Govt. Graduate College for Women, Satellite Town Gujranwala

Govt. Graduate College for Women, Satellite Town Gujranwala Guinness World Record Winner. Number 1 college in Punjab, empowering 9500+ females, since 1954. Groom thyself!

An Alma Mater of many towering personalities including CSP's, Doctors, Lawyers, Int'l Players, Bankers, and reputed Professors among others.

Be aware of more of these Fake IDs.. a part of the planned propaganda to support them in the comments
25/09/2026

Be aware of more of these Fake IDs.. a part of the planned propaganda to support them in the comments

25/09/2026

بین الاقوامی کانفرنس — قابلِ فخر کامیابی
🌍✨ بین الاقوامی سطح پر ایک اور قابلِ فخر اعزاز
گورنمنٹ گریجویٹ کالج سیٹلائٹ ٹاؤن، گوجرانوالہ کے لیے یہ ایک نہایت قابلِ فخر موقع ہے کہ Dr. Lubna Akhlaq Khan، Principal GGCW نے بطور Co-Conference Chairperson اور Ms. Hina Rafique، Project Incharge GGCW نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اس باوقار بین الاقوامی کانفرنس کی کامیابی میں بھرپور کردار ادا کیا۔
کانفرنس کے دوران GGCW کے 20 Researchers نے Artificial Intelligence (AI) کے موضوع سے متعلق اپنے تحقیقی موضوعات کو نہایت مؤثر، جامع اور خوبصورت انداز میں پیش کیا اور اپنے علم و تحقیق کا بہترین اظہار کیا۔ اس کانفرنس میں Teachers اور Students نے بھی بھرپور شرکت کی، جو ادارے میں تحقیق، جدت اور علمی سرگرمیوں کے فروغ کی عکاسی کرتی ہے۔ 🌍🤖📚
ہمیں اپنی Principal Dr. Lubna Akhlaq Khan، Project Incharge Ms. Hina Rafique، ان کی پوری ٹیم اور GGCW کے تمام 20 Researchers پر بے حد فخر ہے، جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنے ادارے کی علمی و تحقیقی شناخت کو اجاگر کیا۔
آپ سب کی محنت، لگن اور کامیاب نمائندگی پر دلی مبارکباد!
اللہ تعالیٰ آپ کی علمی و تحقیقی کاوشوں کو مزید کامیابیوں سے نوازے۔ آمین۔ 🌷✨

A proud moment for our institution! 🌸Our respected Principal Dr. Lubna Akhlaq Khan presented her research paper, AI Know...
24/09/2026

A proud moment for our institution! 🌸
Our respected Principal Dr. Lubna Akhlaq Khan presented her research paper,
AI Knows the Word, But Does It Know the Culture? Idioms and Proverbs in the Age of Generative AI,
today at Second International Digital Education Conference in Malaysia 2026.
Her thought provoking research explores whether AI can truly understand the cultural meanings behind our words. 🌏✨

24/09/2026
24/09/2026

٭قابل فخر بمقابلہ قابل اعتراض٭

یہ معاشرہ عورت کی پرواز سے اتنا خوف زدہ کیوں ہے۔ ایک بچی پڑھتی ہے تو ہم اس سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر بنے، انجینئر بنے، پروفیسر بنے، افسر بنے، سی ایس ایس کرے اور اپنے خاندان کا نام روشن کرے۔ ہم اس کے مستقبل کے خواب اپنے سینے میں سجا کر پھرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایک دن لوگ ہماری بیٹی کی کامیابی کا ذکر کریں اور ہم فخر سے کہیں کہ یہ ہماری بیٹی ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جب وہی بیٹی منزل پر پہنچ جاتی ہے تو اس کی تصویر ہمیں قابلِ فخر لگتی ہے۔ جب وہ کسی بڑے عہدے پر بیٹھتی ہے تو کیمرے اس کے سامنے ہوں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ جب میڈیا اس کا انٹرویو کرتا ہے، اس کی کامیابی دنیا کے سامنے آتی ہے، اس کے والدین اس کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویر بنواتے ہیں تو معاشرے کی نگاہ کا خوف کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ تب وہی بیٹی ہمارے لیے عزت کا استعارہ بن جاتی ہے۔

لیکن آج، جب وہ اسی منزل کی طرف جانے والی پہلی سیڑھی پر کھڑی ہے، جب وہ کالج کے کسی پروگرام میں اپنے اندر ودیعت کیے گئے فن کا اظہار کرتی ہے، جب وہ اسٹیج پر اپنے خواب کی پہلی آواز رکھتی ہے، جب اس کے چہرے پر کامیابی سے پہلے کی معصوم خوشی جھلکتی ہے، تو اسی لمحے اس کے راستے میں دیواریں کیوں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ اپنی بیٹی کو آگے بڑھانا ہے تو اس کے سفر کو بھی قبول کرنا ہوگا۔ منزل کی تصویر خوب صورت لگتی ہے تو راستے کی گرد سے بھی نفرت نہیں کی جا سکتی۔ کامیابی کا تاج عزیز ہے تو اس تاج تک پہنچنے والی محنت کے پسینے کو بھی عزت دینا ہوگی۔

اور ان لوگوں کے لیے بھی ایک بات جو سرکاری تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں پر سب سے پہلے انگلی اٹھاتے ہیں۔ سرکاری اداروں کی طالبات بھی اسی معاشرے کی بیٹیاں ہیں، ان کے خواب بھی اتنے ہی روشن ہیں، ان کی صلاحیتیں بھی اتنی ہی قیمتی ہیں اور ان کی خوشیاں بھی اتنی ہی معتبر ہیں جتنی نجی اداروں میں پڑھنے والی بچیوں کی ۔ نجی تعلیمی اداروں کی تقریبات، ثقافتی پروگراموں، غیر نصابی سرگرمیوں اور طالبات کی پرفارمنس کو شخصیت سازی اور خود اعتمادی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے تو سرکاری کالج کی ایک بچی جب اپنی صلاحیت کا اظہار کرتی ہے، تو اس کے لیے بھی یہی احترام، یہی وسعتِ نظر اور یہی اعتماد ہونا چاہیے۔ تعلیم کا حق صرف کتاب تک محدود نہیں، تعلیم شخصیت کو اظہار، اعتماد، تخلیق اور آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی عطا کرتی ہے۔

میں تمام والدین سے گزارش کروں گی کہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ جب وہ پہلی مرتبہ اسٹیج پر جائے تو اس کے خوف کو اپنی دعا سے سہارا دیں۔ جب وہ کوئی ہنر دکھائے تو اس کے ہاتھ کو تھامیں۔ جب وہ کامیابی کی طرف ایک چھوٹا سا قدم اٹھائے تو اسے یہ احساس نہ ہونے دیں کہ دنیا اس کے ہر قدم پر اسے روکنے کے لیے کھڑی ہے۔ میں ماؤں سے گزارش کروں گی کہ اپنے بیٹوں کو بھی تربیت دیں۔ انہیں صرف یہ نہ سکھائیں کہ اپنی بہن کی حفاظت کیسے کرنی ہے، یہ بھی سکھائیں کہ ہر عورت کی عزت کیسے کرنی ہے۔ میں ہر باپ سے گزارش کروں گی کہ اپنی بیٹی کے لیے صرف منزل کا خواب نہ دیکھیں، اس راستے پر بھی اس کی انگلی پکڑ کر چلیں جس پر چل کر وہ منزل تک پہنچے گی۔ میں بھائیوں سے گزارش کروں گی کہ اپنی بہنوں کے گرد ایسی دیوار نہ بنیں جو ان کے لیے قید بن جائے، ان کے ساتھ سایہ بن کر چلیں۔

اور ہر اس شخص کے لیے جس کے گھر میں بیٹی پیدا ہوتی ہے اور جس کے دل میں اسی لمحے یہ خواہش جنم لیتی ہے کہ میری بیٹی ایک دن بہت بڑا مقام حاصل کرے گی، اس خواب کے ساتھ ایک اور عہد بھی ضروری ہے۔ بیٹی کو صرف منزل پر دیکھنے کی خواہش کافی نہیں، اس کے سفر میں بھی اس کے ساتھ چلنا ہوگا۔ اس کی کامیابی کی تصویر پر فخر کرنا آپکی کامیابی ہے، مگر اس کامیابی تک پہنچنے والی چھوٹی چھوٹی تصویروں کو بھی عزت دینا ہوگی۔ اسے آسمان چھونے کا خواب دینا ہے تو جب وہ اپنے پر کھولے، تو ان پروں پر ہاتھ رکھنے والوں کے ہاتھ کاٹنے کا حوصلہ بھی پیدا کریں

یہ بچیاں ہماری ہیں۔ ان کے خواب ہمارے ہیں، ان کی صلاحیتیں قدرت کی عطا ہیں اور ان کی مسکراہٹیں زندگی کی وہ روشن ساعتیں ہیں جو دوبارہ لوٹ کر نہیں آتیں۔ انہیں قید مت کیجیے، انہیں خوف مت دیجیے، ان کے پروں کو مت نوچیے۔ بس انہیں اتنا یقین دے دیجیے کہ جب وہ آسمان کی طرف دیکھیں گی تو ان کے اپنے لوگ ان کے قدموں میں زنجیر نہیں ڈالیں گے۔

اور پھر شاید ایک دن ہماری قوم قابل اعتراض کی رٹ سے نکل کر ہنر، کردار، علم، خواب اور روشن مستقبل تلاش کرنا سیکھ جائے۔ کیونکہ ایک بیٹی کو اڑنے سے روک دینا آسان ہے، مگر ایک ایسی دنیا بنانا جہاں وہ بے خوف اڑ سکے، اصل تہذیب یہی ہے جس پر کوئی بات نہیں کرتا ۔۔۔۔۔
fans

24/09/2026

✨ فخرِ پاکستان: عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے پر دلی مبارکباد! ✨
​گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج فار ویمن، سیٹلائٹ ٹاؤن گوجرانوالہ کی مایہ ناز پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر لبنیٰ اخلاق خان کو ملائشیا میں منعقدہ بین الاقوامی ایجوکیشن کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے پر دلی مبارکباد اور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں!
Lubna Akhlaq Khan
Govt. Graduate College for Women, Satellite Town Gujranwala
Saima Mubashra
Fakhra Noreen
Farwa Iftikhar
Rana Sikandar Hayat

Address

Satellite Town Gujranwala
Gujranwala
52470

Telephone

+92559330613

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Govt. Graduate College for Women, Satellite Town Gujranwala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Govt. Graduate College for Women, Satellite Town Gujranwala:

Shortcuts

Share

Category