20/12/2025
سوال:
بچے کلاس میں سرگرمیوں (Activities) کے دوران صحیح جواب دے دیتے ہیں، سوال بھی حل کر لیتے ہیں، لیکن جب وہی کام ٹیسٹ یا پیپر میں آ جائے تو وہ کنفیوز ہو جاتے ہیں، جواب نہیں لکھتے، سوال چھوڑ دیتے ہیں یا ایسے لگتا ہے جیسے انہیں کچھ آتا ہی نہیں۔ اس مسئلے کا قابلِ عمل حل کیا ہے؟
جواب:
یہ مسئلہ دراصل بچوں کی کمزوری نہیں بلکہ ہمارے تدریسی اور جانچ کے طریقے میں خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ اکثر بچے کلاس میں اس لیے درست جواب دے دیتے ہیں کیونکہ وہاں استاد کی آواز، اشارے، بورڈ، دوستوں کی مدد اور ایک محفوظ ماحول موجود ہوتا ہے۔ لیکن جیسے ہی وہی کام پیپر کی صورت میں آتا ہے تو بچے اکیلے ہو جاتے ہیں، انہیں رہنمائی کے اشارے نہیں ملتے، وقت کی پابندی کا دباؤ آ جاتا ہے اور دماغ بلاک ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت کو ہم “Exam Fear” یا “Performance Anxiety” کہہ سکتے ہیں، جس کا تعلق یادداشت سے کم اور اعتماد سے زیادہ ہوتا ہے۔
اس کا پہلا حل یہ ہے کہ بچوں کو کلاس میں صرف زبانی جواب دینے کا عادی نہ بنایا جائے بلکہ ہر سرگرمی کے بعد لازمی طور پر وہی کام کاپی میں بھی کروایا جائے۔ مثال کے طور پر اگر بچہ زبانی طور پر درست جواب دے رہا ہے تو فوراً اسے کہیں کہ یہی جواب دو لائنوں میں لکھو۔ اس طرح بچے کا دماغ آہستہ آہستہ زبانی جواب سے تحریری جواب کی طرف منتقل ہوگا، اور پیپر اس کے لیے کوئی اجنبی چیز نہیں رہے گا۔
دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ بچوں کو اچانک ٹیسٹ کے ماحول میں نہ دھکیلا جائے۔ کلاس میں چھوٹے چھوٹے Practice Tests کروائیں، جنہیں ٹیسٹ کا نام ہی نہ دیا جائے۔ مثلاً کہیں: “آج ہم خاموشی سے یہ کام خود کریں گے، میں مدد نہیں کروں گی۔” جب یہ عمل روزمرہ کا حصہ بن جائے گا تو پیپر کا خوف خود بخود کم ہو جائے گا۔
تیسری بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بچے سوال کو سمجھنا نہیں جانتے۔ کلاس میں استاد سوال پڑھ کر سمجھا دیتا ہے، لیکن پیپر میں بچہ خود سوال پڑھ کر مطلب نہیں سمجھ پاتا۔ اس لیے روزانہ بچوں کو سوال پڑھنے، اہم لفظوں پر نشان لگانے اور سوال کو اپنے الفاظ میں دہرانے کی عادت ڈالیں۔ جب بچہ سوال سمجھنا سیکھ جائے گا تو کنفیوژن خود کم ہو جائے گی۔
ایک اور قابلِ عمل حل یہ ہے کہ بچوں کو Step-by-step لکھنے کی تربیت دی جائے۔ اکثر بچے اس لیے رک جاتے ہیں کہ انہیں پورا جواب ایک ساتھ ذہن میں نہیں آتا۔ انہیں سکھائیں کہ پہلے پہلا پوائنٹ لکھو، پھر دوسرا۔ چاہے جواب آدھا ہی کیوں نہ ہو، کچھ نہ کچھ لکھنا سیکھیں۔ خالی کاپی بچے کے خوف کو بڑھاتی ہے، جبکہ لکھی ہوئی ایک لائن اعتماد پیدا کرتی ہے۔
آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پیپر کو سزا یا ڈر کی علامت نہ بنائیں۔ بچوں کو یہ احساس دلائیں کہ پیپر یہ دیکھنے کے لیے ہوتا ہے کہ ہم کہاں بہتر کر سکتے ہیں، نہ کہ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ بچہ ناکام ہے۔ جب کلاس کا ماحول محفوظ، مشق مسلسل اور پیپر جیسا ہوگا تو آہستہ آہستہ وہی بچہ جو کلاس میں جواب دیتا ہے، پیپر میں بھی اعتماد کے ساتھ لکھنا شروع کر دے گا۔
(منصور اختر غوری)