27/09/2026
📚 کیا بچوں سے سبق سننا استاد کی ذمہ داری ہے یا ذہین طلبہ کی؟
اکثر تعلیمی اداروں میں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ استاد چند ذہین بچوں سے سبق سن کر انہیں باقی کلاس کے بچوں کا سبق سننے کے لیے کھڑا کر دیتا ہے۔
دلیل یہ دی جاتی ہے کہ بڑی کلاس میں ہر بچے سے سبق سننا ممکن نہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وقت بچانے کے لیے ہم بچوں کی تعلیمی ذمہ داری بھی بچوں ہی کے حوالے کر دیں؟
استاد کے لیے ضروری نہیں کہ وہ روزانہ پوری کلاس سے سبق سنے۔ اگر روزانہ صرف 10 منٹ Random Assessment کے لیے مختص کر لیے جائیں اور مختلف بچوں سے اچانک سبق سنا جائے تو ہر طالب علم کو معلوم ہوگا کہ آج نہیں تو کل میری باری بھی آ سکتی ہے۔
اس طرح بچوں میں سبق یاد کرنے کی ذمہ داری، توجہ اور تیاری کا احساس پیدا ہوگا۔
یاد رکھیے!
* استاد جب خود بچے سے سبق سنتا ہے تو بچے کا اعتماد بڑھتا ہے۔
* استاد کی ایک چھوٹی سی شاباش بچے کو مزید محنت کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے۔
* کمزور بچے کو بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ استاد میری کارکردگی میں دلچسپی رکھتا ہے۔
* ذہین بچوں کو مانیٹر بنانے کے بجائے انہیں اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ دینے کا موقع ملتا ہے۔
استاد صرف سبق نہیں سنتا، وہ بچے کا اعتماد، حوصلہ اور سیکھنے کا شوق بھی پیدا کرتا ہے۔
بلاشبہ بڑی کلاس میں ہر بچے کو روزانہ وقت دینا مشکل ہے، لیکن چند منٹ کی بے ترتیب جانچ پوری کلاس کو تعلیمی طور پر متحرک رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
تحریر پسند آئے تو دوسرے اساتذہ تک بھی ضرور پہنچائیں۔
Facebook Gujranwala Educators