Karamat Ali Karamat

Karamat Ali Karamat Works at Fikr e Wasif Ali Wasif r.a

بول  حرفِ مدعا  ،  تقریر طولانی نہ کر قیمتی الفاظ کی اتنی بھی ارزانی نہ کربھول جا اب کجکلاہی کے  گئے  ایام  کووقت کے عبر...
27/09/2026

بول حرفِ مدعا ، تقریر طولانی نہ کر
قیمتی الفاظ کی اتنی بھی ارزانی نہ کر

بھول جا اب کجکلاہی کے گئے ایام کو
وقت کے عبرت کدے میں اپنی من نہ کر

اپنے مالک سے تعلق کی نئی راہیں بھی ڈھونڈ
صرف سجدوں ہی سے روشن اپنی پیشانی نہ کر

مَیں دھواں ہوں وقت کے روشن الاؤ کا
فکر کر اس آگ کا میری نگہبانی نہ کر

وہ جو طوفاں کے تھپیڑے کھا رہا ہے اس سے پوچھ
تُو جو ساحل پر کھڑا ہے ذکرِ طغیانی نہ کر

اپنے رنگیں خ*ل کی دنیا سے باہر بھی نکل
آئینے کے عکس کی اتنی ثنا خوانی نہ کر

عہدِ فردا کے قصیدے کا بھی ہو کچھ اہتمام
عہدِ رفتہ ہی کی واصف مرثیہ خوانی نہ کر

(شب چراغ)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

سوال:-سر! آپ کہتے ہیں کہ مسلمان کو مسلمان نہ بناؤ تو اس کا مطلب کیا ہے؟جواب:-*میں یہ نہیں کہتا کہ مسلمان کو مسلمان نہ بن...
27/09/2026

سوال:-

سر! آپ کہتے ہیں کہ مسلمان کو مسلمان نہ بناؤ تو اس کا مطلب کیا ہے؟

جواب:-

*میں یہ نہیں کہتا کہ مسلمان کو مسلمان نہ بناؤ بلکہ مَیں یہ کہتا ہوں کہ بغیر تعلق کے کبھی تبلیغ نہ کرو ۔ اگر ایک ناواقف آدمی ہے اور آپ چلتے چلتے اُسے تبلیغ کرنا شروع کر دیں گے تو پھر وہ انسان Offend ہو جاتا ہے ، غصہ کر جاتا ہے ۔ آپ کا کام یہ ہے کہ تعلق پہلے بناؤ اور تبلیغ بعد میں کرو ۔
اور اتنی بات یاد رکھو کہ اللہ تعالٰی مہربان ہے ، اللہ تعالٰی کسی سے بدظن نہیں ہوا اور آپ اللہ تعالٰی کو مہربان سمجھو اور اپنے گناہوں کی توبہ اور معافی مانگتے رہنا اور دعا کرتے رہنا ہے کہ جو کچھ ہم سے ہو گیا اللہ تعالٰی وہ ہمیں معاف فرمائے ۔
مَیں بتا رہا تھا کہ گناہگار کو تو معافی مل سکتی ہے لیکن شیطان کو معافی نہیں مل سکتی ۔ گناہگار اور شیطان کا فرق میں نے آپ کو بتلایا ہے کہ گناہگار وہ ہے جو اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور شیطان وہ ہے جو اپنی غلطی کو Defend کرے ، غلطی پہ اصرار کرے ۔
بس جو اپنے گناہ کو Defend کرنا چاہے ، گناہ پہ اصرار کرے اس کو معافی نہیں ہے اور جو Confess کرے ، اپنا گناہ مان لے اس کو معافی ہے ۔
اللہ تعالٰی ہمیں ہماری کوتاہیوں کے باوجود معاف کرے یعنی جو بھی ہم سے کوتاہیاں ہوئی ہیں ۔ ہماری غلطیاں معاف فرمائے ۔ اللہ تعالٰی ہمیں ایک اچھی زندگی میں داخل کرے ، یہ زندگی بھی اور آنے والی زندگی بھی اچھی کرے ، ہماری زندگی میں آنے والے تمام تضادات اللہ کریم حل فرمائے اور ہمیں سکونِ قلب عطا فرمائے ۔
سکونِ قلب کب ہے؟ جب آپ کا حاصل اور آپ کی آرزو برابر ہو جائے ۔ تو اس طرح سکونِ قلب آ جاتا ہے ورنہ حاصل کم رہ جائے اور آرزو بڑھ جائے تو پھر پریشانی ہی پریشانی ہے ۔
خدا آپ کی آرزوؤں کی ٹانگیں کاٹ دے ۔ اللہ تعالٰی مہربانی فرمائے کہ آپ کی آرزوئیں کم ہو جائیں ، لمبی آرزوؤں کو کم کرو اور چھوٹی آرزو کرو ۔ صرف چار دن کی زندگی ہے ۔
آپ لوگ دعا کرو کہ اللہ کریم ملک کے حالات بہتر فرمائے ۔ اللہ تعالٰی آپ کو اچھے زمانے دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ اچھے زمانے آپ کی زندگی میں آئیں ۔ تو اچھے زمانے بھی ہوتے ہیں اور وہ زمانے آنے چاہیئں ۔ اللہ تعالٰی سچوں کو نافذ کرے اور اللہ تعالٰی نیک کو توفیق دے کہ وہ نافذ ہو ، اللہ تعالٰی مہربانی فرمائے اور اُن کو کامیابی عطا فرمائے ۔ آمین۔

(گفتگو والیم 13 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 75 ، 76)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

☆اگر کوئی حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور فقیروں سے محبت کرتا ہے اور دل میں بغض رکھتا ہے تو وہ نقل...
23/09/2026

☆اگر کوئی حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور فقیروں سے محبت کرتا ہے اور دل میں بغض رکھتا ہے تو وہ نقلی ہے کیونکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ کی محبت جس دل میں آ جائے اس دل میں نفرت نہیں آنی چاہیے - اگر نفرت ہے تو محبت جھوٹی ہے کیونکہ ایسا شخص نفرت کے لئے نہیں بنا ہوتا بلکہ محبت کے لئے بنا ہوتا ہے اور محبت میں محو ہوتا ہے - وہ اس قدر محو ہوتا ہے کہ اسے کچھ پتہ نہیں ہوتا
ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا اور مجنوں آگے سے گزر گیا - اس نے مجنوں سے کہا کہ تو نے آگے سے گزر کر میری نماز خراب کر دی - مجنوں نے کہا کہ تو اللہ کی نماز پڑھ رہا تھا اور مجھے بھی دیکھ رہا تھا ، میں جب لیلی کے خیال میں ہوتا ہوں تو دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے مجھے کچھ فرق نہیں پڑتا - یہ ہے محویت اور وہ جو خدا کی نماز پڑھ رہا تھا اس کو دیکھو
جو آدمی دعوی کرتا ہے کہ وہ اللہ سے محبت کرتا ہے ، اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور فقراء کرام سے محبت کرتا ہے اور محبت کے Instruments تباہ کرتا ہے یعنی محبت کے ذرائع تباہ کرتا ہے تو وہ کیا محبت کرتا ہے - تو محبت جو ہے وہ All round ہونی چاہیے یعنی مکمل ہونی چاہیے - تو آپ کے Behaviour میں ایک Constancy ہونی چاہیے - یعنی جہاں ایمان کمزور ہونے کی اجازت ہو سکتی ہے وہاں بھی ایمان کمزور نہیں ہونا چاہیے

گفتگو 4_______صفحہ نمبر 197____198

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

سوال:-ایک مرتبہ آپ نے فرمایا تھا کہ ایک ایسا مقام بھی ہوتا ہے کہ دعا نہ کیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔جواب:-☆دعا مانگنے والی بات بندے ...
21/09/2026

سوال:-
ایک مرتبہ آپ نے فرمایا تھا کہ ایک ایسا مقام بھی ہوتا ہے کہ دعا نہ کیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔
جواب:-
☆دعا مانگنے والی بات بندے اور رب کے درمیان ہے اور بندے کے دل میں جو خیال آتا ہے وہ اللہ کو معلوم ہوتا ہے - تو بندے کے دل میں پیدا ہونے والے خیال سے اللہ آشنا ہے - اب مانگنے کی کیا ضرورت ہے - مسنون بات یہ ہے کہ دعا مانگا کرو اور آپ ضرور مانگا کرو - ایک مرتبہ یہ بات پوچھی گئ تھی کہ ایسا واقعہ کبھی ہوا ہے کہ دعا مانگی گئ ہو اور منظور نہ ہوئی ہو - تو ایسی کئ دعائیں ہوتی ہیں - بتایا یہ جا رہا ہے کہ اللہ کے طالب جو لوگ ہیں وہ دعا پر اصرار نہیں کرتے - دعا ، مانگنا اور رضا، دینا ہے - صاحبان_رضا مانگتے نہیں ہیں - اللہ پر جو لوگ راضی ہوتے ہیں وہ یہ نہیں کہتے کہ یا اللہ اس مصیبت کو ہم سے ٹال ، یہ کیا کربلا ہمارے اوپر نازل ہو گئ ہے - وہ کبھی یہ نہیں کہیں گے - اور ان صاحبان کے نام سے آپ دعائیں مانگتے ہیں - تو جن کے نام سے آپ دعائیں مانگتے ہیں وہ کبھی یہ دعا نہیں مانگتے ہیں کہ یا اللہ یہ مصیبت ٹال - وہ کہتے ہیں اللہ بہتر کر رہا ہے جو کچھ کر رہا ہے - تو وہ لوگ جب دعا مانگتے ہیں جمیع کے لیے مانگتے ہیں کہ یااللہ سب کی مشکلات آسان کر ، اس امت پر رحم فرما ، ہمارے لوگوں پر رحم فرما ، ہمارے ساتھیوں پر رحم فرما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ یہ نہیں کہتے کہ مجھ سے یہ مشکل ٹال - مشکل تو ان کا درجہ ہے - ہم لوگ روتے ہیں کہ کربلا میں بڑا ظلم ہوا اور اگر وہاں پر حضرت امام عالی مقام علیہ السلام دعا کرتے تو وہ بلا ٹل جاتی - آپ لوگ جو مسلمان ہیں کیا آپ کا یہ یقین نہیں ہے کہ امام علیہ السلام کی مانگی ہوئی دعا منظور ہو گی - یہ ہم سب کا یقین ہے - کیا امام علیہ السلام نے مصیبت ٹلنے کی دعا مانگی؟ دعا جب بھی مانگے گا Follower مانگے گا اور امام علیہ السلام جو ہیں وہ رضا پر رہیں گے - کیا آپ لوگ علی علیہ السلام کو مشکل کشا مانتے ہیں؟ تو ان پر تو مشکلات ہی مشکلات تھیں - پھر مشکل کشائی کیا ہے؟ آپ علیہ السلام خود شہید ، اولاد شہد ، ان کے ماننے والے ہمیشہ شہید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اسی کا نام ہے مشکل کشائی

تو آپ قبول کرو ، اللہ کی طرف سے آنے والا قبول کرو - امام وہ ہوتا ہے ، ولی وہ ہوتا ہے ، اچھا بندہ وہ ہوتا ہے جو کہے کہ جو اللہ کی رضا ہے وہ قبول ، میری رضا وہ ہے جو تیری رضا ہے ، ہمیں وہ قبول ہے ، جو واقعہ ہوا ہے یہ قبول ، موت آ گئ ہے تو یہ بھی قبول ہے

پیر پیغمبر ولی درویش مردان_خدا
موت کی وادی سے گزرے ہیں بہ تسلیم و رضا

تو تسلیم و رضا ان کا شیوہ ہے - جس کا شیوہ تسلیم و رضا ہے وہ اللہ سے کیا مانگے گا - پھر مانگنا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے فیصلے اور اللہ کے فیصلے میں فرق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو آپ کب مانگتے ہیں؟ جب آپ کے فیصلے اور اللہ کے فیصلے میں فرق آ جائے - اگر اللہ نے کوئی مشکل ڈال دی تو انسان آسانی چاہتا ہے اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا ہے - اگر جو اللہ کر رہا ہے وہ ہم بھی کریں تو پھر کوئی مشکل نہیں ہے - اس لیے میں نے پہلے بھی آپ کو بتایا تھا کہ اللہ کے بندے وہ ہوتے ہیں جن کو اگر یہ کائنات دو دن کے لئے مکمل اختیار کے ساتھ مل جائے تو دو دن کے بعد وہ کائنات کو جوں کا توں واپس لوٹا دیں - اللہ کہے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے؟ تو وہ کہے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی - یہ ہے رضا - صاحب_اختیار ہونے کے باوجود اسے Change نہ کرے - تو مشکل کشا وہ ہے جو مشکل قبول کرے ، لوگوں کی مشکل دور کرے اور اپنے لئے مشکل قبول کرے - تو یہ مشکل کشا ہوتا ہے - تو اللہ کی طرف سے جو کچھ آ رہا ہوتا ہے وہ اپنے لیے قبول کرتے ہیں ، اپنے لیے دعا نہیں کرتے اور لوگوں کی مشکل حل کرتے ہیں _____

اب آپ لوگ اور سوال کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بولیں ۔۔۔۔۔۔۔۔بولنے کا نام ہی زندگی ہے ، پھر تو یہ انسان ہے ، چپ کر جاتا ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بولیں

گفتگو 17________صفحہ نمبر 140۔۔۔۔141۔۔۔۔142

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

*ایک آدمی کو بتایا گیا کہ دریا کے کنارے جو کنکریاں ہیں اور سنگریزے ہیں ، ان میں کہیں نہ کہیں "پارس" ہے اور یہ پارس جس شے...
21/09/2026

*ایک آدمی کو بتایا گیا کہ دریا کے کنارے جو کنکریاں ہیں اور سنگریزے ہیں ، ان میں کہیں نہ کہیں "پارس" ہے اور یہ پارس جس شے کو لگتا ہے اسے سونا بنا دیتا ہے تو وہ اللہ کا نام لے کے وہاں بیٹھ گیا ۔ دریا کے کنارے سنگریزے وہ دیکھتا رہا ۔ لوہے کی ایک انگوٹھی ہاتھ میں رکھی اور ایک ایک کنکری اسے لگاتا گیا ۔ جس کنکری سے کچھ نہ ہوتا اس کو دُور پھینک دیتا تھا کیونکہ وہ تو پتھر تھا ۔ وہ یہ کرتا گیا ۔ ایک ایک کرتے وہ اتنا مکینیکل ہو گیا کہ ایک پتھر اٹھایا ، لگایا اور پھینکا ۔ پھر پتھر اٹھایا لگایا پھینکا ۔ اسی عمل میں وہ پتھر بھی پھینک بیٹھا جس سے لگ کر وہ انگوٹھی سونا ہو گئی تھی ۔ تو اب وہ غلطی سے پارس کو بھی دریا میں پھینک چُکا تھا ۔
یہ انسان کی Reject کرنے کی عادت ہے کہ بعض اوقات جو صحیح مقام ہے اسے بھی Reject کر جاتا ہے ، رد کر جاتا ہے ۔
جس طرح دروازے پر غلط سائل آ جاتے ہیں کہ اللہ کے نام پر دے بابا تو انسان کہتا ہے کہ معاف کرو بابا ۔ پھر ایک روز اللہ کہے گا کہ مَیں تیرے پاس آیا تھا اور تُو نے مجھے بھی جواب دے دیا ، مَیں نے اپنے نام پہ مانگا تھا تُو نے مجھے بھی کہہ دیا کہ معاف کرو ۔ تو وہ کہے گا کہ مجھے کیا پتہ تھا کیونکہ میری تو عادت ہی ہو گئی تھی کہ سب کو خالی لوٹا دوں ۔ تو آپ کہیں یہ عادت نہ بنا لیں کہ آپ سب کو Reject کرتے جائیں ، بھگاتے جائیں بلکہ قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کریں ۔
کوئی مقام ، غلط مقام نہیں ہوتا بلکہ ہر مقام صحیح مقام ہے ، کیونکہ صحیح آدمی ، غلط مقامات سے بھی صحیح منزل پا لے گا ۔ شرط یہ ہے کہ آدمی صحیح ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر ایک مسافر اس وادی سے نکلا ، اُس وادی سے نکلا ، اِدھر سے گیا ، اُدھر سے گیا ، غلط راستے سے گیا ، گمراہی سے گیا ، بے راہ راستوں سے گیا تو چلتے چلتے وہ منزل پہ کسی نہ کسی طریقے سے پہنچ جائے گا ۔ وہاں جب وہ منزل کے کنارے پر ہو گا تو وہاں اس کو ایک صحیح آدمی مل جائے گا جو اسے اٹھا کے اس منزل پر بٹھا دے گا ۔
جس کو صحیح منزل مل گئی اس کا سارا راستہ ہی صحیح ہے ۔ وہ کامیاب ہے کیونکہ اس کو منزل مل گئی ۔
اگر آپ کی بخشش ہو گئی تو ایسے سمجھیں کہ سارے گناہ بھی کامیاب ہو گئے ۔ اس لئے آپ آج سے صحیح ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔

(گفتگو والیم 7 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 247)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

*غریب بھی دو طبقوں میں تقسیم کئے جاتے ہیں ۔ اچھا غریب اور بُرا غریب ۔ اچھا غریب وہ ہے جو اپنی غریبی کو اپنے ایمان کی قوت...
19/09/2026

*غریب بھی دو طبقوں میں تقسیم کئے جاتے ہیں ۔ اچھا غریب اور بُرا غریب ۔ اچھا غریب وہ ہے جو اپنی غریبی کو اپنے ایمان کی قوت کے طور پر استعمال کرتا ہے ۔ غریبی اس کو درِ عطا تک لاتی ہے ۔ وہ غریب ہونے کی وجہ سے قریب ہو جاتا ہے ، اسی ذات کے جو غریبوں کو قریب کرتی ہے ۔ عبادت اس مقام تک نہیں پہنچ سکتی ، جس مقام پر صبر کرنے والا غریب ، شکر کرنے والا غریب ، راضی رہنے والا غریب پہنچ سکتا ہے ۔ اچھا غریب وہی ہے ، جو حبیب ؐ کے قریب ہو
ظاہر ہے ، برا غریب کردار کا برا ہے ۔ وہ ایک بھوکے کُتے کی طرح ہے ، جو فاقے کے باوجود اپنی برادری کو کاٹتا ہے ۔ غریب کُتا غریب کُتوں پر حملہ کرتا ہے ۔ ایسا غریب بہت بُرا غریب ہے جو رحمتِ حق سے مایوس ہوا ، جو مقدر کا منکر ہوا ، جس نے زندگی کو گلے شکوے میں گزرا اور فنا کے دیس میں یہ بھول گیا کہ یہاں کس کام کے لیے آیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(حرف حرف حقیت)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

""""""""""""""" اذانِ حُر""""""""""""""""بڑا   گھمنڈ   ،   تفاخر   ،   غرور   اور   تمکیںیہ لے کے پہنچا کہاں سجدہ گاہ می...
17/09/2026

""""""""""""""" اذانِ حُر""""""""""""""""

بڑا گھمنڈ ، تفاخر ، غرور اور تمکیں
یہ لے کے پہنچا کہاں سجدہ گاہ میں تو جیبں

لباس عطر میں ڈوبا ہوا ہے فکر میں دل
زباں پہ نامِ خدا سُرخ چہرہ چیں بہ چیں

عصائے موسٰی لئے ہاتھ میں پھرے ہے کہاں
فرعونِ وقت بتاؤ اسے یہ ہے مسکیں

کہ قہقہوں کی بلندی ہی اس کی پستی ہے
فغانِ نیم شبی مانگتا ہے یہ بے دیں

نظامِ نو کی خبر دے رہا ہے ایک چوہا
کہ جیسے شیر کوئی کارواں میں ہے ہی نہیں

بڑی سریلی اذانوں میں محو ہیں سارے
اذانِ حُر بھی سُنی آپ نے یہاں کہ نہیں

ہے خود تو جھوٹا مگر بات کہہ رہا ہے سچ
بڑا مکار ہے یہ بیچتا ہے دینِ مبیں

غلام جان کے اِن بے کسی کے ماروں کو
سنوارتا ہے یہ دُنیا بگاڑتا ہے دیں

اِمام بننے کا ہے شوق اس کو مدّت سے
بنا ہے درسِ نظامی کے آسماں کی زمیں

"خدا کی راہ میں جو مر گیا شہید ہوا"
جناب راہِ خدا آپ کو ملی کہ نہیں

خدا کے شکر میں بھرتا ہے پیٹ کو اتنا
کہ جیسے پیٹ ہو کچھوے کا، واہ رے رہبرِ دیں

حدیثِ قدسی کے ہر راز سے یہ ہے آگاہ
ملا نہ گوشہ کوئی ہو گیا ہے کوٹھی نشیں

یہ ہے غزالیٔ دوراں کہ رومئی ملّت!
کہ دام لے کے جو بولیں تو جھوم جائے زمیں

مکان اِس کے ابھی چار پانچ چھ ہونگے
مگر یہ رکھتا ہے بارہ اماموں پر بھی یقیں

ملے جو کثرتِ دولت بیاں کرے وحدت
غریب لوگ بلائیں تو اس کو وقت نہیں

بیانِ تقویٰ توّکل طہارت و توبہ
بغیر دام کے بولے تو یہ کہاں کا امیں

غریب بھائی تمھاری ہی ہوش ختم ہوئی
تمھارے خوں کا ہے طالب یہ عاقبت کا نہیں

نماز دار پہ ہو گی یا کربلا میں ادا !
کہ اب چمکنے کو ہے رازِ عاشقی کا نگیں

جبینِ شوق سے خود ڈھونڈ آستانۂ حُسن
صنم خیال کے سب توڑ دو کہ وقت نہیں

(شب راز)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

☆جب آپ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  تکلیف کی وادی سے گزرے تو اللہ تعالی نے پوچھا کہ اگر کہیں تو پھر ان کا حشر کر دیا جائے ...
16/09/2026

☆جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکلیف کی وادی سے گزرے تو اللہ تعالی نے پوچھا کہ اگر کہیں تو پھر ان کا حشر کر دیا جائے ، جیسے پہلی امتوں میں ہوتا رہا ہے کہ انہوں نے حکم نہیں مانا اور خلاف ہو گئے - مگر آپ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ٹائیٹل بھی رحمت ہے - آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ نہیں تو ان کی اولادیں مسلمان ہو جائیں گی
تاریخ نے دیکھا کہ ان کی اولادیں پوری مسلمان ہوئیں - حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی قوم نے نہیں مانا جب کہ انہوں نے بڑی تبلیغ کی ، ان کی زندگی طویل تھی ، کوئی کہتا ہے کہ چودہ سو سال ، کوئی گیارہ سو سال اور کوئی نو سو سال کہتا ہے - جب قوم نہ مانی تو نوح علیہ السلام نے پھر ایک Request کی، دعا کی یہ تو مانتے نہیں ہیں ، پھر ان کو Dispatch ہی کر دیا جائے ، آگے بھیج دیا جائے - اللہ تو خالق ہے ، جب چاہے پھر مخلوق پیدا کر لے ، اللہ نے کہا Dispatch کر دو ، اگر نہیں مانتے تو انہیں بھیج دیا جائے - نہ ماننے والوں کی لسٹ میں نوح علیہ السلام کا ایک بیٹا بھی تھا ، انہوں نے اللہ سے درخواست کی کہ اس کو چھوڑ دیا جائے - اللہ نے فرمایا یہ بھی تو نہ ماننے والوں میں ہے - نوح علیہ السلام نے کہا یہ میرا بیٹا ہے - اللہ تعالی نے کہا تو باقی بھی تو کسی اور کے بیٹے ہیں، وہ گئے ہیں تو پھر یہ بھی جانے دو - تو ان کو بات سمجھ آ گئ ، جس جگہ نہ ماننے والوں کو بھیجا جا رہا ہے تو پھر نہ ماننے والوں سے رشتہ داریاں کیا ہیں - تو وہ رشتہ دار نہیں ہے جو نہیں مانتا - تو حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک واحد ذات ہیں کہ نہ ماننے والوں کو سزا کبھی تجویز نہیں کی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیشہ ہی معاف فرمایا ہے ___ تو یہ ایک مزاج ہے اور جو پیغمبروں کے ہاں بھی خواہشات رہتی ہیں اس قسم کی خواہش اگر آپ میں پیدا ہو جائے تو سمجھو کہ اللہ کی طرف سے ہے ، مثلا
ایک آدمی ظلم کر کے چلا گیا، اب بد دعا کی تیاری ہو چکی تھی لیکن معاف کر دینے کی خواہش پیدا ہو گئ اور پھر کہا کہ معاف کر دیا ، تو یہ خواہش جو اللہ کی طرف سے ہے - تو وہ خواہش جو پیغمبروں کی خواہشات کی اطاعت میں پیدا ہوئی ہوں وہ اللہ کی طرف سے ہے ، وہ خواہش جو ولیوں کی خواہش کی اطاعت میں آئی وہ بھی اللہ کی طرف سے ہے - اور جس خواہش کا مرکز فرعونیت کی اطاعت میں آئے وہ آپ کے نفس کی بات ہے اور سزا کی بات ہے - خواہش تو پیدا ہوتی رہتی ہے - لیکن خواہش کو پہچاننا ہی زندگی ہے

گفتگو 11_________صفحہ نمبر 42__43___44

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

*جیسے ہی آپ سوال کی دعوت دیتے لوگ سوچ میں پڑ جاتے ۔ خاموشی برقرار رہتی ۔ پھر آپ نام لے لے کر پکارتے اور ان اصحاب سے کہتے...
15/09/2026

*جیسے ہی آپ سوال کی دعوت دیتے لوگ سوچ میں پڑ جاتے ۔ خاموشی برقرار رہتی ۔ پھر آپ نام لے لے کر پکارتے اور ان اصحاب سے کہتے کہ سوال کریں ۔ پھر لوگ سوال کرتے ۔ یہ سوال مختلف موضوعات سے تعلق رکھتے تھے ۔ پھر آپ فرماتے کہ مختلف مسائل اور علوم سے کتابیں بھری پڑی ہیں ، آپ کے اکثر سوالوں کے جواب ان میں موجود ہیں ، مَیں اس سوال کی دعوت دے رہا ہوں جس کا جواب اور کہیں سے نہ ملے ، آپ بڑے بڑے سفر کریں ، مقامات پر جائیں ، وہاں اکثر آپ کے سوال کا جواب نہیں ملے گا ، یہاں تو دعوت دی جا رہی ہے کہ پوچھو ، پوچھو!
ایک مرتبہ تو یہاں تک فرمایا کہ تاریخ میں ایسا موقع ہی کم آیا ہے کہ کسی نے بار بار کہا ہو کہ مجھ سے سوال کرو ، پوچھ لو ، تمہیں یہ موقع ملا ہے ، پوچھ لو ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر لوگ سوال بتاتے اور پوچھتے ۔ یہ سوال اپنی نوعیت کے ہوا کرتے ۔
آپ پھر فرماتے مَیں وضاحت کرتا ہوں کہ سوال کسے کہتے ہیں ۔ آپ لوگ مسلمان ہیں ، اسلام پر چلنا چاہتے ہیں ، زمانہ بدل چکا ہے ، دین پر چلتے چلتے کہیں آپ کے خیال میں یا عمل میں رکاوٹ آ جاتی ہے تو اپنی اس اُلجھن کو بیان کریں تا کہ اس طرح اپنے دین کو اپنانے میں آسانی آ جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر یہ بھی فرمایا کرتے کہ تم میں سے جو شخص ایک سوال کرتا ہے وہ دراصل ہزاروں انسانوں کے دلوں میں موجود ہوتا ہے اس طرح اس ایک سوال اور اس کے جواب سے ان تمام لوگوں کا مسئلہ بھی حل ہو جائے جن کے دل میں یہ سوال ہو گا ۔ اس طرح بار بار اصرار کر کے آپ لوگوں سے سوال "اُگلوا" لیا کرتے ۔
بار ہا ایسا ہوا کہ پانچ چھ اصحاب نے مختلف سوال کیے اور آپ انہیں سنتے گئے ۔ پھر ساری محفل میں ایک ایک کر کے سب سوالوں کے جواب دے دیتے ، سننے والے آپ کے حافظے ، گفتگو اور خیال پر گرفت کا اندازہ لگا کر حیران رہ جاتے ۔ یوں تو آپ ان سوالات کے علاوہ بھی تقریباً ہر موضوع پر لوگوں کے سوالوں کے جواب دیتے تھے مگر زیادہ زور اس بات دیتے تھے کہ وہ علم جو ابھی کتابوں میں نہیں آیا اور جس کی آج کے انسانوں کو اشد ضرورت ہے ، اب باہر آ جانا چاہیے ، تا کہ فقراء نے اللہ کا جو علم اپنے سینوں میں محفوظ کر کے ہم تک پہنچایا ہے ، وہ محفوظ طریقے سے ہماری نسلوں تک پہنچ جائے ۔

(گفتگو والیم 1 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 16 ، 17)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Address

Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Karamat Ali Karamat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Karamat Ali Karamat:

Shortcuts

Share

Category