُڑ گیا ، پتہ نہیں پھر کدھر گیا ، ان کے ہاں اور کہانی ہے ، ان کا ماضی نہیں ہوتا اور ان کا مستقبل بھی نہیں ہوتا کہ وہ پہلے پروگرام بناتے جائیں Calculate کرتے جائیں ۔ انسان ہم اس کو کہیں گے جس کا ماضی محفوظ ہے اور جس کا مستقبل اس کے زیرِ غور ہے ۔ تو انسان کا حق آپ پر یہ ہے کہ آپ انسان سے اس کے عمل کی وجہ سے ، غصہ آنے کے باوجود غصہ نہ کرنا ۔ غصہ نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اظہار نہ کرنا ، غصہ تو آ رہا ہے لیکن اظہار نہ کرنا ۔ یعنی کہ اس کو کوئی تکلیف نہ پہنچے کہ تم غصے میں کوئی نامبارک الفاظ کہہ دو کیونکہ وہ جو لفظ ہے ، اس کے اندر یاد بن جائے گی ۔ لفظ کی ناگوار یاد نہ چھوڑنا ۔ اچھے عمل کی یاد کو ایک بُرا لفظ ہمیشہ کے لیے تباہ کر سکتا ہے ۔ اچھا عمل جہاں یاد میں محفوظ ہوتا ہے وہاں بُرا لفظ اُسے اُڑا کے رکھ دیتا ہے ۔ یہ تو ایٹم ہے اس کے لیے ۔ اس لیے آپ اس کا حق ادا کریں ۔ کیسے؟ الفاظ کی ناگواریت اس پر نہ پھینکنا ۔ آپ نے احسان کیا ، اس پر ویسے ہی مہربانیاں کرتے رہتے ہو ، لیکن کبھی سخت لفظ نہ کہنا ۔ سخت لفظ سے تمہیں Relief محسوس ہوتا ہے ، تمہارا Relief محسوس کرنا ہی اس بات کی دلیل کی ہے کہ اس پر دباؤ پڑ گیا ۔ لہٰذا اس کا انسان ہونے کی حیثیت سے یہ حق ہے کہ اس کی غلطی کو معاف کر دیا جائے ۔ اور انسان ہونے کی حیثیت سے ، اچھے انسان ہونے کی حیثیت سے آپ کے لیے یہ مناسب ہے کہ آپ اس پر احسان کر دیں
اب اس کی مثال یوں ہے کہ حضرت امام حسنؑ کے پاس ایک غلام تھا ، غلام سے کوئی غلطی ہوئی ، آپ نے اسے ڈانٹا ، مزاج میں تھوڑی سی تیزی آ گئ ۔ غلام نے بسم اللہ کر کے پڑھا ” والکاظمین الغیظ “ تو آپ ؑ خاموش ہو گئے ۔ پھر اس نے پڑھا ” والعافین عن الناس “ آپؑ نے کہا جا میں نے تجھے معاف کیا ۔اس نے پڑھا ”واللہ یحب المحسنین “ آپ ؑ نے فرمایا جا تجھے آزاد کیا ، پیسے بھی لے جا ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماں باپ کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ان کے ساتھ سلوک کا درجہ یہ ہے کہ ان کے حکم کے آگے اُف بھی نہ کرنا ”اُف“ کا معنی کیا ہے؟ مطلب یہ کہ ان کے کہنے پر تھوڑا سا چیں بہ چیں بھی ہونا ۔ ولا تکلھما اف تو اللہ کریم نے فرمایا کہ یہ انسان ہے ، شاید بات پوری طرح نہ سمجھے ، اس لیے فرمایا ولا تنھر ھما اور ان کو جھڑکی بھی نہ دینا ۔ پھر ایک وضاحت ہے کہ” قولو ا قولاََ کریما “ ان کے ساتھ کریم الفاظ میں بات کرنا ۔ اللہ کریم نے یہاں ”کریم“ کا لفظ بہت اچھا استعمال کیا ہے اور پھر آگے فرمایا کہ جب وہ بوڑھے ہو جائیں تو تمہارے جوان بازو ان کے لیے رحمت کا سایہ بن جانا چاہئیں اور جب ان کے پاس اپنی دیکھ بھال کا کوئی سامان نہ رہے تو ان پر احسان کرنا ۔ وہاں لفظ ہے ”احسان“ یعنی کہ دیکھ بھال کا ان کے پاس آسرا نہیں ہے ، یعنی دیکھ بھال کا شعور بھی چھن گیا ان سے ، ختم ہو گئ بات ، اب آپ کیا کرو ؟ آپ ان پہ احسان کرو یعنی کہ آپ سارا حق ادا کر رہے ہیں ،زندگی میں آمدن ہے ، تنخواہیں ہیں ، دوسرے واقعات ہیں ، ان کے کہنے پر آپ نے زندگی کی تھوڑی سی دقتیں بھی گزاری ہیں ، اور اس طرح یہ ساری زندگی ہے ۔ لیکن احسان کیا ہے؟ احسان یہ ہے کہ ان کے ساتھ اس وقت بھی مکمل طور پر رعایت کرنا ۔ احسان کا مطلب یہ ہے کہ کسی دیگر یاد کو دل سے نکال کر اس آدمی کے بارے میں ایک اچھا تصور آباد کیا جائے ۔ احسان یہ ہے
آپ اپنے دل میں دیکھیں ، بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جو آپ کے ساتھ اچھا سلوک نہ کر گئے ہوں ، تو آپ میں رنجش ،افسوس یا غصہ موجود ہو گا ۔ اب احسان کرنے والا آدمی جو ہے ، ان لوگوں کی بد نما یاد کی جگہ پر ، انہی لوگوں کے حوالے سے اچھی چیز تحریر کرتا ہے تا کہ وہ لوگ آپ کو دوبارہ زندگی میں اچھے نظر آئیں ، یا ان کی یاد کم از کم اچھی ہو جائے ۔ بس یہ احسان ہے کہ کسی بُرے آدمی کی یاد کو اس طرح Register کرنا کہ وہ آدمی آپ کی زندگی میں اچھا نظر آئے ۔ احسان حق نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آنکھ کا بدلہ آنکھ ، جان کا بدلہ جان ، ایک کا بدلہ ایک ، دو کا بدلہ دو ، لیکن اگر تم احسان کر دو تو تمہارے لیے بہتر ہے ۔ اگر تم معاف کر دو تو تمہارے لیے بہتر ہے ۔ اس لیے یہ جو احسان کا مقام ہے تو دوسرے کے عمل سے بے نیاز آپ اپنا حُسنِ عمل جاری رکھو ۔ احسان یہ ہے ، اور آپ کے لیے یہ کرنا آسان ہے ۔ ہر آدمی جس کے گھر میں بچہ پیدا ہو ، وہ جانتا ہے کہ احسان کیا ہے ۔ احسان کا شعور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آپ کا احسان پیدا ہونے والے بچے کے عمل سے بے نیاز ہے ، آپ اس کے لیے سایہ کرتے رہتے ہو ، بیمار ہے یا اور حرکات ہیں ، بچے ناپسندیدہ حرکتیں کرتے ہی رہتے ہیں ۔ آپ بچوں کی ناپسندیدہ حرکتوں پر جب تھوڑا سا ہنستے ہو ، کہ بچہ ہے ، تو احسان ہے ۔ کوئی اور بچہ ہوتا تو پہلے سزا ہوتی ، پھر آپ بتاتے کہ حرکت کیا ہے ۔ تو یہ احسان ہے ۔ احسان کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس کے حق سے زیادہ دینا ، انصاف سے زیادہ دینا ، ٗاس کے عمل سے بے نیاز ہو کے عمل کرنا ، یہ سارا احسان کرنا ہے ۔ احسان جو ہے یہ دراصل آپ نے اپنے آپ پر کرنا ہے ۔ احسان کرنے والا کس پر احسان کرتا ہے؟ اپنے آپ پر احسان کرتا ہے ۔ دوسرے پر احسان دراصل اپنے آپ پر احسان ہے ۔ دوسروں کو معاف کرنا دراصل اپنے آپ کو معاف کرنا ہے ، کیونکہ اپنے اندر سے وہ ناسور نکالنا ہے جو ناپسندیدگی کا ہے نارضا مندی کا ہے اور دوسرے کی بے وقوفی کا ہے اور دوسرے کے ظلم کے خیال کا ہے ۔ پھوڑا تو آپ کے اندر ہوتا ہے ۔ اس لیے پھر ایک خاص واقعہ بن جاتا ہے ۔ بڑا آسان ہے جی یہ احسان کا عمل ۔ انسان کر سکتا ہے

(گفتگو والیم 1 ........... صفحہ نمبر 35 ، 36 ، 37 ، 38 ، 39)
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

22/04/2026

فہیم اسلم

السلام علیکم

*اللہ آپ کے فہم کو مزید گشادگی عطا فرمائے ۔ آپ کا خط پڑھ کر خوشی ہوئی کہ یہ سمندر ابھی موتیوں سے خالی نہیں ہوا ۔ آپ چلتے چلو ۔ ہماری طرف سے تعاون ، سَرپرستی حاصل رہے گی ۔ آج آپ کا نام اپنے بے شمار شاگردوں کی فہرست میں شامل کر کے مجھے مزید خوشی ہو رہی ہے ۔ شاگرد وہی اچھے ہوتے ہیں ، جو ذہین اور محنتی ہوں ۔ آپ کے روپ میں مجھے اچھا شاگرد ملا ۔ شاگرد کا اعلان کرنے کے بعد پہلی بات یہ بتا رہا ہوں کہ اپنے آپ پر یقین کبھی متزلزل نہ ہونے دینا اور یہ کہ تُو حقیقت ہے ، سب فسانے ہیں ۔ چلتے چلو ، کوئی ڈر نہیں ۔ اندھیروں سے بھی نکلنا پڑتا ہے ۔ روشنی کی ایک کرن لاکھوں میل کے اندھیرے طے کر کے اپنی منزل مقصود تک پہنچ جاتی ہے ۔
ڈر اس کو ہوتا ہے جو اپنے جیتا ہو ۔ جو کسی مقصد کے لئے زندہ ہو اسے کوئی ڈر نہیں ۔ بے مقصد انسان مرتا ہی رہتا ہے ۔ بامقصد انسان مر کے بھی نہیں مرتا ۔ وسوسوں سے بچو ۔ نمائش سے پرہیز کرو ۔ علم کی داد وصول نہ کرو ۔ ماں باپ کی خدمت کرو ۔ کامیابی حاصل ہو تو باوقار طریقے سے اسے وصول کرو ۔ اور جب گھر بیٹھے استاد میسر آ جائے تو استاد کے لئے دعا شروع کرو اور دعا کرتے جاؤ ۔ استاد سلامت تو شاگرد سلامت اور شاگرد سلامت تو استاد سلامت ۔ میں تمہارا خط پڑھ کر بہت خوش ہوا ۔ لفظ "تم" تمہارے شاگرد ہونے کا پہلا انعام ہے ۔

والسلام
واصف علی واصف

(گمنام ادیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 263)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Photos from Karamat Ali Karamat's post 21/04/2026

”””””””””””””””””””””بحضُورِ اقبالؒ““““““““““““““““““““““
السلام اے ملؔتِ اسلامیہ کے جاں نثار
السلام اے پیرِ رومی ؒ کے مُریدِ باوقار

رنگ و بُو میں اُڑ گئ ہے اُس چمن کی آبرو
جس چمن میں تھی ترے نغمات سے فصلِ بہار

آرزو کا مُدعا کیا تھا ؟ شکستِ آرزو
کارواں کو کیا ہوا حاصل بجز گرد و غبار

کِس کی غفلت سے شکستہ ہو گئے جام و سبو
میکدے کا میکدہ کیوں ہو گیا ہے سوگوار

آہ اے اقبال تو واقف نہ تھا اس راز سے
اس وطن کے راہبر تجھ کو کریں گے شرمسار

لا الٰہ کے دم سے تھا میرے وطن کا اتحاد
لا الٰہ کو چھوڑنے کا ہے نتیجہ انتشار

اے خودی کے رازداں فریاد فریاد ہے
ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تیرا انوکھا شاہکار ہے !

اے شریکِ زُمرہء لا یحزنون تو ہی بتا
نوجوانانِ چمن کیوں ہو گئے ہیں اشکبار

افتخارِ ملک و ملؔت شاعرِ اسلام سُن
یاد کرتے ہیں تجھے لاہور کے لیل و نہار

شمعِ آزادی جو تیری فِکر سے روشن ہوئی
عزم ِ تازہ مانگتی ہے حُریؔت کی یاد گار

کیا کہے واصف کہ یہ اقبال کا پیغام ہے
ہوشیار اہلِ جنوں ، اہلِ خرد سے ، ہوشیار

(شب چراغ)

حضرت واصف علی واصف ؒ

21/04/2026

”””””””””””””””””””””بحضُورِ اقبالؒ““““““““““““““““““““““
السلام اے ملؔتِ اسلامیہ کے جاں نثار
السلام اے پیرِ رومی ؒ کے مُریدِ باوقار

رنگ و بُو میں اُڑ گئ ہے اُس چمن کی آبرو
جس چمن میں تھی ترے نغمات سے فصلِ بہار

آرزو کا مُدعا کیا تھا ؟ شکستِ آرزو
کارواں کو کیا ہوا حاصل بجز گرد و غبار

کِس کی غفلت سے شکستہ ہو گئے جام و سبو
میکدے کا میکدہ کیوں ہو گیا ہے سوگوار

آہ اے اقبال تو واقف نہ تھا اس راز سے
اس وطن کے راہبر تجھ کو کریں گے شرمسار

لا الٰہ کے دم سے تھا میرے وطن کا اتحاد
لا الٰہ کو چھوڑنے کا ہے نتیجہ انتشار

اے خودی کے رازداں فریاد فریاد ہے
ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تیرا انوکھا شاہکار ہے !

اے شریکِ زُمرہء لا یحزنون تو ہی بتا
نوجوانانِ چمن کیوں ہو گئے ہیں اشکبار

افتخارِ ملک و ملؔت شاعرِ اسلام سُن
یاد کرتے ہیں تجھے لاہور کے لیل و نہار

شمعِ آزادی جو تیری فِکر سے روشن ہوئی
عزم ِ تازہ مانگتی ہے حُریؔت کی یاد گار

کیا کہے واصف کہ یہ اقبال کا پیغام ہے
ہوشیار اہلِ جنوں ، اہلِ خرد سے ، ہوشیار

(شب چراغ)

حضرت واصف علی واصف ؒ

21/04/2026

سوال:-
مایوسی کیوں آتی ہے بلکہ کیا ہوتی ہے؟
جواب:-
*انسان اگر اپنے اعمال کو دنیا سے Compensate کرانا چاہے تو یقیناً اُسے مایوسی ہو گی ۔ آپ کئ طرح کے عمل کرتے ہیں ۔ مثلاً وہ عمل جو آپ لوگوں کے بتائے ہوئے قوانین ، مزاج ، فیشن اور رائے کے مطابق کرتے ہیں ۔ آپ کا بہت سارا عمل جو ہے وہ لوگوں کے لیے ہوتا ہے ۔ ہم چل رہے تھے تو کسی نے کام پہ لگا لیا ، کسی نے رائے کا اظہار کر دیا ۔ کسی نے اگر کہہ دیا کہ یہ آدمی تیز دوڑتا ہے تو وہ بھاگنا شروع کر دے دیتا ہے ۔ تو لوگوں کے Opinion کو Cater کرنے کے لیے آپ اپنا عمل کرتے جا رہے ہیں ۔ اس کے اندر مایوسی یوں آتی ہے کہ جن لوگوں کے لیے آپ نے عمل کا آغاز کیا اور کچھ عرصہ بعد وہ انسان نہ رہے اور عمل جاری رہا ، Appreciate کرنے والے چلے گئے تو آپ کو مایوسی ہو گئی ۔ انسان اپنی محفلوں کا آغاز دوستوں سے کرتا ہے اور آہستہ آہستہ ، کچھ عرصے کے بعد اس کے پاس ہجوم تو رہتا ہے لیکن دوست نہیں رہتے ۔ یعنی اپنوں میں رہنے والا کچھ عرصہ کے بعد لوگوں میں تو رہتا ہے لیکن اپنوں میں نہیں رہتا ۔ ساری لیبر ضائع ہو جاتی ہے ۔ یہ وہ لیبر تھی جس کا Reward آپ نے دنیا سے چاہا تھا اور وہ ہمیشہ مایوسی پیدا کرے گی چاہے اس کی Appreciation ہو بھی گئ ہو ۔ کچھ عرصہ بعد کچھ لوگ آئیں گے جو یہ کہیں گے کہ تُو نے کیا غلطی کی ۔ مثلاً
آپ نے ایک دُکان بنا لی ، بہت اچھی دُکان ۔ کاروبار بہت سیٹ کر لیا ۔ بڑی کامیابی ہو گئی ، شہرت ہو گئ ۔ جو لوگ دوست تھے بڑے خوش ہوئے ۔ پھر دوست غائب ہو گئے ، سین آف ایکشن سے رخصت ہو گئے ۔ اب دوسرے ساتھی آ گئے ۔ انہوں کہا یہ آپ نے کیا حرکت کی ہے ، کیا دکانیں بنا رہے ہو ، یہ تو بہت غلط بات ہے ۔ تو آپ کا قابلِ تعریف عمل جو ہے ماحول بدلنے سے غیر قابلِ تعریف عمل رہ گیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پرانی روش پر چلنے والے نئے لوگوں کی موجودگی میں پرانی تعریف حاصل نہیں کر سکتا ۔ اس طرح مایوسی ہو جاتی ہے
تو دنیاوی انداز سے لوگوں کے مطابق سفر کرنے والا آدمی کہیں نہ کہیں مایوسی سے دو چار ہوتا ہے ۔ دنیاوی لوگوں میں رشتے دار بھی ہو سکتے ہیں ۔ مثلاً
آپ نے رشتے داروں کے لیے مال کمایا ، کچھ عرصہ کے بعد مال موجود ہوتا ہے ، رشتے دار بھی موجود ہوتے ہیں مگر آپ نے ان کو مال نہیں دیا ۔ کمایا اولاد کے لیے مگر وہ جو مال کی محبت ہے وہ ڈسٹری بیوشن کی محبت پر غالب آ گئ ۔ کمایا کیوں؟ ۔ Incentive کیا تھا؟ رشتہ دار ، بچے ۔ آپ نے کہا کہ یہ ضرورت مند ہیں ، ان کے لیے کمانا چاہیے ۔ آپ کے پاس یہ Force تھی ۔ بچے دانا ہیں ، کہتے ہیں کہ ابا کہ پاس پیسہ ہے ، تو وہ آپ سے مانگتے ہیں ۔ آپ ڈسٹری بیوشن کی جراءت نہیں کر سکتے کیونکہ پیسے سے محبت ہو گئی ۔ نتیجہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے لیے آپ نے مال کمایا ، وہی لوگ آپ نے محروم کر دیے ۔ تو پیسہ کمانے کے باوجود مایوسی ہو گئی ۔ عمل تو ٹھیک تھا لیکن مایوسی اس لیے ہو گئی کہ مال دار آدمی جو ہے کچھ عرصہ کے جو بخیل ہونا اُس کے لیے لازمی ہے
پہلے انسان کہتا ہے کہ مال کماوءں گا ان بچوں کے لیے ، ان کے لیے پیسہ چاہیے ، ان کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے ۔ اور اب بچے کہتے ہیں کہ ہمیں پیسے دو تو یہ کہتا ہے کہ پیسے دینا بڑا مشکل ہے ، جب میں مروں گا تم لے لینا ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ عمل مایوس کر دیتا ہے
دینا کے مطابق چلنے والا ، لوگوں کے انداز کے مطابق سفر کرنے والا ، شہرتِ زمانہ کے مطابق کام کرنے والا اور چند آدمیوں کو راضی کرنے والا مایوسی سے دو چار ہو گا ۔ پہلے اُس کو کامیابی ہو گی اور پھر یک لخت فلاپ ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر گناہ گار اپنے گناہ میں کامیاب ہوتا ہے ، کامیاب تو ہوتا ہے لیکن مایوس ہو جاتا ہے ۔ تو آپ نے جو Ends اختیار کیے ، مقاصد اختیار کیے ، اُن مقاصد کے لیے آپ نے غلط ذرائع چُنے ۔ مثلاً
اولاد کی خدمت کرنا نیک مقصد ہے لیکن جائز ناجائز ذرائع سے آپ نے مال اکٹھا کیا ، پھر اولاد کو بھی نہیں دیا اور آپ کا عمل بھی بُرا ہو گیا ، آپ کا عمل ناجائز ہو گیا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مایوسی ہو گئی
ایک عمل وہ ہوتا ہے جو انسان اپنی مرضی کے مطابق کرتا ہے ، کہ جی میں آیا اور کام کر گئے ۔ یہ اپنے جی میں آنے والی جو بات ہے اس کا یہ ہوتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد اپنے جی میں اور بات آ جاتی ہے ۔ اس طرح مایوسی ہو جاتی ہے ۔ کبھی آپ ارادہ کرتے ہیں جاگنے کا ، پھر کچھ بعد ارادہ کرتے ہیں سونے کا ۔ مثلاً
یہ ارادہ کر لیا کہ آج ہم جاگیں گے ، تہجد پڑھیں گے ، نفل پڑھیں گے ۔ تھوڑی دیر بعد کہتا ہے کہ نیند بھی ضروری ہوتی ہے ۔ تو اپنے آپ کو Justify کر کے سو جاتے ہیں اور پھر صبح اُٹھ کے آئینے کا سامنا کیا تو مایوسی ہو گئ کہ یہ تو وہی ہے جس نے دم خِم کے ساتھ جاگنے کا ارادہ کیا تھا ۔ تو آپ اپنے آپ کو دیکھ کر خود مایوس ہو گئے کہ اپنے ارادے میں آپ کو استقامت نہ ہوئی ۔ اگر آپ اپنے ارادے میں کامیاب ہو بھی گئے تو دوسرے ارادے میں ناکام ہو جانا ہے ۔ مثلاً
ارادہ یہ ہے کہ جی چاہتا ہے کہ میں سیر کرتا جاوءں ۔ کچھ عرصہ بعد جب بیماری پاس آئے گی تو پھر کہے گا کہ جی چاہتا ہے کہ میں آرام کرتا جاوءں ۔ آپ کا جی یا آپ کا نفس جو ہے یہ بدلتا ہی رہتا ہے ۔ اس کے اندر ہر طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں ۔ کبھی آرام کی تمنا ، کبھی سفر کی آرزو ۔ اسے اگر کہیں کہ اپنے رشتے دار ، بھائی کے پاس جاوء تو وہ کہتا ہے کہ اب بھائی کے پاس کیا جانا ہے ، کیا وہ ہمارے پاس کبھی آیا ہے؟ اگر وہ نہیں آیا تو تُو اس کے پاس چلا جا ۔ پھر انسان کبھی اپنے کو بگاڑتا ہے اور کبھی بناتا ہے ۔ اس طرح نفس کے مطابق عمل کرنے والا مایوس ہو جاتا ہے ۔دو طرح کے اعمال ہوتے ہیں ۔ دنیا کے مطابق عمل کرنے والا مایوس ہو گا ، کہ لوگوں کے کہنے کے مطابق اپنی وضع بدل لی ۔ لوگ توجہ نہیں کرتے اور پھر یہ پریشان ہو جاتا ہے ۔ پھر کسی اور مزاج سے چلتا ہے تو بھی پریشان ہو جاتا ہے ۔ یہ جو آنکھوں میں سُرمہ لگا رہا ہے اگر اس کو دیکھنے والے اندھے ہوں تو پھر سُرمہ کیا کام کرے گا ۔ یہ تو پھر نامناسب بات ہے ۔ لوگ دراصل آپ کی اصل حقیت کو سمجھ ہی نہیں سکتے ۔ تو دنیا کے مطابق عمل کرنے والا بھی مایوس اور نفس کے مطابق عمل کرنے والا بھی مایوس ہو گا
نفس جو ہے یہ تحاشا کھاتا ہے ، جی چاہتا ہے کہ بس کھاتے جائیں ۔ اور جب بیماری اور ڈاکٹر آ جاتے ہیں تو پھر کھانا پریشان کرتا ہے ۔ کہتا ہے لعنت بھیجو ، یہ کھانا مجھے نہیں کھانا چاہیے تھا ۔ ڈاکٹر کہے گا کہ نمک چھوڑ دو ، میٹھا چھوڑ دو ، حتٰی کہ بہت کچھ چھوڑ دو ۔ انسان جو چیزیں رغبت سے کھاتا ہے کچھ عرصہ بعد انسان کے وجود میں اتنی استعداد نہیں رہتی کہ وہی اشیاء رغبت سے کھاتا جائے ۔ تو نفس کی خوشنودی بھی دیر پا نہ ہوئی ۔ آپ جو بھی خواہش کرتے ہیں وہ پوری ہونے کے بعد آپ اس قابل نہیں رہتے کہ دوباره خواہش کریں ۔ یہ ہے نفس ۔ کہ آپ نے نفس کو مطمئن کیا ، سو گئے ، نیند کا غلبہ تھا ، بڑی لطف دار نیند آئی لیکن بعد میں پھر وہی واقعات ، وہی دوڑا بھاگا پھرتا ہے ۔ ایک واقعہ آپ دو دفعہ نہیں کر سکتے ۔ نفس کی یہ خوبی ہے کہ آپ کو صحیح راستے پر نہیں لے جائے گا ، کہیں نہ کہیں Justify کر کے آپ کو گمراہ کر دے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دعا کیا کرو کہ تم بچ جاوء ۔ من شرور انفسنا ۔ تو دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بچا ہمارے اپنے نفس کے شر سے ۔ نفس جو ہے آپ کو عابد کے طور پر رکھنا چاہتا ہے اور عبادت سے محروم کرتا ہے ، نیک مشہور کرنا چاہتا ہے لیکن بدی کے اندر سفر کراتا ہے ۔ یہ وہ شیطان ہے جو کہتا ہے کہ تم بُرائی کرو اور جب انسان بُرائی کرتا ہے تو وہ اس کے اوپر پردہ ڈال دیتا ہے ۔ انسان سمجھتا ہے کہ اس کی برائی کوئی نہیں دیکھ رہا ۔ پھر شیطان یہ کام کرتا ہے کہ باہر نکل کے مشہور کر دیتا ہے کہ وہاں بُرائی ہو رہی ہے ۔ اور جو بُرائیاں مخفی ہوتی ہیں وہ آڈٹ ہو کے باہر آ جاتی ہیں ۔ آڈِٹ اسی کا نام ہے کہ آپ نے فائل کے اندر جو گمراہی کی ہے آڈِٹ والے آ کے کہیں گے کہ اس پر تو Over writing ہے ۔ تو یہ کیا ہوا؟ ۔ خرابی نفس ہمیشہ Over writing کرتا رہتا ہے اور پھر پکڑا جاتا ہے ۔ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی رضا کے لیے کام کیا ، وہ کام چاہے کامیاب ہو یا ناکام ہو ، انہیں کبھی مایوسی نہیں ہوئی ۔ اگر ایک کام ناکام ہو گیا ہے اور وہ اللہ کی خوشنودی کے لیے تھا ، تو وہ کامیاب ہے ۔ اس پہ کوئی افسوس نہیں ہونا چاہیے ۔ وہ کہتا ہے کہ ہم تو خوش نیتی سے چلے تھے ، اس بندے کو ہم بچانے کے لیے گئے تھے لیکن ہمیں راستے میں اطلاع ملی کہ بندہ اللہ کو پیارا ہو گیا ، تو اب مایوسی کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ ہمارا عمل تو نیت کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے تھا ۔ اگر آپ اپنے عمل کو اللہ کی رضا سے In Tune کرا دو تو کبھی مایوسی نہیں ہو گی چاہے کام نامکمل ہی ہو ۔ مایوسی تب ہو گی اگر دنیا کے مطابق کام کیا
ایک حدیث شریف ہے کہ ایک ایسا وقت آئے گا کہ اولادیں اور ماں باپ انسان کو ہلاک کر دیں گے ۔ وہ وقت بڑا مشکل ہو گا ۔ اس وقت بہتر ہو گا کہ تم بے شک شادیاں نہ کرو ۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی یارسول اللہ ؐ وہ کیسا زمانہ ہو گا کہ اولاد اور ماں باپ انسان کو ہلاک کریں، وہ تو کبھی ہلاک نہیں کرتے ۔ آپؐ نے فرمایا بات یہ ہے کہ اولاد باپ سے وہ تقاضا کرے گی جو اس کی استعداد میں نہ ہو ، ماں باپ اس سے وہ تقاضا کریں گے جو اس کی دسترس میں نہ ہو ، اس کو غریب ہونے پہ پر غیرت دلائیں گے اور وہ غیرت کے لیے ، اپنے آپ کو امیر کرنے کے لیے ایمان بیچنے پر مجبور ہو جائے گا ۔ یعنی کہ حرام کی کمائی آپ لا کے میز پہ رکھتے ہیں اور اولاد سے کہتے ہیں کہ بسم اللہ کرو ، کھاوء ۔ تو وہ کیا بسم اللہ کریں گے کہ وہ تو ”انا للہ“ والی کمائی ہے یعنی کہ ناجائز کمائی ہے ۔ تو اولاد کیا کھانا کھائے کیونکہ وہ کھانا ہی ناپاک ہے ۔ اس طرح اولاد ہلاک کر دیتی ہے ، ماں باپ ہلاک کر دیتے ہیں ، دنیا آپ کو ہلاک کر دے گی کہ آپ کی غلط چیز کی تعریف کر دے گی ۔ پھر آپ کے ساتھ وہی ہو گا جو ایک کوؔے کے ساتھ ہوا تھا جس کے منہ میں لقمہ تھا اور لُومڑی نے اُسے کہا کہ تم بہت اچھا گاتے ہو ۔ کوؔا گانے لگا تو لقمہ گر گیا ۔ تو انسان اس طرح ہلاک ہوتا جاتا ہے جب دنیا کی مرضی سے چلتا ہے ۔ نفس کے مطابق چلنے والا بھی ہلاک ہوتا جاتا ہے
ایک دفعہ ایک آدمی کو اطلاع ملی کہ جنگل میں کوئی ڈاکو ہے ، وہ مسافروں سے مال چھین لیتا ہے اور اس نے بڑا پریشان کیا ہوا ہے ۔ تو وہ بابا جی گٹھڑی لے کے وہاں چلے گئے ۔ ڈاکو نے کہا گٹھڑی رکھ دو ۔ بابا جی نے کہا کہ تو اس گٹھڑی کو کیا کرے گا ۔ ڈاکو نے کہا کہ میں جا کے بچوں کو دیتا ہوں ، ہم کھاتے پیتے ہیں ۔ بابا جی نے کہا یہ گٹھڑی لے جا ، اس میں مال بھی ہے ، تو اپنی اولاد سے اور ماں باپ سے پوچھ کے آ کہ اگر اس عمل کی وجہ سے کبھی گرفت ہو گئ تو کیا وہ تمہارا ساتھ دیں گے ۔ تو وہ اپنے گھر گیا اور ان سے کہا کہ ایک بابا وہاں بیٹھا ہوا ہے اور اس نے یہ سوال کیا ہے ، کیا تم میرا ساتھ دو گے، انہوں نے کہا ہم تو نہیں کہتے کہ تو حرام لا ،تو جائز کمائی لا ، ہم کھانے والے ہیں ، تُو جو بھی لائے گا ہم کھا لیں گے ، اگر تُو ناجائز کمائے گا تو اس ناجائز کمانے کے عمل کا ذمہ دار تو خود ہو گا ۔ تو وہ مقام ایسا ہے جہاں بھائی ، بھائی کے کام نہیں آئے گا ، باپ بیٹے کے کام نہیں آئے گا ، ماں اولاد کے کام نہیں آئے گی ۔ تو کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا
اللہ کریم فرمائے گا کہ تیری ایک نیکی کم ہو گئ ہے ، جا لے کے آ اپنے حلقہء احباب سے ۔ تو وہ حلقہء احباب کے پاس جائے گا اور ان سے کہے گا کہ میری ایک آدھ نیکی Short ہے ، تمہارے پاس تو بجٹ کی فراوانی ہے ، ایک نیکی دے دو ۔ تو وہ کہیں گے کہ وہ دنیا کا کاروبار تھا جب ہم تمہاری مدد کرتے تھے ، یہاں تو کسی چیز کی گنجائش نہیں ہے ولا تنزر وازرة وزر اخریٰ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا ، یہ حکم ہی نہیں ہے ۔ حتٰی کہ وہ ماں کے پاس جائے گا ۔ ماں کہے گی کہ میں نے تجھے پالا ، خون دیا ، دودھ پلایا ، لیکن یہاں نیکی دینے کا حُکم نہیں ہے ۔ باپ بھی مدد نہیں کرے گا ۔ پھر وہ مُنہ لٹکائے واپس آئے گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تُو نے مجھے ان لوگوں کی خاطر چھوڑا اور آج ان میں سے کوئی تیرے کام نہیں آیا ، یہ الگ بات ہے کہ میں تجھے معاف کر دوں ، آخر جب کام میری رحمت نے آنا ہے تو وہ لوگ جو رحمت کے راستے میں رکاوٹ ہیں تو خود ہی ان سے نجات پا ۔ تو یہ دُنیا والے کام نہیں آئیں گے ۔ نہ تمہارا مال کام آئے گا ، نہ تمہاری اولادیں کام آئیں گی اور نہ حلقہء احباب کام آئے گا ۔ وہ لوگ جو کندھے سے کندھا ملا کے بیٹھتے تھے انہوں نے آخر میں جنازے کو کندھا بھی نہ دیا ۔ دنیا میں ایسے ہی ہوتا ہے
جن کی خاطر آپ نے ایمان بیچا انہوں نے بھی ساتھ نہیں دینا ۔ تو کوئی ساتھ نہیں دے گا ۔ وہاں پر تیری تنہائی ہو گی اور تُو اکیلا ہو گا ۔ اور پھر تیری جواب دہی ہو گی لمن الملک الیوم للہ الواحد القھار کہ آج کے دن کا کون بادشاہ ہے سوائے اللہ واحد کے جو قہار ہے ۔ یہاں پر اللہ نے اپنے نام کے ساتھ قہار کہا ہے ۔ تو وہاں اکیلے اللہ کی بادشاہی ہے ، اب حساب بتا ۔ تو اپنے اعمال کو دنیا کے حساب سے چلانے والا مایوس ضرور ہو گا ۔ نفس کی تسکین والا عمل جو ہے وہ مایوس ضرور ہو گا ۔ نفس کے مقامات ہیں وجود کی تسکین ، غرور کی تسکین ، نمائش کی تسکین ، شہرت اور افتخار چاہنا ، اپنے آپ کو نمایاں کرنا اور حسد کرنا ۔ یہ سارے نفس کے مقامات ہیں ۔ اس طرح حسد ، حرص ، نمائش اور آلائش ہیں ، تو یہ کام کرنے والا کبھی مایوسی سے بچ نہیں سکتا ۔ یہ دنیا ہے اور یہی نفس ہے ۔ نفس جو بھی ہوعمل کرتا ہو، اور وہ نفس امارہ ہو ، تو سب کچھ لے جاتا ہے
ایک آدمی کو کبھی مایوسی نہیں ہوتی اور وہ آدمی ہے جس نے اللہ کی خاطر عمل کیا ۔ اور وہ ہمیشہ ہی سرفراز ہوئے جنہوں نے اللہ کی خاطر عمل کیے ۔ وہ عمل کامیاب ہوں یا ناکام ہوں اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ اگر آپ کا عمل اللہ کے راستے پر ہو اور اللہ کی رضا کے لیے ہو تو وہ کوئی سا بھی عمل ہو ، اس سے سے آپ کو مایوسی نہیں ہو گی ۔ مثلاً آپ حج کرنے جا رہے ہیں اور راستے میں اتفاق سے ہارٹ فیل ہو گیا تو بھی حج ہو گیا ۔ کیونکہ آپ اس راستے پر اور اس رُخ پر تھے ۔ اور اگر آپ دنیا کی طرف جا رہے ہیں اور راستے میں انعام مل گیا تب بھی سزا ہے ۔ تو دنیا کے اندر حاصل ہونے والے مقامات اور کامیابیاں دراصل یہ ناکامیاں ہیں ۔ جب انسان پر یہ آشکار ہوتا ہے کہ یہ سب ناکامیاں ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے
مایوسی دراصل اطلاع ہے کہ غلطی ہو گئ ۔ جب مایوسی آ جائے تو سجھو کہ آپ کے اندر سے ضمیر نے آواز دے دی ، ضمیر کہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ میں مر جاوءں ، میں تمہیں اطلاع دے رہا ہوں کہ تو غلطی کر رہا ہے ۔ مایوسی کا مطلب کیا ہے؟ مرتے ہوئے ضمیر کی آخری آواز ۔ ضمیر یہ بتاتا ہے کہ میں مرنے والا ہوں اور تم نے غلطی کر دی ہے ۔ تو اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مایوس نہ ہونا ، میری رحمت سے مایوس نہ ہونا ۔ رحمت سے کون مایوس نہیں ہو گا؟ وہ جو اللہ کی خاطر چلے گا ۔ مطلب یہ کہ اللہ کی طرف اپنا سفر کرو اور اللہ کی طرف اپنا رُخ کر دو تو پھر آپ کو مایوسی نہیں ہو گی ۔ اگر آپ کا سفر الی اللہ ہو گا تو مایوسی نہیں ہو گی اور اگر سفر کا رُخ دنیا ہو گا تو مایوسی ہو گی ۔ دنیا کا کام کیا ہوتا ہے؟ مکان ، سامان ، جائیداد ، اولاد ، نمائش ، شہرت ، پیسہ ، نفس ، تمنا ، حرص ، ہوا اور حسد ۔ یہ حسد ہوتا ہے اگر کوئی یہ کہے کہ یااللہ مجھے پیسہ دے دے یا سب سے چھین لے ، یا پھر مجھے اندھا کر دے تا کہ میں ان کو دیکھوں تو ناں ۔ تو ایسے بھی لوگ ہیں جو برداشت نہیں کر سکتے اور حسد کرتے ہیں ۔ ایک آدمی کے ہاں چوری ہو گئ ۔ وہ بہت رویا ۔ کسی نے پوچھا کہ کیوں روتا ہے اس قدر ۔ کہتا ہے کہ اس بات کا غم نہیں کہ میری چوری ہو گئی ہے ، غم مجھے کچھ اور ہے ۔ پوچھا کیا غم لگ گیا؟ کہتا ہے غم یہ ہے کہ تمہاری چوری نہیں ہوئی ہے ، اگر سب کی ہو جاتی تو غم اور کم ہو جاتا ،غم کو کم کرنے کے دو طریقے ہیں ، یا میرا غم کم ہو یا سب کو لگ جائے
ایک بُڑھیا کا بیٹا مر گیا ۔ وہ بہت روئی ، چیخی چِلائی ۔ پھر ایک درویش کے پاس گئ ۔ انہوں نے کہا میں تیرا بیٹا واپس لا دوں گا ، مگر تُو ایسے گھر سے جا کر دانے لے آ جہاں کوئی مرا نہ ہو ۔ وہ پہلے گھر گئ اور پوچھا کہ آپ کے ہاں کوئی مرا تو نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا پچھلے سال ابا جان فوت ہو گئے تھے ۔ دوسرے گھر گئ تو ان کے چچا جان فوت ہو گئے تھے ، کسی کا بیٹا فوت ہو گیا تھا ۔ جب وہ واپس آئی تو بُڑھیا ٹھیک ہو گئ تھی ۔ اُس نے کہا رونے کا فائدہ نہیں ، اس جہاں سے سب نے جانا ہے ۔ اب غم کس بات کا؟ جب سب کے ہاں غم ہو تو پھر کم ہو جاتا ہے ۔ تو غم کو کم کرنے کا ایک طریقہ یہ بتایا گیا ہے ۔ تو مایوسی سے نجات کا صرف ایک راستہ ہے اور وہ ہے اللہ کا راستہ ۔ اپنے عمل کو اللہ کے تابع کرو ورنہ مایوسی کی اطلاع ہے آپ کے ضمیر کی کہ میں مر گیا اور تُو نے مجھے مار دیا ۔ تو اطلاع یہ ہے کہ تُو نے کچھ غلط کر دیا ہے ۔ مایوسی سے بچنا چاہیے ۔ آپ یہ جو پیسہ جمع کرتے رہتے ہو ، گنتے رہتے ہو ، جمع مالا وعددہ تو اس نے کام نہیں آنا ۔ اگر ایسے شخص کو اللہ کہے گا کہ حساب لگا تو وہ پیسوں کا حساب شروع کر دے گا ۔ اللہ کہے گا کہ کچھ اور حساب بھی ہے ۔ وہ بے چارہ حساب سے یہی سمجھتا ہے کہ کچھ پیسہ اوور ڈرافٹ کر دو ، جمع کر دو ، نکال لو ۔ تو حساب یہ نہیں ہے ۔ حساب یہ ہے کہ بتا کہ تُو نے لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ، اپنے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا ، اپنے ایمان کے ساتھ کیا سلوک کیا ، اپنے ضمیر کے ساتھ کیا سلوک کیا ، خدا کے ساتھ کیا سلوک کیا ، اس دین کے ساتھ کیا سلوک کیا جس کو تُو نے ماننے کا اعلان کیا تھا ۔ تُو نے اپنے ساتھ یہ سلوک کیا کہ کاذب ہو گیا ، تُو جھوٹا ہو گیا کہ تیری نیت دنیاوی ہو گئ ۔ اور جھوٹا آدمی جو ہے وہ ہمیشہ مایوس رہے گا چاہے اس کا جھوٹ کامیاب ہی ہو جائے ۔ اس لیے اپنے آپ کو صداقت کے راستے پر اور خدا کے راستے پر ڈال دو تو مایوسی نہیں ہو گی
جس کو بار بار مایوسی ہوتی ہے اس کا ضمیر تھوڑا سا زندہ ہے ورنہ ضمیر مر جائے تو مایوسی نہیں ہوتی ۔ پھر وہ گناہ پہ خوش ہوتا ہے ۔ مایوسی آپ کے لیے اطلاع ہے کہ ضمیر میں کوئی بیماری آ گئ ہے ، اب اس کو ٹھیک کر لو ، مایوسی سے نکل کے Hope میں داخل ہو جاوء ۔ یہ اللہ کے کام ہیں ۔ اللہ کے قُرب کی واحد نشانی یہ ہے کہ آپ کو مایوسی سے نکال کر اُمید میں داخل کرتا ہے ۔ اللہ کے قُرب کی تعریف ہی یہی ہے ۔ تقربِ الہٰی کیا کرتا ہے؟ وہ مایوسی سے نکال کر اُمید میں داخل کرتا ہے ، اپنے تقرب میں داخل کرتا ہے ۔ دنیا جو ہے یہ مایوسی میں داخل کرے گی ، تخت پر بیٹھ کر بادشاہ سسکیاں بھرے گا ۔ بادشاہ ہے اور گھبرا رہا ہے ۔ کہتا ہے کہ ڈر ہے ۔ کس کا ڈر ہے؟ جو ماتحت ہیں ان کا ڈر ہے ۔ اسی طرح افسر ماتحتوں سے ڈرتا ہے ۔ کہتا ہے کہ یہ سارے پاگل ہیں ، مجھے ماریں گے ۔ اس لیے کہ وہ اپنے آپ کو نااہل سمجھتا ہے ، ان کو گالی دیتا ہے اور پھر پریشان ہو جاتا ہے اور ڈرتا ہے ۔ جو ظالم مالک ہو وہ نوکروں سے ڈرتا ہے ۔ ظالم جو ہے وہ مظلموں سے ہمیشہ ہی ڈرتا ہے ۔ ڈرانے والا ہمیشہ ڈرتا ہے ۔ بس آپ یاد رکھنا ۔ کہتے ہیں کہ It is good to have power but bad to use it یعنی طاقت رکھنا بڑی اچھی بات ہے لیکن اس طاقت کا استعمال بہت بُری بات ہے ۔ اس کا اگلا فقرہ ، کہنے والے یہ کہتے ہیں کہ ، جب حکومتیں کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں تو طاقت کا استعمال کرتی ہیں ۔ طاقت کا استعمال دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت ہاتھ سے نکل گئ ۔ باپ جب بیٹے پر ہاتھ اُٹھائے تو سمجھو کہ اب وہ بے اختیار ہو گیا
ایک تھا آدمی ۔ اس کا بیٹا تھا، چھوٹا ، آٹھ یا نو سال کا ۔ وہ کسی ساحل کے علاقے میں رہتا تھا ۔ اس کی ماں کسی بیماری میں مبتلا تھی ۔ بچے کو شوق یہ تھا کہ وہ بندرگاہ پر جاتا اور آنے والے پرانے زمانے کے ملاحوں سے کہانیاں سنتا ، قصے سنتا ، دیر تک وہاں رہتا ، پھر دیر سے گھر جاتا ، اس کا ابا اُسے مارتا اور وہ رو رو کے سو جاتا ۔ صبح اٹھ کے وہ بچہ پھر چلا جاتا ہے ، ملاحوں سے ملتا ، ان سے کہانیاں سنتا اور رات کو دیر سے آتا ، مار کھاتا ، روتا اور سو جاتا ۔ ایسا ہوتا رہا ۔ ایک دن بچہ ایک ایسے ملاح سے ملا جو بوڑھا تھا ، اس نے ایک کہانی سنائی کہ ہم فلاں جزیرے میں گئے ، وہ واقعہ ہوا ۔ اتنے میں دو آدمی اس بوڑھے ملاح کے پاس آئے اور حساب کتاب لین دین کی بات کی ۔ پھر انہوں نے بوڑھے ملاح کو مارا اور مار پیٹ کے چلے گئے ۔ بوڑھا ملاح ان کے جانے کے بعد کہانی پھر سے سنانے لگا جیسے کچھ بھی نہیں ہوا ۔ بچے نے کہا تمہیں اتنی مار پڑی ہے اور تو پھر بھی کہانی سنا رہا ہے ۔ ملاح نے کہا بیٹا بات یہ ہے کہ زندگی اتنی اہم نہیں ہے جتنی زندہ رہنے کی جراءت اہم ہے ۔ اس شام جب وہ بچہ گھر گیا تو باپ نے بڑا مارا مگر وہ رویا نہیں ۔ باپ سیانا تھا ، وہ سمجھ گیا کہ بچہ جوان ہو گیا ہے ۔ باپ نے چابیاں بچے کو دے دیں کہ آج سے تم جوان ہو ، تم گھر کے مالک ہو یہ تیری زمینیں ہیں ، یہ تیری جائیداد ہے ، میں اب سفر پر جا رہا ہوں Now you are young enoough to control everything جب تک تُو روتا تھا تو بچہ تھا اور آج سے تم جوان ہو ۔ مطلب یہ کہ بچے جب جوان ہو جائیں تو ایک واقعہ بن جاتا ہے ۔ طاقت استعمال کرنے سے طاقت والا ڈر گیا ۔ یعنی کہ طاقت کیا تھی؟ Frighten کرنے کی اور اگلا جو ہے وہ Frighten نہ ہو ، ڈرنے والا نہ ڈرے تو پھر ڈرانے والا ڈر جاتا ہے ۔ آپ میری بات سجھ رہے ہیں؟ تو یہ ہیں طاقت کے واقعات اور دنیا کے واقعات ۔ ہر آدمی جو ہے وہ کمزور ہے ۔ یہاں کا بادشاہ بھی خائف ہو گا ، دنیا دار بھی خائف ہو گا ، مال دار کو چوروں کا ڈر ہو گا ، بے ایمانی کرنے والے کو Exposure کا ڈر ہو گا بلکہ آڈِٹ کا ڈر ہو گا ۔ اگر آڈِٹ ہو جائے تو اچھا ہے ورنہ روزانہ خوف ہی آڈِٹ کرتا رہتا ہے ۔ اُسے تو پتہ ہے کہ اس نے کہاں ملاوٹ کی ہے ۔ پھر وہ اندر ہی اندر سسکتا رہتا ہے اور اس کا خیال وہیں اَٹکا رہتا ہے جہاں پہ اُس نے غلطی کی تھی، پھر کوئی دیکھے یا نہ دیکھے ، انسان کے اندر گِرہ لگ جاتی ہے اور خوف رہتا ہے ۔ مایوسی وہاں پیدا ہو گی جہاں پہ اندر گرہ لگ جائے گی ۔ اس لیے مایوسی سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم دعا کیا کرو کہ یااللہ مجھے مایوسی سے نجات دے اور غم سے نجات دے ۔ نماز آپ کو مایوسی سے نجات دیتی ہے ۔ اللہ کا راستہ آپ مایوسی سے نجات دیتا ہے ۔ اگر مایوسی آ جائے تو خیرات کر دیا کرو ۔ اگر مال بچانا ہے تو مایوسی ضرور آئے گی ۔ یہ زہریلا کھیل ہے ۔ دعا یہ کرو کہ مال تو ہو لیکن مال کی محبت نہ ہو ۔ مال کی محبت نہ ہونے سے کیا مراد ہے؟ کہ مال آسانی سے آئے اور آسانی سے تقسیم کرو ۔ میری نصیحت یہ ہے کہ یہ نہ کرنا کہ آپ کے وارثوں کو پیسہ آپ کی موت کے بعد ملے ۔ سمجھو کہ پھر عاقبت خراب ہو گئ ۔ جو ان کو آپ کے بعد ملنا ہے وہ اپنی زندگی میں Distribute کر دو ، یا ان کا کچھ حصہ ضرور دے جاوء ، ورنہ بعد میں تو وہ لے ہی لیں گے ۔ یہ نہ کرنا کہ آپ زندگی میں پیسہ تقسیم کرنے والے مہربان کی بجائے پیسے کی حفاظت کرنے والے سانپ بن جائیں ۔ آپ اولاد کو تعلیم دیں ، محبت دیں اور مال بھی دیں ۔ اگر اولاد کے لیے کمایا ہے تو انہیں دو ، نہیں کمایا تو پھر یہ نفس ہی نفس ہے ، مایوسی ہی مایوسی ہے ۔ پھر آپ نے کیا کِیا ۔ انسان نے پیسہ کبھی نہیں کھایا ۔ اس نے گندم ہی کھائی ہے ۔ اصل بات تو یہ ہے ! یا تو پیسہ کھانے لگ جاتا یا کبھی سونا کھانے لگ جاتا لیکن وہ کھا نہیں سکتا ۔ اگر وہ کھائے گا تو گندم ہی کھائے گا ۔ کھانی گندم ہے اور گننا پیسہ ہے ، تو یہ کیا بات ہوئی ۔ آپ کرتے کیا ہیں ۔ آپ یہ دیکھیں کہ آپ کا کچھ بھی نہیں بدلا ، اللہ نے جو کچھ آپ کو بنایا ہے آپ وہی کے وہی ہیں ۔ وہی محدود زندگی ہے یعنی ساٹھ سال ۔ پھر چلے جانا ہے ۔ ہر آنکھ میں سے آنسوٶں میں سے ضرور گزرنا ہے ۔ یہ آنسو لوگوں کے سامنے نہ آئے تو تنہائی میں آئیں گے ۔ مایوسی جو ہے وہ ایک مقام پر آپ کو خدا کی طرف لے جاتی ہے ، اگر آپ باضمیر انسان ہیں تو جس کام سے مایوسی ہوئی ہے وہاں سے باز آ جاوء ، پلٹ آوء ۔ اگر نہ پلٹے تو پھر وارننگ بھی نہیں ملے گی اور بات ختم ہو جائے گی ۔ تو مایوسی کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے اعمال دین کے لیے نہیں ہیں بلکہ دنیا کے لیے ہیں ، نمود و نمائش کے لیے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلا سوال پوچھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بولو۔۔۔۔۔۔۔۔ بولتے جاوء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سوال کرنا ہے اور بحث نہیں کرنی ، پھر جو آپ کے ذہن میں سوال ہو اور جس کا جواب آپ کو چاہیے ہو ۔ کسی کے کہے فقرے کے دوسرے رُخ پر بات کرنے کا موقع نہیں ہے کیونکہ تمام رُخوں کو سب جانتے ہیں ۔ اپنا سوال ، Independant ، جس کا جواب آپ کو درکار ہو اور اس کا جاننا آپ کے لیے ضروری ہو اور جس کا جواب آپ نہ جانتے ہوں ، جس کا جواب آپ کے دین میں معاون ہو ۔ اس طرح آپ کا مسئلہ آسان ہو جاتا ہے ۔ تو میں ان سوالوں کی بات کر رہا ہوں ۔ یہ وہ سوالات ہیں اور وہ جوابات ہیں جن پر کتابیں خاموش ہوتی ہیں ، یہ عام طور پر کتابوں میں Available نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو بولیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پوچھیں

(گفتگو والیم 20 .......... صفحہ نمبر17 ، 18 ، 19 ، 20 ، 21 ، 22 ، 23 ، 24 ، 25 ، 26 ، 27 ،28 ، 29 ، 30 ، 31)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Want your school to be the top-listed School/college in Gujranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Gujranwala