07/09/2026
مروّت و لحاظ
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک تحقیقی مطالعہ
تحقیقی مقالہ
مرتب: علامہ مفتی محمد افضل سعیدی
---
فہرستِ مضامین
1. خلاصۂ تحقیق
2. کلیدی الفاظ
3. تمہید
4. مسئلۂ تحقیق
5. مقاصدِ تحقیق
6. منہجِ تحقیق
7. مروّت و لحاظ کا مفہوم
8. قرآنِ کریم کی روشنی میں مروّت و لحاظ
9. احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں مروّت و لحاظ
10. مروّت و لحاظ کی دینی اہمیت
11. مروّت و لحاظ کی عملی صورتیں
12. مروّت، لحاظ اور اسلامی اعتدال
13. مروّت و لحاظ کے فقدان کے نقصانات
14. موجودہ دور میں مروّت و لحاظ کی ضرورت
15. نتائجِ تحقیق
16. سفارشات
17. خاتمہ
18. حواشی و حوالہ جات
19. فہرستِ مصادر و مراجع
---
1۔ خلاصۂ تحقیق
مروّت و لحاظ اسلامی اخلاقیات کے اہم اجزا ہیں۔ مروّت سے مراد شرافت، حسنِ سلوک، بھلائی، ایثار اور انسانی وقار کی حفاظت ہے، جبکہ لحاظ سے مراد دوسروں کے حقوق، عزت، جذبات، عمر، مقام اور حالات کا خیال رکھنا ہے۔ اسلام نے ان دونوں اوصاف کو محض معاشرتی آداب کے طور پر نہیں بلکہ ایمان، تقویٰ، احسان اور حقوق العباد کے عملی تقاضوں کے طور پر پیش کیا ہے۔
قرآنِ کریم میں عدل و احسان، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، نرم گفتگو، عفو و درگزر، غیبت و تمسخر سے اجتناب اور ضرورت مندوں کے ساتھ بھلائی کی تعلیمات مروّت و لحاظ کی جامع بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں حسنِ اخلاق، رحم دلی، پڑوسیوں کے حقوق، آسانی پیدا کرنے اور دوسروں کو زبان و ہاتھ سے محفوظ رکھنے کی تاکید ملتی ہے۔
یہ مقالہ اس امر کا جائزہ لیتا ہے کہ مروّت و لحاظ اسلامی معاشرے میں کس طرح باہمی محبت، خاندانی استحکام، سماجی تعاون اور انسانی عزت کے تحفظ کا ذریعہ بنتے ہیں، نیز موجودہ دور میں ان اوصاف کو عملی زندگی میں فروغ دینے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔
---
2۔ کلیدی الفاظ
مروّت، لحاظ، حسنِ اخلاق، احسان، حقوق العباد، صلہ رحمی، عفو و درگزر، احترامِ انسانیت، معاشرتی آداب، اسلامی اخلاقیات۔
---
3۔ تمہید
اسلام ایک جامع ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی، اجتماعی، اخلاقی اور روحانی زندگی کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں عبادات کے ساتھ معاملات اور اخلاق کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج انسان کو اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کی تربیت دیتے ہیں، جبکہ حسنِ اخلاق، عدل، احسان، صلہ رحمی اور حقوق العباد معاشرے کو امن و محبت کا گہوارہ بناتے ہیں۔
مروّت و لحاظ اسی اخلاقی نظام کے اہم مظاہر ہیں۔ ایک انسان علم، دولت یا منصب میں بڑا ہو سکتا ہے، لیکن اس کی حقیقی عظمت اس کے کردار، شرافت اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک سے ظاہر ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
««إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ»
“مجھے اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔”[^1]»
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اخلاقِ حسنہ اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہیں۔ مروّت و لحاظ بھی انہی اعلیٰ اخلاق کی عملی صورتیں ہیں۔
عصرِ حاضر میں موضوع کی اہمیت
موجودہ دور میں سوشل میڈیا، معاشی دباؤ، باہمی اختلافات، خاندانی تنازعات اور معاشرتی بے اعتدالی کے باعث مروّت و لحاظ کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ بعض اوقات لوگ اپنے حقوق کے مطالبے میں دوسروں کی عزت، جذبات اور حالات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں اسلامی اخلاقیات کی روشنی میں مروّت و لحاظ کا مطالعہ نہایت اہم ہے۔
---
4۔ مسئلۂ تحقیق
اس تحقیق کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ:
اسلامی تعلیمات میں مروّت و لحاظ کا مفہوم کیا ہے، ان کی دینی اہمیت کس حد تک ہے، قرآن و حدیث میں ان کے کیا دلائل موجود ہیں، اور موجودہ دور کی روزمرہ زندگی میں ان اوصاف کو کس طرح عملی طور پر اختیار کیا جا سکتا ہے؟
---
5۔ مقاصدِ تحقیق
اس مقالے کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:
1. مروّت و لحاظ کے لغوی اور اصطلاحی مفہوم کو واضح کرنا۔
2. قرآنِ کریم میں مروّت و لحاظ کے بنیادی اصولوں کا مطالعہ کرنا۔
3. احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ان اوصاف کی اہمیت بیان کرنا۔
4. مروّت و لحاظ کا تعلق ایمان، تقویٰ اور حقوق العباد سے واضح کرنا۔
5. روزمرہ زندگی میں ان کی عملی مثالیں پیش کرنا۔
6. مروّت و لحاظ اور چاپلوسی، کمزوری یا حق تلفی کے درمیان فرق واضح کرنا۔
7. موجودہ دور میں ان اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے عملی سفارشات پیش کرنا۔
---
6۔ منہجِ تحقیق
اس مقالے میں توصیفی، تجزیاتی اور استدلالی منہج اختیار کیا گیا ہے۔ بنیادی مصادر کے طور پر قرآنِ کریم، کتبِ حدیث اور اسلامی اخلاقیات سے متعلق معتبر کتب سے استفادہ کیا گیا ہے۔ قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں مروّت و لحاظ کے مفہوم، دینی اہمیت اور عملی تقاضوں کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
---
باب اول
مروّت و لحاظ کا مفہوم
1۔1 مروّت کا لغوی مفہوم
مروّت عربی لفظ مُرُوءَة سے مشتق ہے۔ عربی لغات میں اس کے مفہوم میں انسانی شرافت، بزرگی، پاکیزہ کردار، حسنِ سلوک اور ایسے اعمال شامل ہیں جو انسان کے وقار کے شایانِ شان ہوں۔
مروّت کا تعلق صرف دوسروں کے ساتھ بھلائی سے نہیں بلکہ اپنے کردار کو بھی شرافت، پاکیزگی اور اخلاقی اصولوں کے مطابق ڈھالنے سے ہے۔
1۔2 مروّت کا اصطلاحی مفہوم
اصطلاحی طور پر مروّت سے مراد یہ ہے کہ انسان:
- شرافت اور پاکیزگی اختیار کرے۔
- دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔
- ضرورت مندوں کی مدد کرے۔
- اپنے قول و فعل سے دوسروں کو تکلیف نہ دے۔
- اپنی عزت کے ساتھ دوسروں کی عزت کا بھی خیال رکھے۔
- ایسے اعمال سے بچے جو انسانی وقار کے خلاف ہوں۔
1۔3 لحاظ کا لغوی مفہوم
لحاظ کے معنی ہیں: خیال، رعایت، پاس، احترام اور کسی کے مقام یا حالات کو مدنظر رکھنا۔
1.4 لحاظ کا اصطلاحی مفہوم
اصطلاحی طور پر لحاظ سے مراد یہ ہے کہ انسان:
- دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے۔
- عمر، مقام اور رشتے کی رعایت کرے۔
- گفتگو میں شائستگی اختیار کرے۔
- دوسروں کے جذبات کو مجروح نہ کرے۔
- کمزور اور ضرورت مند افراد کے حالات کو سمجھے۔
- اختلاف کے باوجود احترام کا دامن نہ چھوڑے۔
1.5 مروّت اور لحاظ میں فرق
پہلو| مروّت| لحاظ
بنیادی مفہوم| شرافت اور بھلائی| احترام اور رعایت
عملی صورت| مدد کرنا، ایثار کرنا| گفتگو میں نرمی، مقام کا خیال
تعلق| حسنِ سلوک سے| حقوق و جذبات کی حفاظت سے
مقصد| خیر اور بھلائی| عزت اور تعلقات کا تحفظ
دونوں اوصاف ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ مروّت انسان کو بھلائی کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ لحاظ اس بھلائی کو مناسب، باوقار اور دوسروں کے لیے قابلِ قبول بناتا ہے۔
---
باب دوم
قرآنِ کریم کی روشنی میں مروّت و لحاظ
2۔1 عدل و احسان کا حکم
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ
“بے شک اللہ عدل، احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے منع فرماتا ہے۔”»
حوالہ: سورۃ النحل، آیت: 90۔
تحقیقی تجزیہ
اس آیت میں عدل کے ساتھ احسان کا حکم دیا گیا ہے۔ عدل کا تقاضا ہے کہ انسان دوسروں کا حق ادا کرے، جبکہ احسان یہ ہے کہ وہ حق سے بڑھ کر بھلائی بھی کرے۔ مروّت و لحاظ اسی احسان کی عملی صورتیں ہیں۔
---
2۔2 والدین کے ساتھ حسنِ سلوک
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا
“اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔”»
حوالہ: سورۃ البقرۃ، آیت: 83۔
مزید فرمایا:
«فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا
“پس انہیں اُف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو اور ان سے عزت والی بات کہو۔”»
حوالہ: سورۃ الإسراء، آیت: 23۔
تحقیقی تجزیہ
یہ آیت مروّت و لحاظ کی نہایت جامع تعلیم ہے۔ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک صرف مالی خدمت تک محدود نہیں بلکہ گفتگو، لہجے، نشست و برخاست اور روزمرہ رویّے میں بھی احترام ضروری ہے۔
---
2۔3 نرم گفتگو کی تاکید
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا
“اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔”»
حوالہ: سورۃ البقرۃ، آیت: 83۔
تحقیقی تجزیہ
اچھی گفتگو میں سچائی، نرمی، شائستگی اور مخاطب کے جذبات کا خیال رکھنا شامل ہے۔ مروّت کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی بات درست ہونے کے باوجود اسے ایسے انداز میں پیش کرے جس سے بلاوجہ دل آزاری نہ ہو۔
---
2۔4 غصہ ضبط کرنا اور معاف کرنا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
“اور وہ لوگ جو غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔”»
حوالہ: سورۃ آل عمران، آیت: 134۔
تحقیقی تجزیہ
مروّت کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ انسان بدلہ لینے کی قدرت رکھنے کے باوجود معافی اور درگزر کو اختیار کرے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مروّت محض ظاہری آداب نہیں بلکہ نفس پر قابو پانے کا نام بھی ہے۔
---
2۔5 برائی کا جواب بھلائی سے دینا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ
“برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو سب سے بہتر ہو۔”»
حوالہ: سورۃ فصلت، آیت: 34۔
تحقیقی تجزیہ
یہ تعلیم انسان کو انتقام، سخت کلامی اور ضد کے بجائے حکمت، نرمی اور اچھے اخلاق اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ تاہم اس کا مطلب ظلم کو جائز قرار دینا نہیں بلکہ برائی کا مقابلہ بہترین اخلاقی اور شرعی طریقے سے کرنا ہے۔
---
2۔6 مذاق اور تحقیر سے ممانعت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ
“اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے، ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔”»
حوالہ: سورۃ الحجرات، آیت: 11۔
تحقیقی تجزیہ
اس آیت میں دوسروں کی تحقیر سے منع کیا گیا ہے۔ مروّت کا تقاضا ہے کہ کسی کی کمزوری، غربت، شکل و صورت یا غلطی کو مذاق کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔
---
2۔7 غیبت اور بدگمانی سے اجتناب
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا
“اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔”»
حوالہ: سورۃ الحجرات، آیت: 12۔
تحقیقی تجزیہ
غیبت انسان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتی ہے اور معاشرے میں بداعتمادی پیدا کرتی ہے۔ لحاظ کا تقاضا ہے کہ انسان کسی کی غیر موجودگی میں بھی اس کی عزت کا خیال رکھے۔
---
2۔8 ضرورت مندوں کے ساتھ بھلائی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى
“اچھی بات اور معافی اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد اذیت دی جائے۔”»
حوالہ: سورۃ البقرۃ، آیت: 263۔
تحقیقی تجزیہ
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نیکی کا مقصد صرف مالی مدد نہیں بلکہ انسان کی عزتِ نفس کی حفاظت بھی ہے۔ کسی غریب کی مدد کرکے اسے ذلیل کرنا یا احسان جتانا مروّت کے خلاف ہے۔
---
باب سوم
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں مروّت و لحاظ
3۔1 حسنِ اخلاق کی فضیلت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
««مَا مِنْ شَيْءٍ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ»
“قیامت کے دن میزان میں حسنِ اخلاق سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں ہوگی۔”»
حوالہ: جامع الترمذی، حدیث: 2002۔
تحقیقی تجزیہ
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حسنِ اخلاق آخرت میں عظیم اجر کا سبب ہے۔ مروّت و لحاظ چونکہ حسنِ اخلاق کی عملی صورتیں ہیں، اس لیے ان کی اہمیت بھی واضح ہو جاتی ہے۔
---
3۔2 ایمان اور حسنِ اخلاق
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
««أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا»
“ایمان والوں میں کامل ترین ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔”»
حوالہ: سنن ابی داؤد، حدیث: 4682؛ جامع الترمذی، حدیث: 1162۔
تحقیقی تجزیہ
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حسنِ اخلاق ایمان کے کمال کی علامت ہے۔ جو شخص عبادات کے ساتھ لوگوں کے حقوق، عزت اور جذبات کا خیال رکھتا ہے، وہ اسلامی اخلاقیات کے اعلیٰ معیار کے قریب ہوتا ہے۔
---
3۔3 آسانی پیدا کرنے کی تعلیم
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
««يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا»
“آسانی پیدا کرو، دشواری پیدا نہ کرو؛ خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔”»
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 69؛ صحیح مسلم، حدیث: 1734۔
تحقیقی تجزیہ
مروّت کا تقاضا ہے کہ انسان دوسروں کے لیے بلاوجہ مشکلات پیدا نہ کرے اور جہاں ممکن ہو آسانی پیدا کرے۔
---
3۔4 زبان اور ہاتھ سے حفاظت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
««الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ»
“مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”»
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 10؛ صحیح مسلم، حدیث: 40۔
تحقیقی تجزیہ
اس حدیث میں مروّت و لحاظ کا بنیادی اصول بیان ہوا ہے کہ انسان اپنی گفتگو اور عمل سے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچائے۔
---
3.5 رحم دلی کی فضیلت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
««مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ»
“جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔”»
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 5997؛ صحیح مسلم، حدیث: 2318۔
تحقیقی تجزیہ
رحم دلی مروّت کی بنیاد ہے۔ کمزور، بیمار، بوڑھے، بچے اور ضرورت مند افراد کے ساتھ نرمی کرنا اسلامی اخلاق کا تقاضا ہے۔
---
3.6 پڑوسی کے حقوق
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
««مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّىٰ ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ»
“جبریل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں مسلسل وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔”»
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 6014؛ صحیح مسلم، حدیث: 2624۔
تحقیقی تجزیہ
پڑوسی کا لحاظ صرف سلام دعا تک محدود نہیں بلکہ اس کے آرام، عزت اور ضروریات کا خیال رکھنا بھی اس میں شامل ہے۔
---
3.7 راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
««وَتُمِيطُ الْأَذَىٰ عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ»
“راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے۔”»
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 2827؛ صحیح مسلم، حدیث: 1009۔
تحقیقی تجزیہ
یہ حدیث بتاتی ہے کہ مروّت صرف بڑے کارناموں کا نام نہیں بلکہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی بھلائیاں بھی اس میں شامل ہیں۔
---
3.8 لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
««وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ»
“لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔”»
حوالہ: جامع الترمذی، حدیث: 1987۔
تحقیقی تجزیہ
یہ حدیث مروّت و لحاظ کے لیے ایک جامع رہنما اصول ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ہر شخص کے ساتھ شائستگی، نرمی اور حسنِ سلوک کا معاملہ کرے۔
---
باب چہارم
مروّت و لحاظ کی دینی اہمیت
4۔1 اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ
قرآنِ کریم نے عدل و احسان کا حکم دیا ہے۔ مروّت و لحاظ اسی احسان کی عملی صورتیں ہیں۔ جب انسان دوسروں کے ساتھ بھلائی کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ اخلاق اختیار کرتا ہے۔
4۔2 ایمان کے کمال کا ذریعہ
حسنِ اخلاق ایمان کے کمال کی علامت ہے۔ مروّت و لحاظ انسان کو صرف ظاہری شرافت نہیں دیتے بلکہ اس کے باطن میں بھی نرمی، رحم اور تقویٰ پیدا کرتے ہیں۔
4۔3 حقوق العباد کی ادائیگی
اسلام میں حقوق العباد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ مروّت و لحاظ انسان کو دوسروں کے حقوق ادا کرنے، ان کی عزت محفوظ رکھنے اور ان کے ساتھ انصاف کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
4۔4 معاشرتی محبت اور اتحاد
جب لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں، معاف کرتے ہیں اور عزت کا خیال رکھتے ہیں تو معاشرہ مضبوط ہوتا ہے۔
4۔5 اختلافات کے خاتمے کا ذریعہ
مروّت انسان کو غصے کے وقت بھی شرافت اور اعتدال اختیار کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ اس سے معمولی اختلافات بڑے تنازعات میں تبدیل ہونے سے بچ جاتے ہیں۔
4۔6 انسانی عزت و وقار کا تحفظ
اسلام نے ہر انسان کی عزت کو اہمیت دی ہے۔ کسی کی غربت، کمزوری یا غلطی کو بنیاد بنا کر اسے ذلیل کرنا اسلامی اخلاق کے خلاف ہے۔
---
باب پنجم
روزمرہ زندگی میں مروّت و لحاظ کی عملی مثالیں
5۔1 والدین کے ساتھ مروّت و لحاظ
- ان سے نرمی سے گفتگو کرنا۔
- ان کی ضروریات کا خیال رکھنا۔
- بڑھاپے میں خدمت کرنا۔
- ان کی بات توجہ سے سننا۔
- ان کے سامنے آواز بلند نہ کرنا۔
- ان کی غلطی پر بھی ادب سے بات کرنا۔
مثال: اگر والدین کسی بات پر ناراض ہوں تو فوراً جواب دینے کے بجائے خاموشی سے ان کی بات سننا اور مناسب وقت پر ادب سے وضاحت کرنا مروّت ہے۔
---
5.2 اساتذہ اور بزرگوں کا احترام
- ان سے احترام سے بات کرنا۔
- ان کی مجلس میں شائستگی اختیار کرنا۔
- ان کی علمی رہنمائی سے فائدہ اٹھانا۔
- ان کی موجودگی میں غیر ضروری شور یا بدتمیزی سے بچنا۔
مثال: کسی بزرگ کے بیٹھنے کے لیے جگہ چھوڑ دینا یا استاد کی گفتگو کے دوران توجہ سے سننا لحاظ ہے۔
---
5.3 چھوٹوں اور بچوں کے ساتھ شفقت
- بچوں کی بات توجہ سے سننا۔
- ان کی غلطیوں پر مناسب انداز میں اصلاح کرنا۔
- انہیں سب کے سامنے ذلیل نہ کرنا۔
- کم عمر افراد کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنا۔
مثال: اگر بچہ کوئی غلطی کر دے تو اسے سب کے سامنے ڈانٹنے کے بجائے الگ سے سمجھانا لحاظ ہے۔
---
5.4 غریب اور ضرورت مند کا لحاظ
- ضرورت مند کی مدد کرنا۔
- اس کی عزتِ نفس محفوظ رکھنا۔
- مدد کے بعد احسان نہ جتانا۔
- اس کی تصویر یا نجی معلومات بلااجازت نشر نہ کرنا۔
مثال: کسی غریب کی مدد کرتے وقت اس کی تصویر بنا کر تشہیر نہ کرنا، بلکہ خاموشی سے اس کی ضرورت پوری کرنا مروّت ہے۔
---
5.5 پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک
- بلاوجہ تکلیف نہ دینا۔
- ان کے آرام کا خیال رکھنا۔
- خوشی اور غمی میں شریک ہونا۔
- ضرورت کے وقت مدد کرنا۔
- ان کی نجی زندگی میں بلاوجہ مداخلت نہ کرنا۔
مثال: رات کے وقت غیر ضروری شور سے پرہیز کرنا یا بیمار پڑوسی کی عیادت کرنا لحاظ ہے۔
---
5.6 رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی
- تعلق قائم رکھنا۔
- ناراضی کے باوجود قطع تعلق نہ کرنا۔
- ضرورت کے وقت مدد کرنا۔
- خوشی اور غمی میں شریک ہونا۔
- معمولی اختلافات کو رشتے توڑنے کا سبب نہ بنانا۔
مثال: کسی رشتہ دار سے اختلاف ہو جائے تو سلام دعا برقرار رکھنا اور مناسب وقت پر صلح کی کوشش کرنا مروّت ہے۔
---
5.7 دوستوں کے ساتھ مروّت
- دوست کی غیر موجودگی میں اس کی عزت کا دفاع کرنا۔
- اس کے راز کی حفاظت کرنا۔
- اس کی کمزوریوں کو دوسروں کے سامنے بیان نہ کرنا۔
- مشکل وقت میں اس کا ساتھ دینا۔
- غلطی پر خیرخواہی سے اصلاح کرنا۔
مثال: دوست کی کسی نجی بات کو سوشل میڈیا پر مذاق کے طور پر نشر نہ کرنا لحاظ ہے۔
---
5.8 اختلافِ رائے میں مروّت
اختلافِ رائے انسانی زندگی کا فطری حصہ ہے۔ اسلام نے اختلاف کے باوجود شائستگی اور انصاف کا حکم دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ
“کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔”»
حوالہ: سورۃ المائدۃ، آیت: 8۔
مثال: کسی علمی یا سماجی اختلاف میں مخالف کی نیت پر حملہ کرنے کے بجائے اس کے مؤقف پر دلیل سے گفتگو کرنا مروّت ہے۔
---
5.9 سوشل میڈیا پر مروّت و لحاظ
- کسی کی اجازت کے بغیر اس کی تصویر یا نجی معلومات نشر نہ کرنا۔
- غیر مصدقہ خبر آگے نہ بڑھانا۔
- اختلاف میں گالم گلوچ سے بچنا۔
- کسی کی غلطی کو وائرل کرکے اسے ذلیل نہ کرنا۔
- طنز، تمسخر اور تحقیر سے پرہیز کرنا۔
- دوسروں کے وقت اور توجہ کا لحاظ رکھنا۔
مثال: کسی شخص کی غلطی پر اسے عوامی طور پر رسوا کرنے کے بجائے نجی پیغام کے ذریعے خیرخواہانہ انداز میں سمجھانا مروّت ہے۔
---
5.10 کاروبار اور ملازمت میں مروّت
- ناپ تول میں کمی نہ کرنا۔
- ملازمین کے حقوق ادا کرنا۔
- گاہک کو دھوکا نہ دینا۔
- وعدہ پورا کرنا۔
- کمزور فریق کا ناجائز فائدہ نہ اٹھانا۔
- قرض دار کو مہلت دینا، اگر وہ واقعی تنگ دست ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ
“اور اگر قرض دار تنگ دست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینا چاہیے۔”»
حوالہ: سورۃ البقرۃ، آیت: 280۔
---
باب ششم
مروّت، لحاظ اور اسلامی اعتدال
6.1 مروّت اور چاپلوسی میں فرق
مروّت شرافت اور بھلائی کا نام ہے، جبکہ چاپلوسی کسی ناجائز فائدے کے لیے جھوٹی تعریف یا خوشامد کا نام ہے۔ مروّت انسان کو سچ بولنے سے نہیں روکتی، بلکہ سچ کو مناسب انداز میں بیان کرنا سکھاتی ہے۔
6.2 لحاظ اور حق تلفی میں فرق
کسی کے جذبات کا لحاظ رکھنا اچھی بات ہے، لیکن اگر کسی کے حق کو پامال کیا جا رہا ہو تو خاموش رہنا درست نہیں۔ اسلام کا تقاضا ہے کہ انسان عدل، حکمت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ حق کی حمایت کرے۔
6.3 مروّت اور دینی احکام
مروّت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دینی فرائض یا شرعی حدود کو نظر انداز کر دے۔ حقیقی مروّت وہ ہے جو شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے دوسروں کے ساتھ بھلائی اور حسنِ سلوک اختیار کرے۔
6.4 مروّت اور کمزوری میں فرق
مروّت کمزوری نہیں بلکہ اخلاقی قوت ہے۔ کمزوری یہ ہے کہ انسان حق و باطل میں فرق نہ کر سکے، جبکہ مروّت یہ ہے کہ انسان حق پر قائم رہتے ہوئے بھی شائستگی، نرمی اور انصاف کا دامن نہ چھوڑے۔
---
باب ہفتم
مروّت و لحاظ کے فقدان کے نقصانات
7.1 معاشرتی انتشار
جب لوگ ایک دوسرے کا لحاظ نہیں کرتے تو معمولی اختلافات بھی بڑے جھگڑوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
7.2 رشتوں میں کمزوری
بے جا سختی، طنز اور بے اعتنائی رشتہ داروں، دوستوں اور خاندان کے تعلقات کو کمزور کر دیتی ہے۔
7.3 دل آزاری اور نفرت
کسی کی عزت مجروح کرنا، اس کی کمزوری کا مذاق اڑانا یا اسے نظر انداز کرنا دل میں نفرت پیدا کرتا ہے۔
7.4 خود غرضی کا فروغ
مروّت کے فقدان سے انسان صرف اپنے مفاد کو اہم سمجھنے لگتا ہے، جس سے معاشرے میں تعاون اور ایثار کم ہو جاتا ہے۔
7.5 دینی اخلاق سے دوری
حسنِ اخلاق اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔ مروّت و لحاظ سے محرومی انسان کو اسلامی معاشرت کے اعلیٰ معیار سے دور کر دیتی ہے۔
7.6 سوشل میڈیا پر اخلاقی بگاڑ
بے جا طنز، تحقیر، افواہیں اور نجی معلومات کی تشہیر معاشرے میں بداعتمادی اور نفرت کو بڑھاتی ہیں۔ مروّت و لحاظ کی کمی سوشل میڈیا کو اصلاح کے بجائے انتشار کا ذریعہ بنا سکتی ہے۔
---
باب ہشتم
موجودہ دور میں مروّت و لحاظ کی ضرورت
آج کا دور تیز رفتار زندگی، معاشی دباؤ، سوشل میڈیا کے پھیلاؤ اور باہمی اختلافات کا دور ہے۔ ایسے ماحول میں انسان اکثر جلد بازی، غصے اور خود غرضی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں مروّت و لحاظ کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
موجودہ دور میں مروّت کے اہم تقاضے
1. اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کرنا۔
2. مذہبی، علمی اور سماجی اختلافات کو دشمنی نہ بنانا۔
3. کمزور افراد کی مدد کرنا۔
4. والدین، اساتذہ اور بزرگوں کا احترام کرنا۔
5. سوشل میڈیا پر زبان اور قلم کا احتساب کرنا۔
6. دوسروں کی غلطیوں کو اچھالنے کے بجائے اصلاح کی کوشش کرنا۔
7. اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا بھی خیال رکھنا۔
8. معاشرتی معاملات میں انصاف اور احسان کو ملحوظ رکھنا۔
9. ضرورت مندوں کی مدد کرتے وقت ان کی عزتِ نفس محفوظ رکھنا۔
10. بچوں اور نوجوانوں کی تربیت میں اخلاقی اقدار کو بنیادی حیثیت دینا۔
اگر معاشرے میں مروّت و لحاظ زندہ ہو جائے تو بہت سے گھریلو، سماجی اور اخلاقی مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔
---
باب نہم
نتائجِ تحقیق
اس تحقیق سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:
1. مروّت و لحاظ اسلامی اخلاقیات کے بنیادی مظاہر ہیں۔
2. مروّت کا تعلق شرافت، احسان، حسنِ سلوک اور ایثار سے ہے۔
3. لحاظ کا تعلق دوسروں کے حقوق، عزت، جذبات اور حالات کا خیال رکھنے سے ہے۔
4. قرآنِ کریم نے عدل، احسان، نرم گفتگو، عفو و درگزر اور احترامِ انسانیت کی تعلیم دی ہے۔
5. احادیثِ مبارکہ میں حسنِ اخلاق، رحم دلی، پڑوسیوں کے حقوق اور دوسروں کو تکلیف سے محفوظ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
6. مروّت و لحاظ ایمان کے کمال اور حقوق العباد کی ادائیگی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
7. مروّت کا مطلب چاپلوسی، کمزوری یا حق تلفی نہیں بلکہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے حسنِ سلوک ہے۔
8. روزمرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی بھلائیاں بھی مروّت و لحاظ کی عملی صورتیں ہیں۔
9. موجودہ دور میں سوشل میڈیا، خاندانی تعلقات اور معاشرتی معاملات میں مروّت و لحاظ کی خصوصی ضرورت ہے۔
10. مروّت و لحاظ معاشرتی محبت، اتحاد اور امن کے فروغ کا اہم ذریعہ ہیں۔
---
باب دہم
سفارشات
1. تعلیمی اداروں میں اخلاقی تربیت: نصاب اور تربیتی سرگرمیوں میں حسنِ اخلاق، احترام اور حقوق العباد کو شامل کیا جائے۔
2. گھریلو تربیت: والدین بچوں کو عملی نمونے کے ذریعے مروّت و لحاظ سکھائیں۔
3. مساجد و مدارس میں اصلاحی بیانات: خطبات اور دروس میں اخلاقی موضوعات کو اہمیت دی جائے۔
4. سوشل میڈیا پر ذمہ داری: غیر مصدقہ خبروں، تحقیر اور نجی معلومات کی تشہیر سے اجتناب کیا جائے۔
5. اختلاف میں شائستگی: علمی، مذہبی اور سماجی اختلافات کو اخلاقی حدود میں رکھا جائے۔
6. ضرورت مندوں کی عزتِ نفس: امداد اور تعاون کے دوران مستحق افراد کی عزت محفوظ رکھی جائے۔
7. معاشرتی خدمت: محلہ، مسجد اور اداروں کی سطح پر باہمی تعاون کی سرگرمیاں فروغ دی جائیں۔
8. روزانہ محاسبہ: ہر شخص اپنے قول و فعل کا جائزہ لے کہ اس سے کسی کو بلاوجہ تکلیف تو نہیں پہنچی۔
9. بزرگوں اور کمزوروں کا خیال: معاشرے میں ان افراد کے لیے احترام اور سہولت کا ماحول پیدا کیا جائے۔
10. عدل و احسان کا توازن: مروّت و لحاظ کو انصاف اور شرعی اصولوں کے ساتھ اختیار کیا جائے۔
---
خاتمہ
مروّت و لحاظ اسلامی اخلاق کا نہایت اہم حصہ ہیں۔ مروّت انسان کو شرافت، بھلائی، ایثار اور حسنِ سلوک کی تعلیم دیتی ہے، جبکہ لحاظ اسے دوسروں کے حقوق، عزت، جذبات اور حالات کا خیال رکھنے کا شعور عطا کرتا ہے۔
قرآنِ کریم نے عدل، احسان، نرم گفتگو، عفو و درگزر اور احترامِ انسانیت کی تعلیم دی ہے، جبکہ احادیثِ مبارکہ میں حسنِ اخلاق، رحم دلی، پڑوسیوں کے حقوق اور دوسروں کو تکلیف سے محفوظ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
لہٰذا ایک مسلمان کی کامیابی صرف عبادات کی کثرت میں نہیں بلکہ اس بات میں بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ بندوں کے حقوق کا خیال رکھے، اپنے اخلاق کو پاکیزہ بنائے اور اپنے وجود کو دوسروں کے لیے رحمت، سہولت اور خیر کا ذریعہ بنائے۔
حقیقی مروّت یہ ہے کہ انسان دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے، اور حقیقی لحاظ یہ ہے کہ وہ اپنی بات، عمل اور رویّے سے کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہونے دے۔
---
حواشی و حوالہ جات
[^1]: احمد بن حنبل، المسند، حدیث: 8952؛ محمد بن اسماعیل البخاری، الأدب المفرد، حدیث: 273۔ حدیث کے الفاظ مختلف روایات میں معمولی فرق کے ساتھ منقول ہیں۔
[^2]: القرآن الکریم، سورۃ النحل، آیت: 90۔
[^3]: القرآن الکریم، سورۃ البقرۃ، آیت: 83۔
[^4]: القرآن الکریم، سورۃ الإسراء، آیت: 23۔
[^5]: القرآن الکریم، سورۃ آل عمران، آیت: 134۔
[^6]: القرآن الکریم، سورۃ فصلت، آیت: 34۔
[^7]: القرآن الکریم، سورۃ الحجرات، آیت: 11۔
[^8]: القرآن الکریم، سورۃ الحجرات، آیت: 12۔
[^9]: القرآن الکریم، سورۃ البقرۃ، آیت: 263۔
[^10]: محمد بن اسماعیل البخاری، الجامع الصحیح، کتاب الإیمان، حدیث: 10۔
[^11]: مسلم بن الحجاج، الصحیح، کتاب الإیمان، حدیث: 40۔
[^12]: محمد بن اسماعیل البخاری، الجامع الصحیح، کتاب العلم، حدیث: 69۔
[^13]: مسلم بن الحجاج، الصحیح، کتاب الجهاد والسیر، حدیث: 1734۔
[^14]: محمد بن عیسیٰ الترمذی، الجامع، ابواب البر والصلۃ، حدیث: 2002۔
[^15]: ابو داؤد سلیمان بن اشعث، السنن، کتاب السنۃ، حدیث: 4682۔
[^16]: محمد بن عیسیٰ الترمذی، الجامع، ابواب الرضاع، حدیث: 1162۔
[^17]: محمد بن اسماعیل البخاری، الجامع الصحیح، کتاب الأدب، حدیث: 5997۔
[^18]: مسلم بن الحجاج، الصحیح، کتاب الفضائل، حدیث: 2318۔
[^19]: محمد بن اسماعیل البخاری، الجامع الصحیح، کتاب الأدب، حدیث: 6014۔
[^20]: مسلم بن الحجاج، الصحیح، کتاب البر والصلۃ والآداب، حدیث: 2624۔
[^21]: محمد بن اسماعیل البخاری، الجامع الصحیح، کتاب المظالم، حدیث: 2827۔
[^22]: مسلم بن الحجاج، الصحیح، کتاب الزکاۃ، حدیث: 1009۔
[^23]: محمد بن عیسیٰ الترمذی، الجامع، ابواب البر والصلۃ، حدیث: 1987۔
[^24]: القرآن الکریم، سورۃ المائدۃ، آیت: 8۔
[^25]: القرآن الکریم، سورۃ البقرۃ، آیت: 280۔
---
فہرستِ مصادر و مراجع
1. القرآن الکریم۔
2. البخاری، محمد بن اسماعیل۔ الجامع الصحیح۔
3. مسلم بن الحجاج۔ الصحیح۔
4. الترمذی، محمد بن عیسیٰ۔ الجامع۔
5. ابو داؤد، سلیمان بن اشعث۔ السنن۔
6. احمد بن حنبل۔ المسند۔
7. البخاری، محمد بن اسماعیل۔ الأدب المفرد۔
8. ابن منظور، محمد بن مکرم۔ لسان العرب۔
9. الفیروزآبادی، مجد الدین۔ القاموس المحیط۔
10. الراغب الاصفہانی۔ المفردات فی غریب القرآن۔
11. ابن فارس، احمد بن فارس۔ معجم مقاییس اللغۃ۔
12. النووی، یحییٰ بن شرف۔ شرح صحیح مسلم۔
13. ابن حجر العسقلانی۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری۔
14. المبارکفوری، محمد عبدالرحمن۔ تحفۃ الاحوذی بشرح جامع الترمذی۔