بس آنکھ لایا ھُوں اور وُہ بھی تَر نہیں لایا
حوالہ دھیان کا مَیں مُعتبر نہیں لایا
سوائے اسکے تعارف کوئی نہیں میرا
میں وُہ پرندہ ھُوں جو اپنے پر نہیں لایا
نجانے کس کو ضرورت پڑے اندھیرے میں
چراغ راہ میں دیکھا تھاگھر نہیں لایا
مُجھے اکیلا حدِ وقت سے گُزرنا ھے
میں اپنے ساتھ کوئی ھم سفر نہیں،
محبت کل
Nation builder
A dedicated and passionate teacher
05/03/2024
ایک دو ہوتے ہیں گاٶں میں ہمارے لوگ
شاعری کرتے ہیں قسمت کے مارے لوگ
توں نے دیکھا ہی نہیں میرے گاٶں کا حسن
کچے مکانوں میں رہتے ہیں پیارے لوگ
اِن کی سادگی کا چرچہ ہے جہانوں میں
تتلی پر مر مٹتے ہیں بیچارے لوگ
خلقت انہيں دیکھ کر باولی ہو جاتی ہے
دل کے بہت اچھے ہیں سارے لوگ
بات بات پر جی بولنے کی عادت ہے انہيں
رہتے ہیں یہاں کچھ ایسے بھی نیارے لوگ
مجھے اس لیے گاٶں کی مٹی سے محبت ہے
چاند سا حسن لیے ستارے ہیں لوگ
”نثار میں تری گلیوں کے“
فیض احمد فیض
نِثار میں تِری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم، کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نِکلے
نظر چُرا کے چلے جسم و جاں بَچا کے چلے
ہے اہلِ دِل کے لیے اَب یہ نظم بست و کُشاد
کہ سنگِ وخشت مقیّد ہیں ، اور سگ آزاد
بہت ہے ظُلم کے دستِ بہانہ جُو کے لیے
جو چند اہلِ جنُوں تیرے نام لیوا ہیں
بَنے ہیں اہلِ ہوس مدّعی بھی منصف بھی
کِسے وکیل کریں ، کِس سے منصفی چاہیں
مگر گُزارنے والوں کے دِن گُزرتے ہیں
تِرے فراق میں یُوں صُبح و شام کرتے ہیں
بُجھا جو روزنِ زنداں تو دِل یہ سمجھا ہے
کہ تیری مانگ سِتاروں سے بَھر گئی ہوگی
چَمک اُٹھے ہیں سَلاسِل ، تو ہم نے جانا ہے
کہ اَب سَحر تِرے رُخ پر بِکھر گئی ہو گی
غرض تصّورِ شام و سَحر میں جِیتے ہیں
گرفت سایۂ دِیوار و دَر میں جِیتے ہیں
یُوں ہی ہمیشہ اُلجھتی رہی ہے ظُلم سے خلق
نہ اُن کی رسم نئی ہے ، نہ اَپنی ریت نئی
یُوں ہی ہمیشہ کِھلائے ہیں ہم نے آگ میں پُھول
نہ اُن کی ہار نئی ہے ، نہ اَپنی جیت نئی
اِسی سبب سے فلک کا گِلہ نہِیں کرتے
تِرے فراق میں ہم دِل بُرا نہِیں کرتے
گر آج تُجھ سے جُدا ہیں تو کل بہم ہَوں گے
یہ رات بَھر کی جُدائی تو کوئی بات نہِیں
گر آج اَوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا
یہ چار دِن کی خُدائی تو کوئی بات نہِیں
جو تُجھ سے عہدِ وفا استوار رَکھتے ہیں
عِلاجِ گردشِ لیل و نَہار رَکھتے ہیں
فیض احمد فیضؔ
مجموعہ : (دستِ صبا)
بے ربط سی تحریر عبارت نہیں ہوتی
ہاتھوں کی لکیروں میں تو قسمت نہیں ہوتی
سجدہ میں دکھاوا ہو تو سجدہ نہیں ہوتا
گردن جھکانے سے عبادت نہیں ہوتی
وہ شخص محبت سے ہمیشہ رہا محروم
اوروں کے لیے جس میں محبت نہیں ہوتی
شاہکار کی تکمیل میں شامل نہ ہو گر فکر
تصویر تو بن جاتی ہے مورت نہیں ہوتی
چہرے کا سنگھار اس کے کبھی کام نہ آیا
سیرت کے بناء کوئی بھی صورت نہیں ہوتی
سائنس نہ کھینچ دے کہیں سورج کی طنابیں
اب مجھ کو کسی بات پر حیرت نہیں ہوتی
زاہد بھی جانتا ہے شبِ وصل کے قصے
اس عمر میں مجھ سے تو شرارت نہیں ہوتی
وہ دل نہیں پتھر کا ہے بے جان سا ٹکڑا
جس دل کو گناہوں پہ خفت نہیں ہوتی
نکلو تو ضیاء خ*ل سے تم اپنی انا کے
اس حبس میں تم کو کبھی وحشت نہیں ہوتی...
ضیاء الحق قاسمی
کلّیوں کا تبسّم ہو، کہ تم ہو، کہ صَبا ہو
اِس رات کے سنّاٹے میں، کوئی تو صدا ہو
یُوں جسم مہکتا ہے ہَوائے گُلِ تر سے
جیسے کوئی پہلوُ سے ابھی اُٹھ کے گیا ہو
دُنیا ہَمہ تن گوش ہے، آہستہ سے بولو
کچھ اور قریب آؤ، کوئی سُن نہ رہا ہو
یہ رنگ، یہ اندازِ نوازش تو وہی ہے
شاید کہ کہیں پہلے بھی توُ مجھ سے مِلا ہو
یوں رات کو ہوتا ہے گُماں دِل کی صدا پر
جیسے کوئی دِیوار سے سر پھوڑ رہا ہو
دُنیا کو خبر کیا ہے مِرے ذوقِ نظر کی
تم میرے لیے رنگ ہو، خوشبو ہو، ضیا ہو
یُوں تیری نِگاہوں میں اثر ڈُھونڈ رہا ہُوں
جیسے کہ تجھے دِل کے دَھڑکنے کا پتا ہو
اِس درجہ محبّت میں تغافل نہیں اچھّا
ہم بھی جو کبھی تم سے گُریزاں ہوں تو کیا ہو
ہم خاک کے ذرّوں میں ہیں اخترؔ بھی، گُہر بھی
تم بامِ فلک سے، کبھی اُترو تو پتا ہو
پنڈت ہری چند اخترؔ
اپنا احساس وہ ایسے بھی سِوا رکھتا ہے
مِل بھی جائے تو مجھے دور ذرا رکھتا ہے
مجھ سے تنہائی میں ملنے کا طلب گار ہے وہ
بزم اپنی کو جو غیروں سے بھرا رکھتا ہے
اُس کا کیا ہے وہ کہیں سے بھی پلٹ جائے گا
لوگ کہتے ہیں وہ اِک رستہ کھُلا رکھتا ہے
میرے احساس نے تقسیم کیا ہے مجھ کو
عشق میرا مجھے سُولی پہ چڑھا رکھتا ہے
اُس نے کر لی نئی ایک لُغت بھی ایجاد
لفظ بُن لیتا ہے ، معنی کو جُدا رکھتا ہے
خواب کیا دیکھتے، تعبیر نظر کیا آتی
اُن کا امکان ہی آنکھوں کو کھلا رکھتا ہے
وہ تِرے وَصل کی خواہش کو بھلا کیا جانے
وہ تِرے ہجر کو پھولوں سے سجا رکھتا ہے
لِکھ رہا ہے وہ مِری سوچ کی تفسیر حسن
اپنے خوابوں کو بھی جو مجھ سے چُھپا رَکھتا ہے
فواد حسن فواد
دل کے معاملات سے انجان تو نہ تھا
اس گھر کا فرد تھا کوئی مہمان تو نہ تھا
تھیں جن کے دَم سے رونقیں شہروں میں جا بسے
ورنہ ہمارا گاؤں یوں ویران تو نہ تھا
بانہوں میں جب لیا اسے نادان تھا ضرور
جب چھوڑ کر گیا مجھے نادان تو نہ تھا
کٹ تو گیا ہے کیسے کٹا یہ نہ پوچِھیے
یارو! سفر حیات کا آسان تو نہ تھا
نیلام گھر بنایا نہیں اپنی ذات کو
کمزور اس قدر میرا ایمان تو نہ تھا
رسماً ہی آ کے پوچھتا فاروقؔ حالِ دل
کچھ اس میں اس کی ذات کا نقصان تو نہ تھا
فاروق روکھڑی
" غالب " نظر کے سامنے حسن و جمال تھا
" محسن " وہ بشر خود میں سراپا کمال تھا
ہم نے " فراز " ایسا کوئی دیکھا نہیں تھا
ایسا لگا " وصی " کہ وہ گڈری میں لعل تھا
اب " میر " کیا بیان کریں اس کی نزاکت
ہم " فیض " اسے چھو نہ سکے یہ ملال تھا
اس کو " قمر " جو دیکھا تو حیران رہ گئے
اے " داغ " تیری غزل تھا وہ بیمثال تھا
" اقبال " تیری شاعری ہے جیسے باکمال
وہ بھی " جگر " کے لفظوں کا پر کیف جال تھا
بلکل تمہارے گیتوں کے جیسا تھا وہ " قتیل "
یعنی " رضا " یہ سچ ہے کہ وہ لازوال تها..
مفرور پرندوں کو یہ اعلان گیا ہے
صیاد نشیمن کا پتہ جان گیا ہے
یعنی جسے دیمک لگی جاتی تھی وہ میں تھا
اب آ کے مرا میری طرف دھیان گیا ہے
شیشے میں بھلے اس نے مری نقل اتاری
خوش ہوں کہ مجھے کوئی تو پہچان گیا ہے
اب بات تری "کُن" پہ ہے کچھ کر مرے مولا
اک شخص ترے در سے پریشان گیا ہے
یہ نام و نسب جا کے زمانے کو بتاؤ
درویش تو دستک سے ہی پہچان گیا ہے
احمد عبداللہ
زیرِ لب یہ جو تبسّم کا دِیا رکھا ہے
ہے کوئی بات جسے تم نے چھپا رکھا ہے
چند بے ربط سے صفحوں میں، کتابِ جاں کے
اِک نشانی کی طرح عہدِ وفا رکھا ہے
ایک ہی شکل نظر آتی ہے، جاگے، سوئے
تم نے جادُو سا کوئی مجھ پہ چلا رکھا ہے
یہ جو اِک خواب ہے آنکھوں میں نہفتہ، مت پوچھ
کس طرح ہم نے زمانے سے بچا رکھا ہے!
کیسے خوشبو کو بِکھر جانے سے روکے کوئی!
رزقِ غنچہ اسی گٹھڑی میں بندھا رکھا ہے
کب سے احباب جِسے حلقہ کیے بیٹھے تھے
وہ چراغ آج سرِ راہِ ہوا، رکھا ہے
دن میں سائے کی طرح ساتھ رہا، لشکرِ غم
رات نے اور ہی طوفان اٹھا رکھا ہے
یاد بھی آتا نہیں اب کہ گِلے تھے کیا کیا
سب کو اُس آنکھ نے باتوں میں لگا رکھا ہے
دل میں خوشبو کی طرح پھرتی ہیں یادیں،
ہم نے اس دشت کو گلزار بنا رکھا ہے
امجد اسلام امجد
زندگی میں کام آنے والی باتیں
:نمبر 1:-اگر کوئی آپ سے مشترکہ کاروبار کرنا چاہے تواس کےساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھاو اورمشاہدہ کرو کہ وہ کھانے کی بہتر چیز خود زیادہ کھاتا ہے یا تمھیں زیادہ کھلانا پسند کرتا ہے ۔دوسری صورت ہو تو کاروبار کرو جبکہ پہلی صورت ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کاروبار میں تم سے زیادہ لینے کی کوشش کریگا ۔
نمبر 2:-اگر کوئی آپ سے دوستی کرنا چاہے تو اسکے ساتھ ایک پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر اگر اس نے اپنے کو کرایہ سے بچایا کسی بھی طریقے سے تو اس کامطلب ہے کہ وہ آپ سے فائدہ لیناچاہتاہے دوستی کے قابل نہیں۔
نمبر 3:-اگر کوئی تم سے رشتہ جوڑنا چاہے تو اسکی کسی چیز کو معمولی نقصان پہنچاو ۔مثلاً اسکے جوتے پر سالن گرانا یاموبائل فون کو میز کے انتہائی کنارے پر رکھنا یا اس کے عینک کو چھیڑنا اگر اس نےاپنی چیز کی قیمتی ہونے کاچرچا کیا تو رشتہ مت جوڑنا کیوں کہ اس کو رشتے سے زیادہ پیسہ پسند ہے ۔
نمبر 4:-اگر آپ کاروبار کرتے ہیں اور کوئی آپ سے اُدھار مانگتا ہے تو اسکو قیمت بہت زیادہ بتانا اگر اسنے قیمت کم کرنے کی کوئی کوشش نہ کی تو ادھار نہ دینا کیونکہ اس کو ادائیگی نہیں کرنی ہے اسلیے قیمت سے دلچسپی نہیں ۔
نمبر 5:-اگر کوئی اپنی ہر دوسری تیسری بات پر قسم اٹھاتا ہو ۔تو اسکی بات میں ضرور جھوٹ ہوگی وہ قسمیں اسلیے اٹھاتا ہے کہ اس کو اپنی جھوٹ سچ ثابت کر نا ہو تا ہے۔
نمبر 6:-اگر تمھارا کوئی دوست تم سے اپنی کوئی برائی چھپاتا ہے تو اپ اس کو مت بولیں کہ تم کو سب کچھ معلوم ہے اگر تم نے ایسا کیا تو پھر وہ اس برائی کو تمھارے سامنے بھی کریگا ۔
نمبر 7:-بچوں کو برے کام سے منع کرتے وقت جن، بلا، یاجانور سے نہ ڈرانا کیوں کہ جب وہ سمجھ جاتے ہیں کہ وہ چیزیں فرضی تھے تو وہ برائی واپس شروع کریگی۔بلکہ اللہ سے یا جہنم سے ڈرانا کیونکہ اس کی تصور تمام عمر ہوتا ہے ۔
نمبر 8:-بچوں کی ہر غلطی پر سزا نہ دینا کیونکہ اس سے اس کی ذہنیت ایسی بن جاتی ہے کہ بڑے ہوکر ہر غلطی کرنے والے سے لڑیگا ۔پھر ساری عمر جھگڑوں میں گزریگی ۔
نمبر 9:-اپنے ماں باپ سے اپنے بچوں کے سامنے بہت محتاط رہنا کیونکہ جو انداز تم اپناتے ہو وہی کل تمھاری اولادِ اپنائیگی ۔
نمبر10:-معاشرے میں جس کا کوئی کام برا لگے وہ خود نہ کرنا ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Gujranwala