27/09/2026
بول حرفِ مدعا ، تقریر طولانی نہ کر
قیمتی الفاظ کی اتنی بھی ارزانی نہ کر
بھول جا اب کجکلاہی کے گئے ایام کو
وقت کے عبرت کدے میں اپنی من نہ کر
اپنے مالک سے تعلق کی نئی راہیں بھی ڈھونڈ
صرف سجدوں ہی سے روشن اپنی پیشانی نہ کر
مَیں دھواں ہوں وقت کے روشن الاؤ کا
فکر کر اس آگ کا میری نگہبانی نہ کر
وہ جو طوفاں کے تھپیڑے کھا رہا ہے اس سے پوچھ
تُو جو ساحل پر کھڑا ہے ذکرِ طغیانی نہ کر
اپنے رنگیں خ*ل کی دنیا سے باہر بھی نکل
آئینے کے عکس کی اتنی ثنا خوانی نہ کر
عہدِ فردا کے قصیدے کا بھی ہو کچھ اہتمام
عہدِ رفتہ ہی کی واصف مرثیہ خوانی نہ کر
(شب چراغ)
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ