Munawar Quran academy

Munawar Quran academy Munawwar Quran Academy is an effort to connect people with the book of Allah.

27/07/2026

Alhamdulillah from the platform of Munawwar Quran Academy.
شیطان کے بارے میں واقفیت حاصل کریں تاکہ ہم اپنی ازلی دشمن سے بچ سکیں ۔

سبق 1
شیطان کا تعارف اور نفسیاتی جائزہ 👇👇
https://recorder.google.com/fd001031-8220-435f-879d-e8ccd23431a2

سبق 2
شیطان کی انسان سے دشمنی کا اغاز
اللہ کو چیلنج اور اللہ کا جواب 👇👇
https://recorder.google.com/c35c833c-429e-44ac-b333-451161e66b7b
سبق 3
شیطان کے ہماری زندگیوں میں داخلے کے ذرائع
https://recorder.google.com/ad68af5d-20f2-4462-8655-423ed2bcec2b
سبق 4
خطوات الشیطان
https://recorder.google.com/17d3d61b-6047-4619-ae4a-fe32d1ac438c
سبق نمبر پانچ
وسوسہ
شیطان کے وساوس اور ان کی اقسام
https://recorder.google.com/e506224c-e70e-4d80-bcfc-6cbeb1697c9a

25/06/2026

محرم الحرام: مروجہ رسومات یا اتباعِ سنت؟ (ایک فکری اور اصلاحی جائزہ)

تحریر:
طاہرہ منور

محرم الحرام کا مہینہ اسلامی تاریخ میں اپنی فضیلت، حرمت اور خاص طور پر شہدائے کربلا اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی کی یاد کے باعث انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہر مسلمان کے دل میں اہل بیتِ اطہار کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ لیکن ایک مومن کے لیے کسی بھی عمل کی قبولیت کا واحد معیار
سنتِ نبوی ﷺاورطریقہِ صحابہ ہے۔

آئیے اس محرم الحرام میں ہم اپنی نیکیوں کو مروجہ رواجوں کے بجائے خالص سنت کے ترازو میں تول کر دیکھیں کہ تقویٰ اور احتیاط کا تقاضا کیا ہے۔
1. محرم الحرام میں کرنے کا اصل کام: دو روزے اور ان کی حقیقت
نبی کریم ﷺ سے محرم کے مہینے میں جو عمل صریح اور واضح طور پر ثابت ہے، وہ روزہ رکھنا ہے۔ جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہودی 10 محرم کا روزہ رکھتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں، چنانچہ آپ ﷺ نے خود بھی 10 محرم کا روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی حکم دیا۔
لیکن یہودیوں سے مشابہت ختم کرنے کے لیے آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری سال ایک اہم ارادہ فرمایا:
> *"اگر میں آئندہ سال زندہ رہا، تو 9 محرم کا روزہ بھی (10 کے ساتھ) ضرور رکھوں گا۔"* (صحیح مسلم: 2661)
> اگرچہ اگلا محرم آنے سے پہلے آپ ﷺ کا وصال ہو گیا، لیکن آپ ﷺ کے اس فرمان کی روشنی میں سنت اور مستحب طریقہ یہی ہے کہ **صرف ایک روزہ نہ رکھا جائے، بلکہ 9 اور 10 محرم (یا 10 اور 11 محرم) کے دو روزے رکھے جائیں** تاکہ یہودیوں کی مشابہت سے بچا جا سکے۔
>
2. نیاز خالصتاً اللہ کے نام کی ہو (قرآن مجید کے حوالہ جات)
قرآن مجید میں بالکل صریح اور واضح الفاظ میں ان چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو مسلمانوں پر حرام ہیں، اور ان میں سے ایک بڑی وجہ غیر اللہ کے نام پر کھانا نامزد کرنا ہے۔
سورہ البقرہ (آیت 173):
> اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ**
> "اس نے تو تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور حرام کیا ہے جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو۔"
>
* یہی حکم قرآن مجید کی دیگر آیات سورہ المائدہ (آیت 3)سورہ الانعام (آیت 145)اور سورہ النحل (آیت 115) میں بھی دہرایا گیا ہے۔
قرآنی آیات کی روشنی میں صریح حکم: جو نیاز یا لنگر غیر اللہ کے نام پر دیا جائے، وہ قطعی طور پر حرام** ہے۔ نیاز، نذر، اور ذبح صرف اور صرف اللہ رب العزت کے نام پر ہونا چاہیے، جس کا ثواب بعد میں اہل بیت کو پہنچایا جائے۔

3. اگر گھر میں نیاز آ جائے تو کیا کریں؟ (فقہاء کی آراء اور تقویٰ کا تقاضا)
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ محرم میں پڑوس یا رشتہ داروں کے ہاں سے نیاز کا کھانا یا دیگ آ جاتی ہے اور اسے کھانے کا من چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف فقہاء کی آراء درج ذیل ہیں:
اهلِ تشیع (فقہ جعفریہ):ان کے نزدیک یہ کھانا امام حسینؓ کا تبرک ہے، اس لیے اسے کھانا باعثِ برکت اور پسندیدہ ہے۔
فقہ حنفی (اہلِ سنت):ان کے فقہاء کا کہنا ہے کہ اگر کھانا خالصتاً اللہ کے نام پر ذبح یا تیار کیا گیا ہو اور نیت صرف ایصالِ ثواب کی ہو، تو وہ شرعاً حلال ہے۔ تاہم، بعض علماء احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں کہ اگر یہ کھانا صدقہِ واجبہ (منت وغیرہ) کی نیت سے ہو تو مالداروں کو اس سے بچنا چاہیے اور صرف غریبوں کو کھانا چاہیے۔
فقہ سلفیہ (اہلِ حدیث): ان کے علماء کے نزدیک چونکہ کسی خاص دن کو کھانے کے لیے مخصوص کرنا دین میں ثابت نہیں اور یہ مروجہ رسومات کا حصہ بن چکا ہے، اس لیے وہ احتیاطاً ایسی نیاز کھانے سے بچنے (اجتناب کرنے) کی تاکید کرتے ہیں تاکہ ان رسومات کی حوصلہ افزائی نہ ہو۔
نیت کا شک اور بدعت: دونوں صورتوں میں احتیاط کا تقاضا
اگر آپ کے گھر کسی کی نیاز آتی ہے، تو تقویٰ اور احتیاط کا تقاضا دو الگ صورتوں میں یہ بنتا ہے:
1. پہلی صورت (دینے والے کی نیت پر ڈاؤٹ ہو): اگر آپ کو شک ہو کہ دینے والے نے یہ کھانا خالص اللہ کے لیے بنایا ہے یا غیر اللہ کی نیت سے (یا زکوۃ و منت کا مال ہے)، تو شریعت کا اصول ہے کہ جہاں شک ہو، وہاں پرہیز کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: "اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے۔" (ترمذی)
2. دوسری صورت (نیت اللہ کی ہو لیکن طریقہ بدعت ہو): اگر آپ کو یقین ہے کہ دینے والے کی نیت اللہ ہی کی ہے، لیکن اس نے دین میں ایک نیا طریقہ اور بدعت ایجاد کر کے محرم کے دن کو لازم پکڑا ہے، تب بھی تقویٰ کا تقاضا یہی ہے کہ آپ اس کھانے سے پرہیز کریں۔ کیونکہ بدعت والے کاموں کی حوصلہ افزائی کرنا یا ان کا حصہ بننا سنت سے دوری کا سبب بنتا ہے۔
4. مخصوص ایام، دیگیں اور عزاداری: سیرتِ طیبہ کی روشنی میں
آج ہمارے معاشرے میں محرم کے دنوں میں خاص طور پر دیگیں پکانے، مجلسوں میں جا کر مصائب بیان کرنے، نوحہ خوانی یا عزاداری کرنے کو دین کا ایک لازمی حصہ اور رواج بنا دیا گیا ہے۔ اگر ہم تاریخ اور سیرت کا مطالعہ کریں تو حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے:
* **شہدائے احد اور حضرت امیر حمزہؓ:** غزوہ احد (3 ہجری) میں نبی ﷺ کے چچا سید الشہداء حضرت امیر حمزہؓ کو انتہائی مظلومیت سے شہید کیا گیا۔ ان کے پورے جسم کے اعضاء کاٹے گئے، مصلہ کیا گیا، کلیجا تک چبایا گیا۔ حضور ﷺ کو اس کا شدید صدمہ تھا، لیکن اس واقعے کے بعد آپ ﷺ کئی سال حیات رہے، ہر سال احد کی تاریخ آئی، مگر آپ ﷺ نے کبھی حضرت حمزہؓ کا نوحہ نہیں کیا، نہ ہر سال ان کی عزاداری کی، نہ مجالس قائم کر کے ان کے ظلم و ستم کو بیان کیا اور نہ ہی ان کی برسی یا کسی خاص دن کی تخصیص کر کے کھانا پکایا۔
* **صاحبزادیاں اور ازواجِ مطہرات:** حضور ﷺ کی زندگی میں آپ کی تین جوان بیٹیاں اور آپ کی محبوب ترین رفیقۂ حیات حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا وفات پا گئیں، مگر آپ ﷺ سے برسی منانا یا مخصوص دن کا کھانا ثابت نہیں ہے۔
* **خلفائے راشدین کا طریقہ:** حضور ﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم نے حکومت کی، انہیں اہل بیت سے ہم سے کروڑوں گنا زیادہ محبت تھی، لیکن ان میں سے کسی نے بھی کسی شہید یا وفات پا جانے والے کے لیے سال کا کوئی دن مخصوص نہیں کیا اور نہ ہی نوحہ خوانی و عزاداری
5. اہل بیت
سے عملی محبت کا اصل معیار
اگر ہم سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور اہل بیتِ اطہار سے سچی محبت کرتے ہیں، تو اس کا اظہار صرف کھانے پکانے یا نعروں سے نہیں ہوگا، بلکہ ان کی تعلیمات پر عمل کرنے سے ہوگا۔
امام حسینؓ نے کربلا کے میدان میں جان دے دی لیکن باطل اور جھوٹ کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ ہماری سچی اور عملی محبت یہ ہے کہ:
ہم اپنی زندگیوں میں سچ کا ساتھ دیں اور جھوٹ سے نفرت کریں۔
ہر حال میں انصاف کے ساتھ کھڑے ہوں، خواہ اس کے لیے ہمیں کوئی بھی قربانی دینی پڑے۔
* نمازوں کی پابندی کریں، کیونکہ میدانِ کربلا میں تیروں کی برسات میں بھی امام حسینؓ نے نمازِ خوف قائم کر کے نماز کی اہمیت واضح کی تھی۔
یہ وہ عملی محبت ہے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے، نہ کہ صرف سال میں ایک بار جذباتی رسومات ادا کرنا۔
6. نیت کا اخلاص اور حلال کمائی
اگر ہم یہ سارا کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اور اپنی حلال کمائی میں سے کر رہے ہیں، تو پھر اس کا طریقہ کار بھی عین سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہونا چاہیے:
> جب پیسہ بھی ہمارا حلال کا ہے، محنت بھی ہماری ہو رہی ہے اور نیت بھی اللہ کی رضا کی ہے، تو ہم اسے اپنے من گھڑت طریقوں اور مروجہ رواجوں پر کیوں لگائیں؟ کیوں نہ ہم اپنا پیسہ عین محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت کے سانچے میں ڈھال کر خرچ کریں تاکہ ثواب ملنے کی سو فیصد ضمانت ہو؟
>
اگر آپ کو اہل بیت سے محبت ہے اور آپ ان کے نام پر صدقہ کرنا چاہتے ہیں، تو مسنون طریقہ یہ ہے کہ:
1. دن کی تخصیص ختم کریں: محرم کے ان دو دنوں کا انتظار کرنے یا انہیں لازم سمجھنے کے بجائے سال کے کسی بھی عام دن میں خاموشی سے صدقہ کریں۔
2. مستحقین تک پہنچائیں: کسی پیٹ بھرے کو محض رواج کے تحت کھلانے کے بجائے کسی واقعی غریب، یتیم، بیوہ یا سفید پوش کی خاموشی سے مالی مدد کر دیں یا اسے راشن لے کر دے دیں، جس کی نیت صرف اللہ کی رضا اور ایصالِ ثواب ہو۔

حاصلِ کلام
سنت میں سادگی، برکت اور نجات ہے۔ رواجوں کی پیروی دین کو مشکوک بنا دیتی ہے۔ آئیے اس محرم الحرام میں رواج کو چھوڑ کر سنت کو زندہ کریں، مسنون روزے رکھیں، شہدائے کربلا کے بلندیِ درجات کے لیے دعائیں کریں، ان کے نقشِ قدم پر چل کر سچ اور انصاف کا ساتھ دیں، اور اگر صدقہ و خیرات کرنا ہو تو بغیر کسی نمائش اور دن کی قید کے، مساکین کی مدد کر کے سچے امتی ہونے کا ثبوت دیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور سنت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

09/06/2026

سورہ الرعد مکمل

Address

Gujranwala

Telephone

+923237444210

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Munawar Quran academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Munawar Quran academy:

Shortcuts

Share