تمام معزز دوستوں، اسکول مالکان اور اساتذہ کرام سے گزارش ہے کہ بچوں کو اس بات کا پابند کریں کہ وہ کلاس میں دن بھر مختلف کام کرنے کے دوران *درود پاک* پڑھتے رہیں۔
جب وہ فارغ ہوں، کچھ لکھ رہے ہوں، بریک ٹائم ہو۔ یا کچھ اور کام کریں۔ ہر بچہ زیادہ سے زیادہ درود پاک پڑھ۔ آہستہ آہستہ بچوں کی درود پاک پڑھنے کی عادت اسکول میں آپ کے زیر نگرانی ہی پختہ ہو جائے گی۔ اور اس طرح ہمارے لئے بھی صدقہ جاریہ بنے گا۔
اگر چھوٹے بچے یا وہ بچے جن کو درود ابراہیمی نہیں آتا تو وہ اتنا ہی پڑھ لیں۔
*صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم*
ہی پڑھ لیں۔
پلے گروپ تا کلاس دہم یہ کام لازمی اور ضرور کریں۔
ممکن ہو تو بچوں کو پابند کیا جائے کہ وہ پڑھے جانے والے درود پاک کی تعداد بھی یاد رکھنے کی کوشش کریں۔
آپ سب یہ کام لازمی کریں پھر خود پر اور ادارے پر اللہ کا فضل و کرم دیکھی۔
*ان شاءاللہ*
*اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ*
Alliance of Private School Associations Pakistan
Working for the betterment of Private Schools
22/10/2022
موبائل فون اور تعلیم:
(تحریر:سجاد خان)
آج کل میٹرک خاص طور پر 9th کے نتائج زیر بحث ہیں ۔
عمومی طور پر جہاں پر ضلع بھر میں 9th کلاس کے نتائج میں صرف 37٪ بچے پاس ہوئے ہیں وہاں پر تقریباً تمام اداروں میں 90٪ فیصد اور خاص طور پر 95٪ سے زائد نمبر لینے والے طلباء کی تعداد نا ہونے کے برابر ہے۔ گزشتہ سالوں میں صرف 90 ٪ سے زائد نمبر والے بچوں کی ادارے تشہیر کرتے تھے لیکن آس سال 80٪ فیصد والے بچوں کی بھی ادارے تشہیر کرنے پر مجبور ہیں۔
ہمارے ہاں میڈیکل کالجز ، انجنیرنگ یونیورسٹی ، دیگر یونیورسٹیوں اور سرکاری جابز کے حصول کے لیے کیونکہ نمبرز ہی اکثر میرٹ کے حصول کا ذریعہ ہوتے ہیں لہٰذا والدین ، اساتذہ اور معاشرہ بجا طور پر پریشان ہیں
اس کی کئ وجوہات ہیں جو کہ زیر بحث لائئ جا سکتی ہیں لیکن گزشتہ تین سالوں میں کورونا لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن کلاسز اور ایجوکیشن کے نام پر گورنمنٹ کی پالیسی کے تحت بچوں کو انفرادی طور پر Zoom meeting /classes, WhatsApp, YouTube وغیرہ سے لیکچررز اور assignment کے لیے سمارٹ موبائل فون دیے گئے ۔۔
اس سے بچوں نے تعلیم حاصل کی یا نہیں لیکن وہ موبائل فوبیہ کا ضرور شکار ہو گئے ۔ کئ کئ گھنٹے آن لائن رہنا نظر اور صحت کی بربادی ، چڑچڑا پن ، ڈپریشن ، نیند ناپوری ہونے کے مسائل کے ساتھ ساتھ ساری ساری رات آن لائن گیمز ، پورنو گرافی ، TikTok اور دیگر ایپس پر بیٹے ،بیٹیاں ، بہن بھائی ناچنے گانے ، وڈیو آور تصاویر لگانے میں مصروف ہیں ۔ اس حد تک معاشرہ گر گیا ہے کہ اٹلی کی روٹی (پیزہ) کھاتے ہوئے سیلفی لینا اور اسے سوشل میڈیا پر لگانا ہمارے معاشرے میں فرض کی حیثیت حاصل کر چکا ہے ۔
پہلے معاشرے میں 99٪ کمانے والے اور ایک فیصد شادی بیاہ پر ناچ، گانےاور ایکٹنگ کر کے تفنن پیش کرنے والے ہوتے تھے جن کو مراثی ، بھنڈ ، کنجڑ ، نٹ، بہروپیے ، اداکار اور دلے جیسے القابات سے پکار کر حوصلہ شکنی کی جاتی تھی تاکہ وہ بھی محنت مزدوری کر کے معاشرے کے لیے مفید شہری بن سکیں اور مزید نوجوان نسل اس طرف راغب نہ ہو پائے ۔۔۔
مگر اب TikTokers وغیرہ کے نام پر جو مرضی کرکے فالورز کو بڑھانا ہے ۔والدین اور اساتذہ کی طرف سے معاشرہ مادر پدر آزاد ہے۔۔۔
اکثر والدین کو سوشل میڈیا کے نقصانات کا اندازہ نہیں اور اگر ہے بھی تو اکثر شوہروں کی انکی بیویوں نے آنکھیں ، کان اور دماغ آس معاملےمیں بند کر رکھی ہیں اور آگر کوئی استاد غلطی سے احساس زمے داری کے تحت کچھ کہہ بیٹھے تو مار نہیں پیار کے نعرے کا استعمال بےدریغ شروع ہو جاتا ہے۔ نفسیاتی دباؤ ، بچوں کو بےجا پریشان کرنے جیسی اصطلاحات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔۔۔
اس رویے سے استاد معاشرے کے ان معاملات سے تقریباً لاتعلقی اختیار کر چکا ہے ۔
اٹھارہ سال سے کم عمر بچے اپنے نام پر سم کنیکشن بغیر بائیو میٹرک تصدیق کے نہیں جاری کرا سکتے اور کسی اور کا موبائل فون اور کنیکشن دونوں کا استعمال قانونی طور پر جرم ہیں۔ لہذا 18سال کے کم عمر کے بچوں کو ذاتی فون اور انٹرنیٹ کنیکشن دینا قانونی جرم ہے
کرونا کے دوران آن لائن ایجوکیشن سے جہاں پہلے ہی پریکٹیکلز کے بغیر سکول کالجز میں پڑھایا جارہا تھا وہاں میڈیکل کالجز ، انجنیرنگ یونیورسٹی اور دیگر شعبوں میں بھی بغیر پریکٹیکل اور سکلز کے ایک کھیپ نکلی ہے آس کے اثرات بہت دور رس ہونگے ...
وہیں گریس مارکس ، سلیکٹڈ کورس ، محدود مضامین کے پیپر لیکر 1100/1100 نمبر بانٹے گئے ۔۔
اب اس موبائل فون فوبیہ کے شکار طلباء کو اس بیماری سے نکالنا انتہائی مشکل اور پیچیدہ عمل ہو چکا ہے ۔
میری یہ تمام تعلیمی اداروں کے اساتذہ ، انتظامیہ اور حکومت سے گزارش ہے کہ خدارا بچوں کو آن لائن لیکچرز ، assignment, tasks, activities,کے نام پر موبائل فون کے استعمال سے بچائیں ۔
ہمارے بچے موبائل فون اور انٹرنیٹ کے غلط اور بےدریغ استعمال سے تباہ ہو رہے ہیں ۔۔۔
آس معاشرے کو مزید تباہ ہونے سے بچائیں ۔۔۔
والدین آپنے بچوں کے اساتذہ سے مسلسل رابطے میں رہیں ۔.
اساتذہ کو عزت دیں ۔۔
اساتذہ اور والدین اخلاقی زمہ داری کا احساس کریں ۔۔۔
خدارا بچوں کو انکے انفرادی موبائل فون نہ لے کے دیں انتہائی مجبوری کی صورت میں طلباء چند لمحوں کے لیے اپنے والدین کا فون استعمال کریں ۔والدین بچوں کے فون کے استعمال کے بارے میں ہر قسم کی آگاہی رکھیں ۔۔۔
یہ ایک چیلنج ہے آور آس کو ہمیں مل کر achieve کرنا ہے ۔۔۔
انشاء اللہ آس سے ضرور بہتری ممکن ہو پائے گی۔۔۔
22/10/2022
22/10/2022
اہلیان گوجرانوالہ کے لیے تین روزہ کتاب میلہ
کتاب سے محبت ، علم سے محبت
ملکی اور بین الاقوامی پبلشرز کی کتب حیرت انگیز رعائیتی قیمت پر دستیاب ہوں گی۔
تمام شعبہ زندگی سے وابستہ افراد کے لیے کتب کی بہترین کلیکشن۔
اردو ادب، انگریزی ادب ، ناول ، ڈکشنری ، بچوں کی کتب ، سفرنامہ
زیر اہتمام:
گوجرانوالہ چیمبر آف ایجوکیشن سکولز
آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اونرز ایسوسی ایشن (گوجرانوالہ)
ترتیب پروگرام :
خواتین اور بچوں کے لیے مختص دن: 21 اکتوبر بروز جمعہ
مرد حضرات اور طلباء کے لیے: 22 اکتوبر بروز ہفتہ
سکول سربراہان ، پرنسپلز اور اساتذہ کرام کے لیے: 23 اکتوبر بروز اتوار
اوقات کار: صبح 10:00 بجے سے لیکر شام 06:00 بجے تک
بمقام ایپیکس کالج گوجرانوالہ
نزد بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن
*آگاہی پروگرام برائے مطالعہ قرآن حکیم*
محترم سربراہان ادارہ السلام علیکم !
*گوجرانوالہ چیمبر آف ایجوکیشن اسکولز* اور *آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز اونرز ایسوسی ایشن* کے زیر اہتمام *دی علم فاونڈیشن* کے تعاون سے *مطالعہ قرآن حکیم* کی اسکولز اور کالجز میں ترویج اور تفہیم کے سلسلہ میں ایک روز آگاہی سیشن کا اہتمام مورخہ 27 نومبر 2021 بروز ہفتہ کو بمقام *دی لرنگ ہب کالج* سوئی گیس روڈ کیا گیا۔
جس میں ملکی اور بین الاقوامی سطح کے معروف مذہبی سکالر جناب *شجاع الدین شیخ* صاحب تشریف لائے اور *مطالعہ قرآن حکیم کی بہترین تفہیم* کے سلسلہ میں شرکاء سے خطاب فرمایا۔
پروگرام ہذا خصوصی طور پر سربراہان ادارہ ؛ پرنسپل صاحبان اور فیصلہ سازی میں کلیدی کردار کے حامل افراد بے بھرپور شرکت کی۔
تمام حاضرین میں مطالعہ قرآن حکیم کا حصہ اول بطور سیمپل تقسیم کیا گیا۔ پروگرام کے آخر میں میزبان کالج "دی لرنگ ہب کالج برائے خواتین " کی جانب سے تمام شرکاء سیمینار کو پرتکلف کھانا پیش کیا گیا۔
The Learning Hub College For Girls
0304 1110166
https://maps.app.goo.gl/dE2ZxK8bkc6Hsy1x6
22/11/2021
تمام تنظیمات کے سربراہان اور سکول مالکان سے گزارش ہے کہ اپنی اور اپنے متعلقہ افراد کی رجسٹریشن 25 نومبر تک کنفرم کر دیں تاکہ موقع پر انھیں پروگرام میں شمولیت پر کوئی دقت نا ہو۔ چونکہ سیمینار سکول سیکٹر کے انتہائی ضروری اور متعلقہ ایشو ترجمہ قرآن پاک کے سلسلے میں ہے۔ نشیستیں محدود ہیں۔ آپ کی بروقت اطلاع آپ سمیت منتظمیں کوکسی بھی کوفت سے محفوظ رکھنے میں مدد گار ہو سکےگی۔
والسلام
محمد ندیم انور
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Gujranwala
52250