آستانہءعالیہ: حضرت واصف علی واصف رح
محفل_پاک اور لنگر شریف
زیر_انتظام : محترم جناب صاحبزادہ کاشف محمود
Faiz e Wasif Banka Cheema
Works at Fikar e Wasif
23/05/2026
فرمودات: حضرت واصف علی واصف رح
23/05/2026
سوال:-
یہ فاصلے اور قرب اور یہ تعلق اور رشتے کیا چیز ہیں؟
جواب:-
*رشتے اور چیز ہیں ، تعلق اور چیز ہے ۔ یہ تو بدلتا رہتا ہے ، رشتہ ٹوٹتا رہتا ہے ، رشتہ کم ہوتا رہتا ہے ۔ ماں باپ دعا کرتے ہیں کہ اولاد پیدا ہو ، پھر ماں باپ اُسے پالتے ہیں ، پھر ماں باپ یہ دعا کرتے ہیں کہ یہ اولاد آباد ہو جائے ۔ بڑے پرندے نے چھوٹے بچے کو پہلے پالا ، تھوڑی سی پرواز سکھائی اور پھر کہا چل بچہ اُڑ جا ۔ یہی تیرا نصیب ہے اور یہی ہمارا نصیب ہے کہ بچے آشیانے میں پلیں اور آشیانے سے باہر ہو جائیں ۔ اور یہی ان کی خوبی ہے اور یہی ان کی خواہش ہے ۔ اس لیے رشتوں کی تو اتنی سی بات ہے کہ پہلے بھائی ، بھائی کیساتھ رہے اور پھر وہی بھائی ، بھائی کے ساتھ فیصلہ کرے کہ بھئ یہ تیرا مکان ہے اور یہ میرا مکان ہے ، جائیداد ، پراپرٹی تقسیم ہو جائے ۔ رشتوں میں تو یہی ہوتا کچھ ہوتا ہے
اب آئی تعلق کی بات ، تو تعلق میں فاصلہ ، فاصلہ نہیں ہے ۔ تعلق اگر ہو جائے تو تعلق میں نہ کوئی دُور کی بات ہے اور نہ قریب کی بات ہے ، نہ جدائی کی بات ہے ، نہ فراق کی بات ہے اور نہ وصال کی بات ہے ۔ تعلق میں ایک ایسا مقام بھی آئے گا کہ محبوب سے اگر کوئی تعلق ہو جائے تو وصال بھی اتنا عزیز ہے جتنا فراق اور فراق بھی اتنا عزیز ہے جتنا وصال ۔ وہاں نہ وصال کی بات ہے ، نہ فراق کی بات ہے بلکہ یہ صرف تعلق کی بات ہے ۔ تعلق چاہے تو فراق بن جائے اور چاہے تو وصال بن جائے ۔ اب یہ اس میں یہ تبدیلی آتی ہے کہ جو متعلق ہوتے ہیں یا متعلق لگتے ہیں وہ کچھ عرصہ کے بعد متعلق نہیں لگتے ۔ مثلاً
یہ جو آج ہمیں یہ لگ رہا ہے کہ اس کے بغیر گزر نہیں ہو گا ، کل اس کے بغیر گزر جائے گی ۔ تو یہ کیا بات ہے؟ یہ اُسی طرح کی بات ہے کہ جس طرح بچہ کھلونے کے بغیر گزارہ نہیں کرتا اور جب بعد میں بڑا ہو جاتا ہے تو کھلونے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ تو تعلق کو ایک اور تعلق Replace کرتا رہتا ہے ، دوستی کو دوستی Replace کرتی رہتی ہے اور محبت ، محبت کے ساتھ Trespass کرتی رہتی ہے ۔ ابھی چونکہ خیال میچور نہیں ہوا ، جب خیال قوی ہو جائے گا ، پھر اگر ایک بار کسی کو دوست کہہ لیا تو پھر وہ دوست آپ نے نہیں چھوڑنا ۔ جب وہ مقام آئے گا تو پھر یہ سوال ختم ہو جائے گا ۔ ابھی تو یہ سوال دریافت کی سٹیج میں ہے ۔ ابھی تو آپ دوستوں کو دوستوں کے ذریعے سے بھولتے اور یاد کرتے جا رہے ہیں ۔ اگر ایک دوست دریافت ہو گیا ، لائف کا فائنل فیصلہ ہو گیا کہ دوست مل گیا ہے ، اس کے بعد جو ہے
اُٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد
پھر ملاقات ہو نہ ہو ، وہ فائنل فیصلہ ہے ، دوستی فائنل ہے ۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی رہے یا نہ رہے ، وہ فائنل ہے ۔ وہ زندہ رہے یا خدانخواستہ ہو جائے ، اس سے فرق نہیں پڑتا ، کیونکہ وہ تعلق فائنل ہے ۔ وہ قریب بھی نہیں ہوتا اور دُور بھی نہیں ہوتا ۔ دُور جا کے تعلق Flourish کر سکتا ہے اور قریب رہ کے تعلق مدہم ہو سکتا ہے ۔ تعلق میں فاصلے نہیں ہوتے ۔ یہ جغرافیکل فاصلے نہیں ہیں بلکہ دلوں کے فاصلے ہیں ۔ دلوں کے فاصلے جغرافیائی فاصلوں سے آزاد ہیں ۔ آپ یہ بات یاد رکھ لیں کہ دل کا فاصلہ جغرافیائی فاصلے سے آزاد ہے ۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی دُور سے چل کے آئے اور کسی کے دل میں آ جائے ، چاہے افغانستان سے آئے ، چاہے لندن سے آئے ۔ اب یہ جو آنے والا ہے وہ آ سکتا ہے ، آسمان سے چلنے والا آسمان سے آ سکتا ہے اور آپ کا خیال آسمان پر جا سکتا ہے ۔ محبت کی کہانیاں ہی اور ہیں ۔ کہتے ہیں محبت زمین پر قدم رکھے تو آسمان پر اس کا لرزہ طاری ہو جاتا ہے ، سجدہ زمین پر کریں تو مسجود کو پتہ چل جاتا ہے کہ سجدہ کہاں ہوا ۔ تو پیشانی کہیں اور رکھی ہے اور سجدہ کہیں اور ہو گیا ۔ تو اس طرح کے ہیں محبت کے واقعات ۔ بلکہ میں آپ کو بتاؤں کہ یہ فاصلے جغرافیائی ہی نہیں بلکہ تاریخی بھی نہیں ہوتے ۔ تاریخی کیسے نہیں ہوتے؟ مثلاً
آپ کو 1989ء میں کسی ایسے Source سے محبت ہو گئ جو 478 ء میں Depart کر گیا تھا ، تو یہ فاصلہ بھی ختم ہو گیا یعنی تاریخ کا فاصلہ بھی ختم ہو گیا کیونکہ وہ روح آپ کی روح سے آج بھی آ کے مل سکتی ہے ، وہاں سے آواز آ سکتی ہے ۔ آپ نے کہاں سے پکارا؟ بیسویں صدی سے ، اور ساتویں صدی کے انسان نے وہاں سے جواب دیا کہ Hello how do you do یعنی کیا حال ہے؟ اب یہ پتہ نہیں کہ وہ یہاں ہے کہ تم وہاں ہو ۔ یہ راز ہے اور اس کا کوئی پتہ نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ جب بزرگوں کے مقام پر جا کے بات کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے ، اگر "یاعلیؑ مدد" کہتے ہو تو مدد ہو جاتی ہے ، مشکل کشائیاں ہوتی ہیں ، داتا صاحب ؒ کو جا کے یاد کرتے ہو تو جواب ملتا ہے ، حضور غوث پاک ؒ کا نام لیتے ہو تو جواب ملتا ہے ، یامحمد ﷺ کہتے ہو تو جواب ملتا ہے ، یااللہ کہتے ہو تو واقعات ہوتے ہیں ۔ تو یہ واقعات ضرور ہوتے ہیں ۔ پھر صدیوں کے فاصلے ، صدیوں کے فاصلے نہیں رہتے اور جغرافیائی فاصلے بھی فاصلے نہیں رہتے ۔ یہ پکارنے والے کی خوبی ہے کہ اگر وہ بیسویں صدی سے پکار رہا ہے تو پانچویں صدی والا جواب دے سکتا ہے ۔ بس بلانا ہے تو محبت سے بلاؤ ۔ وہ یا تو تمہیں بلا کے بات کر لیں گے یا پھر آ کے تم سے بات کر لیں گے ۔ میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں اور آپ اسے خود کر لو ۔ تو میں نے کیا کہا؟ یا تو وہ بلا کے بات کر لیں گے ، عین ہے کہ تمہیں بلایا جائے اور تم دیکھو گے کہ تم کسی اور صدی میں جا پہنچے یا پھر یہ عین ممکن ہے کہ اس صدی سے کوئی آدمی آ جائے اچانک ہی کوئی آدمی آ جائے اور کہے السلام علیکم ۔ پھر وہ آپ کی محفل میں بیٹھا ہو گا ۔ بعد میں آپ کو پتہ چلے گا کہ وہ تو چوتھی صدی کا آدمی تھا ، وہی تھا جس کو آپ یاد کرتے رہتے ہیں ۔ اس لیے جغرافیائی فاصلے بھی ختم ہو جاتے ہیں اور تاریخی فاصلے بھی ختم ہو جاتے ہیں ۔ نگاہوں میں اور دلوں فاصلوں میں یہ کائنات Matter نہیں کرتی ۔ وہ کوئی اور ہی کائنات ہے ، اسی میں ہیں مشرقین اور مغربین ۔
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ
(گفتگو والیم 19 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 136 ، 139)
22/05/2026
شہزاد قریشی
السلام علیکم
*آپ کے ناکام ہونے کی وجہ نہ نصیب ہے ، نہ قسمت ، نہ مقدر ہے نہ تقدیر ۔ آپ کسی اچھے استاد سے محبت اور ادب کے ساتھ رابطہ کرو اور جو وہ نصیحت کریں ، اس کے مطابق کام شروع کر دو ۔ باقی رہی کائنات ، جس کی کائنات ہے ، وہ جیسے چاہے اپنی کائنات چلائے ۔ تمہاری چھوٹی سی زندگی ہے اسے چلاؤ ، اسے سمجھو ، اسے مفید بناؤ ۔ جس آدمی کو اپنے ذہن کی سمجھ نہ آئے وہ خالق کے ذہن کی کیا بات کر سکتا ہے؟ پہلے تم اپنی صورت حال دیکھو ، صورت لیل و نہار بعد میں دیکھ لیں گے ۔ اپنے آپ کو ناکام نہ کہو ۔ ناکام وہ ہے جو کوشش چھوڑ جائے ، میدان سے بھاگ جائے ۔ آپ میدان میں ڈٹ جاؤ اور کامیابی حاصل کرو چاہے پانچ ہزار سال بعد ملے ۔ آپ کے لئے نصیحت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے حبیب ﷺ کے ساتھ بے تکلف ہونے کی کوشش نہ کرو ۔ اطاعت کرو ، عبادت کرو ۔ استاد کی اطاعت کرو اور اپنے ماں باپ کی اطاعت کرو ۔ آپ کو کوئی تکلیف نہیں رہے گی ۔ کچھ باتیں عمر کے ساتھ سمجھ آنا شروع ہوتی ہیں ۔ ایک بچے کو یہ سمجھ نہیں آ سکتی کہ شادی کیا ہے؟ حالانکہ وہ ہر روز دیکھتا رہتا ہے ۔ جب بڑا ہو جاتا ہے تو وقت خود ہی سمجھا دیتا ہے ۔ ابھی تم دنیا میں داخل ہی ہوئے ہو ، جھگڑا شروع نہ کرو ۔ کامیابی حاصل کرو اور اس جہان کی سیر کرو یعنی اسی کا مشاہدہ کرو ۔ ماں باپ کی اطاعت کرو ، اگر ماں باپ تمہیں بے وقوف نظر آئیں تب بھی اطاعت کرو ۔
تم عقل کے راستے پر چلنے سے پہلے ادب ، ایمان اور تابعداری کا راستہ اختیار کرو ۔ جن لوگوں سے دعا لینی ہے ، ان لوگوں کے ساتھ جھگڑا نہ کرو ۔ جو لوگ کامیاب ہوئے ان کے سامنے بھی یہی سوالات تھے کہ نصیب کیا ہے؟۔اور مقدر کیا ہے؟ انہوں نے علم حاصل کیا ، کامیابیاں حاصل کیں ، ذریعہ معاش حاصل کیا فرصت کے اوقات حاصل کئے اور تحمل مزاجی کے ساتھ ان سوالوں کے جواب بھی حاصل کئے ۔
کائنات کے راز دریافت کرنے سے پہلے ان لوگوں کی اطاعت کرو جو آپ کے بزرگ ہیں ۔ خبردار! ماں باپ کے سامنے گستاخ نہ ہونا ۔ استادوں کی عزت کرنا ۔ اللہ سے سوالات کرنے کی بجائے تیاری کرو اس وقت کی جب اللہ تم سے سوال کرے گا کہ تم نے یہ کیا؟ کیوں کیا؟ یہ نہ کیا ، تو کیوں نہ کیا؟
والسلام
واصف علی واصف
(گمنام ادیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 221)
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ
17/05/2026
سوال:-
ہم یہ کیسے سمجھیں کہ ہماری زندگی حضور پاک ؐ کی زندگی کے قریب ہے؟
جواب:-
*اس سوال کا ایک حصہ اور یہ ہو سکتا ہے کہ جب تک ہم احادیث مبارکہ نہ پڑھیں ہمیں کیا پتہ کہ حضور پاکؐ کی رضا کیا ہے ۔ آپ سوال سمجھ گئے؟ سوال مشکل ۔ اور اس کا جواب بڑا آسان ہے کہ جس شخص کو حضور پاک ؐ سے نسبت ہو جائے اس نسبت کے فیض سے اس کو قریب ترین راہ کا خود بخود ہی اندازہ ہو جاتا ہے ۔ سورج سے ثبوت ملے نہ ملے ، اگر نسبت ہو جائے تو وہ آدمی ضرور دھوپ میں رہتا ہے کیونکہ اُسے نسبت ہو گئی اور روشنی میں رہا ۔ اس میں مشکل بات یہ ہے کہ ایک آدمی جس نے حضور پاک ؐ کی سیرت کو سٹڈی نہیں کیا ، ایک آدمی جس نے احادیث مبارکہ کا تفصیلی جائزہ نہیں لیا ، کیا اُس کو عشقِ نبی ؐ عطا ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب آپ دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:-
یہ ہو سکتا ہے بلکہ ایسا ہوا ہے
جواب:-
*ٹھیک ہے ، یہ ہو سکتا ہے ۔ ایسا ہوا ۔ ثابت یہ ہوا کہ عشق اور محبت کے لیے عرفان اور سیرت آپ کو سمجھ نہ آئیں تو بھی کوئی بات نہیں
عشق جو ہے یہ روح کا مقام ہے اور یہ عطا ہو جائے تو ساری زندگی بن جاتی ہے ۔ ایک آدمی اگر ساری زندگی حضور پاک ؐ کی سیرت کو سٹڈی کرتا رہے تو یہ ہو سکتا ہے کہ عشق سے محروم ہو ۔ حضور اکرم ؐ کی زندگی پر کتابیں لکھنے والا ، ہو سکتا ہے کافر ہو ۔ کتاب لکھنے سے یہ علم نہیں آتا ، کتاب پڑھنے سے یہ علم نہیں آتا ۔ علم جو ہے یہ محبت کے ساتھ آتا ہے اور محبت جو ہے یہ عطا ہوتی ہے ۔ یہ عطا کا علم ہے ، عطا کرنے والے راستے الگ ہیں ۔ کوئی یہ عطا کرنے والا ہوتا ہے ۔ یہ علم اس وقت ملتا ہے جب کوئی عشق عطا کرنے والا ہو ، محبت عطا کرنے والا ہو ۔ تو یہ عشق ، محبت اور حضور پاک ؐ سے نسبت عطا ہے ۔ یہ کیسے ملتی ہے؟ کوئی عطا کرنے والا ہوتا ہے تو مِلتی ہے ۔ اس لیے اس کا کوئی باعث نہیں ہے کہ آپ کیا کیا مطالعہ کریں ۔ آپ محبت سے درود شریف پڑھیں ، نسبت رکھیں اور حضور پاک ؐ کی اُمت کے لیے دعا کرتے جائیں تو آپ کو ضرور کوئی نہ کوئی بات مل جائے گی ۔ کائنات میں بہت سی باتیں ہیں جن سے اللہ خوش ہو سکتا ہے
اللہ کے کسی بندے پر آپ نے رحم کر دیا تو اللہ خوش ہو جائے گا ۔ اگر کسی جانور پر آپ نے رحم کر دیا تو اللہ خوش ہو جائے گا ۔ خالق کے حوالے سے اس کی مخلوق پر آپ نے رحم کر دیا تو اللہ خوش ہو جائے گا ۔ آپ نے کسی کو معاف کر دیا تو اللہ خوش ہو جائے گا ۔ اپنے آپ کو بھی معاف کر دو تو اللہ خوش ہو جائے گا ۔ اللہ تو اللہ ہے ، وہ خوش ہو جائے گا ۔ وہ انسانوں کی طرح ناراض تو نہیں ہوتا ۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جن کو ابھی تک اس دنیا کے اندر داخلہ عطا نہیں کیا، ان کے بارے میں ہمیں پتہ نہیں ہے کہ وہ لوگ ہیں یا نہیں ہیں ۔ وہ ابھی انسانوں کے روپ میں نہیں آئے
اللہ جس پر ناراض ہو اس آدمی کی زبان پر اپنے محبوبؐ کا نام نہیں آنے دے گا ۔ اللہ جس پر راضی نہ ہو ، اللہ جس کو اچھا نہ سمجھے ، اس کی زبان پر اپنے محبوب ؐ کا نام نہیں آنے دیتا ۔ جس شخص کی زبان پر اللہ کے محبوب ؐ کا نام ادب سے نہ آئے اس پر اللہ راضی نہیں ہو سکتا ۔ جس کی زبان پر اللہ کے محبوب ؐ کا نام محبت سے آئے اس پر اللہ ناراض نہیں ہو سکتا ۔ اب آپ کو نسخہ مل گیا ۔ تو حضور پاک ؐ کا نام ادب سے لینا آپ کا دین ہے
اور آپ دانشوروں کو یہ بات بتا رہا ہوں کہ جب آپ ادب اور محبت سے نام لیں تو یہ یاد رکھنا کہ جن کا یہ نام ہے وہ اُس وقت اُس حال سے باخبر ہیں ۔ یہ میں آپ کو واضح بات بتا رہا ہوں ۔ میری بات سمجھ آئی؟ جب آپ تنہائی میں اللہ کو پکارتے ہیں تو آپ کو پتہ ہے کہ اللہ باخبر ہے ۔ جب آپ درود شریف پڑھتے ہیں ، ادب کے ساتھ پڑھتے ہیں تو یہ یاد رکھنا کہ جس ذات پر آپ درود بھیج رہے ہیں وہ آپ کی اس حالت سے باخبر ہیں ۔ اور درود شریف کا جواب کب آتا ہے؟ یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ درود پڑھتے جاتے ہیں جواب کب آئے گا ؟
دورد پڑھنے والے شخص پر درود پڑھنے کے دوران رقت طاری ہو جائے تو سمجھو کہ جواب آ گیا ۔ اگر آنسو طاری ہو جائیں ، رِقت طاری ہو جاۓ تو سمجھو کہ جواب آ گیا ۔ جب حضور پاک ؐ کی توجہ اور بزرگوں کی توجہ آپ کے کمزور دل کے قریب سے گزرتی ہے تو آپ کی آنکھوں میں بغیر سبب کے آنسو آ جاتے ہیں ۔ بے سبب آنسوٶں کا آنا ، یہ کسی کی توجہ کے ذریعے ہے ۔ اور توجہ جو ہے ان کی خاص عنايت ہے ۔ اس لیے جب کبھی آپ تنہا بیٹھ کر درود شریف پڑھ رہے ہوں اور آپ کو آنسو آ جائیں ، اگر آپ کبھی سجدے میں اللہ کے سامنے ہوں اور آپ پر رقت طاری ہو جائے تو سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کا بہت قرب حاصل ہو گیا ۔ درود شریف میں رقت ہو جانا بہت قرب حاصل ہونا ہے ۔ کسی بزرگ کو اگر یاد کر رہے ہیں اور یاد کرتے کرتے اگر رقت طاری ہو گئی تو سمجھو کہ آپ کے سلام کا جواب آ گیا ۔ اگر رقت طاری نہ ہو رہی ہو تو کچھ درویش کہتے ہیں کہ منہ پر کچھ مارو تا کہ کوئی آنسو آ جائے ۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ کسی طرح سے رونی شکل بنا لو ۔ کچھ تو کرو، کہ تم تو ٹھوس ہو گئے ، کٹھور ہو گئے ۔ تو کٹھور نہ ہونا ۔ سب سے بڑا ظلم سنگ دل ہو جانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(گفتگو والیم 22............ صفحہ نمبر 111 ، 112 ، 113 ، 114)
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ
17/05/2026
آستانہءعالیہ : حضرت واصف علی واصف رح
محفل_پاک
زیر_انتظام : محترم جناب صاحبزادہ کاشف محمود
15/05/2026
☆ہمارے ہاں ہر صاحب_مقام اور صاحب_مرتبہ انسان اپنے مقام اور اپنے مرتبے کا خراج وصول کرتا ہے اور کچھ نہیں تو لوگوں سے سلام کی توقع کرتا ہے ، لیکن خود لوگوں کو سلام کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا _______
معاشرے میں عزت کی تمنا خود غرضی کی انتہا ہے اس طرز_سلوک کو استحصال بھی کہتے ہیں
آخر دوسروں میں باعزت ہونے کی تمنا ہی کیوں ہو - لوگوں سے اپنی صداقت اور دیانت کی قیمت کیوں وصول کی جائے - لوگوں کو کیوں مجبور کیا جائے کہ وہ آپ کی عزت کریں ، آپ کا احترام کریں ، آپ کا ذکر کریں ، آپ کی بات کریں - لوگ اپنے اپنے کام کیوں نہ کریں ________
شاید لوگ مرتبہ اس لیے چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ مرتبے کے آگے سرنگوں ہوں - کیا اپنی سر بلندی دوسروں کو سرنگوں کرنے سے حاصل ہوتی ہے ؟______
مصنف:- حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ
کتاب:- قطرہ قطرہ قلزم
مضمون:- منفعت
14/05/2026
فرمودات : حضرت واصف علی واصف رح
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Gujranwla
Gujranwala