07/05/2024
Maulana Ilyas Qadri Ka Aham Bayan | Jhoote Ilzamat Lagane Ka Wabal | Social Media Par Jhoote Ilzamat
Maulana Ilyas Qadri Ka Aham Bayan | Jhoote Ilzamat Lagane Ka Wabal | Social Media Par Jhoote IlzamatAbout Maulana Ilyas Qadri:Shaykh-e-Tariqat, Ameer-e-Ahl-e...
03/03/2024
چہرے بولتے ہیں۔مرشد کریم کا چہرہ دیکھ کر محبت میں آپ کوئی جملہ کہیں تو کیا کہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اُطْلُبُوا الْحَوَائِجَ اِلَی حِسَانِ الْوُجُوہ یعنی خوبصورت چہرے والوں سے حاجتیں طلب کرو۔(مصنف ابنِ ابی شیبہ،13/399، حدیث: 26801)
اسی طرح ایک اور حدیثِ پاک میں ہے:اُطْلُبُوا الْحَوَائِجَ اِلٰى حِسَانِ الْوُجُوہِ مَحَاسِنِ الْاَخْلَاقیعنی خوبصورت چہرے والے، خوش اخلاق لوگوں سے حاجتیں طلب کرو۔
”حِسَان الْوُجُوه“سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے چہرے ہشاش بشاش، خوشی سے کھلے ہوئے ہوں کیونکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے سینے فراخ وکشادہ ہیں، ان کے اخلاق اچھے ہیں اور ان کے دلوں میں لوگوں کو خوش کرنے کی چاہت ہے اور جو شخص لوگوں کو خوش کرنے کی خواہش و چاہت رکھتا ہے وہ لوگوں کی حاجتیں پوری کرنے میں جلدی کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے چہرے کی خوشی اور بشاشت سے لوگوں کوخوش کرنا چاہتا ہے اور ان کی محبت کا طلب گار ہوتا ہے اور لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں ہی ان اچھے چہرے والوں کی خوشی ہوتی ہے نیز جس کے اخلاق اچھے ہوں وہ سائل کو خالی ہاتھ لوٹانے میں حیا محسوس کرتا ہے، اس لئے کہ جس کا سینہ کشادہ ہوتا ہے اس پر اپنے بھائی کی حاجت کو پورا کرنا دشوار نہیں ہوتا اور جس کا سینہ کشادہ ہوتا ہے اس کا ہاتھ بھی کشادہ ہوتا ہے، جبکہ بخل تنگ سینے والے کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ جب کوئی شخص اس سے کوئی چیز مانگتا ہے تو اسے خوف ہوتا ہے کہ اس چیز کی اسے بھی ضرورت ہے اگر وہ اسے دے دے گا تو خود اسے تنگ دستی برداشت کرنی پڑے گی لہٰذا وہ اس چیز کو اپنی ضرورت کے لئے روک لیتا ہے۔
اس حدیثِ پاک کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جب تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں کی بارگاہ میں اس طرح حاضری دو گے کہ ان سے محبت کرنے والے ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہوئے ان کی عادات و اطوار اپنانے والے ہو یعنی ان کے طریقے پر چلنے والے ہو تو اللہتعالیٰ تمہاری حاجتوں کو پورا کردے گا۔(بحر الفوائد،ص91تا93)
اس حدیث کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اچھے چہروں سے یہ مراد ہے کہ جس وقت ان سے مانگا جائے تو ان کے چہروں پر خوشی کے آثار ہوں، جیسا کہ ایک اور حدیثِ پاک میں ہے کہ ”حَسین چہرے والوں سے اپنی حاجتیں طلب کرو، اگر وہ حاجت پوری کریں گے تو خندہ پیشانی سے پوری کریں گے۔“(فیض القدیر،1/689،تحت الحدیث:1107)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن فرماتے ہیں کہ یہ خوش رُو حضرات اولیائے کرام ہیں کہ حُسنِ ازلی جن سے محبت فرماتا ہے، (کہ حدیث میں آیا) ”جو رات کو کثرت سے نماز پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو دن کی روشنی جیسا حُسن عطا کردیتا ہے“ اور جودِ کامل و سَخائے شامل بھی انہیں کا حصہ کہ وقتِ عطا شگفتہ روئی جس کا ادنٰی ثمرہ۔(فتاویٰ رضویہ، 30/391)
ماہنامہ فیضان مدینہ صفرالمظفر1440ھ اکتوبر/نومبر2018ء
24/02/2024
کل 25 فروری بروز اتوار نور باوا سینٹری مارکیٹ گوجرانوالہ
16/02/2024
18 فروی جس کے لئے ممکن ہو ضرور تشریف لائے۔
07/02/2024
عورتوں کی جماعت و امامت کا مسئلہ
06/02/2024
میڈیکل کے طلبہ توجہ کریں۔ان کے لئے اہم مسئلہ
29/01/2024
سب کو شرکت کی دعوت ہے 💓
سیل گارمنٹس مارکیٹ چوباکاں بازار گوجرانوالہ
.
14/01/2024
سوال: مفتیانِ کرام سے عرض ہے کہ بتائیے کہ کیا شہداء سے قبر میں سوالات ہوں گے؟ (سائل ریاض احمد)
🌷بسم اللہ الرحمن الرحیم🌷
الجواب بعون الملک الوھاب
روایات واقوال کے مطابق شہداء قبر کی آزمائشوں سے محفوظ رہیں گے جن میں سے ایک آزمائش قبر کے سوال بھی ہیں لہٰذا شہداء قبر کے سوالات سے بھی محفوظ رہیں گے
جیساکہ امام جلال الدین عبد الرحمٰن سیوطی رحمۃ اللّٰہ علیہ الحاوی للفتاوی میں تحریر فرماتے ہیں: "مسألة: سؤال منكر ونكير فی القبر هل هو عام لجميع الخلق او يستثنى منه احد؟ الجواب: ليس عاما للخلق بل يستثنى منه الشهيد ففی الحديث انه صلى اللّٰه عليه وسلم سئل أ يفتن الشهيد فی قبره فقال كفى ببارقة السيوف على رأسه فتنة" *(الحاوی للفتاوی، مبحث المعاد، جلد2، 165، مُلتقطاً، دارالکتب العلمیہ بیروت۔لبنان)* یعنی سوال: قبر میں منکر نکیر کا سوال کرنا کیا یہ تمام مخلوقات کیلئے عام ہے یا کوئی اس سے خارج ہے؟ جواب: یہ ساری مخلوق کیلئے عام نہیں ہے، بلکہ شہید اس سے خارج ہے، حدیث پاک میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا شہید کو اس کی قبر میں آزمائش میں مبتلاء کیا جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے سر پر تلواروں کی چمک ہی آزمائش کیلئے کافی ہے۔
*نیز دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:* "واما المسألة السادسة: وهی ان الشهيد هل يسأل؟ فجوابه: لا، صرح به جماعة، منهم القرطبی واستدل بحديث مسلم انه صلى اللّٰه عليه وسلم سئل: هل يفتن الشهيد؟ فقال: كفى ببارقة السيوف على رأسه فتنة۔ قال القرطبی: ومعناه ان السؤال فی القبر انما جعل لامتحان المؤمن الصادق فی ايمانه من المنافق، وثبوته تحت بارقة السيوف ادل دليل على صدقه فی ايمانه، والا لفر الى الكفار"
*(الحاوی للفتاوی، مبحث المعاد، جلد2، 165، دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)* یعنی چھٹا مسئلہ: کیا شہید سے سوالاتِ قبر ہوں گے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ: نہیں ہوں گے، لوگوں کی ایک جماعت نے اس کی صراحت کی ہے، ان میں سے امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے ثبوت کے طور پر صحیح مسلم شریف کی وہ حدیث نقل کی، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا کسی شہید کو آزمائش میں مبتلاء کیا جائے گا؟ آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے سر پر چمکتی تلوار کی آزمائش ہی کافی ہے۔
قرطبی نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ قبر کے سوالات کو ایمان میں منافقت سے آزاد، مؤمن کی آزمائش کیلئے بنایا گیا ہے۔ اور تلواروں کی چمک کے نیچے اس کا ثابت قدم رہنا اس کے ایمان میں اخلاص کی بہترین دلیل ہے، ورنہ وہ کافروں کے پاس بھاگ جاتا۔(اگر شہید میں منافقت ہوتی تو تلواروں کے چمکنے کے وقت وہ اپنی جان بچا کر بھاگ جاتا)۔
*مزید فرماتے ہیں:* "الوجه السادس: اطبق العلماء على ان المراد بقوله يفتنون و بفتنة القبر: سؤال الملكين منكر ونكير، والاحاديث صريحة فيه؛ ولهٰذا سمی ملكا السؤالِ الفتّانَين"
*(الحاوی للفتاوی، طلوع الثريا باظهار ما كان خفياً، جلد2، 175، دارالکتب العلمیہ بیروت۔لبنان)*
یعنی چھٹا پہلو: علمائے کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ *يفتنون و فتنة القبر* سے مراد: دو فرشتوں منکر اور نکیر کا سوال کرنا ہے، اور اس (سوالاتِ قبر اور نکیرین) کے بارے میں احادیث واضح ہیں۔ اِسی لیے انہیں سوالاتِ قبر کی آزمائش والے دو فرشتے کہا جاتا تھا۔
*چنانچہ شہداء کے فتنۂِ قبر سے محفوظ رہنے کے حوالے سے کثیر روایات ہیں جیساکہ صحیح مسلم شریف میں ہے:* عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُوْلُ: رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهٖ، وَاِنْ مَاتَ جَرٰى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِیْ كَانَ يَعْمَلُهٗ، وَاُجْرِیَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ وَاَمِنَ الْفَتَّانَ" *(الصحیح المسلم، جلد 2، صفحہ 142، مکتبہ غوثیہ کراچی)* یعنی حضرت سلمان رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ایک دن اور ایک رات سرحد پر پہرا دینا، ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے اور اگر (پہرہ دینے والا) فوت ہوگیا تو اس کا وہ عمل جو وہ کر رہا تھا، (آئندہ بھی) جاری رہے گا، اس کیلئے اس کا رزق جاری کیا جائے گا اور وہ (قبر میں سوالات کرکے) امتحان لینے والوں سے محفوظ رہے گا۔
*جامع ترمذی میں روایت ہے:*"عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهٗ قَالَ: كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهٖ اِلَّا الَّذِیْ مَاتَ مُرَابِطاً فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَاِنَّهٗ يَنْمِیْ لَهٗ عَمَلُهٗ اِلىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيَاْمَنُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ" *(جامع الترمذی، کتاب الجہاد، ابواب فضائل الجہاد، جلد1، صفحہ 224، المصباح)*
یعنی رسول اللہ صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مرنے والے کا عمل اس کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، سوائے اس شخص کے جو اللّٰه کی راہ (یعنی جہاد) میں سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے مر جائے، یقیناً اس کا عمل تا روزِ قیامت بڑھایا جاتا رہتا ہے اور وہ قبر کی آزمائش سے بھی محفوظ رہتا ہے۔
*سنن ابوداؤد میں ہے:* "عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ الْمَيِّتِ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهٖ اِلَّا الْمُرَابِطَ فَاِنَّهٗ يَنْمُوْ لَهٗ عَمَلُهٗ اِلىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيُؤَمَّنُ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ" *(سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، باب فی فضل الرباط، جلد1، صفحہ 338، المیزان)*
یعنی فضالہ بن عبید رضی اللّٰه عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: ہر میت کا عمل مرنے کے بعد ختم کر دیا جاتا ہے، سوائے سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کرنے والے کے، اس کا عمل اس کیلئے قیامت تک بڑھتا رہے گا اور قبر کے فتنوں سے وہ محفوظ کر دیا جائے گا۔
*سنن نسائی میں ہے:* عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ اصْحَابِ النَّبِیِّ صلى اللّٰه عليه وسلم اَنَّ رَجُلًا قَالَ يَارَسُوْلَ اللّٰهِ مَابَالُ الْمُؤْمِنِيْنَ يُفْتَنُوْنَ فِیْ قُبُوْرِهِمْ اِلَّا الشَّهِيْدَ قَالَ: كَفىٰ بِبَارِقَةِ السُّيُوْفِ عَلىٰ رَأْسِهٖ فِتْنَةً" *(سنن النسائی، کتاب الجنائز، باب الشہید، جلد1، صفحہ 289، المیزان)*
یعنی ایک صحابی رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: يَارَسُوْلَ اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم! کیا بات ہے سبھی اہل ایمان اپنی قبروں میں آزمائے جاتے ہیں، سوائے شہید کے؟ آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے سر پر چمکتی تلوار کی آزمائش ہی کافی ہے۔
*نیز یہ کہ روایات واقوال کے مطابق نہ صرف شہداء بلکہ کثیر صالحین بھی قبر کے سوالات سے محفوظ رہیں گے۔*
*جیساکہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ شرح الصدور میں تحریر فرماتے ہیں:* "قال ابو القاسم السعدی فی كتاب الروح: ورد فی اخبار الصحاح ان بعض الموتى لا ينالهم فتنة القبر ولا ياتيهم الفتانان، وذلك على ثلاثة اوجه: مضاف الى عمل، ومضاف الى حال بلاء نزل بالموت، ومضاف الى زمان۔
*(شرح الصدور بشرح حال الموتیٰ والقبور، باب من لا يسئل فی القبر، صفحہ 146، دار المدنی)* یعنی حضرت ابوالقاسم سعدی رحمۃ اللہ علیہ کتاب الروح میں فرماتے ہیں: صحیح احادیث میں آیا ہے کہ بعض لوگ نہ تو قبر کی آزمائش میں مبتلا ہوں گے، نہ نکیرین ان کے پاس آئیں گے، اس کی تین وجوہات ہیں: (١) ان کے عمل کی وجہ سے (۲) بوقت وفات پہنچنے والی تکالیف کے سبب یا پھر (۳) مبارک ایام (جیسے جمعہ، شب جمعہ رمضان اور عرفہ کے ايام) ميں وفات پانے کی وجہ سے۔
*المعتقد مع المعتمد میں ہے:* "والاصح انّ الانبیاء لا یسألون۔وقد ورد ان بعض صالحی الأمة كالشهيد والمرابط يوما وليلة فی سبيل اللّٰه يأمن فتنة القبر، وكذا اطفال المؤمنين والميت يوم الجمعة او ليلتها او فی رمضان وغيرهم ممن وردت لهم الاحاديث *(المعتقد المنتعد مع المعتمد المستند، صفحہ 184، رضا اکادیمی مومبائی)*
یعنی صحیح ترین بات یہ ہے کہ انبیاء کرام علیھم السلام سے سوالاتِ قبر نہیں ہوں گے۔ اور تحقیق روایات میں آیا ہے کہ بعض صالحین بھی جیسے شہید، راہِ خدا میں مسلمانوں کی سرحد پر ایک دن رات پہرہ دینے والے فتنۂِ قبر سے محفوظ رہیں گے اور اسی طرح مسلمانوں کے بچے، جو مسلمان شبِ جُمعہ یا روزِ جُمعہ یا رَمَضانُ المبارک میں فوت ہو جائیں اور دیگر وہ لوگ جن کے بارے میں احادیث مروی ہیں، وہ فتنۂِ قبر (سوالاتِ نکیرین) سے محفوظ رہیں گے۔
*بہار شریعت میں ہے:* "ہاں! یہ حدیث سے ثابت ہے کہ جو مسلمان شبِ جمعہ یا روزِجمعہ یا رمضانِ مبارک کے کسی دن رات میں مرے گا، سوالِ نکیرین و عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا۔ *(بہارشریعت، حصہ اول، عالم برزخ کا بیان، جلد1، صفحہ 109، مکتبۃ المدینہ)*۔
________________________________
واللہ تعالی اعلم ورسولہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بالصواب
*📝کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ📝*
ابواُسید محمد زاہد مسعود قادری
28 جمادی الثانی 1445ھ 11 جنوری 2024
01/01/2024
آج کی حدیث شریف
18 جُمَادَی الاُخریٰ 1445ھ
01 جنوری 2024 پیر
31/12/2023
آج کی حدیث شریف
16 جُمَادَی الاُخریٰ 1445ھ
30 دسمبر 2023 ہفتہ