Professor mubashir naeem

Professor mubashir naeem

Share

i am mubashir Naeem Attari. from pakistan.i am an online isamic (Quran)teacher .i live in Gujranwala.

22/02/2024

""""معافیوں کا موسم خوشگوار""""
شب برات کی امد قریب قریب ہے ہم اہل سنت و جماعت احادیث کے مطابق شب برات کو عبادت میں گزارتے ہیں اور چونکہ احادیث کے اندر یہ ہے کہ اس رات نامہ اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں اور نئے نامہ اعمال شروع ہو جاتے ہیں لہذا کوشش کرنی چاہیے کہ جب نامہ اعمال اللہ کی بارگاہ کی طرف اٹھائے جائیں اس وقت بھی اللہ کی بارگاہ میں توبہ کے ساتھ نامہ اعمال پہنچے اور جب نیا سال شروع کیا جائے تو بھی نیکیوں کے ساتھ ابتدا کی جائے اس بات کا انکار نہیں ہے کہ بے شک بندہ مومن کو توبہ کرتے رہنا چاہیے لیکن عجیب صورتحال پیدا ہو چکی ہے کہ ہم نامہ اعمال کے اول آخر تو نیکی چاہتے ہیں لیکن سال کے 355 دنوں کے اندر بالکل بھی نہیں سوچتے کہ ہمیں نیکیاں ہی نیکیاں کرنی چاہییں ہم سمجھتے ہیں کہ اول آخر نیکی کر لی تو بس بخشے گئے اور درمیان میں نیکی کی کوئی حاجت نہیں خدارا قران مجید فرقان حمید کو سماعت فرمائیے اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے
یٰاَ یُّہاَ الذین اٰمنو ادخلو فی السلم کافۃ
یہ تو اللہ تعالی نے کہیں بھی نہیں فرمایا کہ اول آخر معافی مانگ لینا تو گزارا ہو جائے گا فرمایا کہ سر سے لے کر پاؤں تک اسلام کے اندر ڈوب جاؤ اور یہی مطلوب پروردگار ہے لیکن مسلمان اس قدر نا ہنجار ہو چکا ہے کہ اپنے رب کے بتائے ہوئے طریقوں سے کوسوں دور نظر آتا ہے خدارا اپنی اآخرت کی فکر کیجئے اور معافی مانگیے لیکن ہزاروں میسج بروڈ کاسٹ لسٹ بنا کر سینڈ کرنے کی بجائے کیوں نہ ان لوگوں کو تلاش کیا جائے جن کا سارا سال دل دکھایا یا سال میں کوئی ایک مرتبہ دل دکھایا یا کسی کے ساتھ زیادتی کی یا کسی کا قرض دبایا یا کسی سے قرض لیا اور اب اس کو واپس نہیں کیا جا رہا یا کاروبار شروع کیا اور کاروبار میں کسی کا پیسہ دبا کر بیٹھ گئے یا کسی کی حق تلفی کی یا کسی کے مال کو دبا لیا یا کسی کو تکلیف دی کسی کو ایذا پہنچائی کسی کے ساتھ زیادتی کی رشوت کا لین دین کیا سودی کاروبار کیا کسی کی مدد کرنے کے لیے بھی اس کی جیب کو خالی کروایا طاقت ہونے کے باوجود کسی کے کام نہ آئے ہمارے سامنے کوئی اپنی بیماری کے اندر پڑا بلکتا رہا لیکن ہم نے اس کی مدد نہ کی وغیرہ وغیرہ ان لوگوں کو تلاش کر کے ان سے معافی مانگیے نیچے معافی کے کچھ تقاضے بیان کیے جا رہے ہیں ان پر عمل کر کے معافی مانگ کر اپنا نامہ اعمال درست کیا جا سکتا ہے
1. آپ جس سے معافی مانگ رہے ہیں کم از کم آپ کا دل اس بات کی گواہی ضرور دے کہ آپ نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے
2. آپ اپنی زیادتی پر شرمندہ بھی ہوں
3. یہ تو سب کو پتہ ہے کہ معافی ہنس ہنس کر نہیں مانگی جاتی بلکہ رو کر مانگی جاتی ہے ورنہ کم از کم چہرے پر شرمندگی کے آثار کا ہونا بہت ضروری ہے
4. بروڈ کاسٹ لسٹ کے اندر معافی کا پیغام بھیج کر اپنے آپ کو سرخرو سمجھنا اس سے بڑی بے وقوفی کوئی بھی نہیں
5. اتنے میسجز بھیجنے کی بجائے کیوں نہ بیٹھ کر ایک لسٹ بنائی جائے کہ میں نے سال میں کس کس سے ملاقات کی اس کس کے ساتھ معاملات کیے اور پھر اس سے جا کر شب برات سے پہلے معافی مانگ لی جائے بالخصوص اپنے امی ابو بھائی بہنوں رشتہ داروں گلی محلے والوں میں سے دیکھے کیونکہ عمومی طور پہ ان کے ساتھ ہمارا روزانہ کا واسطہ پڑتا ہے
براہ کرم رسمی معافیوں سے چھٹکارا پائیے اور حقیقت کے ساتھ ایک دفعہ مجرم بن کر ان لوگوں کی کچہریوں میں حاضر ہو جائیں جن کے ساتھ ہم نے زیادتیاں کی ہیں
از ابوزین پروفیسر مبشر نعیم عطاری
11 شعبان المعظم 1445 ہجری بمطابق 22 فروری 2024

15/12/2023
Want your school to be the top-listed School/college in Gujranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Gujranwala