Home tutors Are Availabel From O level to A level And every subject . New Admisions Fall for PG to Matric ,F.A, Fsc , I.CS, I.com, B.A , Bsc, Bs . Contact us For best Future 0317-7229531
Al-Farabi School Of Sciences Main Bazaar Ramzan Colony Grw.
Education For All .
02/07/2021
آج ہمارے نوجوانوں میں سب سے بڑی محرومی رہنمائی کی کمی ہے، کندھے کی کمی ہے۔ انھیں یوں تو سب کچھ مل رہا ہے، لیکن کندھا نہیں مل رہا۔ نوجوانوں کو اپنائیت کا احساس نہیں مل رہا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ استاد کا ادب ہونا چاہیے، لیکن ان کا جی نہیں چاہتا کہ استاد کا ادب کریں۔ جب اس کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو جواب ملتا ہے کہ ہم پیسے دے رہے ہیں، ان پیسوں کے عوض ہم ان کی خدمات (سروسز) لے رہے ہیں۔ ان خدمات میں کہیں بھی ادب و احترام نہیں ہے۔ دنیا میں بہترین مرہم بے لوث پیار ہے، بے لوث احترام ہے، بے لوث قدر اور بے لوث اہمیت ہے۔
کبھی مدد لینے والا مدد دینے والا بنے تو یہ کامیابی ہے۔ وہ بھی کیا زندگی کے آدمی مدد ہی لیتا رہے، اپنا ہاتھ نیچے ہی رکھے، کبھی اسے اوپر والا ہاتھ نہ بنائے۔ مدد مانگتے رہنا، دوسروں کا محتاج رہنا، آج ہمارا قومی مزاج ہے۔ اصل کمال تو یہ ہے کہ آپ کا ہاتھ نیچے تھا، کچھ عرصے میں وہ اوپر چلا گیا۔ کمال تو یہ ہے کہ آپ کبھی کند ھا ڈھونڈ رہے تھے، آج آپ کندھا پیش کررہے ہیں ۔
زندگی میں خلوص بہت طاقت وَر شے ہے کہ ایک چائے کا کپ اور بسکٹ، تو جہ سے بات سننا، ذمے داری کامظاہرہ کرنا اور عزت سے رخصت کر دینا بہت بڑا تریاق ہے۔ ہمارے معاشرے میں وہ تمام قدریں ختم ہوگئیں جو ’’کندھا‘‘ بناتی تھیں۔ پروفیسر تو مل رہے ہیں، لیکن ان سے زندگی نہیں مل رہی۔ والدین تو ہیں، لیکن تربیت کا فقدان ہے۔ پہلے مائیں بڑ اکندھا بن جاتی تھیں، کیوں کہ وہ سمجھتی تھیں کہ اگر میری ناکامی کل اس کی کامیابی بن گئی تو یہ میری بہت بڑی کامیابی ہو گی۔
آج ہر شخص اپنی لاش کو کندھے پرلیے پھر رہا ہے۔ ہر شخص اپنے غم کا مداوا ڈھونڈ رہا ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے سنا جائے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کے غم غلط ہوجائیں۔ ہر شخص کے ہاتھ خود اپنا گریبان چاک کر رہے ہیں اور وہ منتظر ہے کہ کوئی ان ہاتھوں کو ہٹانے والا تو ہو۔ پڑھانے والے بہت ہیں، رٹا لگوانے والے بہت ہیں۔ جی پی اے دینے والی بہت ہیں۔ چرب زبانی کرنے والے بہت ہیں۔ سبز باغ دکھانے والے بہت ہیں۔
مگر۔۔۔
میں ڈھونڈتا ہوں کہ زندگی کہاں گئی؟ میں وہ کندھا تلاش کرتا ہوں جو مجھے اب کہیں نظر نہیں آتا۔
آج نوجوانوں کی فوج در فوج موجود ہے، لیکن سمت نہیں ہے۔ سکون کے ذرائع نہیں ہیں۔ ہر طرف فرسٹریشن ہے اور وہ اسے کہیں نہ کہیں نکال رہے ہیں۔ وہ بس اپنا وقت کاٹ کر کام چلارہے ہیں۔ انھیں گالیاں سننا پڑتی ہیں، کیوں کہ وہ اگر کام بھی کرتے ہیں تو کسی کے کندھے پر سر رکھ کر، اپنا کندھا دینے کو تیار نہیں ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بیزاری اور الجھن بڑھتی جارہی ہے۔ ہر نوجوان زندگی سے عاجز ہے اور سسٹم کو کوس رہا ہے۔ اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔
ہم گویا کہ ایک بھنور میں ہیں اور وہ بھنور ہمیں دھنساتاجارہا ہے۔ ہم ڈوبتے جا رہے ہیں۔ ہمیں ادراک ہی نہیں کہ ہم کس قدر خطرات میں گھرتے جارہے ہیں۔اس روش کو چھوڑنے کی ضرورت ہے کہ اسی میں ہماری بھلائی ہے۔
26/06/2021
رشتے
جن کے بغیر انسانی زندگی ادھور ی ہے۔
(قاسم علی شاہ )
اللہ تعالیٰ کا نظام ہی ایسا ہے کہ یہاں جو بھی انسان آتا ہے وہ کسی رشتے کی بدولت آتا ہے ۔مرد وعورت کا نکاح ہوتا ہے اور ان سے ایک اور انسان پیدا ہوتا ہے ،جیسا کہ ارشادِربانی ہے:
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جانوں سے جوڑے بنائے تا کہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور تمہارے مابین مودت اور شفقت پیدا کی، بے شک اس میں غور و فکر کرنے والی قوم کے لیے نشانیاں ہیں۔[سورۃالروم:21]
انسان کے پیدا ہونے کے ساتھ ہی پہلا رشتہ ماں باپ کے ساتھ بنتا ہے ،پھر بہن بھائی،ماموں، چچا،دادادادی اورنانا نانی وغیرہ،یعنی اگر ہم یہ کہیں تو بے جا نہ ہوگا کہ انسان کی زندگی کی تکمیل ہی رشتوں سے ہوتی ہے ۔خونی رشتوں کے علاوہ بھی کچھ رشتے انسان کی زندگی میں آتے ہیں۔آج کی نشست میں ہم انسانی رشتوں اور ان کی اقسام کو سپردِقلم کریں گے۔
(1)اللہ کے بنائے ہوئے رشتے:
انسان نے جس خاندان اور قوم میں پیدا ہوناہوتا ہے وہ اللہ کی طرف سے طے ہوتا ہے جس میں انسان کی مرضی نہیں چلتی۔یہ والدین اور بہن بھائیوں کا رشتہ ہے،جس کو حقیقی رشتہ کہا جا تاہے۔اس لیے ان کا حق بھی دوسرے تمام رشتوں سے زیادہ ہےیعنی ان کے ساتھ نباہ زیادہ کرنا ہے ، ان سے درگزرکا معاملہ زیادہ کرنا ہے نیز آپ کے نیکی کے پہلے حق دار بھی یہی لوگ ہیں ۔
ہمارے ہاں بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو دنیا کے باقی رشتوں میں تو کمال کے ہوتے ہیں مگرحقیقی رشتوں میں صفر ۔جبکہ یہ بات تصدیق شدہ ہے کہ جو انسان اپنے حقیقی رشتوں کے ساتھ نباہ کرتاہے اللہ اس کی عمر میں برکت ڈال دیتا ہے۔البتہ ایک چیز مستثنیٰ ہے کہ خدانخواستہ جب انسان کا اپنا کوئی سگا حد سے زیادہ گناہ گار یا بے دین ہوجائے یا اس حالت پر پہنچے کہ دوسرے انسانوں کو اس سے خطرہ لاحق ہو تو اس سے دُوری ہی میں عافیت ہے ۔اسی طرح بعض اوقا ت انسان کو اپنے رشتہ داروں کے ساتھ تعلق رکھنا مشکل ہوجاتاہے تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ رشتے کو بالکل ہی چھوڑانہ جائے بلکہ اس کو ہلکا کیا جائے ۔جیسے پرانے زمانے میں لوگ رات کو سوتے ہوئے لالٹین کی لو کو کم کردیتے تھے ایسا ہی آپ بھی اس رشتے کی لو کم کردیں۔
حقیقی رشتوں کو نبھانے میں ا س بات کا بھی خیال رکھیں کہ یہ رشتہ بدلے کی بنیاد پرنہ ہو،کہ وہ ہماری خوشی میں نہیں آیا تو میں کیوں جاؤں؟ بلکہ اپنی طرف سے ہر طرح سے یہ رشتہ نبھانے کی کوشش کریں ،اپنی ذمہ داری صرف اللہ کی رضا کے لیے ادا کریں ۔آزمائش کا نام ہی یہی ہے کہ کوئی انسان آپ کے ساتھ اچھا نہیں پھر بھی آپ اس کے ساتھ اچھا کررہے ہیں ۔
(2) وہ رشتے جو آپ خود بناتے ہیں :
اس رشتے میں انتخاب اور فیصلہ آپ کا اپنا ہوتاہے۔یہ بیوی ، دوست اور کولیگز ہوسکتے ہیں ۔ اس کا حکم یہ ہے کہ جب آپ نے کہہ دیا اور مان لیا کہ میں تمہارے ساتھ چلنے کو تیار ہوں تو پھر اپنے کہے ہوئے کی لاج رکھنی ہے اور اس رشتے کو نبھانا ہے۔اسی وجہ سے کہا جاتاہے کہ اگرکسی انسان کو پرکھنا ہو کہ وہ کس قدر اچھا ہے تو اس کے پرانے ملازم اور دوست دیکھو کہ کتنے اس کے ساتھ ہیں ۔پچھلے دِنوں ہمیں ایک الیکٹریشن کی ضرورت تھی ،مجھے رضوان صاحب نے کہا کہ ہمارااپنا الیکٹریشن بازار سے دُگنی قیمت مانگ رہا ہے ۔میں نے کہا کوئی بات نہیں ،اسی کو بلوالیں ،کیونکہ میر ا اپنا نظریہ یہ ہے کہ جس انسان نے آپ کے ساتھ وقت گزارا ہو تو ایک طرح سے اس کے ساتھ اپنائیت کا تعلق بن جاتا ہے ،لہٰذا اس تعلق کو ہمیشہ قائم رکھناچاہیے ۔اسی طرح مخلص دوست بھی اللہ کی طرف سے ایک تحفہ ہوتا ہے جو ہر آزمائش اور مصیبت میں انسان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔
3)وہ لوگ جو آپ کی زندگی میں خود آجاتے ہیں :
انسان کی زندگی میں کوئی نہ کوئی خلا ایسا ہوتاہے جس میں لوگ آتے ہیں ، بیٹھتے ہیں اور کچھ عرصے بعد خود ہی چلے جاتے ہیں۔جیسے بس میں سفر کرتے ہوئے ،کسی کمپنی میں جاب کرتے ہوئے یاکسی مجبوری میں ساتھ جڑنے والا، مولانارومی ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے کوے اور ہنس کو ایک تالاب میں اکھٹے پانی پیتے دیکھا،میں بڑا حیران ہوا کیونکہ دونوں کی جنس مختلف ہے ۔جب پاس جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ دونوں کی ٹانگیں زخمی ہیں ۔تب مجھے پتا چلا کہ ان کومجبوری نے جوڑ اہے۔
اس تیسرے رشتے میں آپ کے ساتھ تمام کائنات شامل ہوتی ہےاور اس کی بنیاد زیادہ تر آپ کی اخلاقیات پر ہوتی ہے۔کبھی کبھار کوئی ایک تعلق ایسا بھی ہوتا ہے جس میں یہ تینوں رشتے نکل آتے ہیں ۔جیسے آپ کسی ڈاکٹر کے پاس اپنی ضرورت سے گئے ۔اس نے آپ کی چیک اپ کی، درمیان میں کھانے کا وقت ہوا اس نے آپ کو کھانے پر روکا ۔ عمومی تعلق کے بعد آپ کی اس کے ساتھ دوستی بن گئی ۔باتیں کرتے کرتے آ پ پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ ڈاکٹر آپ کا دور کا رشتے دار بھی ہے ،تو اب وہ انجان شخص آپ کاواقف، دوست اور رشتے دار بھی بن گیا۔
بہترین رشتہ کون سا؟
ان تین طرح کے رشتوں میں بہترین رشتہ وہ ہے جو آپ کو فائدہ دے ، آپ کی ترقی میں معاون ہو اور آپ کا ’’دی بیسٹ‘‘ جگائے۔حضور نبی کریم ﷺ کی کئی احادیث ایسی ہیں جو معاشرتی اصلاح پر مبنی ہیں اور میری خواہش ہے کہ یہ چیزیں منبر و محراب سے زیادہ سے زیادہ بولی جائیں تاکہ ہمارے معاشرے میں ا س کے مثبت اثرات مرتب ہوں ،جیسا کہ آپ کے فرمان کا مفہوم ہے:
۱۔دنیاکی بہترین متاع انسان کی نیک بیوی ہے۔(سنن ابن ماجہ)
۲۔اچھی بیوی وہ ہے جس پر تمہاری نگاہ پڑے اور تمہارا دل خوش ہوجائے۔
بیوی ایک ہم سفر کا نام ہے اور ہم سفر ،ہم خیال بھی ہوتو زندگی کا سفر خوب صورت بن جاتا ہے۔بہترین بیوی وہ ہے جو اپنے شوہر کا ’’دی بیسٹ‘‘ اورباطن کی اچھائیاں جگا دے ۔معاشرے میں ہمیں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو یہ رویے سکھانے کی ضرورت ہےکیونکہ عورت وہ ذات ہے جو انسان کے اندر کا فرشتہ جگاسکتی ہے ، وہ ایک کیڑے کو بھی ہاتھی بناسکتی ہے۔اسی موقع پر عقل مندوں نے کہا ہے کہ ’’ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتاہے۔‘‘
عورت دنیا کی سب سے بڑی حوصلہ افزا ئی والی شخصیتـ:
دنیاکی تاریخ میں سب سے بڑا پریشر اگر کسی انسان پر آیا ہے تو وہ نبی اورپیغمبر ہے ۔کیونکہ ان کو پوری امت کی اصلاح کا کام اور ذمہ داری دی جاتی ہے اور ہمارے حضور ﷺ پر جب پہلی بار وحی اتری تو اس کے بعد وہ گھر تشریف لائے اور اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ ؓ سے فرمایا کہ مجھے چادر اوڑھادو ۔پھر فرمایا کہ مجھے اپنے آپ پر خوف آرہا ہے تو ا س وقت حضرت خدیجہ ؓ نے آپ ﷺ کی جن الفاظ کے ساتھ حوصلہ افزائی کی وہ سنہرے الفاظ کے ساتھ لکھنے قابل ہیں ۔ان جملوں کونصاب میں شامل کرنا چاہیے ۔ حضرت خدیجہ ؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں ، اللہ آپ کو رسو ا نہیں کرے گا۔کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں،اور غریبوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ،اور مفلس کو کماکر دیتے ہیں،اور مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے کاموں میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔(صحیح البخاری ، کتاب الوحی)
ان الفاظ میں حسنِ سلوک اور معاشرتی اچھائیوں کا ذکر کیا گیا ہےاور آپ ﷺ کو اس بات سے حوصلہ دیا گیا کہ چونکہ آپ عبادت گزار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین اخلاق والے بھی ہیں ، اسی لیے اللہ آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ آپ کی معاشرتی زندگی ایک کامیاب زندگی ہے جو کہ لوگوں کے لیے ایک نمونہ ہے۔
اسی طرح وہ دوست بھی آپ کے لیے بہترین ہے جو آپ کے اند ر کی اچھائیوں کو جگادے ۔اسی وجہ سے اسلام نےنیک صحبت میں بیٹھنے اور غلط محفلوں میں نہ جانے کا حکم دیا ہے کیونکہ صحبت اور ماحول انسان کے اندر شر اور خیر دونوں کو جگاتا ہے۔
رشتہ ہمیشہ تین چیزیں مانگتا ہے :
دنیا کے کسی بھی رشتے کے لیےتین چیزیں خوراک کی حیثیت رکھتی ہیں ۔یہ وقت ، توجہ اورقربانی ہیں۔ہمارے اکثر رشتے اس لیے ناکام ہوجاتے ہیں کہ ہم یہ تین چیزیں نہیں دے پاتےحالانکہ یہ کسی بھی رشتے کے لیے بنیاد ہے اور اگر بنیاد کمزور ہوتوپھر عمارت بھی کمزور ہی ہوگی۔
ہم سب اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ہمارا معاشرہ رشتوں کے گلدستوں سے سجا ہوا ہے ۔ ہر دُکھ ،سکھ میں ہمارے رشتے دار ہی ہمارے بازُو اورحوصلہ بنتے ہیں ۔اللہ کی اس نعمت پر شکر ادا کرنے کا مقام ہے۔ اپنی حقیقی رشتوں اور وہ رشتہ جس کو آپ پوری زندگی نباہنا چاہتے ہیں، اس میں وقت،توجہ اور قربانی ضرور شامل کریں ،تب ہی وہ رشتہ پائیدار ہوگا اور آپ کے لیے خوشی اور سکون کا باعث بھی۔
24/06/2021
***اُ مّی لقب***
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا لقب ''اُمّی'' ہے اس لفظ کے دو معنی ہیں یا تو یہ ''اُم القریٰ'' کی طرف نسبت ہے۔ ''اُم القریٰ'' مکہ مکرمہ کا لقب ہے۔ لہٰذا ''اُمی'' کے معنی مکہ مکرمہ کے رہنے والے یا''اُمّی'' کے یہ معنی ہیں کہ آپ نے دنیا میں کسی انسان سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا۔ یہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بہت ہی عظیم الشان معجزہ ہے کہ دنیا میں کسی نے بھی آپ کو نہیں پڑھایا لکھایا۔ مگر خداوند قدوس نے آپ کو اس قدر علم عطا فرمایا کہ آپ کا سینہ اولین و آخرین کے علوم و معارف کا خزینہ بن گیا۔ اور آپ پر ایسی کتاب نازل ہوئی جس کی شان تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْئٍ (ہر ہر چیز کا روشن بیان) ہے حضرت مولانا جامی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ ؎
نگار من کہ بہ مکتب نرفت و خط ننوشت
بغمزہ سبق آموز صد مدرس شد
یعنی میرے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نہ کبھی مکتب میں گئے ،نہ لکھنا سیکھامگر اپنے چشم و ابرو کے اشارہ سے سیکڑوں مدرسوں کو سبق پڑھادیا۔
ظاہر ہے کہ جس کا استاد اور تعلیم دینے والا خلاق عالم جل جلالہ ہو بھلا اس کو کسی اور استاد سے تعلیم حاصل کرنے کی کیا ضرورت ہو گی؟ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز نے ارشاد فرمایا کہ ؎
ایسا امی کس لئے منت کش استاذ ہو
کیا کفایت اس کو اقرء ربک الاکرم نہیں
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے امی لقب ہونے کا حقیقی راز کیا ہے؟ اس کو تو خدا وند علام الغیوب کے سوا اور کون بتا سکتا ہے؟ لیکن بظاہر اس میں چند حکمتیں اور فوائد معلوم ہوتے ہیں ۔
اوّل۔ یہ کہ تمام دنیا کو علم و حکمت سکھانے والے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہوں اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا استاد صرف خداوند عالم ہی ہو، کوئی انسان آپ کا استاد نہ ہوتاکہ کبھی کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ پیغمبر تو میرا پڑھایا ہوا شاگرد ہے۔
دوم۔ یہ کہ کوئی شخص کبھی یہ خیال نہ کر سکے کہ فلاں آدمی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا استاد تھا تو شاید وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے زیادہ علم والا ہو گا۔
سوم۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی یہ وہم بھی نہ کر سکے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم چونکہ پڑھے لکھے آدمی تھے اس ليے انہوں نے خود ہی قرآن کی آیتوں کو اپنی طرف سے بنا کر پیش کیا ہے اور قرآن انہیں کا بنایا ہوا کلام ہے۔
چہارم۔جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ساری دنیاکو کتاب وحکمت کی تعلیم دیں تو کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ پہلی اور پرانی کتابوں کو دیکھ دیکھ کر اس قسم کی انمول اور انقلاب آفریں تعلیمات دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں۔
پنجم۔ اگرحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا کوئی استاد ہوتا تو آپ کو اس کی تعظیم کرنی پڑتی،حالانکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو خالق کائنات نے اس ليے پیدا فرمایا تھا کہ سارا عالم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی تعظیم کرے، اس ليے حضرت حق جل شانہ نے اس کو گوارا نہیں فرمایا کہ میرا محبوب کسی کے آگے زانوئے تلمذ تہ کرے اور کوئی اس کا استادہو۔(واللہ تعالیٰ اعلم)
***سفر شام اور بحیرٰی***
جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی عمر شریف بارہ برس کی ہوئی تو اس وقت ابوطالب نے تجارت کی غرض سے ملک شام کا سفر کیا۔ ابوطالب کو چونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے بہت ہی والہانہ محبت تھی اس ليے وہ آپ کو بھی اس سفر میں اپنے ہمراہ لے گئے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اعلان نبوت سے قبل تین بار تجارتی سفر فرمایا۔ دو مرتبہ ملک شام گئے اور ایک بار یمن تشریف لے گئے،یہ ملک شام کا پہلا سفر ہے اس سفر کے دوران '' بُصریٰ '' میں '' بُحیریٰ ''راہب (عیسائی سادھو) کے پاس آپ کا قیام ہوا۔اس نے توراۃ وانجیل میں بیان کی ہوئی نبی آخر الزماں کی نشانیوں سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو دیکھتے ہی پہچان لیااور بہت عقیدت اور احترام کے ساتھ اس نے آپ کے قافلہ والوں کی دعوت کی اور ابو طالب سے کہا کہ یہ سارے جہان کے سردار اور رب العالمین کے رسول ہیں، جن کو خدا عزوجل نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ شجر و حجران کو سجدہ کرتے ہیں اور ابران پر سایہ کرتا ہے اور ان کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے۔ اس لئے تمہارے اور ان کے حق میں یہی بہتر ہوگا کہ اب تم ان کو لے کر آگے نہ جاؤاور اپنا مال تجارت یہیں فروخت کرکے بہت جلد مکہ چلے جاؤ ۔کیونکہ ملک شام میں یہودی لوگ ان کے بہت بڑے دشمن ہیں۔ وہاں پہنچتے ہی وہ لوگ ان کو شہید کر ڈالیں گے۔بحیرٰی راہب کے کہنے پر ابو طالب کو خطرہ محسوس ہونے لگا۔ چنانچہ انہوں نے وہیں اپنی تجارت کا مال فروخت کر دیا اور بہت جلدحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ واپس آ گئے۔ بُحیریٰ راہب نے چلتے وقت انتہائی عقیدت کے ساتھ آپ کو سفر کا کچھ توشہ بھی دیا۔
(سنن الترمذی، کتاب المناقب ، باب ماجاء فی بدء نبوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث:۳۶۴۰، ج۵،ص۳۵۶ والسیرۃ النبویۃ لابن ھشام، قصۃ بحیری، ص۷۳)
_______________________________
نام کتاب : سیرتِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم
صفحہ : 84 تا 87
مؤلف : شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی
پیش کش : شعبہء تخریج (مجلس المدینۃ العلمیۃ)
20/06/2021
... Alfarabi school of sciences ....Tarjma tul Quran Classis k bakada Agaz hou chka hy- Donyavi Taleem k sat sat deeni taleem Aik Sat - Regards Sir Yasir Ali..(0317-7229531)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Gujranwala
Opening Hours
| 09:00 - 12:00 |