26/08/2026
سلسلۂ مضامین — 02
*محمد رسول اللہ ﷺ کیوں بھیجے گئے؟ بعثتِ محمدی ﷺ کے عظیم مقاصد*
قسط 2/5
پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ بعثتِ محمدی ﷺ کے تمام مقاصد کی بنیاد توحید ہے۔ رسول اللہ ﷺ انسان کو شرک سے نکال کر صرف اللہ کا بندہ بنانے اور اسے اس کے رب کی طرف بلانے کے لیے مبعوث فرمائے گئے۔
لیکن نبوی مشن صرف عقیدے کی اصلاح تک محدود نہیں تھا۔ انسان کو اپنے رب سے جوڑنے کے بعد اس کے علم، دل، سوچ، اخلاق اور اعمال کی اصلاح بھی ضروری تھی۔
اسی لیے بعثتِ محمدی ﷺ کے اہم مقاصد میں تعلیم، تزکیہ اور انسان کی تعمیر بھی شامل ہے۔
*بعثتِ محمدی ﷺ کا مقصد — تعلیم، تزکیہ اور انسان کی تعمیر*
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے مقاصد بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ﴾
(سورۃ آل عمران، آیت نمبر 164)
اس مختصر آیت کے ٹکڑے میں نبوی مشن کے کئی عظیم پہلو جمع ہوگئے ہیں۔
﴿يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ﴾ — انہیں اللہ کی آیات سنانا
آپ ﷺ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیات سناتے اور ان تک ان کے رب کا پیغام پہنچاتے تھے۔
﴿وَيُزَكِّيهِمْ﴾ — ان کا تزکیہ کرنا
آپ ﷺ لوگوں کے عقیدے، دل، سوچ، اخلاق اور اعمال کو شرک، گناہ اور برائی سے پاک کرتے تھے۔ انسان کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن کی اصلاح بھی نبوی تربیت کا حصہ تھی۔
﴿وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ﴾ — انہیں کتاب کی تعلیم دینا
قرآن صرف تلاوت کے لیے نازل نہیں ہوا تھا۔ اسے سمجھنا، اس کی ہدایت کو جاننا اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنانا بھی ضروری تھا۔
﴿وَالْحِكْمَةَ﴾ — اور حکمت کی تعلیم دینا
مفسرین نے یہاں حکمت کی نمایاں تفسیروں میں سنتِ رسول ﷺ (حدیث) کو بھی بیان کیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ صرف اللہ کی کتاب پہنچا کر آگے بڑھ جانے والے رسول نہیں تھے۔
آپ ﷺ معلم بھی تھے، مربی بھی تھے اور انسانوں کی عملی تربیت کرنے والے رسول بھی تھے۔
آپ ﷺ نے ایسے انسان تیار کیے جن کے عقائد بدلے، عبادات بدلیں، اخلاق بدلے، معاملات بدلے، ترجیحات بدلیں، حتیٰ کہ زندگی اور موت کے بارے میں ان کی سوچ تک بدل گئی۔
یہ بعثتِ محمدی ﷺ کا ایک عظیم مقصد تھا:
انسان کے اندر سے تبدیلی پیدا کرنا۔
*بعثتِ محمدی ﷺ کا مقصد — پوری عملی زندگی کی اصلاح*
اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
﴿يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ﴾
(سورۃ الأعراف، آیت نمبر 157)
وہ انہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، ان کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزیں ان پر حرام کرتے ہیں۔
آپ ﷺ انسان کو صرف یہ بتانے نہیں آئے تھے کہ اللہ کون ہے، بلکہ یہ بھی بتانے آئے تھے کہ اللہ کو ماننے کے بعد زندگی کیسے گزارنی ہے۔
کیا صحیح ہے اور کیا غلط؟
کیا حلال ہے اور کیا حرام؟
کیا پاکیزہ ہے اور کیا ناپاک؟
کون سا عمل اللہ کو پسند ہے اور کون سا ناپسند؟
بعثتِ محمدی ﷺ عقیدے سے شروع ہوتی ہے، مگر عقیدے پر رکتی نہیں۔ وہ انسان کی عبادت، اخلاق، گھر، کاروبار، معاملات اور معاشرت تک پہنچتی ہے۔
اللہ صرف مسجد میں ہمارا رب نہیں، وہ ہماری پوری زندگی کا رب ہے۔
اس لیے اس کی ہدایت بھی ہماری پوری زندگی کے لیے ہے۔
*بعثتِ محمدی ﷺ کا مقصد — رسول کی اطاعت کے ذریعے اللہ کی اطاعت*
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ﴾
(سورۃ النساء، آیت نمبر 64)
ہم نے جو رسول بھی بھیجا، اسی لیے بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔
یہ آیت بعثتِ رسل کا ایک نہایت بنیادی اصول بیان کرتی ہے:
رسول اس لیے نہیں بھیجا جاتا کہ صرف اس کی بات سن لی جائے، رسول اس لیے بھیجا جاتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔
محمد رسول اللہ ﷺ کی عظمت و شان بیان کرنا اور آپ ﷺ سے محبت کا اظہار کرنا اپنی جگہ بہت اہم ہے، لیکن محبتِ رسول ﷺ کا عملی نتیجہ اطاعت اور اتباع ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان آپ ﷺ کی تعلیم کو جانے، آپ ﷺ کی سنت کو سمجھے اور پھر اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔
یہاں ہر مسلمان کو اپنے دل سے ایک سوال کرنا چاہیے:
اگر میں رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہوں تو کیا میری زندگی بھی آپ ﷺ کی اطاعت کی طرف بڑھ رہی ہے؟
کیونکہ جس رسول ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ہماری ہدایت کے لیے بھیجا، اس کی بعثت کے ساتھ اطاعت کو خود اللہ تعالیٰ نے جوڑ دیا ہے۔
جاری ہے۔۔۔
*از قلم:* محمد طیب شیخ
*نظرِ ثانی:*
فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا ابراہیم محمدی صاحب حفظہ اللہ
امیر، مرکزی جمعیت اہلِ حدیث ضلع وزیر آباد
فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا مشتاق احمد چیمہ صاحب حفظہ اللہ
نائب امیر، مرکزی جمعیت اہلِ حدیث ضلع گوجرانوالہ