Faiz e Wasif Banka Cheema

Faiz e Wasif Banka Cheema Works at Fikar e Wasif

""""""""""""""""""خطرہ""""""""""""""""""*اگر اینٹوں میں ربط نہ ہو تو آندھی تو کجا ، دیوار کو اپنے ہی بوجھ سے گر جانے کا ...
23/09/2026

""""""""""""""""""خطرہ""""""""""""""""""
*اگر اینٹوں میں ربط نہ ہو تو آندھی تو کجا ، دیوار کو اپنے ہی بوجھ سے گر جانے کا اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے ۔ اندرونی کمزوری کو بیرونی خطرات ہمیشہ درپیش رہتے ہیں ۔ شکستہ جہاز کو کوئی ہوا بھی تو راس نہیں آتی ۔ بیمار وجود کے لیے ہر موسم خطرے کا موسم ہے ۔ قوتِ مدافعت نہ رہے ، تو بیماری کا شائبہ بھی زندگی کے لیے خطرہ ہے ۔
جب قوموں کے اندر وحدت نہ رہے تو اس انتشار کی سزا ایک نامعلوم خطرے کی شکل میں موجود رہتی ہے ۔ مایوس انسان پرخطرات کی وبا کا عذاب نازل کیا جاتا ہے ۔
آج ہمارے گرد و پیش خطرات ہیں ۔ ہمارے یسار و یمین میں خطرہ ہے ۔ ہمارے دروازے پر خطرہ دستک دے رہا ہے ۔ ہم کرب سے گزر رہے ہیں ۔ مکینوں کو اپنے مکان میں سکون نہیں ۔ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت میں کوئی خطرہ موجود ہے ۔
آج دنیا کو ترقی کے حوالے سے تین قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ترقی یافتہ ، ترقی پذیر ، اور پسماندہ ۔ ترقی یافتہ وہ ممالک ہیں جو خوف پیدا کرتے ہیں ۔ ترقی پذیر وہ ممالک ہیں ، جو خوفزدہ رہنے پر مجبور ہیں اور پسماندہ وہ ممالک ہیں جنہیں خطرے کے احساس سے بھی آشنائی نہیں ۔ جنہیں زندگی کا احساس نہ ہو ، انہیں موت کا کیا خوف!
خوف اور خطرہ صرف ترقی پذیر ممالک کے لیے ہے ۔ ہم ترقی پذیر ہیں ۔ ہم خوف میں ہیں ۔ ہمارے مغرب میں ترقی یافتہ روس ہے ، جو خوف پیدا کرتا ہے ۔ مشرق میں ایک ایسا ملک ہے جو ترقی پذیر ہونے کے باوجود ترقی یافتہ انداز رکھتا ہے ۔ بھارت خود خوف میں ہے ، لیکن خوف پیدا کرتا ہے ۔
ترقی کا دوسرا نام خوف پیدا کرنے کی صلاحیت ہے ۔ بھارت کے پاس یہ صلاحیت ہے ۔ اُس کی نگاہ میں آج بھی یہ پاکستان خار بن کر کھٹکتا ہے ۔ اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں ، نتیجہ یہ ہے کہ ہم خطرے میں ہیں ۔
دوست کمزور ہو جائیں تو دشمن خود بخود طاقتور ہو جاتا ہے ۔ اندرونی انتشار ، بیرونی یلغار کی راہ ہموار کرتا ہے ۔
ہم ایک ایسے خطرے میں ہیں جو محسوس تو ہوتا ہے معلوم نہیں ہوتا کہ یہ خطرہ کس چیز سے ہے ۔
کیا ہم پر خدانخوستہ کوئی نئی افتاد پڑنے والی ہے؟
کیا ہم اپنے اعمال کی عبرت کے خوف میں ہیں؟
کیا ہم اپنے رہنماؤں سے مایوس ہو چکے ہیں؟
کیا ہم گردشِ حالات کی زد میں آ چکے ہیں؟
کیا ہم سے زندگی کے عظیم مقاصد چھِن چکے ہیں؟
کیا ہم اعمتاد سے محروم ہو چکے ہیں؟
کیا ہمیں اپنے آپ پر بھی اعتماد نہیں؟
کیا ہمیں جان کا خطرہ ہے ، ایمان کا خطرہ ہے ، عزت کا خطرہ ہے ، ملکی سلامتی کا خطرہ ہے ، ملّی وحدت کا خطرہ ہے؟
کیا خطرہ ہمارے اندر ہے یا باہر ہے؟
کیا آسمان گرنے والا ہے؟
کیا زمین پھٹنے والی ہے؟
کیا انسان کے گناہوں کا بوجھ اتنا بڑھ چکا ہے کہ کسی عذاب کا نازل ہونا ناگزیر ہے؟
کیا ہماری تاریخ ختم ہونے والی ہے؟
کیا ہم ایک سطحی اور نقلی زندگی گزار رہے ہیں؟
کیا ہمارے افکار پریشان ہیں؟
کیا ہمارا کردار ختم ہو چکا ہے؟
کیا ہم سے حُسنِ عمل چھِن گیا ہے؟
کیا ہم دعاؤں کا آسرا بھول چکے ہیں؟ ہم قدم قدم پر خطرے میں ہیں؟
کیا ہمارا عمل بیان اور صرف بیان ہے؟
کیا ہم اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں؟
آخر ہم نے کیا کِیا ہے کہ ہم خطرے میں ہیں؟
یہ سب سوال ہی سوال ہیں اور خطرہ یہ ہے کہ جواب نہیں ہے ۔ ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ۔ ہم پچھلے چالیس سال سے یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم نے یہ ملک کیوں بنایا ۔ ہمیں اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ ہم نے یہ ملک حکمرانوں کے لیے بنایا ہے ۔ یہ اللہ کا شکر ہے کہ اب حکمران ہم میں سے ہی ہیں ۔ مزاج! حکمرانوں کے مزاج نہیں دیکھا کرتے ، دیکھنے والی بات صرف یہ ہے کہ محکوم کی حالت کیا ہے ۔ محکوم اگر مسلسل مظلوم اور محروم ہو ، تو حکمرانوں کے ایمان کا کیا تذکرہ؟ محکوم مظلوم ہو ، تو حکمران کو کیا کہتے ہیں؟ آج پاکستان میں الحمد للہ ہم سب مسلمان ہیں ۔ چور کون ہے؟ ڈاکہ کس نے ڈالا؟ کس نے کس کی عزت کو تباہ کیا؟ مسلمانوں کے عظیم ملک میں کسی حکمران پہ کیا بیتی؟ کون بتائے؟ کیا اللہ صرف طاقتور کا ساتھ دیتا ہے؟ کیا ہم لوگ ایک دوسرے کی پہچان سے محروم ہو گئے ہیں؟ کیا ہم کسی عاقبت کے قائل نہیں رہے؟
ہم کروڑوں انسان سارے کے سارے تنہا ، افراتفری ، ایک دوسرے پر الزام تراشی ، ایک دوسرے کے ساتھ ناانصافی ، وعدہ شکنی ، مطلب پرستی ، ہوس پرستی ، زر پرستی ، منصب پرستی اور ظاہر پرستی ۔ خطرہ تو ضرور ہو گا ۔
مظلوم کی بددعا خطرہ پیدا کرتی ہے ، محروم کی آہ خطرہ پیدا کرتی ہے، یتیم کی فریاد پانی میں آگ لگا دیتی ہے ۔
جس بستی میں حق والا محروم ہو کر نکلے ، وہ بستی ویران ہو جاتی ہے!
آج ہمیں سوچنا پڑے گا کہ آخر ہم کس طرف کو جا رہے ہیں ۔ ہم کہاں سے چلے تھے ۔ ہمارا حال کیا ہے ۔ ہمارے اندیشے اتنے بے سبب بھی نہیں ۔
ہم ایک دفعہ پہلے تقسیم ہو چکے ہیں ۔ ہم ایک دفعہ پہلے بھی کٹ چکے ہیں ۔ ہمارے پاس آج بھی حالات اچھے نہیں اور دشمن پہلے زیادہ طاقتور ہے ۔ ایک دفعہ ہونے والا حادثہ ، کیا دوسری دفعہ نہیں ہو سکتا؟
خوف تو ہو گا؟
لیکن نہیں ۔ بات اتنی خطرناک بھی نہیں ۔ دامنِ اعمال خالی ہو ، تو ہو ۔ دامنِ رحمت تو بھرا ہوا ہے ۔ ہمارا سہارا ہمارے اعمال میں نہیں ، اُس کی رحمت میں ہے ۔ رحمت کا کام ہی یہ ہے کہ محروم کو حق سے سوا دیتی ہے ۔ وہ دینے والا ہے ۔ جب چاہے ، جسے چاہے ، جو چاہے دے دے ۔ ہماری بقا صرف ہماری ہی بقا نہیں ، اُس کے نام کی بھی عظمت ہے ۔
جب ہم غلام تھے ، تو ہم نے ہندوستان میں اپنی آزادی کو حاصل کیا ۔ ایک نیا ملک بنایا ۔ آج تو ہم آزاد ہیں ۔ ہم ملک کا تحفظ کیسے نہیں کریں گے ۔
ہم دشمن سے ڈرنے والے نہیں ۔ ہمیں اگر کبھی خوف ہوا ، تو صرف دوستوں کا ، اپنوں سے ڈر ہے ۔ اپنے اپنے ہو جائیں تو بیگانے کا کیا خوف!
اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں ۔ اپنے اپنے اعمال اور اپنے مال میں سب کو شریک کریں ۔ دوسروں کی عزت کریں تا کہ ہماری عزت محفوظ ہو ۔ دشمن کوئی حرکت کرنے سے پہلے دس دفعہ سوچے گا ۔ ہمیں اپنی حفاظت کے لیے کسی سوچ کی ضرورت نہیں ۔ ضرورت صرف وحدت اور صداقت کی ہے ۔ ہمیں بے راہ زندگی کا خوف ہونا چاہیے ۔ اُس کی راہ میں مرنا ہمارے لیے خوف کا نہیں ، شوق کا باعث ہے ۔ ویسے اس کی راہ ، حق اور حقیقت کا راستہ ہے ۔ بھائی کے لیے وہ چیز پسند کرنے کا راستہ ، جو اپنے لیے پسند ہو ۔ انصاف قائم ہو جائے ، تو خطرہ ٹل جائے گا ۔
سینے میں ایمان بیدار ہو جائے ، خوف نکل جائے گا ۔ یقین زندہ ہو جائے ، موت ختم ہو جائے گی ۔ دولت کی محبت کم کر دو ، اندیشے کم جائیں گے ۔ سیاست سے جھوٹ نکل جائے ، دل سے خوف نکل جائے گا ۔
لالچ خوف پیدا کرتی ہے ۔ اندرونی انتشار ، بیرونی سرحدوں پر خطرے کی شکل میں نظر آتا ہے ۔ خطرہ بہرحال اندر ہے ، باہر نہیں ۔

(قطرہ قطرہ قلزم)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

21/09/2026

آستانہ واصفیہ : حضرت واصف علی واصف رح
محفل پاک : روزانہ لنگر شریف کا اہتمام
زیر_انتظام : محترم جناب صاحبزادہ کاشف محمود

فرمودات : حضرت واصف علی واصف رح
21/09/2026

فرمودات : حضرت واصف علی واصف رح

""""""""""""""" اذانِ حُر""""""""""""""""بڑا   گھمنڈ   ،   تفاخر   ،   غرور   اور   تمکیںیہ لے کے پہنچا کہاں سجدہ گاہ می...
17/09/2026

""""""""""""""" اذانِ حُر""""""""""""""""

بڑا گھمنڈ ، تفاخر ، غرور اور تمکیں
یہ لے کے پہنچا کہاں سجدہ گاہ میں تو جیبں

لباس عطر میں ڈوبا ہوا ہے فکر میں دل
زباں پہ نامِ خدا سُرخ چہرہ چیں بہ چیں

عصائے موسٰی لئے ہاتھ میں پھرے ہے کہاں
فرعونِ وقت بتاؤ اسے یہ ہے مسکیں

کہ قہقہوں کی بلندی ہی اس کی پستی ہے
فغانِ نیم شبی مانگتا ہے یہ بے دیں

نظامِ نو کی خبر دے رہا ہے ایک چوہا
کہ جیسے شیر کوئی کارواں میں ہے ہی نہیں

بڑی سریلی اذانوں میں محو ہیں سارے
اذانِ حُر بھی سُنی آپ نے یہاں کہ نہیں

ہے خود تو جھوٹا مگر بات کہہ رہا ہے سچ
بڑا مکار ہے یہ بیچتا ہے دینِ مبیں

غلام جان کے اِن بے کسی کے ماروں کو
سنوارتا ہے یہ دُنیا بگاڑتا ہے دیں

اِمام بننے کا ہے شوق اس کو مدّت سے
بنا ہے درسِ نظامی کے آسماں کی زمیں

"خدا کی راہ میں جو مر گیا شہید ہوا"
جناب راہِ خدا آپ کو ملی کہ نہیں

خدا کے شکر میں بھرتا ہے پیٹ کو اتنا
کہ جیسے پیٹ ہو کچھوے کا، واہ رے رہبرِ دیں

حدیثِ قدسی کے ہر راز سے یہ ہے آگاہ
ملا نہ گوشہ کوئی ہو گیا ہے کوٹھی نشیں

یہ ہے غزالیٔ دوراں کہ رومئی ملّت!
کہ دام لے کے جو بولیں تو جھوم جائے زمیں

مکان اِس کے ابھی چار پانچ چھ ہونگے
مگر یہ رکھتا ہے بارہ اماموں پر بھی یقیں

ملے جو کثرتِ دولت بیاں کرے وحدت
غریب لوگ بلائیں تو اس کو وقت نہیں

بیانِ تقویٰ توّکل طہارت و توبہ
بغیر دام کے بولے تو یہ کہاں کا امیں

غریب بھائی تمھاری ہی ہوش ختم ہوئی
تمھارے خوں کا ہے طالب یہ عاقبت کا نہیں

نماز دار پہ ہو گی یا کربلا میں ادا !
کہ اب چمکنے کو ہے رازِ عاشقی کا نگیں

جبینِ شوق سے خود ڈھونڈ آستانۂ حُسن
صنم خیال کے سب توڑ دو کہ وقت نہیں

(شب راز)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

"""""""""""""""" اختلاف""""""""""""""""*جب تک رات اور دن قائم ہیں ، اختلاف قائم رہے گا ۔ اختلاف ہی شاید زندگی ہے ، زندگی...
16/09/2026

"""""""""""""""" اختلاف""""""""""""""""
*جب تک رات اور دن قائم ہیں ، اختلاف قائم رہے گا ۔ اختلاف ہی شاید زندگی ہے ، زندگی کا حسن ہے ، زندگی کا دوام ہے ۔ خالق نے تخلیقِ کائنات میں اختلافِ لیل و نہار ہی نہیں ، اختلافِ عقائد ، اختلافِ مشاہدات بلکہ اختلافِ حالات کو تخلیق فرما کر فنِ تخلیق کے کمالات کا اظہار فرمایا ہے ۔
ہر عقیدے کے مخالف ایک عقیدہ ہے ، ہر آرزو کے برعکس آرزو ہے ، ہر مزاج کے رو برو ایک مزاج ہے ، ہر جنس کے مقابل ایک جنس ہے ، ہر انا کے سامنے ایک انا ہے ۔ ہر خودی کی ضد ایک خودی ہے ، ہر خوشی کے باطن میں غم ہے اور ہر مایوسی کے عالم میں امید جلوہ گر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا میں اگر کوئی شے ناممکن ہے ، تو ہم رنگی و یک رنگئ عقیدہ ہے ۔ اللہ کریم نے اپنی لامحدود قدرتوں کے سامنے اپنی ہی مخلوق میں سے ایک قوّت ، اپنی ذات کے مقابل ، بغاوت و طاغوت میں قائم ، بیان فرمائی ہے ۔ قادرِ مطلق کے حکم مطلق سے انکار کرنے کا حوصلہ رکھنے والا کون ہو سکتا ہے؟ اگر ہے تو کیوں ہے؟ اُسے جرأتِ انکار کیوں ہے؟ اُسے موت کیوں نہ آئی؟ وہ فنا کیوں نہ کر دیا گیا؟ اگر شیطان نے بغاوت کی بھی تو اس بات کا بیان قرآن کی آیت کیوں ہے؟ اختلاف کو عالی ظرفی اور خندہ پیشانی سے برداشت کرنا بقائے حیات اور بقائے اختیار کا ثبوت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خالق مخالف کو تباہ نہیں کرتا ۔ مخلوق مخالف کو تباہ کرنا چاہتی ہے ۔ یہی خالق اور مخلوق میں فرق ہے ۔
لوگوں نے قیامت کے بارے میں پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ ایسی خبر کے بارے میں پوچھتے ہیں ، جس میں ان کا اختلاف ہے ۔ اختلاف مشاہدے کے بغیر ختم نہیں ہوتا اور قیامت کا مشاہدہ زندگی ختم کر دے گا ۔ پھر لوگ جان لیں گے ۔ ان کو علم ہو جائے گا اور وہ علم کیا علم ہو گا جو صاحبِ علم کو فنا کر دے ۔
زندگی میں اختلاف ایسے ہے ، جیسے فطرت کے مشاہدات میں اختلاف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عجب حُسن ہے ، اختلاف کے عالم میں ۔ !!
پہاڑ ہیں کہ میخوں کی طرح گڑے ہیں ۔ چٹانیں ٹھوس ، قوی عزم کی طرح اٹل ، اپنی جگہ قائم و دائم ۔ اور پھر پہاڑوں کے دامن میں وادیاں حسین و جمیل ، دریا رواں دواں اور پھر میدان بچھونے کی طرح کشادہ اور پھر صحرا اور سمندر ۔ پیاسے صحرا اور لبریز سمندر ۔ عجب عالم ہے ۔ حسن ہی حسن ، جلوہ ہی جلوہ اور اختلاف ہی اختلاف!!
تیز ہوائیں ، خاموش فضائیں ، بلند آسمان ، متحرک اجسام ، منّور سیّارگان ، تاریک راتوں میں روشن قمر ، درخشندہ ستارے اور پھر سورج ، بقا اور فنا کا بیک وقت پیامبر ۔ سب اختلافات ِ زیست کے حسین کرشمے ہیں ۔
رونق ِ حیات اختلافات کے دم سے ہے ۔ گرمئی بازار نیرنگئی اشیاء کے باعث ہے ۔ شعور کی پختگی اور خیال کی بلندی اختلافِ شعور اور اختلافِ رائے سے ہے ۔
عقیدے کی پختگی اختلافِ عقیدہ کی برداشت کا نام ہے ۔ ناپختہ عقیدہ چھوٹے برتن کی طرح جلد گرم ہو جاتا ہے ۔ سب سے قوی عقیدہ اُس ذاتِ گرامی ﷺ کا ہے ، جو کائنات کے ہر انسان کے لیے رحمت کا پیغامبر ہے ۔ سلام ہو اُس ﷺ ذات پر ، جو سب کی سلامتی کی خواہاں ہے ، جس نے کسی کے لیے بددعا نہیں کی ، جو ہر زخم کے لیے مرہم ہے ، جو ہر دل سے پیار فرماتی ہے ، جس کے پاس شفقتوں کے خزانے ہیں ، جس نے کم ظرفوں کو عالی ظرف بنایا ، جس نے اختلاف برداشت نہ کرنے والوں کو صبر و استقامت کی منزلیں عطا فرمائیں ۔
بلند عقیدہ بلند دروازوں کی طرح آنے والوں کے استقبال میں کشادہ رہتا ہے ۔ محبت نہ ہو تو عقیدہ بلند نہیں ہو سکتا اور محبت نفرت کی ضد ہے ۔ عقیدوں سے نفرت انسانوں سے نفرت ہے اور انسانوں سے نفرت خالق کی محبت سے محروم کر دیتی ہے ۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ سب عقائد درست ہیں ، قطعاََ نہیں ۔ درست عقیدے والا نادرست عقائد کو محبت سے بدل دیتا ہے ۔ نفرت اور غصہ عقیدوں کی اصلاح نہیں کر سکتے ۔ جس دل میں نفرت پرورش پائے ، وہ خود عقیدے سے محروم ہو جاتا ہے ۔
یہ بات ذرا پیچیدہ سی ہے ، آئیے غور کریں!
اللہ کی زمین پر اللہ کے دیئے ہوئے رزق پر پلنے والے اللہ کے پیدا کیے ہوئے انسان اللہ کو نہیں مانتے ۔ سوچیے کیا اللہ چاہتا ہے کہ سب لوگ ایک عقیدے میں شامل ہوں؟ کیا اللہ سب کو ہم عقیدہ بنانے پر قادر ہے کہ نہیں؟ اگر اللہ قادر ہے تو کیوں نہیں سب کو ہم عقیدہ بناتا؟ اللہ یقیناً قادر ہے اور اپنی قدرتِ کاملہ سے ہی عقیدوں کے اختلاف کے باوجود کائنات کے ہر انسان کو رزق عطا فرماتا ہے ۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ نے اختلاف کو کبھی تباہ نہیں فرمایا یا مکمل طور پر اختلاف کا خاتمہ نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیطان اللہ کا دشمن ہے ، لیکن ہے اور رہے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! اختلاف کا جواز یہ ہے کہ جنت پیدا فرمانے والے نے دوزخ کو بھی پیدا فرمایا ۔ قوت اور صداقت ایک ہی طاقت کے نام ہیں اور اسی طاقت کو عقیدہ کہتے ہیں ۔ یہ طاقت اختلاف پر برہم نہیں ہوتی ۔ قوت بغاوت سے ڈرتی نہیں ۔ صداقت آفتاب کی طرح ہے ، جسے کسی کاذب اندھیرے کا ڈر نہیں ہوتا ۔ عقیدہ اتنا مطمئن ہوتا ہے کہ اسے کسی اختلاف کا خوف نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوفزدہ عقیدہ ، عقیدہ نہیں رہ سکتا!! ساری کائنات بھی اگر مخالف ہو جائے تو اللہ اور اللہ والوں کو فرق نہیں پڑ سکتا ۔ !
عقیدے کی طرح سیاست میں اختلافِ رائے حیاتِ سیاست ہے ۔ مخالف رائے کو تباہ کرنے کی آرزو کرنے والا دَور عارضی رہتا ہے ۔ جو زمانہ تاریخ میں داخل نہ ہو ، وہ چاہے کتنا طویل ہو ، عارضی ہوتا ہے ۔ ہر انسان کو رائے دینے کا حق ہے ، رائے رکھنے کا حق ہے ، زندگی گزارنے کا حق ہے ۔ ہمارا مخالف ہی تو ہمارا ثبوت ہے اور وہی ہماری تقویت بھی!!
اپنے اپنے مدار میں گردشیں کرنے والے لامحدود ستارے آسمانوں کی رونقیں ہیں ۔ اسی طرح کثرتِ رائے زندگی کی رونق ہے ۔
جس طرح ہم اپنی رائے کو معتبر سمجھتے ہیں ، اسی طرح دوسرا انسان بھی اپنی رائے کو معتبر اور مستند سمجھتا ہے ۔ اپنا احترام مقصود ہو ، تو اختلافِ رائے کا بھی احترام ہونا چاہیے ۔ اگر مَیں رات کو آفتاب دیکھتا ہوں ، تو مجھے اس شخص کا بھی احترام کرنا چاہیے جو دن کو تارے دیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر چند کہ دونوں باتیں بظاہر ناممکن ہیں ۔
ہم اپنی خوش فہمی کو آگہی کہتے ہیں اور دوسروں کی آگہی کو غلط فہمی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعجب ہے ۔ یومِ حساب سے پہلے ہم ایک دوسرے کی عاقبت خراب کرنے میں مصروف ہیں ۔ ہم خود کو جنت کا مکین سمجھتے ہیں اور دوسروں کو دوزخ کا ایندھن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حالانکہ معاملہ اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے ۔
ہم خود کو اہم بلکہ بہت ہی اہم سمجھتے ہیں ۔ ہم اپنے خیالات میں خود کو وی آئی پی سمجھتے ہیں ۔ یہ ہماری کم ظرفی ہے ۔ سیاست میں ہم اپنی جماعت کو مُحبّ ِ وطن سمجھتے ہیں اور دوسری جماعتوں کو غدّار ۔ اپنی رائے پر مغرور ہونے والے انسان صحت رائے سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ ان پر اصلاح کے دروازے بند ہو جاتے ہیں ۔ وہ بُھول جاتے ہیں کہ وہ انسان ہیں ۔ خطا و نسیان ، ظلم و جہالت کے پتلے!!
اختلاف کا احترام کرنا چاہیے ۔ مخالف کی اصلاح محبت سے کی جائے ، مروت سے کی جائے ۔ مخالفت شعور میں نکھار پیدا کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بادِ مخالف بلند پروازی کا زینہ ہے ۔ اختلاف ہی بے قراری پیدا کرتا ہے ۔ اختلاف کے دَم سے زندگی جمود سے نکل کر تحریک بنتی ہے ۔ حرکت زندگی ہے ، جمود موت ۔ اختلاف انقلاب و ارتقاء کا ذریعہ ہے ۔
عظیم انسان اختلاف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ زندگی کا وسیع تر اختلاف زندگی کا حسن ہے اور خالق نے زندگی کو اختلاف کے زیور سے مزیّن فرما کر اُسے حُسن بخشا ہے ۔
ایک گھر میں پیدا ہونے والے اور ایک چھت کے نیچے پرورش پانے والے ایک اندازِ فکر نہیں رکھتے ۔ ایک دستر خوان پر پلنے والے ایک جیسا ذائقہ نہیں رکھ سکتے ۔ دنیا کی طرف رجوع کرنے والے اور آخرت پر نگاہ رکھنے والے الگ الگ رہیں گے ۔ بھلا سونے والے اور جاگنے والے کیسے برابر ہو سکتے ہیں ۔ ساری دنیا فوج نہیں بن سکتی کہ ایک ہی وردی میں ملبوس ہو ۔ دنیا میں لباس الگ الگ رہے گا ۔ مزاج الگ الگ ہو گا ، رنگ الگ الگ ہو گا ، عقیدے مختلف رہیں گے ۔ دریا ہمیشہ رواں رہیں گے اور کنارے ساکن ہوں گے ۔ پہاڑ بلند رہیں گے اور میدان کشادہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنجوس کا دل تنگ رہے گا اور سخی کی پیشانی کشادہ ۔ ہمارے عقائد ہمارے تخیلات اور ہمارے رحجانات ہمارے ملبوسات کی طرح الگ الگ رہیں گے ۔ ان ملبوسات کے اندر ہمارا وجود ، حقیقی وجود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وجودِ واحد بے رنگ ہے ، اس لیے ہم رنگ ہے ۔ انسان ، انسان سے غیر نہیں ، لیکن فکر اور عقیدہ الگ الگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
ہر آنکھ میں آنسو یکساں ہیں ، ہر دل کی دھڑکن ایک ہے ، ہر ماں کی مامتا ایک ۔ ہر مسافر ایک ہی سفر پر ہے اور تمام مسافر ہم سفر ہیں ۔ ہر اثاثہ راہ میں لُٹے گا ۔ ہر آرزو ناتمام ہے ۔ ہر آغاز ایک سے انجام پر ختم ہو گا ۔ رنگا رنگ جلوے ، ہمہ رنگ نظارے حسنِ اختلاف کے دم سے ہیں اور یہ اختلاف اُس وقت تک ختم نہیں ہوتا ۔ جب تک بے رنگ کا جلوہ نظر نہ آئے ۔ بے رنگ روشنی کے سب رنگ ہیں ۔ سات رنگوں کے جلوے دراصل سفید رنگ کے دلفریب روپ ہیں ۔ کثرت اس وقت تک سمجھ میں نہیں آتی ، جب تک وحدت آشنائی نہ ہو اور وحدت اس وقت تک سمجھ میں نہیں آتی ، جب تک کثرت شناسی نہ ہو ۔ اختلاف حجاب ہے اور یہ حجاب اُس وقت اٹھتا ہے جب اختلافات پیدا فرمانے والے کا فضل شاملِ حال ہو ، نہیں تو نہیں ۔

(دل دریا سمندر)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

سوال : مردِ حق کی بڑی تلاش ہے - لوگ کہتے ہیں یہ چھپے ہوئے ہوتے ہیں - یہ کیوں چھپے ہوئے ہیں، کہاں چھپے ہوئے ہیں________؟ج...
15/09/2026

سوال :
مردِ حق کی بڑی تلاش ہے - لوگ کہتے ہیں یہ چھپے ہوئے ہوتے ہیں - یہ کیوں چھپے ہوئے ہیں، کہاں چھپے ہوئے ہیں________؟
جواب:
ایک آدمی نے کسی اور آدمی سے پوچھا کہ مردِ حق کی پہچان کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ کیا تو نے اسے شہید کرنا ہے ؟ مردِ حق سے تیرا کیا تعلق ہے ؟ مردِ حق وہ ہے اور تجھے اس سے کیا واسطہ - جب تک تو حق نہیں بنے گا مردِ حق تیرے لیے کچھ نہیں ہے ، تو ذبح کر دے گا اس کو - ناآشناوءں نے مردان_حق کو ہمیشہ شہید کیا ہے - تو اللہ کرے کہ تجھے مردِ حق سے آشنائی نہ ہو - یا مردِ حق تجھے اس وقت ملے جب تو حق آشنا ہو جائے تا کہ تو اس کے مقابلے میں نہ آ جائے - اس لیے ذرا یہ دیکھو کہ سینگوں والا بیل پوچھے کہ مردِ حق کہاں ہے، شیر پوچھے کہ بکری کہاں، تو بڑی پریشانی والی بات ہے - اس لیے مردِ حق کا اس وقت پوچھو جب حق آشنا بن جاؤ - تیری حق آشنائی کا انعام ہے مردِ حق - اس سے پہلے وہ ظاہر نہیں ہوتا - وہ اب سیانا ہو گیا ہے یعنی مردِ حق سیانا ہو گیا ہے - وہ کہتا ہے کہ ہم ہمیشہ ذبح ہوتے آ رہے ہیں ، اس مرتبہ ہم نے ذبح نہیں ہونا - آج کل وہ قابو نہیں آتا - جب بھی نظر آیا وہ شہید کر دیا جاتا ہے اور یہ لوگ فوراً پہچان لیتے ہیں کہ مردِ حق آ گیا ہے - کہتے ہیں مردِ حق کو ڈهونڈو، پوچھتے ہیں کہ کیا آپ مردِ حق ہیں ؟ وہ کہتا ہے کہ اللہ کا فضل ہے - کہتے ہیں دیکھ تیرا انتظام کرتے ہیں ، بعد میں مقبرہ بنا دیتے ہیں - اس لیے مردِ حق اب سیانے ہو گئے ہیں - کسی نے پوچھا کہ آپ مردِ حق ہیں ؟ کہنے لگے کہ ہم مردِ حق نہیں ہیں - آپ اسلام میں نہیں ہو ؟ کہتا ہے کہ ہم تو یہودی لوگ ہیں - وہ چهپ کے ملے گا اور جب آپ سے خطرہ نہ رہا وہ پھر خود کو ظاہر کر دے گا - ورنہ آپ نے بڑے لوگوں کو ذبح کیا - جہاں کہیں اچھا سا جانور ہو آپ اس کو نہیں چھوڑتے ، پکڑ لیتے ہو - کہیں بھی کوئی چیز ہو پنجرے میں بند کرنا آپ کا پرانا شغف ہے - اس لیے دعا کرو کہ مردِ حق آپ سے بچا ہی رہے - ویسے اگر آپ محبت سے کہہ رہے ہیں تو خدا آپ کو حق کے راستے پر چلائے - اس راستے کے بغیر مردِ حق نہیں ملے گا - حق کے راستے پر جو شخص آپ کو چلائے گا وہ مردِ حق ہے - آپ سمجھ رہے نا؟ کہیں ایسا نہ کرنا کہ آپ اس کے مقابلے میں کھڑے ہو جاؤ
(گفتگو 1 ________صفحہ نمبر 128____129)
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

فر۔ودات : حضرت واصف علی واصف رح
14/09/2026

فر۔ودات : حضرت واصف علی واصف رح

☆جب آپ کو یہ بات سمجھ آ جائے گی مسئلہ حل ہو جائے گا  -  دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہت بلند ہوتا ہے  -  اگر آپ دوس...
14/09/2026

☆جب آپ کو یہ بات سمجھ آ جائے گی مسئلہ حل ہو جائے گا - دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہت بلند ہوتا ہے - اگر آپ دوسروں کے مسائل حل کرنا شروع کر دیں تو پھر آپ کا کوئی مسئلہ نہیں رہے گا - آپ دوسروں کی مدد کرنا شروع کر دیں تو خدا خود آپ کی مدد کرے گا - آپ دوسروں کو سکون پہنچانا شروع کر دیں تو اللہ تعالی آپ کو سکون عطا فرمائے گا - جو چیز آپ چاہتے ہیں وہ دینا شروع کر دیں تو پھر آپ دیکھیں گے کہ کیا بنتا ہے - اگر رزق کمزور ہو گیا ہو تو مہمانوں کو گھر میں بلاوء ، کھانا کھلاوء ، انشاءاللہ تعالی رزق کشادہ ہو جائے گا - جس گھر میں دستر خوان کھل گیا ، اس کا رزق کھل گیا - اللہ تعالی بہت برکت دیتا ہے - آپ بیمار پرسی کریں گے تو کبھی بیمار نہیں ہوں گے - لوگوں کی مدد کریں گے تو اللہ تعالی آپ کی مدد کرے - آپ یہ نسخے ضرور آزمائیں - پھر بات ٹھیک ہو جاتی ہے ________

گفتگو 8___________صفحہ نمبر 221

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

سوال:-حضرت امام حسین ؑ کو حق حاصل تھا کہ وہ خلیفہ ء وقت بنتے لیکن وہ شہید ہو گئے ۔جواب:-*جس ذاتِ ایزدی نے امام پاک ؑ کو ...
13/09/2026

سوال:-

حضرت امام حسین ؑ کو حق حاصل تھا کہ وہ خلیفہ ء وقت بنتے لیکن وہ شہید ہو گئے ۔

جواب:-

*جس ذاتِ ایزدی نے امام پاک ؑ کو اس راستے سے گزارا آپ اس ذات کو دیکھیں ۔ اگر یہ آپ کا گِلہ ہے کہ ان کو خلافت نہیں دی گئ اور شہادت دی گئ ہے ، تو پھر تو آپ مشیتِ ایزدی کو سمجھ نہیں سکتے کہ حقیقت میں مشیتِ ایزدی کیا ہے؟ مشیتِ ایزدی جو ہے وہ چاہے تو مرتبوں کو رسوا کرے اور چاہے تو محروموں کو سرفراز کرے ۔ یہ درمیان میں "تم" کون ہے؟ درمیان میں یہ جو "تم" ہے یہ دنیا کی تاریخ لکھنے والے ہیں ۔ "تم" تاریخ لکھنے والے جھوٹے ہو ۔ مشیتِ ایزدی میں یہ دنیا یوں نہیں ہے جیسے آپ سمجھ رہے ہیں ۔ مثلاً چور کسی بیچارے کے پاس سے پیسہ لے گیا اور اگر دینے والا ساتھ ہو اور لینے والا ساتھ ہو تو پیسہ کیا ہوتا ہے؟ مطلب ہے کہ جس کی یہ دنیا ہے ، جب اس کے ساتھ تعلق ہو جائے تو پھر مشیت سمجھ آئے گی ۔ تو تاریخ کا لکھنا اکثر لکھنے والے کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے ۔
وہاں اللہ تعالیٰ کے ہاں صرف تقرب کے فیصلے ہیں اور تاریخوں کے فیصلے نہیں ہیں ۔ تو مشیت تقرب کی بات ہے اور تعلق کی بات ہے ۔ یہ بات سمجھنے سے پہلے آپ کا تعلق بحال ہونا چاہیے ۔ تو مذہب کیا ہے؟ حقیقت سے تعلق ہے ۔ اب اگر تعلق دینے والا ، جس سے آپ متعلق ہونا چاہتے ہیں ، اگر اس کا آپ کو پتہ چلے کہ وہ سنگِ در میں نظر آئے گا ، پھر تو آپ پیشانی جھکائیں گے ۔ آپ کو سنگِ در سے کوئی نسبت نہیں ہے بلکہ اس نشان سے ہے کیونکہ وہ یہاں ملے گا ۔ اگر اللہ دار پر چڑھنے سے ملے گا تو وہ وہاں چڑھ جائے گا ، اگر کوئی یہ کہے کہ اللہ جو آپ کا محبوب ہے وہ خنجر کھانے سے مل سکتا ہے تو ایمان والا کہتا ہے کہ ہم راضی ہیں ، مگر آپ تو اس شہید سے ہمدردی کرنے لگے ہیں اور اللہ کے ہاں اس شہید کے لئے سرفرازیاں ہو رہی ہیں ۔ اس لئے آپ تاریخ کو چھوڑ دیں ، حق طلب آدمی جو ہے وہ تاریخ نہیں پڑھتا ، اس کا تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ کیونکہ تاریخ کو مشیت کی سمجھ نہیں ۔ تاریخ جو ہوتی ہے یہ جمہوریت والے پڑھتے ہیں ۔ جمہوریت والے ہیں؟ کہ یہ اس کا حق ہے اور یہ اُس کا حق ہے ، اس کو حق سے محروم کر دیا گیا اور فلاں کو زیادہ دے دیا گیا ، اللہ تعالیٰ بھی کمال کرتا جا رہا ہے ، جب چاہتا ہے معزول کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے مقبول کر دیتا ہے ، کسی کو نافذ کر دیا اور کسی کو معزول کر دیا ۔ تو یہاں سے لوگوں نے انکار کیا ہے اور یہاں سے لوگوں نے اعتراض کیا کہ تم جس اللہ کی عبادت کر رہے ہو وہ تو اپنے محبوبوں کو کربلا میں رلاتا ہے ۔ ماننے والے نے کہا کہ وہ اللہ جو اپنے محبوبوں کو کربلا عطا فرماتا ہے اب یہ اس کی عطا کی اور مہربانی کی بات ہے ۔ اس لئے آپ اپنے آپ سے باہر نہ نکلیں ، کچھ دن فاقے کریں اور کچھ دن شب بیداری کریں تو پھر آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ کربلا جو ہے یہ کوئی ابتلاء نہیں ہے بلکہ مہربانی کی انتہاء ہے! اگر آپ کا محبوب کربلا میں ملے تو پھر آپ کو کربلا میں چلے جانا چاہیے ۔ آپ لوگ تو آسائش میں رہنے والے ہیں اس لئے آپ کو پتہ نہیں چل سکتا کہ اصل بات کیا ہے ؟ تکلیف یوں نہیں ہے جیسے آپ کہہ رہے ہیں بلکہ یہ اللہ کے تقرب کی بات ہے ۔
آپ نے حضرت ایوب علیہ السلام کا واقعہ پڑھا ہو گا کہ وہ اللہ کا قرب رکھنے والے پیغمبر تھے مگر بیمار ہو گئے ۔ تو کمال کی بات ہے کہ پیغمبر بیمار ہو گئے اور پھر کہا کہ اللہ سے میرا تعلق اسی طرح ہے ، تو لوگوں نے کہا کہ آپ کا اچھا تعلق ہے کہ آپ تو بڑے سخت بیمار ہیں ۔ آپ اس زمانے میں ہوتے تو کیا کرتے؟ آپ ایوب علیہ السلام سے تعلق رکھتے یا نہ رکھتے؟ سچا تعلق یہ ہے کہ اگر آدمی سچا ہے تو وہ سچ کے حوالے سے تعلق رکھے گا ۔ آپ لوگ تو صحت ، بیماری ، غریبی ، دولت اور دوسرے اسباب کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ۔ تو اسباب کی تقرب کے معاملے میں کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ تو اصل تعلق جو ہے وہ تقرب کا تعلق ہونا چاہیے ۔ اہلِ ظاہر کو یہ بات سمجھ نہیں آتی ہے کہ اہلِ باطن کا مقام کیا ہے ۔
دنیادار یہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ مل جائے تو اللہ تعالیٰ سے تم سب چیزیں مانگو ، فرعون کی طرح بادشاہی مانگو ، دولت مانگو ، اور یہ مانگو کہ میرا حکم نافذ ہو جائے ۔ تو یہاں دقّت پیدا ہو جائے گی ۔ اگر آپ کو اللہ ان باتوں کے علاوہ دے تو پھر آپ کو اس کے پاس جانا مشکل ہو جائے گا ۔ تو آپ یہ بات ضرور سمجھیں کہ مشیت میں تاریخ کا مقام نہیں ہے ، دوسرے واقعات کا مقام نہیں ہے اور کچھ آدمیوں کی رائے کا سوال نہیں ہے بلکہ یہاں اللہ کی رضا کا تعلق ہے ۔ تو مشیتِ ایزدی رضائے الہٰی کے فیصلے یعنی اللہ تعالیٰ کے فیصلے قبول کرنا ہے ۔ تو مشیت والا اس کا بندہ بھی ہے اور اس کا چاہنے والا بھی ہے ، وہ جس حال سے گزارے اس حال سے گزر جانا چاہیے ۔

تو ہر دم می سرائی نغمہ او ہر بار می رقصم
بہرِ طرز کہ رقصانیم اے یار می رقصم

یعنی جب بھی تُو نے نغمہ سنایا ، میں نے رقص کیا اور تیری مرضی ہے کہ تو جس طرح سے جس حال میں مجھ سے رقص کرا لے ، تیری مرضی ہے تو جہاں رکھے ، ہم راضی ہیں ۔ تو آپ یہ بات دل میں طے کرنے کی گنجائش ضرور پیدا کریں ۔ عام بندہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ہم ہر حال میں راضی ہیں ، لیکن بہتر ہے کہ ہمیں ذرا آسانی میں رکھ ، کیوں کہ ہم کمزور انسان ہیں ، تیری مخلوق ہیں اور بڑے عاجز ہیں ۔ اور اللہ کا طالب جو ہے وہ پھر رعائتیں نہیں چاہتا بلکہ عام بندہ رعایت چاہتا ہے ۔ تو اگر آپ اس کے عام بندے کی حد تک ہیں تو تلاشِ حق عام بندے کا سوال نہیں ہے ۔ عام بندہ تو اپنی عبادت کرے اور یہ دعا مانگے کہ "ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنة و فی الاخرة حسنة وقنا عذاب النار" یعنی یااللہ ہماری دنیا بہتر کر ، ہمارا دین بہتر کر اور آگ کے عذاب سے بچا ۔ یعنی کہ اے اللہ ہمارے بیوی بچوں کو بھی راضی رکھ اور ہمارے ماں باپ کو بھی راضی رکھ ۔ تو دنیا اس وقت بہتر ہو جاتی ہے جب بیوی بچے راضی ہوں اور آخرت کب بہتر ہو گی؟ جب ماں باپ راضی ہو گئے ۔ یہ زندگی چار دن کا میلہ ہے اور کچھ نہیں ، بس آپ ذرا آرام سے گزار جاوء ۔ یہ عام آدمی کی بات ہے کہ تم پیسے جمع کرو اور سال کے بعد زکوٰة دے دو ۔ اور یہ جو بات بتانے والے ہوتے ہیں وہ کبھی صاحبِ زکوٰة نہیں ہوئے ۔ ان کے پاس جمع کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا بلکہ وہ تو فاقے سے گزرتے ہیں ، ان کے پاس جب پیسہ آیا وہ اللہ کی راہ میں دے دیا ، جو چیز آئی ، اللہ کی راہ میں وہ دے دی ۔
ایک درویش نے دوسرے سے پوچھا کہ صبر کا مقام کیا ہے؟ تو دوسرے درویش نے کہا کہ صبر کا مقام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر دے دے تب راضی ، نہ دے تب راضی! پہلے درویش نے کہا یہ تو صبر کا مقام کوئی نہ ہوا ، یہ تو عام جانوروں میں بھی ہے ، اگر اس کو آپ کھانا دے دو ، تب راضی ہے اور نہ دو ، تب بھی راضی ہے اور اس جانور کا نام ہے کتا ۔
تو صبر یہ ہے کہ اگر اللہ نے دیا ہے تو تقسیم کر دو اور نہیں دیا تو راضی رہو اور شکر کرو ۔ اب یہ مختلف انسانوں کا اللہ سے اپنا تعلق ہے اور اس کے مطابق وہ بات کرتے ہیں ۔ تو حاصل ہونے والا جو ہے وہ عطا کرنے والا ہے ۔
ایک دفعہ ایک بزرگ کے پاس ایک سائل آیا ۔ سائل نے سوال کیا کہ کچھ پیسہ چاہیے ۔ ان کے پاس ایک تھیلی نیاز میں پیش ہوئی تھی ، آپ نے اس کو وہ تھیلی دے دی ، تھیلی دینار سے بھری ہوئی تھی مگر وہ بزرگ رونے لگ گئے ۔ معتقدین نے پوچھا کہ آپ نے اس کا سوال تو پورا کر دیا ، پھر آپ روئے کیوں؟ انہوں نے کہا مجھ سے غفلت ہو گئ ، میں ذرا توجہ کرتا تو وہ شخص سوال کی اذیت سے بچ جاتا ۔ تو سخی کا کام یہ ہوتا ہے! اور اس بزرگ کا نام حضرت حسن علیہ السلام ۔ تو سخی وہ ہے جو سوال سے پہلے جواب دے دے تا کہ سائل سوال کو سوال کی اذیت نہ ہو ۔ اور آپ تو دس دفعہ سوال کراتے ہیں اور پھر معذرت کر لیتے ہیں ۔
ایک شخص تیسری منزل پر سویا ہوا تھا اور نیچے سے ایک سائل نے گھنٹی بجائی ۔ اوپر سے پوچھا کیا بات ہے بھئی! اس فقیر نے کہا بات سنیں ، آپ سے کام ہے ۔ تو وہ تیسری منزل سے نیچے اترا ۔ سائل نے کہا بات یہ ہے کہ اللہ کے نام کا کچھ دو ، کوئی چیز دو ، میں بھوکا ہوں ۔ اس نے کہا میرے ساتھ اوپر چلو ، جب اوپر چلے گئے تو سائل سے کہا معاف کر دو ۔ اب اس کا مقصد یہ تھا کہ تُو نیچے سے سوال کرتا تو میں تجھے وہاں سے جواب دیتا ۔ آپ بھی جدھر سے سوال کرو گے تو وہ اُدھر سے جواب دے گا ۔ تو واقعہ کیا ہے؟ اس کے تعلق کی بات ہے ، اس لئے صبر اور چیز ہے ، اور رضا بھی اور چیز ہے ۔ جب تک آپ مکمل طور پر اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تب تک آپ تلاشِ حق کا نام نہ لیں اور جتنی زندگی باقی پڑی ہے اس کو اپنے طریقے سے گزاریں ۔ تو راضی رہنے والے جو ہیں یہ کم ہیں بلکہ بہت کم ہیں اور ان کو کم ہی رہنا پڑے گا کیونکہ اس کے فیصلوں پر راضی رہنے والے بہت کم لوگ ہیں ، لوگ یہ راستہ چھوڑ جاتے ہیں ، میدان چھوڑ جاتے ہیں ، چیخیں مارتے ہیں ، فریادیں کرتے ہیں اور بہت شور مچاتے ہیں ، تو تلاش ِ حق کا مقام بڑا مشکل ہے ، اس لئے عام لوگوں سے کہو کہ بس اتنا ٹھیک ہے کہ اللہ راضی رہے اور ہم بھی راضی رہیں ۔
جس جلوے کا کوئی متلاشی ہے وہ اسی کا طالب ہو گا ۔ تو وہ اللہ سے معافی مانگے اور اللہ اسے کہے گا کہ جا تجھے معاف کر دیا ۔
ایک آدمی ایک بزرگ کے پاس گیا اور کہا کہ مجھے عشق کا درس دیں ۔ انہوں نے کہا چلو پھر کبھی سہی ، اب تو جانے دو ۔ مگر اس نے کہا کہ میں نے ضرور عشق کا درس لینا ہے ، دل بے تاب ہے ، عشق ِ حقیقی مجھے سکھا دیں ۔ وہ دس دن وہاں پر رہا ۔ گیارہویں دن پیر صاحب نے جب یہ دیکھا کہ یہ بہت شور مچا رہا ہے تو اس کو چپکے سے کچھ پیسے دے دئیے ۔ اس نے کہا واللہ میرا یہ تو مقصد نہیں تھا ، اچھا اگر آپ کہتے ہیں تو مَیں رکھ لیتا ہوں ۔ تو اس شخص کے عشق کا مقصد یہ تھا اور اسے عشقِ حقیقی اتنا تھا کہ چار پیسے اس کو مل جائیں ۔ یہ پیسوں کا سفر جو ہے ، حاصل کا سفر جو ہے ، یہ بڑا خطرناک سفر ہے ۔ ایسے آدمیوں سے اگر اللہ تعالیٰ پوچھے کہ دوزخ میں بھیجوں یا جنت میں؟ تو وہ کہے گا جہاں دو پیسے زیادہ ملیں وہیں بھیج دیں ۔ تو اصل چیز اللہ سے تعلق ہے ۔ وہ اس وقت راضی ہو گا جب آپ اپنی رضا مندی باہر نکال دیں گے

رہنا ہے ہر حال میں راضی
خالق سنگ ہے جیون بازی

راضی رہنے والے کا مقام یہ ہے کہ وہ حق طلبی کرے اور وہ نہ بھی ملے تو بھی راضی رہنے والا راضی رہے اور جو ناراض رہنے والا ہے ، ناراض کرنے والا ہے ، دنیا کو پریشان کرنے والا ہے اور حاصل کرنے والا ہے ، وہ ہر واقفیت کی اور ہر تعلق کی قیمت لگاتا ہے اور اسے پیسوں میں تولتا ہے ۔ تو رضا مندی یا رضائے الہٰی کیا ہے؟ اور ظاہری حق تلفی کے باوجود درجات میں اضافہ کیا ہے؟ جب اللہ ساتھ ہو جائے تو طلب کیا ہے اور حق کیا ہے ۔ پھر سب اس کی مرضی پہ ہے! حق اگر اپنا جلوہ دکھا دے تو یہی آپ کا حق ہے اور اگر نہ دکھائے تو بھی اسے اپنے لئے بہتر سمجھیں ۔ وہ مرتبہ عطا کر دے ، تو حق آپ کا مرتبہ ہے اور اگر مرتبہ نہ عطا کرے تو بھی اس کی مہربانی ہے ۔ وہ امیر کر دے تو دولت آپ کا حق ہے اور غریب کر دے تو غریبی آپ کا حق ہے ، وہ جو کر دے حق ہے اور جو نہ کرے وہ بھی حق ہے ، وطن میں رکھے تو وطن میں رہنا آپ کا حق ہے اور وطن سے باہر نکال دے تو وطن سے باہر آپ کا حق ہے ۔ تو حق وہ ہے جو اللہ کہے اور ناحق وہ ہے جو آپ کہیں ۔
اسی لئے میں نے آپ کو پہلے سے وظیفہ بتایا ہوا ہے کہ الحمد للہ اور استغفراللہ ملا کے پڑھا کریں ۔ استغفراللہ اس کام پر جو آپ نے کیے ہیں اور الحمد للہ اس احسان پر جو اللہ نے کیے ہیں ۔ تو آپ کے ساتھ جو اللہ کا سلوک ہے وہ حق ہے اور آپ کا اپنے ساتھ جو کیا ہوا وہ ناحق ہے ۔ آپ نے اپنے ساتھ جو ناحق کیا ہے اب اس کو نکال دیں ۔ کیسے؟ استغفراللہ کے ذریعے ۔ اور اللہ نے توبہ کی مہلت دی ہے ، شکر ادا کرنے کی مہلت دی ہے ، احسانات کیے ہیں ، مہربانی کی ہے ، جس طرح اس نے آپ کو بچایا ہے ، اس پر اللہ کا شکر ادا کریں الحمد للہ ۔ جو چلا گیا ، اس پہ راضی ہو جاوء اور جو بچ گیا اس کا شکر ادا کرو ۔ تو حق کے مسافر اور حق کے طالب راستے کی دشواریوں کا گلہ نہیں کرتے کیونکہ یہ دشواریاں غیروں کو نظر آتی ہیں اور حق والوں کے لئے یہ دشواریاں نہیں ہوتی ہیں ، ان کے لئے تو یہ راستہ ہے ۔ تو یہی وجہ ہے کہ اللہ کے محبوب وہ ہیں جو مصائب میں سے گزرتے ہوئے بظاہر مصائب میں سے گزرتے ہوئے شکر کے کلمات پڑھ رہے ہوتے ہیں ۔ ان لوگوں کے لئے تو وہی حق ہے ۔
مثلاً اگر اللہ انسان کے ساتھ ہو جاءے تو پھر آتش کیا اور گلزار کیا ۔ جس ذات کی تلاش ہے اگر وہ ذات ساتھ ہو جاءے تو خوف نہیں ہوتا ۔ دوست اگر ساتھ ہو جائیں تو خوف نہیں آتا ۔ اگر غریبی ہو لیکن دوست ساتھ ہو تو غریبی آسانی سے گزر جائے گی ۔ اسی لئے اگر اللہ ساتھ ہو تو پھر غریبی کیا ہے؟ اس سے تعلق جوڑنے کا ایک ہی راز ہے کہ اس کے فیصلوں پر راضی رہنا سیکھو ۔ یہ دعا کرو کہ یارب العالمین اپنے فیصلوں پر راضی رہنے کی توفیق دے ۔ تو رضا والے اس سے یہ توفیق مانگتے ہیں ۔ اور اس توفیق میں اس شیخ کا ذکر بہت ضروری ہے جو یہ توفیق سکھاتا ہے ۔ اگر حالات کل بہتر تھے تو بہت اچھا تھا ، اور اگر آج بھی بہتر ہیں تو بہت اچھا ہے ، وہ وقت بھی اچھا تھا ، یہ وقت بھی اچھا ہے اور جو آءے گا وہ بھی اچھا ہی ہو گا ۔
تو اچھا وقت کس کا نام ہے؟اچھا وقت آپ کا نام ہے ، اچھا خیال آپ کا نام ہے وگرنہ وقت نہ اچھا ہوتا ہے اور نہ بُرا ہوتا ہے ۔ یہ صرف آپ کا خیال ہے ، قبول کرنے کا نام اچھا ہے اور قبول نہ ہو تو کچھ بھی اچھا نہیں ہے ۔
بعض لوگ حج کرنے جاتے ہیں تو وہ گلہ کرتے ہیں کہ وہاں جا کے یہ یہ تکلیف ہوئی ۔ آپ وہاں جا کے یہ کہیں کہ گھر والا جانے کہ وہاں کیا کرنا ہے ، ہمیں کیا ۔ تو آپ وہاں اپنا کام کریں ، وہاں اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کے حج کے دوران اِ دھر اُدھر لوگوں کو دیکھتے رہنا دراصل اپنا وقت ضائع کرنا ہے ۔ لوگ جانیں اور لوگوں کا رب جانے ، تو تُو اپنے رب کو راضی کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ورنہ ایسا سوچنے سے عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ انسان کی توجہ ہٹ جاتی ہے اور پھر انسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ میرا حق کیا ہے اور دوسرے کا حق کیا ہے۔ تو وہ دوسروں کے حقوق کی بات کرتا ہے مگر اپنے حق کی طرف توجہ نہیں کرتا ۔ تو حق کیا ہے؟ اللہ جو چاہے صرف وہی حق ہے۔

(گفتگو والیم 7 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 236 ، 237 ، 238 ، 239 ، 240 ، 241 ، 242 ، 243 ، 244 ، 245)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Address

Gujranwla
Gujranwala

Telephone

+923080606062

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faiz e Wasif Banka Cheema posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Faiz e Wasif Banka Cheema:

Shortcuts

Share

Category