ITAG IT Teachers Association, Gujranwala (ITAG) is an association of All IT Teachers in District Gujranwala and also other IT Teachers across the Country.

اپنی ناکام ترین پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کامیاب اساتذہ کو معطل کیا جا رہا ہے ؟ یہ اعلیٰ آفیسر خدا بنے بیٹھے ہیں کیا...
01/07/2026

اپنی ناکام ترین پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کامیاب اساتذہ کو معطل کیا جا رہا ہے ؟ یہ اعلیٰ آفیسر خدا بنے بیٹھے ہیں کیا ؟ کوئی روکنے والا نہیں انہیں۔؟

ہم منسٹر صاحب کی طرف سے اساتذہ کمیونٹی کے لیے نازیبا الفاظ ادا کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیںکسی ایک فرد واحد کا الزام پورے ...
26/06/2026

ہم منسٹر صاحب کی طرف سے اساتذہ کمیونٹی کے لیے نازیبا الفاظ ادا کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں

کسی ایک فرد واحد کا الزام پورے محکمے کو نہیں لگایا جا سکتا

اس طرح تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ سیاستدان ٹھیکوں کے پیسے کھاتے ہیں، چوریاں اور ڈکیتیاں کرواتے ہیں، لوگوں کو اغوا کرواتے ہیں، کرپشن کرتے ہیں، قتل کرواتے ہیں یہ وہ الزام ہیں جو مختلف سیاستدانوں پر لگ چکے اور کچھ پر ثابت بھی ہوچکے تو کیا تمام سیاستدانوں پر پھر ہم یہ الزام لگا سکتے کیا؟

اگر نہیں تو پھر آپ کی طرف سے بارہا اساتذہ کمیونٹی کے لیے تضحیک آمیز الفاظ نہایت افسوس ناک ہیں

ہم آپ کے الفاظ کی مذمت کرتے ہیں اور یہ تضحیک آمیز الفاظ واپس لینے اور معافی کا مطالبہ کرتے ہیں

بے شک اپنی غلطی کی معافی مانگنے والا ہی بڑا ہوتا ہے

حافظ عبدالناصر صاحب کا کا وزیر تعلیم پنجاب کے بیان پر رد عمل۔
26/06/2026

حافظ عبدالناصر صاحب کا کا وزیر تعلیم پنجاب کے بیان پر رد عمل۔

اساتذہ بھی اتحاد اور غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے پہلے اس وزیر کو Unfollow کریں اور کمنٹس میں Done لکھیں اور اپنا احتج...
26/06/2026

اساتذہ بھی اتحاد اور غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے پہلے اس وزیر کو Unfollow کریں اور کمنٹس میں Done لکھیں اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں

26/06/2026

*پنکھے چوری کا الزام استاد پر، اربوں کے قرضے کا حساب کس سے؟؟؟*

ہم نے ایک بیان سنا کہ اساتذہ سکولوں کے پنکھے اتار کر لے جاتے ہیں۔
چلیے مان لیتے ہیں کہ اگر کوئی فرد ایسا کرتا ہے تو وہ قابلِ مذمت ہے، اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن ایک سوال قوم کو بھی پوچھنے کا حق ہے۔

اگر آج پاکستان اربوں ڈالر کا مقروض ہے تو کیا یہ قرض اساتذہ نے لیا تھا؟
اگر آج پیدا ہونے والا ہر بچہ بھی قرض کے بوجھ تلے آنکھ کھولتا ہے تو کیا اس کی ذمہ داری کسی استاد پر عائد ہوتی ہے؟

کیا اساتذہ بینکوں سے کروڑوں اور اربوں کے قرض لے کر پھر معاف کرواتے رہے ہیں؟
کیا قومی خزانے کے بڑے بڑے سکینڈلز میں اساتذہ کے نام سامنے آئے؟
کیا بیرونِ ملک جائیدادیں، محلات، اکاؤنٹس اور آف شور کمپنیاں اساتذہ کی نکلیں؟
کیا ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن لینے کے الزامات اساتذہ پر لگتے رہے ہیں؟
کیا ٹھیکیدار ٹھیکے لینے کے لیے اساتذہ کے دفاتر کے چکر لگاتے ہیں؟
کیا سرکاری خریداریوں میں اربوں کے گھپلے اساتذہ کرتے ہیں؟
کیا بیرونِ ملک سے ملنے والے قیمتی تحائف اونے پونے داموں خریدنے کی خبریں اساتذہ کے بارے میں آتی ہیں؟
کیا قومی اداروں کو خسارے میں دھکیلنے والے اساتذہ ہیں؟
کیا مہنگے پروٹوکول، سرکاری مراعات، شاہانہ اخراجات اور بے جا خرچیاں اساتذہ کے کھاتے میں لکھی جاتی ہیں؟

اگر جواب نہیں ہے تو پھر قوم کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر بار بار استاد کو ہی کٹہرے میں کیوں کھڑا کیا جاتا ہے؟

استاد کی تنخواہ، اس کے گھر کا کرایہ، بچوں کی فیس، بجلی کا بل اور روزمرہ کی ضروریات سب کے سامنے ہیں۔ وہ تو آج بھی اپنی جیب سے چاک، چارٹ، رنگ اور بعض اوقات بچوں کی مدد تک کرتا ہے۔

تنقید ضرور کریں، احتساب ضرور کریں، لیکن انصاف کے ساتھ۔
اگر ایک استاد کی غلطی پورے طبقے پر نہیں ڈالی جا سکتی تو پھر چند افراد کی کوتاہی کو بنیاد بنا کر لاکھوں اساتذہ کی عزت پر سوال اٹھانا بھی درست نہیں۔

قومیں اپنے استاد کو مشکوک بنا کر نہیں، باوقار بنا کر ترقی کرتی ہیں۔
آج سوال صرف اساتذہ کا نہیں، سوچ کا ہے۔

ملک کے مسائل کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ وہ جو نسلیں بناتا ہے یا وہ جو فیصلے کرتا ہے؟

آپ کیا سمجھتے ہیں، عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے سب سے آسان ہدف استاد کو بنانا ہے یا نہیں؟


26/06/2026
منسٹر صاحب کا پورا گھرانہ ہی دو نمبر چوروں پر مشتمل ہے۔ اس منسٹر کی تربیت سے یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ اس کی ڈگریاں بھی اس ک...
26/06/2026

منسٹر صاحب کا پورا گھرانہ ہی دو نمبر چوروں پر مشتمل ہے۔ اس منسٹر کی تربیت سے یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ اس کی ڈگریاں بھی اس کے بھائی کی طرح جعلی ہیں۔
اساتذہ کرام پتا کریں کہ اس منسٹر کی جگہ پر کون امتحان دیتا رہا ہے۔ خود اس کی قابلیت نہیں کہ اس نے کوئی امتحان پاس کیا ہو۔
اس دو نمبر اور تعلیم دشمن منسٹر کو ہٹاؤ ۔

*پنکھے چوری کا الزام استاد پر، اربوں کے قرضے کا حساب کس سے؟؟؟*ہم نے ایک بیان سنا کہ اساتذہ سکولوں کے پنکھے اتار کر لے جا...
26/06/2026

*پنکھے چوری کا الزام استاد پر، اربوں کے قرضے کا حساب کس سے؟؟؟*

ہم نے ایک بیان سنا کہ اساتذہ سکولوں کے پنکھے اتار کر لے جاتے ہیں۔
چلیے مان لیتے ہیں کہ اگر کوئی فرد ایسا کرتا ہے تو وہ قابلِ مذمت ہے، اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن ایک سوال قوم کو بھی پوچھنے کا حق ہے۔

اگر آج پاکستان اربوں ڈالر کا مقروض ہے تو کیا یہ قرض اساتذہ نے لیا تھا؟
اگر آج پیدا ہونے والا ہر بچہ بھی قرض کے بوجھ تلے آنکھ کھولتا ہے تو کیا اس کی ذمہ داری کسی استاد پر عائد ہوتی ہے؟

کیا اساتذہ بینکوں سے کروڑوں اور اربوں کے قرض لے کر پھر معاف کرواتے رہے ہیں؟
کیا قومی خزانے کے بڑے بڑے سکینڈلز میں اساتذہ کے نام سامنے آئے؟
کیا بیرونِ ملک جائیدادیں، محلات، اکاؤنٹس اور آف شور کمپنیاں اساتذہ کی نکلیں؟
کیا ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن لینے کے الزامات اساتذہ پر لگتے رہے ہیں؟
کیا ٹھیکیدار ٹھیکے لینے کے لیے اساتذہ کے دفاتر کے چکر لگاتے ہیں؟
کیا سرکاری خریداریوں میں اربوں کے گھپلے اساتذہ کرتے ہیں؟
کیا بیرونِ ملک سے ملنے والے قیمتی تحائف اونے پونے داموں خریدنے کی خبریں اساتذہ کے بارے میں آتی ہیں؟
کیا قومی اداروں کو خسارے میں دھکیلنے والے اساتذہ ہیں؟
کیا مہنگے پروٹوکول، سرکاری مراعات، شاہانہ اخراجات اور بے جا خرچیاں اساتذہ کے کھاتے میں لکھی جاتی ہیں؟

اگر جواب نہیں ہے تو پھر قوم کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر بار بار استاد کو ہی کٹہرے میں کیوں کھڑا کیا جاتا ہے؟

استاد کی تنخواہ، اس کے گھر کا کرایہ، بچوں کی فیس، بجلی کا بل اور روزمرہ کی ضروریات سب کے سامنے ہیں۔ وہ تو آج بھی اپنی جیب سے چاک، چارٹ، رنگ اور بعض اوقات بچوں کی مدد تک کرتا ہے۔

تنقید ضرور کریں، احتساب ضرور کریں، لیکن انصاف کے ساتھ۔
اگر ایک استاد کی غلطی پورے طبقے پر نہیں ڈالی جا سکتی تو پھر چند افراد کی کوتاہی کو بنیاد بنا کر لاکھوں اساتذہ کی عزت پر سوال اٹھانا بھی درست نہیں۔

قومیں اپنے استاد کو مشکوک بنا کر نہیں، باوقار بنا کر ترقی کرتی ہیں۔
آج سوال صرف اساتذہ کا نہیں، سوچ کا ہے۔

ملک کے مسائل کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ وہ جو نسلیں بناتا ہے یا وہ جو فیصلے کرتا ہے؟

آپ کیا سمجھتے ہیں، عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے سب سے آسان ہدف استاد کو بنانا ہے یا نہیں؟
SAIMA MALIK Mianwali


Address

Govt. Higher Secondary School, G. T Road
Gujranwala
52550

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ITAG posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to ITAG:

Shortcuts

Share

Category