09/02/2026
On the Orientation Event
The revival of learning and culture.
از سر نو احیاء
Renaissance thought is characterized
نشاة ثانیہ۔ علوم و فنون کے احیاء کا زمانہ۔ نہضت علیمہ۔ احیائے علوم۔ نوبیداری۔ چودھیوں سےسولھویں صدی ۔۔۔۔حیات نو.. A new birth, or revival
a situation when there is new interest in a particular subject, form of art, etc. after ۔a period when it was not very popular
The Renaissance is a name given to the "rebirth" of classical knowledge, art and learning that developed in Europe, but especially It
09/02/2026
On the Orientation Event
08/02/2026
5-feb 2026 Parents Orientation Day
08/02/2026
Uniform update upcoming session 26-27
08/02/2026
31/01/2026
31/01/2026
15/01/2026
پرائیویٹ سکول میں سب سے بڑا خلا
Teacher & Principal
ایک چھت، دو دنیائیں
پرائیویٹ سکول کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ وسائل کم ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہے۔
ایک ہی چھت کے نیچے کام کرنے والے
ٹیچر اور پرنسپل، ایک ہی ادارے کا حصہ ہونے کے باوجود، ایک دوسرے کے دلوں سے بہت دور ہوتے ہیں۔ یہ وہ خلا ہے جو نظر نہیں آتا، مگر پورے سکول کے نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
پرائیویٹ سکول کا ٹیچر ذمہ داری بھی لیتا ہے، محنت بھی کرتا ہے، نتائج بھی دیتا ہے، مگر پھر بھی وہ خود کو اس ادارے کا حصہ محسوس نہیں کر پاتا۔ اس کے دل میں ہمیشہ ایک خوف رہتا ہے: نوکری کا، عزت کا، کل کا۔ یہی خوف اسے خاموش رکھتا ہے، سچ بولنے سے روکتا ہے اور دل سے کام کرنے کی طاقت چھین لیتا ہے۔
دوسری طرف، پرنسپل یا سکول مالک انتظام، پالیسی اور اختیار کے دائرے میں تو مضبوط نظر آتا ہے، مگر انسانی رشتوں میں کمزور ہو جاتا ہے۔ جب لیڈر اپنے لوگوں کے دکھ درد نہ سمجھے، ان کی بات نہ سنے، تو ادارہ عمارت تو بن جاتا ہے، مگر برانڈ کبھی نہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ پرائیویٹ سکولوں میں گروپنگ، لابنگ اور سازشیں جنم لیتی ہیں۔ ٹیچر، ٹیچر سے نہیں ملتا؛ پرنسپل، حقیقت سے کٹ جاتا ہے؛ اور ہر شخص کسی نہ کسی کو اندھیرے میں رکھ رہا ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ والدین کو سب کچھ ٹھیک نظر آتا ہے، مگر اصل نقصان بچے کے مستقبل میں ہو چکا ہوتا ہے۔
تعلیم ڈنڈے سے نہیں چلتی، عزت سے چلتی ہے۔ سختی وقتی اطاعت تو پیدا کر سکتی ہے، مگر اخلاص، وفاداری اور ذمہ داری کبھی پیدا نہیں کر سکتی۔ جو ٹیچر کلاس میں بے عزتی سہہ کر جاتا ہے، وہ کتاب تو پڑھا دیتا ہے، مگر کردار نہیں بنا سکتا۔
سب سے زیادہ افسوسناک منظر وہ ہے جب ایک ٹیچر گھنٹوں پرنسپل کے سامنے کھڑا رہتا ہے، اپنی صفائی دیتا ہے، اپنی عزت بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف ایک انسان کی تذلیل ہے بلکہ پورے تعلیمی نظام کی شکست ہے۔ خاص طور پر نئی، کم عمر ٹیچرز کے ساتھ ہونے والی سختی اس خلا کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سکول کبھی اکیلا برانڈ نہیں بنتا، برانڈ ہمیشہ انسان مل کر بناتے ہیں۔ اگر ٹیچر کو اعتماد دیا جائے، اس کی تنخواہ کی وجہ سمجھائی جائے، اس سے احترام سے بات کی جائے، تو وہ ادارے کے لیے جان لگا دیتا ہے۔ لیکن اگر ہر بات حکم، ہر بات ڈانٹ، اور ہر بات شک پر ہو تو وہاں صرف وقت گزرتا ہے، ترقی نہیں ہوتی۔
یہ خلا ٹیچر پیدا نہیں کرتا، یہ خلا لیڈر پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ جو بڑا ہوتا ہے، ذمہ داری بھی اسی کی ہوتی ہے۔ پرنسپل، ایڈمن اور سکول مالک اگر چاہیں تو اس فاصلے کو کم کر سکتے ہیں، ماحول بدل سکتے ہیں، خوف کی جگہ اعتماد اور خاموشی کی جگہ مکالمہ لا سکتے ہیں۔
جس دن پرائیویٹ سکول کا ٹیچر خود کو اس ادارے کی فیملی کا حصہ سمجھنے لگے گا، اس دن نہ سازشیں رہیں گی، نہ اندھیرے، نہ جعلی نتائج۔ اس دن سکول واقعی سکول بنے گا، اور تعلیم واقعی تعلیم۔
کیونکہ یاد رکھیں:
جہاں دل جڑ جاتے ہیں،
وہاں ادارے خود بخود مضبوط ہو جاتے ہیں۔
والسلام
حافظ اسامہ رھبری
12/11/2025
V.Principal LJS Schools Sara Khalique with CEO Afaq Shahid Warsi.
28/09/2025
استاد کی بے عزتی – ایک قوم کی بربادی
آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ استاد کی عزت صرف تقریروں اور کتابوں تک محدود ہو گئی ہے۔ حقیقت میں استاد کی وہ حیثیت جو کبھی مقدس ہوا کرتی تھی، اب تماشہ بن گئی ہے۔ شاگرد استاد سے علم حاصل کرنے کے بجائے اس پر جملے کستے ہیں، والدین معمولی بات پر استاد کو نیچا دکھاتے ہیں، اور معاشرہ استاد کو اس قابل بھی نہیں سمجھتا کہ اسے عزت کی روٹی دے۔
یہ وہی استاد ہے جس نے ہمیں "ا، ب، پ" سے روشناس کرایا، قلم پکڑنا سکھایا، لفظوں کو جملوں میں جوڑنا سکھایا۔ مگر آج کے شاگرد اسی استاد کو کلاس میں بے توقیر کرتے ہیں، اس کی بات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ شرم آنی چاہیے ان والدین کو جو اپنے بچے کی غلطی چھپانے کے لیے استاد پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج ہم سب مل کر استاد کی عزت کو روند رہے ہیں۔
قومیں اس وقت برباد ہوتی ہیں جب ان کے استاد کی عزت خاک میں ملا دی جائے۔ یاد رکھو! فوج ملک کی سرحدیں بچاتی ہے، مگر استاد تمہاری نسلوں کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اگر استاد بے عزت ہو جائے تو تمہاری آنے والی نسلیں بھیگتے ہوئے چراغ کی مانند بجھ جائیں گی۔
افسوس! ہم نے استاد کو نوکر سمجھ لیا، حالانکہ وہی دراصل معمارِ قوم ہے۔ یہ زلت اور یہ بے توقیری جاری رہی تو آنے والی نسلوں کو نہ علم ملے گا، نہ شعور، نہ ہی کوئی اخلاق۔ پھر رونا دھونا رہ جائے گا اور یہ قوم غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دی جائے گی۔
استاد کی عزت محض نعرہ نہیں، یہ تمہاری بقا کا سوال ہے۔ اگر آج بھی نہ جاگے تو یاد رکھو: تمہارا حال بھی ان قوموں جیسا ہو گا جو کتابیں جلانے اور استاد کو ذلیل کرنے کے بعد تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دی گئیں۔
| Monday | 08:00 - 17:00 |
| Tuesday | 08:00 - 17:00 |
| Wednesday | 08:00 - 17:00 |
| Thursday | 08:00 - 17:00 |
| Friday | 08:00 - 17:00 |
| Saturday | 08:00 - 17:00 |