گناہ سے بچنے کا طریقہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گناہ نفس کے تقاضے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ اور نفس کا تقاضہ اس وقت غالب آتا ہے اور انسان اس کے آگے بے بسی محسوس کرتا ہے جب چند تصورات دل و دماغ سے محو ہو جائیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی یاد ، جنت کی یاد ، دوزخ کا خوف ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا احساس ، اللہ تعالیٰ کے حقوق کا خیال اور شکر کا پاس ۔۔ پس ان چیزوں کو یاد کرنے سے نفس کا گناہ کا تقاضہ مغلوب ہو جاۓ گا اور تقاضے کے مغلوب ہو جانے سے انسان گناہ سے بچ جاۓ گا۔ ان چیزوں کے استحضار کے ساتھ ایک احتیاط اور کر لی جاۓ کہ بری صحبت اور گناہوں کے ماحول سے مکمل احتراز ہو۔
(تلخیصِ وعظ حضرت تھانوی نور اللہ مرقدہ)
IQRA Quran Academy
Our team of scholars offers courses for all levels. Join us!
تعلیم حاصل کرنا انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے۔ لیکن تعلیم کا مطلب بھاری بستے، آٹھ دس مضامین کی کتابیں کاپیاں نہیں۔ کتنا اچھا ہوتا کہ بس ایک اردو کی کتاب ہوتی جس میں ادب، تاریخ، اسلامیات، مطالعہ پاکستان جیسے تمام چیپٹرز ملے جلے ہوتے۔ یا اگر یہی مضامین انگلش میں پڑھنے ہوں تو یہ سب انگلش کی کتاب کا حصہ ہوتے۔ اردو انگلش کے ساتھ عمر کی مناسبت سے بنیادی میتھ سائنس۔ نہ کہ ڈھیر سبجیکٹس، ہر سبجیکٹ کی الگ کتاب، الگ ٹیچر، الگ ہوم ورک، الگ ٹیسٹ، امتحانات، پاس ہونے کی پریشانی۔۔۔
سلیبس کے نام پر کتنی ہی چیزیں ہیں جو بچوں کو رٹنی پڑتی ہیں۔ سکول میں وہ وہ معلومات ہمارے اندر انڈیلی جاتی ہے جس کی کوئی اہمیت ہے، نہ ضرورت۔ وہ یاد رہتی ہے، نہ وہ زندگی میں کبھی استعمال ہوتی ہے۔ بچوں کا بچپن کافی سہل رکھا جا سکتا تھا اگر تعلیم کے نام پر بہت سی چیزیں حذف کر دی جاتیں۔ کم از کم پرائمری سکول تک تو بچوں کو بہت ریلیکس رکھا جا سکتا ہے، اور رکھا جانا بھی چاہیے۔
مجھے یہی سمجھ نہیں آتا کہ ہاتھ پکڑ پکڑ کر لکھنا کیوں سکھایا جائے، لائن سے ذرا سا بھی اوپر تلے ہو جائے تو کیا مسئلہ ہے۔ چند ہی سالوں میں بچے لکھنے کے بجائے ٹائپنگ کرتے ہوں گے۔ رنگ بھرنے کو بھی لائن کے اندر ہی کیوں اکسایا جاتا ہے؟ ڈرائنگ اور پینٹنگ کا واحد اصول یہ ہو کہ کپڑے گندے نہ ہوں۔ ایپرن باندھ لیا جائے، نیچے شیٹ بچھی ہو۔ اس کے بعد بچے کی اپنی مرضی ہے۔ چاہے تو جامنی بلی ڈرا کرے یا ہرا انڈہ۔ لائن سے باہر رنگ نکلے، یا اندر رہے۔
ریڈنگ کی باری آئی تو فانِکس کے نام پر ایک اضافی بوجھ لاد دیا گیا۔ حروف کے نام الگ یاد کرو، تلفظ الگ یاد کرو۔ غلط سپیلنگز پر بچوں کی کاپیاں لال کرنا، ان کے نمبر کاٹنا جبکہ ابھی کچھ وقت میں ہی ٹائپنگ پر آ جائیں گے اور سب کچھ آٹو کریکٹ ہو جائے گا۔ڈھیر ڈھیر ریڈنگ ہو کہ اس سے دماغ کھلتا ہے، اور آنکھیں سپیلنگز پہچان لیتی ہیں۔ اس کے بعد بچے کو کانسیپٹ پتہ ہے، وہ ٹھیک بات لکھ رہا ہے تو لکھائی اور سپیلنگز پر نمبر کاٹنا زیادتی ہے۔
غالب اور میر کے اشعار کا مقصد آج تک نہ پتہ چلا۔ نویں دسویں کے بچوں کو محبوب کے لب کی پنکھڑی ایسی نازکی سے کیا لینا؟ میر ٹک روتے روتے سو گئے ہیں تو ہم کیوں جگانے پر مصر ہیں؟ صرف پڑھ لینا ہی کافی نہیں، اوپر سے لمبی لمبی تشریحیں۔ پتہ نہیں اب بھی یہی حالات ہیں یا بہتری آئی ہے۔ ان خشک اور غیر ضروری چیزوں نے اردو سے میرا ریلیشن شپ اتنا خراب کیا کہ بی ایس سی میں داخلے کی سب سے خوشی کی چیز تھی اردو نہیں پڑھنی پڑے گا۔ بہتر ہوتا کہ اس کے بجائے تخلیقی اور تحقیقی چیزیں ہوں جو بچوں کو فائدہ دیں۔
میتھ میں بھی بنیادی جمع تفریق اور الجبرا تو ٹھیک لیکن یہ لمبی چوٹی multiplication اور division کہاں استعمال ہوتی ہے؟ لمبے چوڑے تھیورمز جن کے نام خوابوں میں ڈراتے ہوں، ان کا کیا مقصد ہے۔ اوٹ پٹانگ فارمولے۔ ان کے بجائے آن لائن بل کی ادائیگی، اپنی آمدن کے مطابق بجٹ بنانا، پیسہ خرچ کرنا سکھایا جائے تو زندگی میں کام آئے۔
ہسٹری بھی وہ جو کچھ تو سپارک کرے اندر۔ واقعات اہم ہوں، نہ کہ تاریخیں یاد کرنے کو اہم سمجھا جائے۔ ہسٹری میں پڑھائے جانے والے مشکل مشکل نام اور ان کی تاریخیں۔ کون کب پیدا ہوا کب مرا، میری بلا سے۔ بے مقصد کا رٹا جو امتحان دینے کے ہفتے بعد ہی بھول چکا ہو۔ کوئی واقعہ اہم ہو سکتا ہے، اس سے جڑا سبق اہم ہو سکتا ہے، لیکن ہیرو اور اس کی اماں اور ابا اور سکول کا نام اور کس سن میں کیا کیا اہم نہیں۔ نہ کہیں زندگی میں اپلائے ہوتا ہے۔ بنیادی معلومات دے دی جائے۔ جس کی دلچسپی ہو خود ہی بڑی کلاسوں میں جا کے میجر چن لے گا۔
سائنس کے مضامین میں بھی مشکل، غیر ضروری چیزیں اور ان کے نام اور پھر ڈرائنگز۔۔ ضروری معلومات آسان کر کے سمجھا دی جائیں اور ساتھ میں کوئی پریکٹیکل چیزیں جیسے سی پی آر، فرسٹ ایڈ، سیلف ڈیفینس سکھا دیں تو کہیں بہتر ہو جائے۔ انسانی نفسیات، اخلاقیات بتائی جائیں۔ ایمپتھی، ایکٹو لائف سٹائل، ہیلتھی ایٹنگ کی اہمیت بتائی جائے۔ کبھی دل کرتا ہے کہ سکولوں کا پورا سلیبس اور نظام نئے سرے سے ترتیب دیا جائے۔
نیر تاباں
*غزہ سے کمانڈر ابو عبیدہ کا اہم پیغام*
اللہ کی سلامتی رحمتیں اور برکتیں آپ پر ہوں
*میں غزہ سے آپ سے مخاطب ہوں*۔۔۔۔اسی غزہ سے جو ناقابل شکست ہے، جان نثار ہے، ثابت قدم ہے، صبر و ثبات کا استعارہ ہے، اللہ کا خصوصی انعام ہے جو اس پر اللہ کی سکینت نازل ہو رہی ہے۔
*ہم یہ پیغام سب مسلمانوں کو پہنچا رہے ہیں*
ہم نہیں جانتے کہ جلد یا بدیر ہم پیغام دینے کے لیے موجود رہیں گے بھی یا نہیں۔ تو اللہ سے دعا کے ساتھ اپنی بات کا آغاز کرتے ہیں کہ اللہ ہمارے ان لفظوں کو ہمارے حق میں حجت بنا دیجئے گا۔یہ ہمارے خلاف گواہی نہ دیں۔ آمین
پہلا پیغام یہ ہے
*ہم سب مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم فقط اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ہم اپنے رب کی تقسیم سے راضی ہیں۔ ہم اپنے رب کی مدد سے قطعا مایوس نہیں ہیں۔*
ہمیں اپنے رب کی مدد جلد آنے پر یقین ہے اور ایسی جگہ سے مدد آنے پر جہاں سے ہمیں توقع بھی نہیں ہو۔ جہاں ہمارا خیال بھی نہ گیا ہو۔
*اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْؕ-مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ* *الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ(214)*
کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تم پرپہلے لوگوں جیسی حالت نہ آئی۔ انہیں سختی اور شدت پہنچی اور انہیں زور سے ہلا ڈالا گیا یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے کہہ اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن لو! بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔
*اللہ کی قسم! ہم ایسی سختی اور شدت سے اس زور سے جھنجھوڑ ،ہلا دیے گئے ہیں کہ ہماری جانیں ہمارے کلیجے تک لرزاں دئیے گئے ہیں۔* لیکن ہم اپنے رب کی رحمت سے قطعا مایوس نہیں ہیں۔ جو اپنے رب کو جا ملے ہیں ہم انھیں شہید گمان کرتے ہیں
اور جو باقی بچ گئے ہیں وہ فتح نصرت کی امید کرتے ہیں ۔اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔
اور دوسرا پیغام یہ ہے کہ
*جو کوئی ہمیں سن رہا ہے، وہ ہماری مدد کرسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔اپنی دعاؤں سے ۔۔۔۔اپنی التجاؤں سے۔۔یہ مومن کا ہتھیار ہے۔ اسکی طاقت کو ہلکا نہ سمجھیں ۔* اگر آپ ہمارے معاملے کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے تو اللہ کے پاس آپکا یہ عذر آپکو اسکے حساب کتاب سے بچالے گا۔ لیکن دعا تو آپ پھر بھی کرسکتے ہیں۔اپنے بچوں کو، اپنے اہل وعیال کو لے کے بیٹھیں اور ہمارے لیے دعا کیجیے۔ *نمازوں میں ،سجدوں میں ہمارے لیے خلوص دل سے گریہ وزاری کیجئے*۔ ہمیں آپکی دعاؤں کی اشد ضرورت ہے۔
ہمارے نبی محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تکلیف میں اپنے ہاتھ اللہ کے حضور پھیلا لو اور پختہ یقین سے ،متوجہ دل کے ساتھ دعا مانگو ۔ایسی دعا کا ضرور جواب دیا جائے گا۔ ان شاءاللہ
تیسرا پیغام یہ ہے
*جو مسلمان بھی یہ وڈیو سن رہے ہیں ( میسج پڑھ رے ہیں ) وہ ہمارے یہ پیغامات اوروں تک پہچانے کا سبب بنیں* ۔
کیونکہ اب بھی ایسے لوگ ہیں جو غفلت کی چادر تانے سوئے پڑے ہیں کہ جیسے انہیں ہمارے حال کی کوئی خبر نہیں پہنچی ہے ۔
شاید وہ ابابیلوں کی آمد میں منتظر بیٹھے ہیں جو آ کے اصحاب فیل کو تباہ کرنے کے لیے بھیجی گئی تھیں۔
اللہ کے سوا کوئی طاقت نہیں ۔
*ہمارے پیغام کو پھیلائیں ۔ہماری خبروں کو آگے بڑھائیں۔ ہمارے بچوں کی تصویریں دوسروں کو بھی دکھائیں* ۔
ہر جگہ ملبہ کے ڈھیر ہیں ۔غزہ اب رہنے کے لیے بالکل محفوظ نہیں ہے۔
*ہم نے ایسی شدید تباہی پہلے کبھی پہلے نہیں دیکھی۔* ہمارے لوگ ، ہمارےبھائی ، ہمارے پیارے ۔۔۔۔۔اب شہداء میں لکھے جاچکے ہیں ۔۔ایک ایک خاندان کے 40،کہیں 50 ,کہیں 100 افراد اکھٹے اموات کے شمارے میں درج کیے جاچکے ہیں ۔اور جو باقی بچ گئے ہیں وہ اپنے رب کی طرف اچھے پلٹنے کے انتظار میں ہیں۔
اس صورتحال میں ہم امید کرتے ہیں کہ آپکے پاس یوم جزا اپنی جان کو چھڑا لانے جتنا قابل کوئی عذر ہوگا ۔
*اللہ ضرور پوچھے گا کہ جب مسلمانوں پر مصیبت کی یہ گھڑی آئی تو آپ نے کیا کیا*
کیا دعاوں کو بھی محدود کیا جاسکتا ہے۔
یا ان دعاوں کی کوئی حد بھی ہے ۔
*آپکے سڑکوں پر ہمارے لیے مظاہرے ۔۔۔۔۔۔ احتجاجا نکلنا ۔۔۔آپکا لوگوں کو ہمارے لیے پکارنا۔۔۔آپکی آواز کا ہمارے لیے بلند ہونا۔۔۔ جو غافلوں کو ،بے حسوں کو ہمارے لیے بیدار کردے ۔۔۔۔۔۔۔۔شاید یہ کاوشیں آپ کے حق میں قابل قبول عذر بن جائیں۔*
اللہ کی حمدوثنا بیان کرتا ہوں ۔
یہ آزمائش دوسری آزمائشوں کا پیش خیمہ ہے اور ان سب کے نتیجے میں ہم آخرت میں اجر کے امیدوار ہیں۔
غاصبوں کے تسلط کی یہ اندھیری رات طویل اور شدید ہوچکی ہے۔ اب ان ہی ظلم کے اندھیروں سے روشن صبح چمکنے کو ہے ۔
*اللہ نے اپنے بندوں سے اپنی مدد کا وعدہ کررکھا ہے* ۔۔۔۔۔بھلے کچھ وقت اور لگے گا لیکن فتح ونصرت اسی کے بندوں کو حاصل ہوکے رہے گی۔
میں قسم کھاکے کہتا ہوں کہ ان حالات میں ہمارے بہترین نفوس جام شہادت پی رہے ہیں۔ ہر خاندان کا بہترین شخص شہید ہوچلا ہے۔ اور کائنات کے رب کی بڑائی کے لیے ہی یہ سب شہادتیں۔۔۔۔یہ سب گواہیاں ۔ بے شک ۔۔۔۔۔سب تعریفیں تمام شکرانے ،تمام جہانوں کے رب کے لیے ہیں۔
میں اپنی بات زیادہ طویل نہیں کرنا چاہتا۔ *بس یہ جتلانے آیا تھا کہ میں اللہ کی خاطر آپ سب سے محبت کرتا ہوں۔*
*آپ ہمارا یہ پیغام عام کردیجیے۔*
ہماری آواز بن جائیے ۔
ہمارا خون زمین کو رنگ رہا ہے۔
ہم آپ سے اس کے لیے پرزور تحریک چلانے کا تقاضا کرتے ہیں۔تو اپنے حصے کا کام کرنے کے لیے جی جان لڑا دیجیے۔
اے اللہ
ہمیں ثابت قدم رکھیے
ہمیں مضبوط کردیجیے
ہمارے لیے حسن خاتمہ لکھ
*فلسطین کمانڈر ابو عبیدہ*
*copied
02/08/2023
Today's question
How many duties are there in ablution?
01/08/2023
The answer to the question
Ghusl has three duties.
1. to rinse
2. Runny nose
3. Pour water over the whole body three times
31/07/2023
Today Question
How many duties are there in Ghusl?
29/07/2023
Masnoon Method of Bathing
It is narrated from Umm al-Mu'minin Hazrat Ayesha (Razi Allah Tala Anhu) that when Hazrat Muhammad (Sallallahu Alaihi Wasallam) Ghusl Janabat used to say:
1. Wash your hands first.
2. Then pour water from the right hand to the left hand and wash the private parts.
3. Then perform ablution-like prayer.
4. After that, wet the roots of the hair with water with the fingers of the hands.
5. Pour three cups of water on the head and then pour the water over the whole body.
6. Finally, wash both feet once again.
19/07/2023
اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ علَيْنَا بِالأَمْنِ والإِيمَانِ وَالسَّلامَةِ والإِسْلامِ ، رَبّي ورَبُّكَ اللَّه
#سویڈن
عدالت میں درخواصت دی گئی ہمیں مذہب اسلام کی الہامی کتاب جلانے کی اجازت دی جائے
اجازت دے دی گئی
دن چُنا گیا عید کا کیونکہ مذہب اسلام کا بڑا اجتماع ہر جگہ عیدین پہ ہوتا ہے۔۔
جگہ چُنی گئی مسجد۔۔کیونکہ مسجد میں مذہبی اور دین پہ چلنے والے لوگ کثرت میں ہوتے۔۔
اور پھر ترتیب کے ساتھ جلایا گیا اللہ کا کلام کہ جس میں زیر زبر کی بھی ردوبدل کرنے کی طاقت نہیں کسی میں۔
ایک مسلمان جس نے روکنے کی کوشش کی۔اُسے پولیس نے گرفتار کر لیا کیونکہ عدالت کے نزدیک یہ جُرم ہے
یا اللہ رحم۔۔۔💔
اب سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جس کتاب کا نقطہ بدلنے کی بھی طاقت نہیں جو کتاب خود بڑی طاقت ہے اُسے جلا کر اللہ یا اُسکے رسول ﷺ کی شان میں گُستاخی کرنا مقصود تھا۔۔۔؟
ہر گز نہیں۔۔
مقصد صرف مسلمانوں کو اُنکی اوقات یاد دلانا تھی کہ تم لوگ کمزور اور بُزدل ہو۔۔
مقصد جتانا تھا کہ تم لوگ پیسوں حِرص و ہوس میں اقتدار کے لالچ تفرقات میں پڑے ہوئے منتشر لوگ ہو ہجوم ہو تم لوگ ایک "اُمت" نہیں ہو۔۔۔
عرب والوں کے پاس سب کچھ ہے مگر وہ یار ہیں یہود۔ نصاری کے۔۔
ایشیاء میں تو ہم ہیں ایٹمی پاور مگر ابھی چار دن پہلے سود لینے پہ بدھائیاں دے رہے تھے۔۔
میرا دل کہتا ہے اگر مکہ اور مدینہ سے عرب والوں کو کمائی نہ ملے تو اقصیٰ کیطرح یہ بھی مقبوضہ ہو جائیں گے۔
روزِ حشر جس کو اللّٰہ نے جتنی طاقت دی ہے اتنا ہی سوال ہوگا۔ہمیں لکھنے اور بولنے کی قوت دی ہم اسکے جوابدہ آپ کو اقتدار کی قوت دی آپ اس کے جوابدہ
#سویڈنمردہباد 🖐️
#مُسلم_اُمہ۔۔۔۔۔۔۔؟💔
میں بطور مسلمان سوئیڈن میں قرآن پاک کی بےحُرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں سویڈن مردہ باد 🖐️
براہ کرم سوشل میڈیا پر آواز اٹھائیں ۔۔۔۔
Surah Bakarakh Verse 197_Chapter 02_Total Verses 286_Revelation Place : Makkah
21/04/2023
تقبل الله منا و منک
(الله پاک ہمارے اور آپ کے نیک اعمال قبول فرمائے )
عید مبارک❤۔۔۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Shaheenabad
Gujranwala
50250