ITAG

ITAG

Share

IT Teachers Association, Gujranwala (ITAG) is an association of All IT Teachers in District Gujranwala and also other IT Teachers across the Country.

13/06/2026

پریس ریلیز

وفاقی بجٹ 2026-27 سرکاری ملازمین کے ساتھ ناانصافی اور معاشی حقائق سے چشم پوشی ہے: پنجاب ٹیچر یونین و پیکٹ پنجاب

صوبائی صدر پنجاب ٹیچر یونین و پنجاب گورنمنٹ سکولز ایسوسی ایشن آف کمپیوٹر ٹیچرز (پیکٹ) پنجاب کاشف شہزاد چودھری کی زیر صدارت ایک اہم آن لائن اجلاس منعقد ہوا جس میں صدر جنوبی پنجاب رانا شہباز صفدر، محمد کاشف بٹ، محمد فاروق سیال، سید مدثر حسین، اعجاز حسین، عنصر رضا، مریم اشرف، صائمہ، فرخندہ وہاب، بلال ملانہانس، خواجہ شہزاد احمد، حافظ عمر اقبال، محبوب خان گل، ظفر اقبال عثمانی، شاہد ارشد، ملک عبیداللہ، فیصل نذیر، رانا راشد علی، محمد اسلم بٹ، عامر شہزاد، محمد عامر نواز اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس میں وفاقی حکومت کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں محض 7 فیصد اضافے کو انتہائی ناکافی، غیر منصفانہ اور زمینی حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے شدید مایوسی اور تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مہنگائی، بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات، ادویات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کی آمدنی میں اس تناسب سے اضافہ نہیں کیا گیا۔ موجودہ بجٹ میں کیا گیا معمولی اضافہ سرکاری ملازمین کی قوتِ خرید میں مسلسل ہونے والی کمی کا ازالہ کرنے سے قاصر ہے۔

اجلاس میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ کنوینس الاؤنس، میڈیکل الاؤنس اور ہاؤس رینٹ الاؤنس گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے پرانی شرحوں پر منجمد ہیں، جبکہ رہائش، علاج معالجہ اور سفری اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ شرکاء نے کہا کہ موجودہ میڈیکل الاؤنس سے ایک عام ملازم اپنی بنیادی ادویات تک خریدنے سے قاصر ہے جبکہ ہاؤس رینٹ الاؤنس کی موجودہ شرح پر کسی بھی شہر میں مناسب رہائش کا حصول ناممکن ہو چکا ہے۔ لہٰذا حکومت فوری طور پر تمام الاؤنسز کو موجودہ معاشی حقائق اور مارکیٹ ریٹس کے مطابق ازسرِنو مقرر کرے۔

اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ حکومتی پالیسیوں میں اعلیٰ بیوروکریسی، وزراء اور بعض مخصوص محکموں کے افسران کو ایگزیکٹو الاؤنس، مفت رہائش، مفت بجلی، سرکاری گاڑیاں، ہاؤس سیلنگ اور دیگر بے شمار مراعات فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ عام سرکاری ملازمین کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ امتیازی طرزِ عمل لاکھوں ملازمین میں احساسِ محرومی اور بے چینی کو جنم دے رہا ہے اور سرکاری ملازمین کے ساتھ واضح تفریق کے مترادف ہے۔

اجلاس میں پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ آئندہ صوبائی بجٹ میں سرکاری ملازمین، اساتذہ اور پنشنرز کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ازالہ کیا جائے اور ان کے دیرینہ مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر تسلیم کیا جائے۔ مطالبات میں تمام الاؤنسز میں خاطر خواہ اضافہ، لیو انکیشمنٹ کی فوری بحالی، پنشنرز پر عائد کٹوتیوں کا خاتمہ، پنشن اصلاحات پر نظرثانی، تمام ملازمین کو ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA) کی فراہمی، رول 17-A کی مکمل بحالی، مستقلی کے منتظر اساتذہ اور دیگر ملازمین کو فوری مستقل کرنا، تعلیم سمیت تمام سرکاری محکموں میں خالی آسامیوں پر میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں اور تنخواہوں و پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے نمایاں اضافہ شامل ہیں۔

اجلاس کے شرکاء نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین ریاستی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے معاشی مسائل کو مسلسل نظر انداز کرنا نہ صرف ملازمین بلکہ عوامی خدمات کے معیار کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سرکاری ملازمین، اساتذہ اور پنشنرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے ہوئے ان کے معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کرے۔

اجلاس کے اختتام پر متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب کے آئندہ بجٹ سے ایک روز قبل آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) پنجاب کی جانب سے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق مسجد شہداء لاہور سے نکالی جانے والی احتجاجی ریلی اور پنجاب اسمبلی کے سامنے منعقد ہونے والے احتجاجی دھرنے میں بھرپور شرکت کی جائے گی۔ اجلاس کے شرکاء نے پنجاب بھر کے اساتذہ، سرکاری ملازمین اور پنشنرز سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے حصول، معاشی انصاف اور ملازمین دوست پالیسیوں کے نفاذ کے لیے اس احتجاجی تحریک میں بھرپور اور منظم انداز میں شرکت کریں۔

شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرکاری ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے جائز مطالبات کی منظوری کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کی جائے گی اور مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

جاری کردہ:
شعبہ نشر و اشاعت
پنجاب ٹیچر یونین (PTU)
پنجاب گورنمنٹ سکولز ایسوسی ایشن آف کمپیوٹر ٹیچرز (PACT) پنجاب

08/06/2026

سرکاری سکولز برائے فروخت
ساجدہ اصغر آرائیں کینیڈا ✍🏼

صوبائی وزیرِ اعلیٰٰ رانا سکندر حیات نے تیس فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کی مخالفت کی، حالانکہ یہ الاؤنس وفاقی حکومت کو بھی دیا گیا۔ یہ الاؤنس دراصل ان سرکاری ملازمین کے لیے تھا جو مختلف شعبوں میں تنخواہوں کے فرق کو کم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن صوبائی وزیرِ تعلیم نے اسے مسترد کر کے صوبے کے ملازمین کو مایوس کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے تیرہ ہزار سے زائد سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں آنے والی نسلوں کے لیے مستقل سرکاری نوکری کا خواب ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ یہ اقدام نہ صرف تعلیم کے شعبے میں نجی کاری کو فروغ دیتا ہے بلکہ متوسط اور غریب طبقے کے بچوں کو سرکاری ملازمتوں سے محروم کر دیتا ہے۔
دوسری جانب، گیارہ ارب روپے کے جہاز خریدنے، ججز، بیوروکریٹس، اشرافیہ اور وزراء کی تنخواہوں میں سات سو فیصد اضافے، اور لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں لینے پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) خاموش ہے۔ یہ وہی ادارہ ہے جو غریب پرائمری سکول اساتذہ کی تنخواہ میں صرف پچاس فیصد اضافے پر اعتراض کرتا ہے اور اسے معاشی عدم توازن قرار دیتا ہے۔ یہ دوہرا معیار ظاہر کرتا ہے کہ طاقتور اور اعلیٰ عہدیداروں کی آسائشوں پر کوئی پابندی نہیں، لیکن کم تنخواہ پانے والے سرکاری ملازمین کی بنیادی ضروریات کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر آئی ایم ایف واقعی معاشی استحکام چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ تمام شعبوں میں یکساں معیار اپنائے اور غریب طبقے کے حقوق کو بھی اہمیت دے۔ یہ منافقت عوام میں مایوسی اور بے چینی پیدا کر رہی ہے، جہاں ایک طرف لاکھوں روپے کی تنخواہیں اور عیاشی کو معمول سمجھا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایک غریب استاد کی ادنیٰ سی تنخواہ میں اضافے کو بھی معاشی بحران سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ پالیسیوں میں طبقاتی امتیاز واضح طور پر نظر آتا ہے۔ عوام کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانی ہوگی، ورنہ یہ ناانصافیاں اور عدم مساوات مزید گہری ہوتی جائیں گی۔

Photos from ITAG's post 16/05/2026

کچھ لوگ خاموشی سے پوری زندگی دوسروں کے مستقبل سنوارتے رہتے ہیں…
اور پھر ایک دن خود خاموش ہو جاتے ہیں۔

آج دل بہت بوجھل ہے۔
میرا دوست، میرا بھائی رانا محمد جمیل اب اس دنیا میں نہیں رہا۔

وہ 2016 سے پنجاب کے ایک سرکاری سکول (گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول جی ٹی روڈ گوجرانوالہ) میں بطور SSE English خدمات انجام دے رہا تھا۔
شہر ہو یا اپنا گاؤں --- غریب غربا کے بچوں کو پڑھانا، انہیں خواب دینا، یہی اس کی پہچان تھی۔
ایک متوسط گھرانے کا وہ لڑکا جس نے محنت مزدوری کر کے تعلیم حاصل کی، پرائیویٹ ایم اے کیا، نوکریوں کی ٹھوکریں کھائیں اور آخرکار سرکاری سکول میں پہنچا… مگر افسوس، سالوں خدمت کے باوجود صرف “کنٹریکٹ” ہی رہا۔

پچھلے ایک سال سے وہ کینسر سے لڑ رہا تھا۔
بیماری سے زیادہ شاید اسے اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کھا گئی۔

"ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک…"

آج وہ چلا گیا…
اسکی وفات کے غم کے علاوہ
سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ اس کے جانے کے بعد اس کی بیوی اور بچوں کے لیے نہ پنشن، نہ گریجویٹی، نہ کوئی سہارا۔
صرف درد… قرض… اور غیر یقینی مستقبل۔
سوال یہ ہے کہ جو لوگ ہماری نسلوں کو تعلیم دیتے ہیں، کیا ان کا اتنا حق بھی نہیں کہ مرنے کے بعد ان کے بچوں کو تنہا نہ چھوڑا جائے؟

یہ سوال صرف رانا جمیل کا نہیں۔
یہ ہزاروں SSEs اور AEOs کا سوال ہے، جو سالہا سال سکولوں میں قوم کے بچوں کو پڑھاتے ہیں مگر پھر بھی مستقل نہیں کیے جاتے۔

حکومت کے اربوں کے بجٹ میں اگر چند ہزار اساتذہ کو ریگولر کرنے اور ان کے خاندانوں کو تحفظ دینے پر کچھ رقم خرچ ہو بھی جائے، تو شاید فائلوں میں ایک چھوٹا سا فرق پڑے…
مگر ان ہزاروں خاندانوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔
کسی بچے کا مستقبل محفوظ ہو سکتا ہے، کسی بیوہ کا سہارا بن سکتا ہے، کسی بیمار استاد کو یہ یقین مل سکتا ہے کہ اس کے بعد اس کے بچوں کو دربدر نہیں ہونا پڑے گا۔

"روٹی، کپڑا، مکان سے آگے بھی کچھ فرض ہوتے ہیں
حکومتیں صرف عمارتوں سے نہیں، انسانوں سے بنتی ہیں…"

CM Punjab
محترمہ مریم نواز صاحبہ,
Minister of Education جناب رانا سکندر حیات صاحب
اور محکمہ تعلیم سے اپیل ہے کہ:

رانا محمد جمیل کے خاندان کے لیے خصوصی مالی معاونت کا اعلان کیا جائے، اور تمام کنٹریکٹ SSEs & AEOs کی ریگولرائزیشن کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔

کیونکہ:

"جن چراغوں سے زمانے کو اجالا پہنچے
ان چراغوں کو ہواؤں کے حوالے نہ کرو…"

اللہ تعالیٰ رانا جمیل بھائی کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، اور اہلِ خانہ کو صبر عطا فرمائے۔ آمین۔



14/05/2026

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ ہمارے نہایت محترم دوست، مخلص ساتھی، شفیق استاد اور بہترین انسان
رانا محمد جمیل صاحب(آف کوٹ بھوانی داس) موجودہ ٹیچر گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول جی ٹی روڈ گوجرانوالہ
(SSE English )
اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔
رانا محمد جمیل صاحب ایک انتہائی بااخلاق، ملنسار، محنتی اور اپنے پیشے سے بے حد مخلص شخصیت تھے۔ وہ صرف ایک استاد نہیں بلکہ ایک مربی، رہنما اور طلبہ کے لیے باپ جیسی شفقت رکھنے والے انسان تھے۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی تھی کہ ان کے شاگرد تعلیم میں نمایاں کامیابی حاصل کریں اور زندگی میں بلند مقام حاصل کریں۔
وہ طلبہ کے ساتھ بے حد محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے، ان کی رہنمائی کرتے تھے اور ہر ممکن مدد فراہم کرتے تھے۔ اپنے ساتھی اساتذہ کے ساتھ بھی ان کا رویہ انتہائی دوستانہ، خلوص پر مبنی اور تعاون سے بھرپور تھا۔ ان کی مسکراہٹ، خوش اخلاقی اور مثبت انداز ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
رانا محمد جمیل صاحب کی وفات تعلیمی حلقے، طلبہ، ساتھی اساتذہ اور تمام جاننے والوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی علمی خدمات، محنت، خلوص اور محبت ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

12/05/2026

تعطیلات موسم گرما کے حوالے سے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات خان صاحب کا بہترین فیصلہ ۔

13/02/2026

ہم سب کے لیے لاہور کی سڑکوں پر راتیں گزارنے والوں کے ہم مقروض رہیں گے۔
اساتذہ کے حقوق کی جنگ لڑنے والے ان مجاہدوں کو سلوٹ

ﷲ پاک کامیابی عطاء فرمائے آمین

Photos from ITAG's post 13/02/2026

پنجاب کے سرکاری ملازمین بڑی تعداد میں پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ لاہور کے سامنے سراپا احتجاج۔۔۔آج چوتھے روز بھی بڑی تعداد میں ملازمین احتجاج میں شامل ہوئے۔۔

04/02/2026

Official Notification!!!
پورے پنچاب میں 6 اور 7 فروری کو پبلک ہالیڈے ہو گی۔
S&GAD Punjab

29/10/2025

ہیڈ ماسٹرز اور سبجیکٹ اسپیشلسٹ جو 2017 میں بھرتی ہوئے تھے وہ 18 گریڈ میں پروموٹ ہو چکے ہیں اور 2009 کے ایس ایس ٹیز کی ابھی تک پورے پنجاب میں سنیارٹی لسٹ ہی نہیں بن سکی ۔ کمال ڈیپارٹمنٹ ہے ہمارا۔
Rana Sikandar Hayat Rana Sikandar Hayat

Photos from ITAG's post 09/10/2025

وکیل صاحب کی بیوی کے آرڈرز کینسل کر دئیے گئے ۔ سر پلس سیٹ پر ہی جوائن کریں ورنہ سخت قانونی کارروائی کرنے کا حکم ۔۔
وزیر تعلیم کا سی ای او ایجوکیشن تشدد کیس کی بھی پیروی کا اعلان ۔ ملوث وکلاء کو سزا دلائیں گے ۔
وکلاء نے کل ان آرڈرز کو فتح قرار دیتے ہوئے وکٹری کا نشان بنایا تھا ۔ آج وزیر تعلیم نے نہ صرف آرڈر کینسل کئے ۔ بلکہ کارروائی کا بھی اعلان کر دیا
Rana Sikandar Hayat

Want your school to be the top-listed School/college in Gujranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Govt. Higher Secondary School, G. T Road
Gujranwala
52550