Jinnah Birght Way High School

Jinnah Birght Way High School

Share

Symbol of the best education. Education for all Admission open for play group

19/10/2021

اگر آقا ﷺ تمہارے گھر آ جائیں ۔۔۔ توکیا کرو گے؟
آصف محمود | ترکش | روزنامہ 92 نیوز

انگریزی میں لکھی یہ نظم ایک دوست نے واٹس ایپ کی ہے ۔ شاعر سوال کرتا ہے کہ اگر ایک روز ایسا ہو آقا ﷺ تمہارے گھر آ جائیں اور بالکل اچانک آ جائیں تو تم کیا کرو گے؟ یہ سوال آدمی کو وہاں لے جاتا ہے جہاں اسے اپنی خبر بھی نہیں رہتی ۔ وفور شوق سے آنکھیں برسات ہو جاتی ہیں اور حد ادب میں وجود برفاب ہو جاتا ہے ۔

شاعر کہتا ہے کہ اسے یہ تو معلوم ہے کہ تم راہوں میں پلکیں بچھا دو گے ، تمہارے وجود کی ایک ایک پور سرشاری کی کیفیت میں ہو گی ، تم گھر کا بہترین کمرہ آقا ﷺ کی خدمت میں پیش کر دو گے ، تم ان کے حضور بہترین سے بہترین کھانا دستر خوان پر چن دو گے اور ان کی خدمت کی لذت تمہیں دنیا سے بے خبر کر دے گی ۔ اس لیے اس کاسوال کچھ اور ہے ۔

سوال یہ ہے کہ جب تم آقا ﷺ کو دیکھو گے تو تم کیا کرو گے ۔ کیا تم میں اتنی ہمت ہو گی کہ بازو پھیلا کر آگے بڑھو اور ان کا استقبال کرو یا تمہیں پہلے اپنے کپڑوں کی فکر لاحق ہو جائے گی کہ ان کپڑوں میں آقا ﷺ سے کیے ملوں؟ پھرکیا تم کپڑے بدل کر فورا آقا ﷺ کا اسقبال کرنے کو بھاگو گے یا پہلے تمہیں گھر میں بکھرے میگزین اور رسالوں کو چھپا کر ان کی جگہ قرآن رکھنا پڑے گا؟

تمہارا ٹی وی ،ڈرامے اور فلمیں اور ریڈیو ، ان کا کیا کرو گے؟ کیا تم آلات موسیقی یونہی پڑے رہنے دو گے یا انہیں چھپا کر ان پر احادیث کی کتب رکھ دو گے؟ کیا تم اپنے آقا ﷺ کو لے کر گھر کے ہر کمرے میں جا سکو گے یا انہیں گھر دکھانے سے پہلے ہر کمرے میں تمہیں بھاگ بھاگ کر کچھ چیزیں چھپانا پڑیں گی ؟

اور فرض کرو آقا ﷺتمہارے گھر کچھ دن قیام کا ارادہ فرما لیں تب کیا ہو گا؟ کیا تمہارے معمولات زندگی وہی رہیں گے جو پہلے ہوتے تھے؟کیا تم وہ کام کر و گے جو پہلے کیا کرتے تھے۔ کیا تم اسی طرح باتیں کرو گے جیسے پہلے کیا کرتے تھے؟ کیا تم وہ کتابیں پڑھ سکو گے جو پہلے پڑھا کرتے تھے؟ کیا تم آقا ﷺ کو بتا سکو گے کہ میرے معمولات زندگی یہ ہیں؟

جہاں جہاں تم جاتے ہو کیا تم میں ہمت ہو گی کہ آقا ﷺ کو بھی ساتھ لے جا سکو یا تم اپنے معمولات معطل کر دو گے کہ آقا ﷺ کو ان کے بارے میں کچھ خبر نہ ہو؟

کیا تم اپنے قریبی دوستوں کو آقاﷺ سے ملوانے کی ہمت کر سکو گے یا تمہاری خواہش ہو گی کہ جب تک آقا ﷺ یہاں جلوہ افروز ہیں تمہارے دوست ادھر کا رخ نہ کریں؟

آخری سوال ، سوال نہیں ہے ایک تیر ہے جو دل میں پیوست ہو جاتا ہے۔ شاعر پوچھتا ہے کہ سچ سچ بتائو اگر آقاﷺ فرمائیں اب میں تمہارے پاس ہی رکوں گا تو کیا تمہیں یہ سن کر واقعی خوشی ہو گی ؟

شاعر نے تو چند سوالات پوچھ کر نظم تمام کر دی لیکن من میں سوالات کا ایک دفتر کھلا ہوا ہے۔

فرض کریں آقا ﷺ کسی روز اس حاکم کے گھر تشریف لے جائیں جس کا دعوی ہے کہ اس نے ریاست مدینہ کے رہنما اصولوں کے تحت حکومت قائم کی ہے۔ فرض کریں آقاﷺ کسی دن ،وزیر اعظم ہائوس پہنچ جائیں ، وزیر اعظم کو آقا ﷺ کی تشریف آوری کی خبر ملے اور وہ ننگے پائوں بھاگتے ہوئے ہاتھ باندھ کر قدم بوسی کو حاضر ہو جائے ۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد وزیر اعظم کیا کرے گا؟

کیا وہ آقا ﷺ کو اس وزیر اعظم ہائوس میں لے جائے گا جس کا رقبہ چودہ سو سال پہلے کے مدینہ کے سارے شہر سے بڑا ہے؟ اگر آقا ﷺ نے پوچھ لیا کہ ریاست کا وزیر اعظم تو لوگوں کا خادم ہونا چاہیے ، یہ قیصر وکسری جیسے محلات کیوں تعمیر کر لیے گئے تو ویر اعظم کے پاس کیا جواب ہو گا؟

وزیر اعظم ہائوس کے محل کے قالین ، قیمتی فانوس ، مہنگا فرنیچر ، نمودو نمائش ، قیمتی کراکری ، عالی شان گاڑیاں ، کیا وزیر اعظم میں ہمت ہو گی کہ آقا ﷺ کو یہ سب دکھا سکے؟ کیا وہ ان چیزوں کو چھپا نے کی کوشش کرے گا؟ چھپائے گا تو کہاں لے جائے گا؟

کسی نے آقا ﷺ کے حضور شکایت کر دی کہ آپ کے غلام سیدنا عمر فاروق سے تو ایک کرتے کا حساب بھی لیا جاتا تھا اور وہ حساب دیا کرتے تھے لیکن یہ شخص غیر ملکی تحائف کا حساب دینے سے انکار کر رہا ہے تو وزیر اعظم پر کیا بیتے گی؟

ساتھ ایوان صدر ہے ۔ ایک شخص یہاں مقیم ہے لیکن اس کا رقبہ آدھے سیکٹر جتنا ہے۔ کیا صدر پاکستان میں اتنی جرات ہو گی کہ حاضر ہو کر التجا کرے آقاﷺ یہ ساتھ ہی آپ کے ایک اور غلام کا غریب خانہ ہے ، اگر آپ چند لمحوں کے لیے تشریف لائیں تو غلام کی زندگی اور آخرت دونوں سنور جائیں گی؟ آقا ﷺ نے اگر صدر پاکستان نے پوچھ لیا کہ مسلمان ریاست کے سربراہ کو اتنے بڑے محل کی کیا ضرورت ہے تو صدر پاکستان کے پاس کیا جواب ہو گا؟

یہیں پاکستان کی سب سے بڑی عدالت ہے ۔ جس کے باہر لکھا ہے ’ فاحکم بین الناس بالحق‘۔ فرض کریں آقاﷺ اس عمارت میں تشریف لے جاتے ہیں اور وہاں سائلین کو پتا چلتا ہے دو جہانوں کے سردار تشریف لائے ہیں ۔ فرض کریں وہ ساری باتیں، سارے ظلم ، سارے مشاہدات ، ساری بے بسی ، سب کچھ آقاﷺ کے حضور کہہ ڈالتے ہیں ۔ تصور کریں کہ پھر کیا ہو گا؟

آقا ﷺ نے اگر ساری پارلیمان اور ساری عدلیہ کو اپنے حضور طلب فرما لیا اور پوچھا کہ جب فیصلہ ہو چکا کہ سود اللہ اور میرے ساتھ کھلی جنگ ہے تو تم اب تک اسے ختم کیوں نہیں کر سکے، تب کیا ہو گا؟

آقا ﷺ نے ز یر التوا مقدمات کا حساب مانگ لیا تو کیا ہو گا؟ آقا ﷺ نے فیصلوں کو انصاف کے معیار پر پرکھنے کا حکم دے دیا تب کیا ہو گا؟

اگر آقاﷺ نے اہل مذہب کو طلب فرما لیا تو بنے گا؟ اہل صحافت سے کچھ پوچھ لیا تو کون جواب دے گا۔ تاجروں سے سوال ہو گیا تو کیا انجام ہو گا ۔ مجھے سے اور آپ سے جواب طلبی ہو گئی تو انجام کیا ہو گا؟

سوالات ہی سوالات ہیں لیکن جواب میں بے بسی ، شدید بے بسی کے سوا کچھ نہیں ۔ کیا عالم ، کیا جج ، کیا جرنیل ، کیا عامی ، اس مملکت خداداد میں کوئی فرد ، کوئی ادارہ ہے جو آقاﷺ کے حضور پیش ہونے کی جرات کر سکے؟

عید میلا د النبی ﷺ سب کو مبارک ہو۔ ہر ایک کی خوشی کا اپنا انداز ہے ۔ یہ سوال مگر وجود میں ترازو ہو گیا ہے کہ اگر ایک روز ایسا ہو کہ آقا ﷺ ہمارے گھر آ جائیں اور بالکل اچانک آ جائیں تو ہم کیا کریں گے؟ یہ سوال آدمی کو وہاں لے جاتا ہے جہاں اسے اپنی خبر بھی نہیں رہتی ۔ وفور شوق سے آنکھیں برسات ہو جاتی ہیں اور حد ادب میں وجود برفاب ہو جاتا ہے ۔

13/08/2021

اتنے ہی پرچم خریدنا، جتنی اسکی تعظیم کر سکو، یہ شہید کے جسم کی زینت ہوتا ہے، گلیوں ،سڑکوں اور کوڑے کے ڈھیر کی نہیں.....

04/08/2021



سلطان محمود غزنوی کے پاس ایک شخص ایک چکور لایا جسکا ایک پاوں نہیں تھا۔ جب سلطان نے اس سے چکور کی قیمت پوچھی تو اس شخص نے اس کی قیمت بہت مہنگی بتائی۔ سلطان نے حیران ہو کر اس سے پوچھا کہ اسکا ایک پائوں بھی نہیں ہے پھر بھی اس کی قیمت اتنی زیادہ کیوں بتا رہے ہو؟تو وہ شخص بولا کہ جب میں چکوروں کا شکار کرنے جاتا ہوں تو یہ چکور بھی شکار پر ساتھ لے جاتا ہوں۔ وہاں جال کے ساتھ اسے باندھ لیتا ہوں تو یہ بھہت عجیب سی آوازیں نکالتا ہے اور دوسری چکوروں کو بلاتا ہے۔ اس کی آوازیں سن کر بہت سے چکور آ جاتے ہیں اور میں انہیں پکڑ لیتا ہوں۔

سلطان محمود غزنوی نے اس چکور کی قیمت اس شخص کو دے کر چکور کو ذبح کردیااس شخص نے پوچھا کہ اتنی قیمت دینے کے باوجود اس کو کیوں ذبح کیا؟ سلطان نے اس پر تاریخی الفاظ کہے:

"جو دوسروں کی دلالی کیلئے اپنوں سے غداری کرے اس کا یہی انجام ہونا چاہیے"

31/07/2021

"عید کڈاں" (عید کب ہو گی)؟

کوٹ مٹھن میں ایک مجذوب تھا
جو ہر آتے جاتے سے ایک ہی سوال
پوچھتا رہتا کہ
"عید کڈاں" (عید کب ہو گی)؟

کچھ لوگ اس مجذوب کی بات اَن
سُنی کر دیتے اور کچھ سُن کر
مذاق اُڑاتے گُزر جاتے۔

ایک دن حضرت خواجہ غلام فرید ؒ اس جگہ سے گزرے تو اُس مجذوب نے اپنا وہی سوال دہرایا۔

"عید کڈاں" (عید کب ہو گی)؟

آپ صاحبِ حال بزرگ تھے، اُس کا
سوال سُن کر مسکرائے اور فرمایا:
"یار ملے جڈاں" (جب محبوب ملے)

یہ الفاظ سُنتے ہی مجذوب کی آنکھوں سے موتیوں کی طرح آنسو جاری ہو گئے اور وہ مزید ترستی آنکھوں سے گویا ہوا سرکار:

"یار ملے کڈاں؟" (محبوب کب ملے گا؟)

خواجہ غلام فرید ؒ نے فرمایا:

"میں مرے جڈاں" (جب "میں" مرے گی)

بس یہ فرمانا تھا کہ مجذوب نے کپکپاتے اور تھرتھراتے ہوئے عرض کیا کہ حضور:

"میں مرےِ کڈاں؟" (میں کب مرے گی)؟

سرکار ؒ مسکرائے، اُسے پیار سے تھپکی دیتے ہوئے یہ کہتے چل دیئے:

"یار تکے جڈاں" (جب محبوب دیکھے گا) 🥺😪🥀

06/07/2021
Photos from Jinnah Birght Way High School's post 23/03/2021

23 March

30/01/2021

ایک لڑکا ٹماٹر 🍅 سے بھری ٹوکری سائیکل پر رکھ کر لے جا رہا تھا کہ اچانک پتھر سے ٹکرانے سے ٹوکری گر گئی اور بہت سارے ٹماٹر گرکر پھوٹ گئے.

بھیڑ اکٹھا ہوئی اور سب لوگ چِلّانے لگے، دیکھ کر چلو بھائی کتنی گندگی کر دی.

تبھی ایک وکیل نے بھیڑ سے نکل کر کہا، ارے بھائی اتنا کیوں چلّا رہے ہو، گندگی پھر بھی صاف ہو جائے گی لیکن یہ سوچو کہ اس کا مالک اس کی کیا حالت کرے گا، اس کی پگار میں سے پیسے کاٹ لے گا. اس بیچارے کی کچھ مدد کرو، اور وکیل نے اپنی طرف سے 10 روپئے دے دئیے، اور ساتھ ہی لوگوں نے بھی ہمدردی جتاتے ہوئے اپنے طور سے اس کی مدد کردی.

لڑکا بہت خوش ہوا کیونکہ ملی ہوئی رقم ٹماٹر🍅 کی قیمت سے زیادہ تھی!!

لوگوں کے چلے جانے کے بعد ایک شخص نے اس لڑکے سے پوچھا کہ اگر وہ وکیل نہ آتا تو توٌ اپنے مالک کو کیا جواب دیتا؟

لڑکے نے کہا کہ، وہ وکیل ہی میرا مالک ہے اور
یہ سڑے ہوئے ٹماٹر 🍅 وکیل نے سبزی منڈی سے دس ہزار کی شرط لگا کر خریدے تھے، کہ وہ اِسے پھینکنے کے بعد بھی منافع Profit نکال کر دکھائے گا

😁😁😆😝😜😀😀👶😳😳😳
وکیل
وکیل ہی ھوتا ہے

Want your school to be the top-listed School/college in Gujranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Street #4
Gujranwala
5252

Opening Hours

Monday 08:30 - 13:30
Tuesday 08:30 - 13:30
Wednesday 08:30 - 13:30
Thursday 08:30 - 13:30
Friday 08:30 - 13:30