27/11/2021
”بل (Bill) کیا ہوتا ہے امی؟“
آٹھ سال کے بچے نے اپنی ماں سے پوچھا۔
ماں نے اسے سمجھایا، جب ہم کسی سے کوئی سامان خریدتے ہیں یا کوئی کام کرواتے ہیں
تو وہ اس سامان یا کام کے بدلے میں ہم سے پیسے لیتا ہے
اور ہم کو اس سامان یا کام کی لسٹ بنا کر دیتا ہے، اسی کو ہم بل کہتے ہیں۔
بچے کو ماں کی بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی۔
رات کو سونے سے پہلے اس نے ماں کے تکیے کے نیچے ایک پیپر رکھا جس میں اسی دن کا حساب لکھا ہوا تھا:
دوکان سے سامان لا کر دیا
بابا کی بائیک صاف کر کے باہر نکالی
دادا جی کا سر دبایا
دادی امی کی چابیاں ڈھونڈ کر دی
ٹوٹل ہوا تیس روپے۔
یہ صرف آج کا بل ہے، اس کو آج ہی دے دیں تو نوازش ہوگی۔
صبح جب بچہ اٹھا تو اس کے تکیے کے نیچے تیس روپے رکھے ہوئے تھے۔
وہ انھیں دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ یہ تو بہت اچھا کام ہوگیا۔
تبھی اس کی نظر ساتھ رکھے کاغذ پر پڑی۔
اس کی امی نے لکھا تھا:
پیدائش سے لے کر آج تک پالا پوسا
بیمار ہونے پر ساری ساری
رات سینے سے لگا کر گھمایا، بہلایا
اسکول بھیجنا اور ہوم ورک کروانا
صبح سے رات تک کھلانا، پلانا، کپڑے تبدیل کروانا، استری کرنا
حد سے زیادہ تمھاری فرمائشیں پوری کرنا
یہ اب تک کا پورا بل ہے۔
اس کی جب بھی قیمت ادا کرنا چاہو، کر دینا۔
بچے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
سیدھا جا کر اپنی ماں کے پاؤں پر جھک گیا اور بہت مشکل سے روتے ہوئے کہنے لگا،
آپ کے بل میں تو قیمت لکھی ہی نہیں ہے امی۔ یہ تو #انمول ہے۔
اس کی *قیمت* تو میں زندگی بھر ادا نہیں کر سکوں گا،
مجھے معاف کر دیں پیاری امی۔
امی نے ہنستے ہوئے بیٹے کو گلے لگا لیا۔
#نوٹ:
یہ تحریر اپنے بچوں کو ضرور پڑھائیں خواہ آپ کے بچے خود والدین بن چکے ہوں۔
27/11/2021
ابراہام لنکن نے اپنے بیٹے کے استاد کو ایک شہرہ آفاق خط لکھا، جو پاکستان کے تمام والدین کو ضرور پڑھنا چاہئے۔اس نے لکھا:”میرے بیٹے کو وہ طاقت عطا کرنے کی کوشش کیجئے کہ یہ ہر شخص کی بات سنے لیکن یہ بھی بتائیے کہ جو کچھ سنے اسے سچ کی کسوٹی پر پرکھے اور درست ہو تو عمل کرے۔اسے دوستوں کے لیے قربانی دینا سکھائیے۔اسے بتائیے کہ، اداسی میں کیسے مسکرایا جاتا ہے، اسے بتائیے کہ آنسوؤں میں کوئی شرم نہیں۔اسے سمجھائیے کہ منفی سوچ رکھنے والوں کو خاطر میں مت لائے۔ خوشامد اور بہت زیادہ مٹھاس سے ہوشیار رہے۔اسے سکھائیے کہ اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کا بہترین معاوضہ وصول کرے لیکن کبھی بھی اپنی روح اور دل کو بیچنے کی کوشش نہ کرے۔ اسے بتائیے کہ شور مچاتے ہوئے ہجوم کی باتوں پر کان نہ دھرے اور اگر وہ سمجھتا ہے کہ وہ صحیح ہے تو اپنی جگہ پر قائم رہے، ڈٹا رہے۔ *آپ اس کے استاد ہیں اس سے شفقت سے پیش آئیے مگر پیار اور دلاسہ مت دیجئے، کیونکہ یاد رکھیئے، خام لوہے کو بھڑکتی ہوئی آگ ہی فولاد بنایا کرتی ہے* ۔اسے سیکھنا ہو گا کہ ہر شخص کھرا نہیں ہوتا۔ لیکن اسے یہ بھی بتائیے کہ ہر غنڈے کے مقابلے میں ایک ہیرو بھی ہوا کرتا ہے۔ ہر خود غرض سیاستدان کے مقابلے میں ایک دوست بھی ہوا کرتا ہے۔آپ اسے حسد سے دور کر دیں۔ اگر آپ کر سکیں تو اسے خاموش قہقہوں کے راز کے بارے میں بھی بتائیے۔اسے یہ سیکھ لینا چاہئے کہ بدمعاشوں کا مقابلہ کرنا سب سے آسان کام ہوا کرتا ہے۔اگر آپ بتا سکیں تو اسے کتابوں کے سحر کے بارے میں بتائیے، لیکن اسے اتنا وقت ضرور دیجئے کہ وہ آسمانوں پر اڑنے والے پرندوں کے دائمی راز، شہد کی مکھیوں کے سورج سے تعلق اور پہاڑوں سے پھوٹنے والے پھولوں پر بھی غور کر سکے۔اسے بتائیے کہ اسکول میں نقل کر کے پاس ہونے سے فیل ہو جانا زیادہ باعزت ہے۔اسے بتائیے کہ جب سب کہتے بھی رہیں کہ وہ غلط ہے تو اپنے خیالات پر پختہ یقین رکھے۔“
26/11/2021
الجھے ہیں سکولوں میں SOPs کے دھاگے
ڈینگی اگر پیچھے ہےتو کورونا میرے آگے!!!
04/09/2021
قیام پاکستان کے فورا بعد ہی جن محازوں پر ہمیں ڈٹ جانا چاہیے تھا ۔ان میں سے ایک نظام تعلیم ہے،جس کو بے یارو مدد گار ہی چھوڑ دیا گیا۔ نجی تعلیمی ادارے دراصل تجارتی ادارے بن چکے ہیں۔ہمار انصاب تعلیم ایسا ہونا چاہئے کہ بچوں کو نصاب کے موضوعات کو سمجھنے کے لئے کسی اضافی ٹیوشن کی ضرورت نہ پڑے۔بچوں پر زائد کتابوں کو بوجھ نہ ڈالا جائے اور والدین پر کوئی اضافی تعلیمی اخراجات کے بوجھ نہ ڈالیں جائیں۔تعلیم کا مطلب ذہنی استعداد کا استعمال ہونا چاہئے ،نا کہ رٹنے اور رٹانے کی مشق کا کرنا ہو۔ذریعہ تدریس وہ زبان ہو جوکہ بچہ اپنے گھر کے ماحول اور اپنے علاقے میں بولتا،سنتا اور سمجھتا ہو۔
اپنی زبان میں تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے بچے اپنی اقدار سے دور ہورہے ہیں۔ پاکستان میں بھی انگریزی اتنی ہی ضروری ہے جتنی چین،جاپان اور دیگر ممالک میں جنہوں نے اپنی زبان سے جڑے رہتے ہوئے ہی ترقی کی مثالیں رقم کیں ہیں۔انگریزی زبان سیکھنا بری چیز نہیں ہے، لیکن اپنی زبان سے یکسر دور ہوجانا وہ خطرناک المیہ ہے جس سے ابھی ہم گزر رہے ہیں۔
اکثریت والدین ، اساتذہ اور مولوی تینوں ہی منافق ہیں۔ان تینوں نے ہی قوم بنانے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا ہے۔
تعلیمی تفریق ،تعلیمی امتیاز سے قوم کبھی متحد نہیں ہوسکتی۔دوہرے، تہرے نظام تعلیم معاشرتی تقسیم بھی پیدا ہوتی ہے اور فکری انتشار بھی جنم لیتا ہے۔ جیسا ماضی میں ہوتا رہا۔ اب امید ہے حکومت یہ فرق ختم کر دے گی اگر اللہ نے چاہا تو
تعلیم کے میدان میں زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا۔ اس میں سکول کے علاؤہ والدین کو بھی اپنی زمہ داری نبھانے کے لئے سوچنا پڑے گا
ناخواندگی اور تعلیمی پسماندگی دور کئے بغیر کوئی معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔پاکستان کو ترقی یافتہ بنانے کے لئے پوری قوم کو تعلیم یافتہ بنانا ضروری ہے۔
اللہ اور رسولؐ کے نام پر بنے ہوئے مُلک کے نظام تعلیم میں تو قرآن کی تعلیمات کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔
صرف چند آیات اور احادیث کو نصاب میں شامل کرلینے سے ہی ہم اچھے مسلمان نہیں بنتے ہیں،بلکہ پورا قرآن ہی ہمارا نصاب ہے۔قرآن کا موضوع ،انسانیت اور معاشرت ہے۔ اسے تعلیم میں بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہئے
پاکستان کا کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں مسجد نہ ہو۔اس کے برعکس بہت سارے علاقے ایسے ضرور ہیں جہاں سکول موجود نہیں ہیں۔اگر مساجد کو بطور مکتب یا سکول استعمال کیا جائے تو ہماری مساجد قوم کو تعلیم یافتہ بنانے میں اہم کردار اداکرسکتی ہیں۔ریٹائر منٹ کے خواتین و حضرات سکولوں میں اپنی خدمات پیش کرکے وہ معاشرے کی تعمیر میں کر اپنا فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تعلیم کو کسی مذہب ،برادری،خطے ، تک قید کردینا اس قوم کی تباہی ہوتی ہے۔اسلام کی ابتداء کی ’’ اقراء ( پڑھ) سے ہوئی ۔تعلیم کے لئے زبان کی قید نہیں ہونی چاہئے۔ تعلیم جنہاں سے بھی ملے لے لینی چاہیے تین سال کی عمر میں بچے کو سکول میں داخل کروایا جاتا ہے اور اس پر کتابوں کاپیوں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے ۔ہمارے زمانے میں ایک کتاب ہوتی تھی ۔نصابِ تعلیم میں اخلاقیا ت کو بھی مدنظر رکھ کر بہترین کردار بنانے میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے اور اس کے لئے بہترین کردار و اوصاف کے حامل اساتذہ کا انتخاب کیا جانا چاہئے۔
پہلی درس گاہ بلاشبہ ماں کی گود اور گھر کا ماحول ہی ہوتا ہے۔پرائمری ایجوکیشن بچے کی شخصیت کی تعمیر میں اہم ترین ستون ہوتی ہے۔اس لئے پرائمری تعلیم کو بامقصد اور کردار سازبنایا جانا ضروری ہے۔
چھوٹے بچوں کو گھریلو ماحول سے قریب انداز میں تعلیم وتربیت دینے کے لئے مانٹیسوری سسٹم کا اجرا کیا گیا تھا،لیکن ہمارا مونٹیسوری سسٹم ہمارے گھریلو ماحول سے مطابقت نہیں رکھتا ۔
10/08/2021
Dear Parents!
Be your children's best friend.
09/07/2021
ایک دن اونٹ اور اس کے بچے باتیں کر رہے تھے. بچہ نے پوچھا، '' ماں، ہمارے کوہان کیوں ہیں؟ '' ماں نے جواب دیا، "ہمارا کوہان پانی کے ذخیرہ کرنے کے لئے ہے تاکہ ہم صحرا میں زندہ رہ سکیں."
بچے نے کہا، "اوہ اور ہمارے پاؤں گول کیوں ہے؟" "کیونکہ وہ صحرا میں آرام دہ اور چلنے میں مدد کرنے کے لئے ہیں. یہ ٹانگیں ہمیں ریت میں گھومنے میں مدد کرتی ہیں. "
"ٹھیک ہے. لیکن ہماری پلکیں اتنی بڑی بڑی کیوں ہے؟ "" ہماری آنکھوں کو صحرا دھول اور ریت سے بچانے کے لئے. وہ آنکھوں کے لئے حفاظتی کور ہیں "، ماں اونٹ نے جواب دیا.
بچے نے تھوڑی دیر کے لئے سوچا اور کہا، "لہذا ہم صحرا کے سفر کے دوران پانی ذخیرہ کرنے کے لئے کوہان رکھتے ہیں، گول پاؤں صحرا میں چلنے کو آرام دہ رکھنے کے لئے، اور طویل پلکیں صحرا میں آنکھوں کو دھول سے بچانے کے لئے. پھر ہم ایک چڑیا گھر میں کیا کر رہے ہیں؟ "
ماں خاموش کھڑی تھی.
سبق : اگر آپ صحیح جگہ پے نہیں ہیں تو آپ کی طاقت، صلاحیتیں اور علم بیکار ہیں.