Darsgah Islamic school

Darsgah Islamic school

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Darsgah Islamic school, Education & Learning, Al-Hamd Street 1, Muhammad Nagar 1, Gujranwala.

11/03/2026

Today activity

25/02/2026

Many Legends in a frame

14/02/2026

Coloring time

17/01/2026

والدین سکول کو قصوروار کیوں سمجھتے ہیں؟

ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں بچہ ہمارا ہوتا ہے، مگر ذمہ داری دوسروں کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ جیسے ہی بچہ صبح اسکول کے دروازے میں داخل ہوتا ہے، کئی والدین ذہنی طور پر خود کو فارغ سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اب فیس ادا ہو چکی ہے، لہٰذا باقی تمام فرائض بھی ادا ہو گئے۔

اب یہ اسکول کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو تعلیم بھی دے، اخلاق بھی سکھائے، تربیت بھی کرے، تمیز بھی دے، ہنر بھی دے، اور اگر ممکن ہو تو ایک مکمل “اچھا انسان” پیک کر کے شام کو واپس کر دے۔ یہ سوچ نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی ہے، کیونکہ یہ سوچ والدین کو اپنی اصل ذمہ داری سے بری الذمہ کر دیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسکول کے پاس بچے کے دن کے صرف چند گھنٹے ہوتے ہیں، اور وہ بھی ایک محدود دائرے میں، ایک طے شدہ نظام کے تحت۔ اسکول نصاب پڑھا سکتا ہے، کچھ عادات سکھا سکتا ہے، کچھ حدود متعین کر سکتا ہے، مگر وہ بچے کی پوری شخصیت نہیں بنا سکتا۔ انسان کی تعمیر کوئی ایک جگہ، ایک ادارہ یا ایک فرد نہیں کرتا، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں بچے کے اردگرد موجود ہر چیز شامل ہوتی ہے۔ بچہ جو کچھ دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جس ماحول میں سانس لیتا ہے، وہ سب اس کے اندر جمع ہوتا رہتا ہے۔

بچہ اصل میں گھر میں بنتا ہے۔ ماں باپ کے رویّے، ان کی گفتگو، ان کا غصہ، ان کی برداشت، ان کا سچ، ان کا جھوٹ، یہ سب لاشعوری طور پر بچے کے اندر منتقل ہوتا ہے۔ بہن بھائیوں کا لہجہ، رشتہ داروں کا انداز، گھر کا مجموعی ماحول، یہ سب بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد گلی محلہ آتا ہے، جہاں وہ مختلف لوگوں کو دیکھتا ہے، مختلف زبانیں سنتا ہے، مختلف رویّے سیکھتا ہے۔ بازار سے گزرتے ہوئے، ٹرانسپورٹ میں بیٹھتے ہوئے، دکانوں کے سامنے رکتے ہوئے، وہ ایسی آوازیں اور مناظر دیکھتا ہے جو اس کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔

پھر ہمارے دور کا سب سے طاقتور استاد آتا ہے: اسکرین۔ موبائل فون، ٹی وی، کارٹون، یوٹیوب اور سوشل میڈیا۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جو دن کے کئی گھنٹے بچے کی سوچ، زبان، ردعمل اور رویّے کو شکل دیتے ہیں۔ ایک بچہ جب موبائل کے سامنے بیٹھتا ہے تو وہ صرف وقت ضائع نہیں کر رہا ہوتا، وہ ایک خاص قسم کی دنیا اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے۔ وہ دنیا جس میں چیخ ہے، جلدی ہے، ضد ہے، غصہ ہے اور غیر ضروری خواہشات ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر بچہ یہ سب کچھ چوبیس گھنٹوں میں جذب کر رہا ہے تو کیا صرف چھ گھنٹے کا اسکول اس سب کا توڑ کر سکتا ہے؟

یہاں ذرا انصاف سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر گھر کا ماحول خراب ہو، گفتگو تلخ ہو، والدین خود موبائل میں گم ہوں، بچے کو وقت نہ دیا جائے، اس کے سوال نہ سنے جائیں، اس کے احساسات کو نظر انداز کیا جائے، اور پھر یہ توقع رکھی جائے کہ اسکول جا کر وہ خودبخود سدھر جائے گا، تو یہ ایک فریب ہے۔

اسکول ذمہ دار ضرور ہے، مگر وہ والدین کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ استاد بچے کو راستہ دکھا سکتا ہے، مگر اس راستے پر چلانا والدین کا کام ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ یہ بچہ اسکول کا نہیں، آپ کا ہے۔ اس کا مستقبل فیس سے نہیں بنتا، ماحول سے بنتا ہے۔ اس کی زبان، اس کی سوچ، اس کا رویّہ، اس کا اخلاق — یہ سب کچھ اس وقت بنتا ہے جب وہ اسکول سے باہر ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ہر کمی، ہر خرابی اور ہر ناکامی کا الزام صرف اسکول پر ڈال دیں گے تو نہ بچہ سنورے گا، نہ نظام بہتر ہو گا، اور نہ ہی معاشرہ آگے بڑھے گا۔

یاد رکھئے، تعلیم اسکول دیتا ہے، مگر انسان گھر بناتا ہے۔ جب تک والدین یہ حقیقت تسلیم نہیں کریں گے، تب تک ہم اسکول کو کٹہرے میں کھڑا کرتے رہیں گے اور خود بری الذمہ بنتے رہیں گے۔ اور یہ رویّہ سب سے زیادہ نقصان اسی بچے کو پہنچاتا ہے، جس کے نام پر ہم سب ایک دوسرے پر الزام ڈال رہے ہوتے ہیں۔
Credit
@ رہبر تعلیم
https://www.facebook.com/share/1DhEj4dr1U/

Photos from Darsgah Islamic school's post 08/01/2026
Photos from Darsgah Islamic school's post 23/10/2025

Some glimpse from class room

Photos from Darsgah Islamic school's post 20/10/2025

بچوں میں ہینڈ پرنٹنگ سرگرمیوں کے فائدے 👋🎨

ہاتھ سے پرنٹنگ یا ہاتھ کے نشان سے تصویریں بنانے والی سرگرمیاں نہ صرف دلچسپ ہوتی ہیں بلکہ بچوں کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی نشوونما میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں

🧠 1. دماغی اور حسی (Sensory) صلاحیتوں کی نشوونما

ہاتھ سے رنگ لگانے اور چھونے سے بچے کے حواس (Touch, Sight, Movement) متحرک ہوتے ہیں۔

آنکھ اور ہاتھ کی ہم آہنگی بہتر ہوتی ہے۔

مختلف رنگوں، ساختوں اور اشکال کو پہچاننے میں مدد ملتی ہے۔

✋ 2. باریک حرکات (Fine Motor Skills) کی بہتری

ہاتھ اور انگلیوں کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔

بچے لکھنے، کاٹنے اور پکڑنے جیسے کام بہتر طور پر سیکھتے ہیں
🎨 3. تخلیقی صلاحیت اور تصوراتی قوت میں اضافہ

بچہ اپنے ہاتھ کے نشان سے جانور، پھول یا درخت جیسی تخلیقات بناتا ہے۔

رنگوں کے امتزاج سے سوچنے اور نئے خیالات پیدا کرنے کی عادت بنتی ہے۔

😊 4. خوداعتمادی اور جذباتی اظہار

اپنی بنائی ہوئی تصویر دیکھ کر بچے میں خود پر اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

جب بچہ اپنے احساسات کو لفظوں میں بیان نہیں کر پاتا، تو رنگوں کے ذریعے اظہار کر سکتا ہے۔

🤝 5. سماجی تعلقات اور باہمی تعاون

اگر یہ سرگرمی گروپ میں کی جائے تو بچے مل جل کر کام کرنا، باری لینا اور اشتراک سیکھتے ہیں۔

کلاس روم یا گھر میں ایک ساتھ ہینڈ پرنٹنگ کرنے سے تعلق مضبوط ہوتے ہیں۔

🪴 6. یادگار تخلیقات اور جذباتی رشتہ

بچے کے ہاتھ کے نشانات خوبصورت یادگار بن جاتے ہیں۔

والدین ان نشانات سے بچے کی بڑھوتری کا ریکارڈ بھی رکھ سکتے ہیں۔

Photos from Darsgah Islamic school's post 17/10/2025

On international students day for our beloved student their are some gift from their worthy teachers

10/10/2025

Friday activities

Want your school to be the top-listed School/college in Gujranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Al-Hamd Street 1, Muhammad Nagar 1
Gujranwala

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:00
Wednesday 08:00 - 14:00
Thursday 08:00 - 14:00
Friday 08:00 - 00:00
Saturday 08:00 - 14:00