Tayyab ki Baat

Tayyab ki Baat Islamic Content Creator | Motivational Content Creator | Blogger | Social Media Influencer | Humanitarian | Podcaster

سلسلۂ مضامین — 02 *محمد رسول اللہ ﷺ کیوں بھیجے گئے؟ بعثتِ محمدی ﷺ کے عظیم مقاصد* قسط 2/5پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ بع...
26/08/2026

سلسلۂ مضامین — 02

*محمد رسول اللہ ﷺ کیوں بھیجے گئے؟ بعثتِ محمدی ﷺ کے عظیم مقاصد*

قسط 2/5

پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ بعثتِ محمدی ﷺ کے تمام مقاصد کی بنیاد توحید ہے۔ رسول اللہ ﷺ انسان کو شرک سے نکال کر صرف اللہ کا بندہ بنانے اور اسے اس کے رب کی طرف بلانے کے لیے مبعوث فرمائے گئے۔

لیکن نبوی مشن صرف عقیدے کی اصلاح تک محدود نہیں تھا۔ انسان کو اپنے رب سے جوڑنے کے بعد اس کے علم، دل، سوچ، اخلاق اور اعمال کی اصلاح بھی ضروری تھی۔

اسی لیے بعثتِ محمدی ﷺ کے اہم مقاصد میں تعلیم، تزکیہ اور انسان کی تعمیر بھی شامل ہے۔

*بعثتِ محمدی ﷺ کا مقصد — تعلیم، تزکیہ اور انسان کی تعمیر*

اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے مقاصد بیان کرتے ہوئے فرمایا:

﴿يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ﴾

(سورۃ آل عمران، آیت نمبر 164)

اس مختصر آیت کے ٹکڑے میں نبوی مشن کے کئی عظیم پہلو جمع ہوگئے ہیں۔

﴿يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ﴾ — انہیں اللہ کی آیات سنانا

آپ ﷺ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیات سناتے اور ان تک ان کے رب کا پیغام پہنچاتے تھے۔

﴿وَيُزَكِّيهِمْ﴾ — ان کا تزکیہ کرنا

آپ ﷺ لوگوں کے عقیدے، دل، سوچ، اخلاق اور اعمال کو شرک، گناہ اور برائی سے پاک کرتے تھے۔ انسان کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن کی اصلاح بھی نبوی تربیت کا حصہ تھی۔

﴿وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ﴾ — انہیں کتاب کی تعلیم دینا

قرآن صرف تلاوت کے لیے نازل نہیں ہوا تھا۔ اسے سمجھنا، اس کی ہدایت کو جاننا اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنانا بھی ضروری تھا۔

﴿وَالْحِكْمَةَ﴾ — اور حکمت کی تعلیم دینا

مفسرین نے یہاں حکمت کی نمایاں تفسیروں میں سنتِ رسول ﷺ (حدیث) کو بھی بیان کیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ صرف اللہ کی کتاب پہنچا کر آگے بڑھ جانے والے رسول نہیں تھے۔

آپ ﷺ معلم بھی تھے، مربی بھی تھے اور انسانوں کی عملی تربیت کرنے والے رسول بھی تھے۔

آپ ﷺ نے ایسے انسان تیار کیے جن کے عقائد بدلے، عبادات بدلیں، اخلاق بدلے، معاملات بدلے، ترجیحات بدلیں، حتیٰ کہ زندگی اور موت کے بارے میں ان کی سوچ تک بدل گئی۔

یہ بعثتِ محمدی ﷺ کا ایک عظیم مقصد تھا:

انسان کے اندر سے تبدیلی پیدا کرنا۔

*بعثتِ محمدی ﷺ کا مقصد — پوری عملی زندگی کی اصلاح*

اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

﴿يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ﴾

(سورۃ الأعراف، آیت نمبر 157)

وہ انہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، ان کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزیں ان پر حرام کرتے ہیں۔

آپ ﷺ انسان کو صرف یہ بتانے نہیں آئے تھے کہ اللہ کون ہے، بلکہ یہ بھی بتانے آئے تھے کہ اللہ کو ماننے کے بعد زندگی کیسے گزارنی ہے۔

کیا صحیح ہے اور کیا غلط؟

کیا حلال ہے اور کیا حرام؟

کیا پاکیزہ ہے اور کیا ناپاک؟

کون سا عمل اللہ کو پسند ہے اور کون سا ناپسند؟

بعثتِ محمدی ﷺ عقیدے سے شروع ہوتی ہے، مگر عقیدے پر رکتی نہیں۔ وہ انسان کی عبادت، اخلاق، گھر، کاروبار، معاملات اور معاشرت تک پہنچتی ہے۔

اللہ صرف مسجد میں ہمارا رب نہیں، وہ ہماری پوری زندگی کا رب ہے۔

اس لیے اس کی ہدایت بھی ہماری پوری زندگی کے لیے ہے۔

*بعثتِ محمدی ﷺ کا مقصد — رسول کی اطاعت کے ذریعے اللہ کی اطاعت*

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ﴾

(سورۃ النساء، آیت نمبر 64)

ہم نے جو رسول بھی بھیجا، اسی لیے بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔

یہ آیت بعثتِ رسل کا ایک نہایت بنیادی اصول بیان کرتی ہے:

رسول اس لیے نہیں بھیجا جاتا کہ صرف اس کی بات سن لی جائے، رسول اس لیے بھیجا جاتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔

محمد رسول اللہ ﷺ کی عظمت و شان بیان کرنا اور آپ ﷺ سے محبت کا اظہار کرنا اپنی جگہ بہت اہم ہے، لیکن محبتِ رسول ﷺ کا عملی نتیجہ اطاعت اور اتباع ہے۔

رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان آپ ﷺ کی تعلیم کو جانے، آپ ﷺ کی سنت کو سمجھے اور پھر اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔

یہاں ہر مسلمان کو اپنے دل سے ایک سوال کرنا چاہیے:

اگر میں رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہوں تو کیا میری زندگی بھی آپ ﷺ کی اطاعت کی طرف بڑھ رہی ہے؟

کیونکہ جس رسول ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ہماری ہدایت کے لیے بھیجا، اس کی بعثت کے ساتھ اطاعت کو خود اللہ تعالیٰ نے جوڑ دیا ہے۔

جاری ہے۔۔۔

*از قلم:* محمد طیب شیخ

*نظرِ ثانی:*

فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا ابراہیم محمدی صاحب حفظہ اللہ
امیر، مرکزی جمعیت اہلِ حدیث ضلع وزیر آباد

فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا مشتاق احمد چیمہ صاحب حفظہ اللہ
نائب امیر، مرکزی جمعیت اہلِ حدیث ضلع گوجرانوالہ

سلسلۂ مضامین — 02 *محمد رسول اللہ ﷺ کیوں بھیجے گئے۔ بعثتِ محمدی ﷺ کے عظیم مقاصد* قسط 1/5پچھلی تحریر میں ہم نے یہ جاننے ...
26/08/2026

سلسلۂ مضامین — 02

*محمد رسول اللہ ﷺ کیوں بھیجے گئے۔ بعثتِ محمدی ﷺ کے عظیم مقاصد*

قسط 1/5

پچھلی تحریر میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت اللہ تعالیٰ کا اہلِ ایمان پر کتنا عظیم احسان ہے۔

اب اس سے اگلا اور نہایت بنیادی سوال ہمارے سامنے آتا ہے:

اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیجا کیوں تھا؟

آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد کیا تھا؟

وہ کون سا عظیم مشن تھا جس کے لیے آپ ﷺ دنیا میں تشریف لائے؟

اس سوال کا سب سے معتبر جواب ہمیں خود قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی ثابت شدہ احادیث سے ملتا ہے۔ جب قرآن کی مختلف آیات اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو بعثتِ محمدی ﷺ کا ایک نہایت جامع نقشہ ہمارے سامنے آتا ہے۔

یہ مشن انسانی زندگی کے کسی ایک حصے تک محدود نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ انسان کے عقیدے، عبادت، علم، اخلاق، اعمال، معاملات اور پوری زندگی کی اصلاح کے لیے مبعوث فرمائے گئے۔

لیکن اس عظیم نبوی مشن کی بنیاد کیا تھی؟

قرآن مجید اس کا جواب نہایت واضح انداز میں دیتا ہے۔

*بعثتِ محمدی ﷺ کا سب سے بنیادی مقصد — انسان کو صرف اللہ کا بندہ بنانا*

بعثتِ محمدی ﷺ کے تمام مقاصد کی بنیاد توحید ہے۔

یہ صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت نہیں، بلکہ دنیا میں آنے والے تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی بنیاد بھی یہی رہی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾

(سورۃ الأنبیاء، آیت نمبر 25)

آپ ﷺ سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجا، اس کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، لہٰذا صرف میری عبادت کرو۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾

(سورۃ النحل، آیت نمبر 36)

ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا بنیادی پیغام ایک ہی تھا:

صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر باطل معبود سے اپنا تعلق توڑ دو۔

محمد رسول اللہ ﷺ اسی دعوت کی آخری اور کامل کڑی تھے۔

آپ ﷺ لوگوں کو بتوں کی عبادت سے نکالنے آئے، پتھروں اور قبروں کے سامنے جھکنے سے روکنے آئے، جھوٹے معبودوں سے تعلق توڑنے آئے اور انسان کو یہ حقیقت سمجھانے آئے کہ اس کا پیدا کرنے والا بھی ایک ہے، رزق دینے والا بھی ایک ہے، دعائیں سننے والا بھی ایک ہے، نفع و نقصان کا حقیقی مالک بھی ایک ہے اور عبادت کا حق دار بھی صرف وہی ایک اللہ ہے۔

اسی لیے جب رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو انہیں دعوت کی ابتدا اسی بنیادی حقیقت سے کرنے کی تعلیم دی۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ تَعَالَى»

سب سے پہلی بات جس کی طرف تم انہیں دعوت دو، یہ ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کریں۔

(صحیح بخاری، حدیث نمبر 7372)

یہیں سے نبوی دعوت شروع ہوتی ہے:

معبود کئی نہیں، صرف ایک ہے،
بندگی کسی اور کی نہیں، صرف اللہ کی ہے۔

انسان دنیا کے کتنے ہی تعلقات میں بندھا ہوا ہو، اس کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے۔ اس کی عبادت، دعا، خوف، امید اور توکل صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہونا چاہیے۔

رسول اللہ ﷺ انسان کو اسی بندگی کی طرف بلانے آئے تھے۔

*بعثتِ محمدی ﷺ کا مقصد — انسان کو اللہ کی طرف بلانا*

توحید کی اسی بنیاد کے ساتھ نبوی مشن کا ایک اور عظیم پہلو ہمارے سامنے آتا ہے:

دعوت الی اللہ۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ۝ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا﴾

(سورۃ الأحزاب، آیات نمبر 45-46)

اے نبی! بے شک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوش خبری سنانے والا، ڈرانے والا، اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔

اس آیت کے یہ الفاظ خاص طور پر قابلِ غور ہیں:

﴿وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ﴾

اللہ کی طرف بلانے والا۔

رسول اللہ ﷺ انسانوں کو اپنی ذات کی طرف بلانے نہیں آئے تھے، آپ ﷺ انہیں اللہ کی طرف بلانے آئے تھے۔

آپ ﷺ کی دعوت یہ تھی کہ انسان اپنے رب کو پہچانے، اس پر ایمان لائے، اسی کی عبادت کرے، اسی سے ڈرے، اسی سے امید رکھے، اسی سے دعا کرے، اسی پر بھروسا کرے اور اپنی زندگی اس کے حکم کے تابع کردے۔

انسان اپنے خالق سے دور ہوچکا تھا؛ رسول اللہ ﷺ اسے اس کے رب کی طرف بلانے آئے۔

وہ شرک میں گرفتار تھا؛ آپ ﷺ اسے توحید کی طرف بلانے آئے۔

وہ اپنی خواہشات، رسم و رواج اور باطل معبودوں کی بندگی میں گرفتار تھا؛ آپ ﷺ اسے صرف اللہ کی بندگی کی طرف بلانے آئے۔

اس پورے نبوی مشن کو اگر چند الفاظ میں سمیٹا جائے تو کہا جاسکتا ہے:

محمد رسول اللہ ﷺ انسان کو اس کے رب تک پہنچانے آئے تھے۔

لیکن انسان کو اللہ کا بندہ بنانا اور اسے اپنے رب کی طرف بلانا اس عظیم مشن کا اختتام نہیں تھا۔

اب اسے اپنے رب کی کتاب سیکھنی تھی، اپنے دل کو پاک کرنا تھا، اپنے عقیدے اور سوچ کی اصلاح کرنی تھی، اپنے اخلاق سنوارنے تھے اور اپنی عملی زندگی کو اللہ کی ہدایت کے مطابق ڈھالنا تھا۔

یہیں سے بعثتِ محمدی ﷺ کے ایک اور عظیم مقصد کا آغاز ہوتا ہے:

تعلیم، تزکیہ اور انسان کی تعمیر۔

جاری ہے۔۔۔

*از قلم:* محمد طیب شیخ

*نظرِ ثانی:*

فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا ابراہیم محمدی صاحب حفظہ اللہ
امیر، مرکزی جمعیت اہلِ حدیث ضلع وزیر آباد

فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا مشتاق احمد چیمہ صاحب حفظہ اللہ
نائب امیر، مرکزی جمعیت اہلِ حدیث ضلع گوجرانوالہ*

بعثتِ محمد ﷺ — اللہ تعالیٰ کا اہلِ ایمان پر عظیم احسان﴿لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَس...
24/08/2026

بعثتِ محمد ﷺ — اللہ تعالیٰ کا اہلِ ایمان پر عظیم احسان

﴿لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ﴾
(آل عمران: 164)

اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان پر اپنے جس عظیم احسان کا ذکر فرمایا، وہ یہ ہے کہ اس نے ان میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا۔

ذرا غور کیجیے!

اللہ تعالیٰ کی نعمتیں کتنی ہیں؟

یہ سورج، جو ہر روز روشنی لے کر طلوع ہوتا ہے۔
یہ چاند، جو رات کے اندھیروں میں روشنی بکھیرتا ہے۔
یہ وسیع آسمان، یہ زمین جس پر ہم چلتے پھرتے ہیں۔
یہ ہوا، جس کے بغیر چند لمحے بھی زندگی ممکن نہیں۔
یہ پانی، جس کے بغیر دنیا کی زندگی قائم نہیں رہ سکتی۔

سونا، چاندی، ہیرے جواہرات، مال و دولت، گھر، کاروبار، اولاد، خاندان، عزت، سکون اور صحت—یہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔

پھر ذرا اپنے وجود کو دیکھیے۔

دیکھنے کے لیے آنکھیں عطا فرمائیں، سننے کے لیے کان دیے، بولنے کے لیے زبان دی، کام کرنے کے لیے ہاتھ دیے، چلنے پھرنے کے لیے پاؤں عطا فرمائے۔ دل دھڑک رہا ہے، سانس چل رہی ہے، جسم کے بے شمار نظام ہمارے اختیار کے بغیر اپنا کام کر رہے ہیں۔

ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتیں گننا چاہیں تو گن نہیں سکتے۔

لیکن جب میں سورۃ آل عمران کی اس آیت کو پڑھتا ہوں اور اس پر غور کرتا ہوں تو میرے دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوتا ہے۔

دنیا کی تمام نعمتیں ایک طرف، اور نعمتِ بعثتِ محمد رسول اللہ ﷺ ایک طرف۔

سورج ایک طرف، چاند ایک طرف۔
زمین و آسمان ایک طرف۔
سونا، چاندی اور ہیرے جواہرات ایک طرف۔
مال و دولت، گھر اور دنیا کی آسائشیں ایک طرف۔
اور وہ عظیم نعمت ایک طرف کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا، ہمیں آپ ﷺ پر ایمان نصیب فرمایا اور ہمیں آپ ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا۔

یہ میرا ایک قلبی و ایمانی احساس ہے کہ دنیا کی تمام نعمتیں جمع کردی جائیں، تب بھی میرے لیے اس نعمت کا کوئی مقابلہ نہیں۔
اور پھر سوال پیدا ہوتا ہے:

جب اللہ تعالیٰ نے ہم پر اتنا بڑا احسان فرمایا، جب ہمیں محمد رسول اللہ ﷺ عطا فرمائے، جب ہم آپ ﷺ کا کلمہ پڑھتے ہیں، جب ہم خود کو آپ ﷺ کا امتی کہتے ہیں، تو کیا ہمارا حق نہیں بنتا کہ ہم اپنے نبی ﷺ کو جانیں؟

ہم جانیں کہ آپ ﷺ کون تھے؟

آپ ﷺ کی زندگی کیسی تھی؟

آپ ﷺ نے اللہ کی عبادت کیسے کی؟

آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آتے تھے؟

آپ ﷺ گھر میں کیسے رہتے تھے؟

آپ ﷺ اپنے اہلِ خانہ، صحابہ، بچوں، کمزوروں اور ضرورت مندوں کے ساتھ کیسا معاملہ فرماتے تھے؟

آپ ﷺ کی دعوت کیا تھی؟

آپ ﷺ کا اخلاق کیسا تھا؟

آپ ﷺ کی پسند و ناپسند کیا تھی؟

آپ ﷺ خوشی، غم، تکلیف، کامیابی اور آزمائش کے موقع پر کس طرح زندگی گزارتے تھے؟

اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں فرما دیا:

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾
"یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔"
(الأحزاب: 21)

لیکن جس ہستی ﷺ کو ہمیں اپنا نمونہ بنانا ہے، انہیں جانیں گے نہیں تو ان کی پیروی کیسے کریں گے؟

جس نبی ﷺ کی اطاعت ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے، ان کی مبارک زندگی کو سمجھے بغیر ہم صحیح اتباع کیسے کرسکتے ہیں؟

اسی احساس کے ساتھ ہم ان شاء اللہ سیرت النبی ﷺ کا ایک مستقل علمی و تحقیقی سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔

یہ سلسلہ محض اس لیے نہیں ہوگا کہ چند مشہور واقعات لکھ دیے جائیں، غزوات کا مختصر ذکر کردیا جائے اور چند اقساط کے بعد کہا جائے کہ سیرت مکمل ہوگئی۔

ان شاء اللہ کوشش یہ ہوگی کہ قرآن مجید کو بنیاد بناتے ہوئے، صحیح و حسن احادیث، قدیم معتبر کتبِ سیرت و مغازی، محدثین کی تحقیق، شروح اور دوسرے متعلقہ علمی مصادر کی روشنی میں رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی کو جہاں تک ممکن ہوسکے گہرائی کے ساتھ سمجھا جائے۔

سیرت میں بہت سے ایسے واقعات بھی مشہور ہیں جو تحقیق کی کسوٹی پر صحیح ثابت نہیں ہوتے۔ بعض روایات ضعیف ہیں، بعض بہت زیادہ کمزور، بعض بے اصل اور بعض ایسی بھی ہیں جو عوام میں مشہور ہونے کے باوجود معتبر دلیل سے ثابت نہیں۔ ان شاء اللہ جہاں ضرورت ہوگی، ایسی روایات کی حقیقت بھی ادب اور علمی دیانت کے ساتھ واضح کی جائے گی۔

جہاں اہلِ علم کا اختلاف ہوگا وہاں صرف ایک بات نقل کرکے آگے نہیں بڑھا جائے گا، بلکہ حسبِ استطاعت مختلف دلائل دیکھ کر زیادہ مضبوط بات تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔

اور سیرت کا مطلب ہمارے لیے صرف بدر، اُحد، خندق، ہجرت اور فتح مکہ نہیں ہوگا۔

ہم کوشش کریں گے کہ رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی کے بڑے واقعات کے ساتھ ان چھوٹے اور کم معروف پہلوؤں تک بھی پہنچیں جن سے ہمیں معلوم ہو کہ ہمارے نبی ﷺ روزمرہ زندگی میں کیسے تھے، آپ ﷺ کی عبادت، اخلاق، معاملات، گھر، خاندان، تعلیم، تربیت، دعوت، قیادت، صحابہ سے تعلق، اہلِ بیت سے معاملہ اور عام انسانی زندگی کیسی تھی۔

اس سلسلے کی کوئی مصنوعی آخری تعداد مقرر نہیں کی جارہی۔

نہ یہ طے ہے کہ پچاس تحریریں ہوں گی، نہ سو، نہ دو سو۔

تحقیق جہاں تک لے جائے گی، ان شاء اللہ ہم وہاں تک چلنے کی کوشش کریں گے۔

یہ سفر صرف تاریخ جاننے کا سفر نہیں۔

یہ اپنے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کو جاننے کا سفر ہے۔

یہ محبت کو علم کے ساتھ جوڑنے کا سفر ہے۔

یہ سیرت پڑھ کر اسے اپنی زندگی میں لانے کا سفر ہے۔

یہ کوشش ہے کہ ہم صرف زبان سے یہ نہ کہیں کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کے امتی ہیں، بلکہ اپنی زندگی میں بھی آپ ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔

اگر آپ بھی اپنے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو مستند، تحقیقی، تفصیلی مگر آسان انداز میں ہمارے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں تو اس سلسلے میں ہمارے ساتھ جڑے رہیے۔

Page/Profile کو Follow کرلیجیے تاکہ آنے والی تحریریں آپ تک پہنچتی رہیں۔

انہیں خود بھی پڑھیے، اپنے گھر والوں اور دوستوں تک بھی پہنچائیے، اور اگر آپ کسی تحریر کو مفید سمجھیں تو اسے آگے پہنچا کر سیرتِ رسول ﷺ کے علم کو عام کرنے کے اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ضرور ڈالیے۔

اللہ تعالیٰ اس کوشش کو خالص اپنی رضا کے لیے قبول فرمائے، ہمیں اپنے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کی صحیح معرفت عطا فرمائے، آپ ﷺ کی سچی محبت ہمارے دلوں میں پیدا فرمائے، اور ہمیں آپ ﷺ کی سنت اور اسوۂ حسنہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

بندہ ناچیز: محمد طیب شیخ

ولادتِ رسول ﷺ کی خوشی سے جشنِ میلاد تک کا سفر۔۔۔ حقیقت کیا ہے؟’’میلاد‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی ہے: ولادت، پیدائ...
23/08/2026

ولادتِ رسول ﷺ کی خوشی سے جشنِ میلاد تک کا سفر۔۔۔ حقیقت کیا ہے؟
’’میلاد‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی ہے: ولادت، پیدائش۔
اور الحمدللہ! ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ باسعادت ہوئی، اور آپ ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری یقیناً ہمارے لیے بہت بڑی خوشی ہے — اور خوشی ہونی بھی چاہیے۔
مگر ذرا سوچیے! ہمیں خوشی کس بات کی ہے؟
ہمیں خوشی اس بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں محمد رسول اللہ ﷺ کا امتی بنایا۔
ہمیں خوشی اس بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے ذریعے ہمیں ہدایت عطا فرمائی، ورنہ ہم بھی نہ جانے کن گمراہیوں کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہوتے۔
ہمیں خوشی اس بات کی ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیں ایک اللہ کی عبادت کا راستہ دکھایا، توحید کا سبق دیا اور شرک کے اندھیروں سے نکالا۔
ہمیں خوشی اس بات کی ہے کہ آپ ﷺ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی۔
ہمیں خوشی اس بات کی ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیں بتایا کہ ہمارا رب کون ہے، ہمیں زندگی کیسے گزارنی ہے، اللہ کو کیسے راضی کرنا ہے، جنت تک کیسے پہنچنا ہے اور جہنم سے کیسے بچنا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس عظیم نبی ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا، جنہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
’’اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔‘‘
(الأنبیاء: 107)
تو ہاں! ہمیں ولادتِ رسول ﷺ کی خوشی ہے، اور دل کی گہرائیوں سے خوشی ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے:
ولادتِ رسول ﷺ پر خوش ہونا ایک بات ہے، اور اس خوشی کے نام پر ایک مخصوص سالانہ دینی جشن ’’عید میلاد النبی‘‘ مقرر کرکے منانا دوسری بات ہے۔
’’میلاد‘‘ کا معنی ولادت ہے؛ اس کا معنی نہ جشن ہے، نہ جلوس، نہ چراغاں۔
گھروں اور بازاروں کو سجانا، سڑکوں پر جلوس نکالنا، شور و غل کرنا، پہاڑیاں اور ماڈل بنانا، بڑے بڑے ڈیک لگانا، گانے چلانا، رقص کرنا یا مرد و عورت کے اختلاط کا ماحول بنانا — یہ میلاد کے معنی نہیں ہیں۔
اور یہاں ایک سوال اپنے دل سے ضرور کیجیے:
جس نبی ﷺ کی ولادت کی ہمیں اتنی خوشی ہے، کیا ہم نے کبھی سوچا کہ وہ نبی ﷺ دنیا میں آئے کس مقصد کے لیے تھے؟
آپ ﷺ اس لیے نہیں آئے تھے کہ سال میں ایک دن آپ کے نام پر چراغاں کردیا جائے، بازار سجا دیے جائیں اور جلوس نکال کر سمجھ لیا جائے کہ محبت کا حق ادا ہوگیا۔
آپ ﷺ آئے تھے توحید کا عَلَم بلند کرنے کے لیے۔
آپ ﷺ آئے تھے لوگوں کو شرک سے نکال کر ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلانے کے لیے۔
آپ ﷺ آئے تھے جہالت کے اندھیروں کو ہدایت کی روشنی سے بدلنے کے لیے۔
آپ ﷺ آئے تھے انسانوں کی زندگیاں بدلنے کے لیے۔
وہ معاشرہ جہاں ظلم تھا، قبائلی تعصب تھا، کمزوروں کے حقوق پامال ہوتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا؛ محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم نے اسی معاشرے کے لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔
جو جاہلیت میں ڈوبے ہوئے تھے، وہ ہدایت کے علمبردار بن گئے۔
جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، وہ ایک دوسرے کے بھائی بن گئے۔
جو کمزوروں کے حقوق پامال کرتے تھے، وہ حقوق کے محافظ بن گئے۔
اور وہی لوگ قرآن و سنت کا پیغام لے کر دنیا میں ہدایت کے چراغ بن گئے۔
یہ تھا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا انقلاب!
اب اپنے آپ سے پوچھیے:
اگر واقعی ہمیں محمد رسول اللہ ﷺ سے محبت ہے تو ہماری نماز کہاں ہے؟ ہماری سنت کہاں ہے؟ ہماری اطاعتِ رسول ﷺ کہاں ہے؟ ہماری زندگی میں توحید کہاں ہے؟
ہم چراغاں تو کریں، مگر اپنی زندگی کو سنت سے روشن نہ کریں؛
ہم جلوس تو نکالیں، مگر رسول اللہ ﷺ کے راستے پر نہ چلیں؛
ہم محبت کے نعرے تو لگائیں، مگر آپ ﷺ کے احکام کی نافرمانی کرتے رہیں —
تو پھر ہمیں اپنے دعوائے محبت پر غور ضرور کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ
’’کہہ دیجئے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘
(آل عمران: 31)
لہٰذا نبی کریم ﷺ کی ولادت کی خوشی ضرور من میں ہو، مگر اس خوشی کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ جس نبی ﷺ کی آمد پر ہم خوش ہیں، اس نبی ﷺ کی بات بھی مانیں۔ جس توحید کی دعوت آپ ﷺ نے دی اسے اپنائیں، جس نماز کا حکم دیا اسے قائم کریں، جس شرک سے روکا اس سے بچیں، اور جس سنت کا راستہ دکھایا اس پر چلیں۔
محبت صرف نعرے کا نام نہیں، محبت اطاعت کا نام ہے۔
اور ولادتِ رسول ﷺ کی خوشی کا حقیقی اثر ہماری زندگی میں اتباعِ رسول ﷺ کی صورت میں نظر آنا چاہیے۔

ازقلم: محمد طیب شیخ

🏝 ( عید میلاد النبی ﷺ کے جشن کے حق میں پیش کی جانے والی ایک دلیل کا علمی جائزہ ) 🏝سوشل میڈیا پر ایک صاحب نے عید میلاد ال...
23/08/2026

🏝 ( عید میلاد النبی ﷺ کے جشن کے حق میں پیش کی جانے والی ایک دلیل کا علمی جائزہ ) 🏝

سوشل میڈیا پر ایک صاحب نے عید میلاد النبی ﷺ کا جشن منانے کے دفاع میں قرآن مجید ہاتھ میں اٹھا کر یہ دلیل پیش کی کہ:

“یہ قرآن آج کتابی شکل میں، دو گتّوں کے درمیان موجود ہے، جبکہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں اس شکل میں موجود نہیں تھا۔ لہٰذا اگر عید میلاد النبی ﷺ کا جشن اس لیے بدعت ہے کہ یہ نبی ﷺ کے زمانے میں نہیں تھا، تو موجودہ مصحف بھی بدعت ہوا!”

بظاہر یہ بات عام آدمی کو مضبوط محسوس ہوسکتی ہے، لیکن علمی اعتبار سے اس استدلال میں چند بنیادی باتوں کو آپس میں خلط ملط کردیا گیا ہے۔

پہلی بات: قرآن کلامُ اللہ ہے، کوئی انسانی ایجاد نہیں

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قرآن مجید بذاتِ خود کلامُ اللہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ

“یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔”

(سورۃ التوبہ: 6)»

لہٰذا قرآن کو “بدعت” کہنا ہی درست نہیں، کیونکہ قرآن کسی انسان کی ایجاد کردہ چیز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے۔

ہاں! اگر اعتراض قرآن کے موجودہ مصحف، یعنی ایک جلد میں کتابی شکل میں جمع ہونے پر ہے تو پھر اس کا جواب بھی بالکل واضح ہے:

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے کوئی نیا قرآن نہیں بنایا، کوئی نئی آیت شامل نہیں کی، کوئی نئی سورت ایجاد نہیں کی؛ بلکہ اسی کلامِ الٰہی کو، جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوچکا تھا، حفاظت کی غرض سے ایک جگہ جمع کیا۔

یعنی قرآن اصل ہے اور اسے مصحف میں جمع کرنا اس کی حفاظت کا ذریعہ۔

دوسری بات: ہر وہ چیز جو عہدِ نبوی ﷺ میں اپنی موجودہ شکل میں نہ ہو، بدعتِ شرعیہ نہیں

یہ اصول ہی درست نہیں کہ:

“جو چیز نبی کریم ﷺ کے زمانے میں اپنی موجودہ شکل میں موجود نہیں تھی، وہ لازماً بدعت ہے۔”

اگر یہی اصول ہوتا تو مسجد کا مائیک، قرآن کا پرنٹنگ پریس سے چھپنا، موبائل میں قرآن کی ایپ اور دینی تعلیم کے جدید ذرائع بھی بدعت قرار پاتے۔

اصل فرق عبادت اور ذریعہ کا ہے۔

مائیک عبادت نہیں، آواز پہنچانے کا ذریعہ ہے۔

پرنٹنگ پریس عبادت نہیں، قرآن چھاپنے کا ذریعہ ہے۔

اسی طرح قرآن مجید کو ایک مصحف میں جمع کرنا کوئی نئی عبادت ایجاد کرنا نہیں تھا، بلکہ پہلے سے نازل شدہ قرآن کی حفاظت کا ذریعہ تھا۔

تیسری بات: قرآن کو مصحف میں جمع کرنے والے خود صحابۂ کرام تھے

صحیح بخاری میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ یمامہ میں حفاظِ قرآن کی بڑی تعداد شہید ہوئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قرآن جمع کرنے کا مشورہ دیا۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ابتدا میں فرمایا:

«كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ؟

“میں وہ کام کیسے کروں جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا؟”»

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

«هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ

“اللہ کی قسم! یہ خیر کا کام ہے۔”»

پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو قرآن جمع کرنے کی ذمہ داری دی۔

(صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن، حدیث: 4986)

بعد میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں صحابۂ کرام کی موجودگی میں مصاحف تیار کیے گئے اور مختلف علاقوں میں بھیجے گئے تاکہ امت قرآن کے معاملے میں اختلاف سے محفوظ رہے۔

(صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن، حدیث: 4987)

اب ذرا غور کیجیے:

کیا صحابہؓ نے کوئی نئی عبادت بنائی؟ نہیں۔
کوئی نئی آیت بنائی؟ نہیں۔
کوئی نئی سورت بنائی؟ نہیں۔
قرآن میں کوئی اضافہ کیا؟ نہیں۔

انہوں نے صرف پہلے سے نازل شدہ کلامِ الٰہی کو محفوظ کرنے کا انتظام کیا۔

اصل مغالطہ کہاں ہے؟

عید میلاد النبی ﷺ کے جشن کے بارے میں سوال یہ ہے کہ اگر اسے ایک مخصوص سالانہ مذہبی جشن اور باعثِ ثواب عمل سمجھ کر منایا جاتا ہے تو اس مخصوص مذہبی طریقے کی شرعی دلیل کیا ہے؟

اس کے جواب میں موجودہ مصحف کو پیش کرنا درست مثال نہیں۔

کیونکہ ایک طرف کسی مخصوص عمل کو دین، عبادت اور باعثِ ثواب مذہبی طریقے کے طور پر اختیار کرنے کا سوال ہے، جبکہ دوسری طرف اللہ کے پہلے سے نازل شدہ کلام کو محفوظ کرنے کے لیے ایک ذریعہ اختیار کرنا ہے۔

دونوں ایک نوعیت کی چیزیں نہیں ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ

“جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں نہیں، وہ مردود ہے۔”

(صحیح البخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718)»

یہاں خاص طور پر الفاظ قابلِ غور ہیں:

فِي أَمْرِنَا هَذَا — “ہمارے اس دین میں”

لہٰذا ہر نئی دنیاوی چیز یا ہر نیا ذریعہ بدعتِ شرعیہ نہیں؛ بدعت کی بحث وہاں آتی ہے جہاں کسی نئے عمل کو دین اور عبادت کا حصہ بنایا جائے۔

آخر میں صرف ایک سوال

اگر قرآن کو مصحف میں جمع کرنا اور عید میلاد النبی ﷺ کا سالانہ مذہبی جشن منانا واقعی ایک ہی اصول کے تحت آتے ہیں، تو پہلے یہ ثابت کیا جائے کہ:

اللہ کے پہلے سے نازل شدہ کلام کو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا حفاظت کے لیے ایک مصحف میں جمع کرنا، اور کسی عمل کو باقاعدہ سالانہ مذہبی جشن اور باعثِ ثواب عمل کے طور پر اختیار کرنا — شرعاً ایک ہی نوعیت کے کام کیسے ہوگئے؟

یہ فرق سمجھ میں آجائے تو پورا مغالطہ خود بخود واضح ہوجاتا ہے۔

قرآن مجید ہاتھ میں اٹھا لینے سے کوئی دلیل قرآنی نہیں بن جاتی دلیل تب قرآنی و شرعی بنتی ہے جب استدلال بھی قرآن و سنت اور صحیح اصول کے مطابق ہو۔ واللہ أعلم بالصواب

ازقلم: بندہ ناچیز۔۔۔ محمد طیب شیخ

شیخ الحدیث حضرت مولانا سلمان غنی رحمہ اللہ — ایک استاد، ایک عالم، ایک عہد جو تمام ہوا۔کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو ص...
08/08/2026

شیخ الحدیث حضرت مولانا سلمان غنی رحمہ اللہ — ایک استاد، ایک عالم، ایک عہد جو تمام ہوا۔

کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو صرف ایک انسان ہم سے جدا نہیں ہوتا، بلکہ ایک علمی سرمایہ، ایک تربیتی سایہ، ایک شفیق استاد اور ایک پورا عہد ہم سے رخصت ہو جاتا ہے۔
ہمارے محترم استاد، شیخ الحدیث حضرت مولانا سلمان غنی رحمہ اللہ بھی ایسی ہی عظیم شخصیات میں سے تھے۔
آج یہ تحریر لکھنے بیٹھا ہوں تو ابھی بھی آنکھوں میں آنسو ہیں، دل غمگین ہے اور یقین نہیں آتا کہ ہمارے استادِ محترم اس دنیا میں نہیں رہے۔ بار بار دل یہی کہتا ہے کہ شاید ابھی وہ مدرسے میں اپنے مخصوص انداز میں پڑھا رہے ہوں گے، مسجد میں نماز کی تیاری کر رہے ہوں گے، کسی طالب علم کو سمجھا رہے ہوں گے یا کسی کتاب کا مطالعہ کر رہے ہوں گے۔
لیکن موت اٹل حقیقت ہے۔
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ
ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے استاد محترم کو بے شمار صلاحیتوں سے نوازا تھا

حضرت استاد رحمہ اللہ نہایت قابل، باصلاحیت اور علمی شخصیت تھے۔ بالخصوص تدریس کے فن میں اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔
ان کا پڑھانے کا انداز ایسا تھا جو بہت کم اساتذہ میں دیکھنے کو ملتا ہے۔
ہم نے ان سے جو کتابیں پڑھیں میں یہ بات بلا مبالغہ کہتا ہوں کہ انہوں نے واقعی ہی پڑھانے کا حق ادا کیا ہے۔ ان کا پڑھانے کا انداز ہی کچھ ایسا تھا کہ مشکل سے مشکل بات کو نہایت آسان انداز میں سمجھا دیتے۔ وہ صرف کتاب ختم کرنے کے لیے نہیں پڑھاتے تھے بلکہ اس کوشش میں رہتے کہ طالب علم کو بات سمجھ بھی آئے، یاد بھی رہے اور علم حاصل کرنے کا شوق بھی پیدا ہو۔

مدرسے میں ان کا پیریڈ آتا تو طلبہ پوری توجہ سے پڑھتے۔ ان کی پڑھائی ہوئی کتابیں اکثر مدرسے میں سب سے پہلے مکمل ہو جایا کرتی تھیں۔ یہ ان کی محنت، وقت کی پابندی اور تدریس کے ساتھ اخلاص کی واضح علامت تھی۔

خطابت میں بھی اللہ نے خاص ملکہ عطا فرمایا تھا
اللہ تعالیٰ نے انہیں خطابت کی صلاحیت سے بھی خوب نوازا تھا۔ ان کی گفتگو میں علم ہوتا، ترتیب ہوتی، سنجیدگی ہوتی اور سب سے بڑھ کر ایک عالم کی شان کے مطابق سلجھا ہوا علمی انداز ہوتا۔

علمِ فرائض اور تعبیرِ خواب

اللہ تعالیٰ نے حضرت استاد رحمہ اللہ کو دو ایسی صلاحیتوں سے بھی نوازا تھا جو بہت کم علماء میں جمع ہوتی ہیں۔
ایک علمِ فرائض (وراثت) تھا۔
مدرسے میں وراثت کی جو کتاب ہمیں پڑھائی جاتی تھی، وہ حضرت سلمان غنی رحمہ اللہ ہی پڑھاتے تھے۔ یہ ایک مشکل علم ہے، لیکن ان کا کمال یہ تھا کہ وہ اسے نہایت آسان انداز میں سمجھاتے اور طلبہ اس کو سمجھتے بھی تھے اور یاد بھی رکھتے تھے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں علمِ تعبیرِ رؤیا یعنی خوابوں کی تعبیر کا علم بھی عطا فرمایا تھا، اور اس میدان میں بھی انہیں خاص مہارت حاصل تھی۔

وہ صرف پڑھاتے نہیں تھے، اپنے عمل سے بھی سبق دیتے تھے

حضرت استاد رحمہ اللہ کی زندگی کا ایک بہت بڑا وصف فرض شناسی، پابندیِ وقت اور ذمہ داری کا احساس تھا۔
گوجرانوالہ کی الکریمیہ مسجد میں انہوں نے تقریباً تیس، پینتیس سال خدمت انجام دی۔ جب ابھی مدرسے میں طالب علم ہی تھے، اسی زمانے سے اس مسجد سے وابستہ ہوئے اور زندگی کے آخری وقت تک اسی مسجد میں نمازیں پڑھائیں، خطبہ جمعہ دیا اور بچوں کو قرآن و دین کی تعلیم دیتے رہے۔
اتنے طویل عرصے میں لوگوں نے ان کی ڈیوٹی، ان کے کردار اور ان کی ذمہ داری کے بارے میں کبھی شکایت نہیں کی۔
گرمی ہو یا سردی، بارش ہو یا موسم کی کوئی سختی، وہ بلاوجہ چھٹی کرنے والوں میں سے نہیں تھے۔
مدرسے میں بھی وقت کے اتنے پابند تھے کہ اکثر وقت سے پہلے مدرسے پہنچ جاتے تھے۔
اور اگر مسجد کی ڈیوٹی تھی تو اسے بھی پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کرتے۔

ایک رات کا میرا ذاتی مشاہدہ

ایک رات مجھے خود الکریمیہ مسجد گوجرانوالہ میں حضرت استاد رحمہ اللہ کے پاس ٹھہرنے کا موقع ملا۔ یہ میرے لیے محض ایک رات مسجد میں قیام نہیں تھا، بلکہ حضرت استاد رحمہ اللہ کی عملی زندگی کو قریب سے دیکھنے کا ایک یادگار موقع تھا۔
میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ فجر سے پہلے ہی حضرت استاد رحمہ اللہ بیدار ہو چکے تھے اور مطالعے میں مشغول تھے۔ رات کی خاموشی میں ایک عالمِ دین کا اس طرح اپنے مطالعے میں مشغول ہونا میرے لیے آج بھی ایک یادگار منظر ہے۔
پھر فجر کی نماز پڑھائی، اور فجر کے بعد باقاعدگی سے درسِ قرآن بھی دیا کرتے تھے۔ یعنی رات کے آخری حصے کا مطالعہ، فجر کی نماز، پھر قرآن کا درس اور اس کے بعد بچوں کو قرآن کی تعلیم دینا—یہ سب ان کی معمول کی زندگی کا حصہ تھا۔
لیکن ان کی زندگی کا ایک منظر ایسا ہے جو آج بھی مجھے خاص طور پر یاد ہے۔
نماز، درس اور تعلیم کے بعد وہ خود مسجد کی صفائی کیا کرتے تھے۔
وہ مسجد کی صفائی کرنے کو ہرگز اپنے لیے باعثِ عار نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ نہایت سادگی کے ساتھ مسجد کی صفائی کرتے اور ضرورت پڑنے پر واش روم بھی خود صاف کر لیا کرتے تھے۔
اس موقع پر انہوں نے مجھے بھی اسی حوالے سے نصیحت فرمائی کہ اللہ کے گھر کی خدمت میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے۔ مسجد کی صفائی، اس کی خدمت اور اس کے ہر حصے کو پاک صاف رکھنا بھی دین کی خدمت ہی کا حصہ ہے۔
یہ بات میرے دل میں آج تک محفوظ ہے۔
آج جب میں اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ حضرت استاد رحمہ اللہ صرف زبان سے تواضع اور خدمت کا درس نہیں دیتے تھے، بلکہ اپنی زندگی سے اس کا عملی نمونہ پیش کرتے تھے۔
وہ عالم بھی تھے، مدرس بھی تھے، خطیب بھی تھے، لیکن ساتھ ہی اللہ کے گھر کے خادم بھی تھے۔
پھر مسجد کی خدمت سے فارغ ہو کر ناشتہ کرتے اور جامعہ ابی ہریرہ ( کوٹ اسلام ) کے لیے روانہ ہو جاتے، جو وہاں سے تقریباً تیس، پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔
یعنی ایک ہی صبح میں مطالعہ، نماز، درسِ قرآن، بچوں کی تعلیم، مسجد کی صفائی اور پھر تیس، پینتیس کلومیٹر کا سفر کرکے مدرسے میں تدریس—یہ معمول کسی ایک دن کی کہانی نہیں، بلکہ ان کی دین کے لیے وقف زندگی کی ایک جھلک تھی۔
اور واقعی:
مسجد میں خدمت کی تو حق ادا کیا،
مدرسے میں پڑھایا تو حق ادا کیا،
خطابت کی تو حق ادا کیا،
علم حاصل کیا تو اسے آگے پہنچانے کا حق ادا کیا،
اور طلبہ سے تعلق رکھا تو محبت و شفقت کا حق ادا کیا۔

طلبہ سے محبت اور بے مثال مہمان نوازی

حضرت استاد رحمہ اللہ کی شخصیت کا ایک نہایت خوبصورت پہلو طلبہ سے ان کی بے پناہ محبت اور شفقت بھی تھا۔
وہ طلبہ کو صرف پڑھانے والے استاد نہیں تھے، بلکہ ان کے ساتھ ایک شفیق مربی اور بڑے بھائی جیسا تعلق رکھتے تھے۔ طلبہ کے دکھ درد کو سمجھتے، ان کی ضروریات کا خیال رکھتے اور ان کے ساتھ نہایت محبت اور اپنائیت سے پیش آتے تھے۔
مدرسے میں جب کبھی دعوت یا کوئی موقع ہوتا تو حضرت استاد رحمہ اللہ صرف انتظامات کی نگرانی نہیں کرتے تھے، بلکہ بسا اوقات اپنے ہاتھوں سے کھانا پکایا کرتے تھے۔ طلبہ کے لیے خود کھانا تیار کرنا اور ان کی خدمت کرنا ان کے لیے باعثِ خوشی تھا۔
ان کی مہمان نوازی بھی قابلِ ذکر تھی۔ کوئی طالب علم ان سے ملنے کے لیے ان کے پاس جاتا تو وہ اس کی ایسی محبت اور خندہ پیشانی سے میزبانی کرتے کہ اسے کبھی یہ محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ کسی استاد کے پاس آیا ہے۔
بلکہ ایسا محسوس ہوتا جیسے اپنے کسی انتہائی قریبی عزیز، بڑے بھائی یا اپنے گھر کے کسی شفیق بزرگ کے پاس بیٹھے ہوں۔
ان کے پاس بیٹھنے والا طالب علم صرف علم لے کر نہیں اٹھتا تھا، بلکہ محبت، شفقت اور اپنائیت کا ایک احساس بھی ساتھ لے کر جاتا تھا۔
شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے شاگرد صرف ان سے پڑھے ہوئے طالب علم نہیں تھے، بلکہ ان کے ساتھ ایک جذباتی تعلق بھی رکھتے تھے۔
اور آج جب وہ ہم میں نہیں ہیں تو ان کی کتابیں، ان کے اسباق اور ان کی علمی باتوں کے ساتھ ساتھ ان کی محبت بھری مسکراہٹ، شفقت بھرا انداز اور طلبہ کے ساتھ ان کی بے تکلفی بھی بہت یاد آ رہی ہے۔
واقعی، استاد بہت سے ہوتے ہیں، مگر ہر استاد دل میں گھر نہیں کرتا؛ حضرت استاد رحمہ اللہ ان خوش نصیب اساتذہ میں سے تھے جنہوں نے علم کے ساتھ محبت بھی بانٹی۔

دنیا سے بے نیاز، دین کے لیے وقف زندگی

حضرت استاد رحمہ اللہ کی زندگی کا ایک اور پہلو جو آج ان کی وفات کے بعد شدت سے یاد آ رہا ہے، وہ ان کی دنیا سے بے نیازی اور دین کے لیے خود کو وقف کر دینا تھا۔
انہوں نے اپنی پوری زندگی اپنی ذات کے لیے دنیا بنانے میں نہیں گزاری۔ مسجد کی رہائش ہی کو اپنا مسکن بنائے رکھا۔ نہ کسی بڑے مکان، کوٹھی یا بنگلے کو اپنی ترجیح بنایا، نہ دنیاوی آسائشوں کے پیچھے بھاگے۔ مال و دولت جمع کرنا ان کی زندگی کا مقصد نہیں تھا۔
ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کی اصل ترجیح ہی یہ تھی کہ جو زندگی اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے، اسے دین کے لیے لگا دیا جائے۔
اپنی اولاد کی تربیت بھی اسی نہج پر کی اور انہیں بھی دین سے جوڑنے کی کوشش کی۔ گویا اپنی ذات سے لے کر اپنی اولاد تک، ان کی ترجیحات میں دین نمایاں نظر آتا تھا۔
اور ان کی زندگی کا ایک واقعہ تو مجھے آج بھی یاد ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے دین کو دنیا پر کس قدر ترجیح دی۔
حضرت استاد رحمہ اللہ دینی علوم کے ساتھ دنیاوی علوم حاصل کرنے میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس میدان میں بھی کامیابی عطا فرمائی اور انہوں نے ایم اے کیا ہوا تھا۔
ایک وقت میں انہوں نے سرکاری ملازمت کے لیے بھی درخواست دی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی ملازمت منظور ہوگئی اور انہیں سرکاری ملازمت کا تقرری نامہ بھی موصول ہوگیا تھا۔
لیکن جب انہوں نے یہ بات استادِ محترم حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالسلام رحمہ اللہ کے سامنے رکھی تو شیخ صاحب نے انہیں مشورہ دیا کہ:
آپ مدرسے میں رہ کر دین کی خدمت کو ترجیح دیں۔
شیخ سلمان غنی رحمہ اللہ نے اس مشورے کو قبول کیا اور دین کی خدمت کی خاطر اس سرکاری ملازمت کو چھوڑ دیا۔
سوچنے کی بات ہے کہ ایک شخص کے سامنے دنیاوی زندگی سنوارنے کا ایک راستہ موجود ہو، سرکاری ملازمت کا موقع مل چکا ہو، لیکن وہ اسے چھوڑ کر مدرسے کی تدریس، مسجد کی خدمت اور طلبہ کی تربیت کو اختیار کر لے۔
یہ فیصلہ شاید آج کے دور میں بہت معمولی محسوس ہو، لیکن حقیقت میں یہ دین سے محبت، اپنے مقصد سے وفاداری اور دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے کی ایک خوبصورت مثال تھی۔
حضرت استاد رحمہ اللہ نے شاید اپنے لیے دنیا میں بہت کچھ جمع نہ کیا ہو، لیکن انہوں نے علم کے شاگرد، دین کے خادم، لوگوں کی دعائیں اور اپنے پیچھے ایک علمی میراث چھوڑی ہے۔
اور یہی وہ دولت ہے جو انسان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔

جامعہ ابی ہریرہ کے لیے ایک کے بعد ایک بڑا علمی صدمہ

حضرت استاد رحمہ اللہ کی وفات کا غم صرف ان کے شاگردوں، متعلقین اور محبین کا غم نہیں، بلکہ جامعہ ابی ہریرہ کے لیے بھی ایک بہت بڑا علمی صدمہ اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
ابھی تو ہم اپنے عظیم استاد، شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا عبدالسلام رحمہ اللہ کی جدائی کا غم ہی نہیں بھولے تھے کہ حضرت مولانا سلمان غنی رحمہ اللہ بھی ہم سے رخصت ہوگئے۔
حضرت مولانا عبدالسلام رحمہ اللہ کا دنیا سے چلے جانا بھی جامعہ ابی ہریرہ کے لیے ایک بہت بڑا علمی نقصان تھا۔ ان کی شخصیت، ان کا علم، ان کا مقام اور ان کی طویل علمی و دینی خدمات ہمارے لیے ایک عظیم سرمایہ تھیں۔ ان کی جدائی کا زخم ابھی تازہ ہی تھا اور ان کی کمی آج بھی محسوس ہوتی ہے کہ اب حضرت مولانا سلمان غنی رحمہ اللہ کی وفات نے اس غم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی عرض کرتا چلوں کہ حضرت شیخ عبدالسلام رحمہ اللہ اور حضرت مولانا سلمان غنی رحمہ اللہ کے درمیان ایک نہایت گہرا تعلق، بے مثال محبت اور قلبی وابستگی تھی، جس کے ہم طلبہ خود گواہ ہیں۔ دونوں بزرگ ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے تھے۔ جہاں کہیں جانا ہوتا، اکثر ساتھ تشریف لے جاتے۔ حضرت عبدالسلام رحمہ اللہ کو سلمان صاحب رحمہ اللہ سے خصوصی محبت تھی اور شیخ سلمان صاحب رحمہ اللہ بھی شیخ عبدالسلام صاحب سے بے حد محبت و عقیدت رکھتے تھے۔
ہم نے ان کی یہ محبت صرف سنی نہیں، بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ اسی لیے آج جب دونوں بزرگ ہم سے رخصت ہوچکے ہیں تو ان کا باہمی تعلق یاد آتا ہے تو دل میں عجیب سی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک محبوب اپنے دوسرے محبوب کے پاس جا پہنچا ہو۔
جیسے دو ایسے رفیق، جنہیں دنیا میں ایک دوسرے سے محبت تھی، اللہ تعالیٰ نے دنیا کی جدائی کے بعد دوبارہ اپنے پاس جمع فرما لیا ہو۔

میں یہ بات اپنے ناقص علم اور محدود مشاہدے کی حد تک عرض کر رہا ہوں، ورنہ الحمدللہ جامعہ ابی ہریرہ میں آج بھی ہمارے بہت سے قابل، فاضل اور محترم اساتذہ موجود ہیں، جو دین کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ قابلِ احترام ہے، اور ان سب کی خدمات ہمارے لیے باعثِ قدر و تشکر ہیں۔ میری یہ گزارش ہرگز کسی استادِ محترم کی مقام و مرتبہ کو کم کرنا یا کسی کی دل آزاری کرنا نہیں ہے۔
البتہ حضرت مولانا سلمان غنی رحمہ اللہ کی جو علمی شخصیت، تدریسی مہارت، وسعتِ مطالعہ، خطابت اور خصوصاً علمِ فرائض و تعبیرِ رؤیا میں ان کی خصوصی مہارت ہم نے دیکھی، اور جس انداز سے ہم نے ان سے استفادہ کیا، اس اعتبار سے ان کی وفات کے بعد جامعہ میں ایک ایسی علمی کمی محسوس ہوتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔
آج ان کے جانے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جامعہ ابی ہریرہ ایک بار پھر یتیم ہو گیا ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمارے تمام زندہ اساتذہ کو سلامت رکھے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، اور ہمارے مرحوم اساتذہ، بالخصوص حضرت مولانا عبدالسلام رحمہ اللہ اور حضرت مولانا سلمان غنی رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرما کر ان کے درجات بلند فرمائے۔

ان کی وفات اور لوگوں کی محبت

حضرت استاد رحمہ اللہ کی وفات کے بعد ان کا جنازہ گوجرانوالہ کی مکرم مسجد، ماڈل ٹاؤن گوجرانوالہ میں ادا کیا گیا۔
جنازے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک تھے۔ مسجد کا ہال، برمدا اور صحن لوگوں سے بھر گئے تھے۔
لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
ہر چہرے پر غم تھا۔
ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی عالمِ دین نہیں بلکہ اپنا کوئی انتہائی قریبی عزیز ہم سے بچھڑ گیا ہو۔

حضرت استاد رحمہ اللہ کا جنازہ جب میری آنکھوں کے سامنے آیا تو دل میں ایک عجیب کیفیت پیدا ہوئی۔

دل نے کہا: کاش! میرا جنازہ بھی ایسا ہو۔

ہزاروں کی تعداد میں علماء، طلبہ، شاگرد، محبین اور عام لوگ موجود تھے۔
اس وقت مجھے شدت سے محسوس ہوا کہ یہ صرف ایک جنازہ نہیں تھا، یہ حضرت استاد رحمہ اللہ کی پوری زندگی کی کمائی تھی۔
نہ کوئی دنیاوی عہدہ انہیں یہاں لے کر آیا تھا، نہ کوئی دنیاوی طاقت، نہ کوئی مال و دولت۔
یہ علم کی کمائی تھی، تدریس کی کمائی تھی، اخلاص کی کمائی تھی، حسنِ اخلاق کی کمائی تھی، مسجد کی خدمت کی کمائی تھی، طلبہ کی تربیت کی کمائی تھی اور دین کے لیے گزاری ہوئی زندگی کی کمائی تھی۔
لوگ علماء کے بارے میں بہت کچھ کہتے ہیں، کسی کی تعریف کرتے ہیں اور کسی پر تنقید کرتے ہیں، لیکن کبھی کبھی جنازے بہت کچھ بتا دیتے ہیں۔
اسی موقع پر امام اہلِ سنت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا وہ مشہور قول یاد آتا ہے جو انہوں نے ایک مخصوص طبقے کو مخاطب کر کے کہا تھا:
بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ يَوْمُ الْجَنَائِزِ»
ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ جنازوں کے دن ہوگا۔"
اور پھر تاریخ نے خود دیکھا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے جنازے میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔
حضرت سلمان غنی رحمہ اللہ کا جنازہ دیکھ کر مجھے اسی بات کی ایک جھلک محسوس ہوئی۔
یقیناً کسی شخص کے انجام کا قطعی فیصلہ ہم نہیں کر سکتے، یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، لیکن نیک لوگوں کی محبت، علماء و طلبہ کی کثرت اور اہلِ خیر کا کسی عالم کی جدائی پر اس طرح جمع ہونا ایک ایسی چیز ہے جو دل کو امید دلاتی ہے۔
اور حضرت استاد رحمہ اللہ کے جنازے کا منظر یہی کہہ رہا تھا کہ:
"اے سلمان! تم نے جو علم پڑھایا تھا، جو طلبہ تیار کیے تھے، جو لوگوں سے تعلق رکھا تھا، جو مسجد میں خدمت کی تھی، جو اپنی زندگی دین کے لیے لگائی تھی… آج وہ سب تمہیں رخصت کرنے آئے ہیں۔"
واقعی، یہ استاد صاحب کی کمائی تھی۔
اور شاید یہی ایک عالمِ دین کی سب سے بڑی دولت ہے کہ وہ دنیا سے چلا جائے، مگر اس کے شاگرد، اس کا علم، اس کی دعائیں، اس کی تربیت اور لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت باقی رہ جائے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے محترم استاد

حضرت مولانا سلمان غنی رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائی ان کی قبر کو نور سے بھر دے قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی تمام علمی، تدریسی اور دینی خدمات کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنا دے۔

اللہ تعالیٰ ان کی اولاد کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، انہیں اپنے والد کے حقیقی وارث بنائے دین اور علم کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ ان کے تمام اہل خانہ متعلقین شاگردوں اور محبین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

اور ہمیں اپنے اس عظیم استاد کی علمی و اخلاقی میراث کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اے اللہ ! ہمارے استاد ہم سے رخصت ہو گئے، مگر ان کا علم اور ان کی یاد ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔

اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه، وأكرم نزله ووسع مدخله.

تمام احباب سے حضرت استاد رحمہ اللہ کے لیے خصوصی دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔

ازقلم: محمد طیب شیخ ( آف بھوماں باٹھ )

Address

Gujranwala

Telephone

+923002375046

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tayyab ki Baat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share