06/12/2022
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Wada hai Hamari ye Mohabbat ki Dastan Khaas Rahegi,
,
Aapki Surat Hamesha Dil k Paas Rahegi,
,
Nahi Bhulenge Hum Aapko or Aapke Piyar ko,
,
Jab tak Dil me Dhadkan aur ye Saans Rahegi.!!
صبح بخیر حمین جانان ۔۔۔
حمین نہانے گیا ہوا تھا جب عدن کا میسج دیکھ کر معارج کا صبح صبح پارہ چڑھ گیا ، یہ چڑیل جان نہیں چھوڑے گی اس کا کچھ کرنا پڑنا، معارج کا دل کیا جا کر اس کا سر پھاڑ دے، مگر پھر باقیوں کو کیا کہتی کس وجہ سے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے اففف۔
اسے بلاک کر دپتی ہوں مگر حمین نے دیکھا تو شک مجھ پہ ہی جائے گا ،
معارج نے واشروم کی طرف دیکھا حمین ابھی تک اندر ہی تھا،
چلو چھوڑو مجھے کیا، حمین تو میرے پاس ہی ہے نا ہنہ۔ معارج نے منہ بسورا۔
عدن ناشتہ کر چکی تھی ، اور صحن میں بیٹھی ماما سے باتیں کر رہی تھی ، عالیہ کا فون آگیا، ایک منٹ ماما میں بات کر کے آئی اٹلی سے فون ہے۔
ہیلو عالیہ کیا حال ہیں ؟
ہائے سویٹی میرا مطلب میڈم میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں ، آپ تو جا کر بھول ہی گئی ہیں ۔
نہیں نہیں مجھے یاد ہو تم ، میرے ذہن میں ہو ہاہاہا
ملنے ہی آجاؤ میڈم ۔۔۔۔۔
اچھا اگلے مہینے چکر لگاتی ہوں ،
وعدہ ؟
ہاں عالیہ وعدہ ۔
عدن کچھ دیر باتیں کر کے واپس آئی تو ماما صحن میں نہیں تھیں ،
اپنے کمرے میں جانے سے پہلے اس معارج کو کچن سے نکلتے دیکھا جو اوپر جا رہی تھی ،
عدن نے کچن میں جا کر دیکھا تو اس نے آملیٹ میں بس لال ، کالی مرچ ڈالی تھی، نمک اسے یاد نہیں رہا،
عدن نے چٹکی بھر نمک ڈالا اور چلی گئی ، سیڑھیوں سے اترتے ہوئے معارج نے عدن کو کچن سے نکلتے دیکھ لیا ، اور خود کلامی کی اب کیا شیطانی کی ہو گی اس نے ۔۔۔۔۔
معارج نے جا کر چائے بنائی اور حمین کے لیے ناشتہ لے کر اوپر آ گئی ، اسے بعد میں یاد آیا کہ اس نے نمک نہیں ملایا تھا،
مگر حمین نے پہلا نوالہ لینے کے بعد کہا واہ معارج آج تو مسالے کا بڑا حساب رکھا ہے ، نمک مرچ برابر ہے،
معارج کو لگا شاید حمین بات لگا رہا ہے مگر اس نے ایک نوالہ کھایا تو اس کے ذہن میں عدن آگئی ۔
پہلی دفعہ معارج نے سوچا کہ یار وہ اتنی بری بھی نہیں ہے جتنا میں سمجھتی ہوں ۔ خیر بعد میں شکریہ کہہ دوں گی ۔
یہ دونوں ناشتہ کر رہے تھے جب ماما ان کے کمرے میں آئیں اور کہا حمین ہمیں کسی کام کے لیے پاکستان جانا پڑ گیا ہے ، ساتھ آنا ہے یا ادھر ہی رہو گے ؟
حمین نے پوچھا کیا کام پڑ گیا اچانک ؟
بیٹا وہ تمہارے پاپا ہر سال اجتماعی شادیوں کا بندوبست کرتے ہیں تو اس دفعہ بھی سوچ رہے تھے جا کر یہ کام بھی ختم کر دیں ویسے بھی آج کل ادھر زیادہ کام نہیں ہے ۔
اوکے ماما آپ چلے جائیں میں فی الحال ادھر ہی رہنا چاہتا ۔
معارج بیٹا تم بھی جانا چاہو گی یا رہنا ہے ؟
معارج نے سوچا جانے کا دل تو ہے بابا سے بھی مل لوں گی مگر حمین اس چڑیل کے لیے ادھر رک رہا ہے اسے بھی اکیلا نہیں چھوڑ سکتی ، وہ پہلے ہی سب کچھ اپنی مٹھی میں کر رہی ہے ۔
معارج ؟؟؟
حمین نے اسے بازو سے پکڑ کر ہلایا کیا سوچ رہی ہو ؟
جی ماما میں بھی جاؤں گی ، میں نہیں جاؤں گی ۔۔۔ اوہو
حمین کی ہنسی نکل گئی ، کدھر گم ہو ؟
ماما میں بھی جاؤں گی اگر حمین گیا تو۔
کیوں پہلے میرے ساتھ گئی تھی کیا ہاہاہا
اچھا کوئی بات نہیں میں اکیلی بھی جا سکتی ہوں مجھے کسی کا ڈر نہیں ہے،
ماما نے آ کر حمین کو ایک لگائی تم کیوں ہر وقت اسے ستاتے رہتے ہو ۔
معارج نے کہا چھوڑیں ماما میں آپ کے ساتھ جاؤں گی اور کچھ دن بابا پاس بھی رہ لوں گی۔
اچھا ٹھیک ہے رہ لینا، حمین نے مذاقاً شکر کہا۔
ماما نے جاتی دفعہ اسے چھیڑنے کے لیے کہہ دیا ٹھیک ہے بیٹا اکیلے رہ لینا عدن بھی پاکستان جا رہی ہے ،
حمین کے پیٹ میں گرہیں پڑ گئیں ، کیا وہ بھی جا رہی ہے ،
معارج نے کہا پھر میں نہیں جا رہی۔
ماما حا چکی تھیں ، معارج کا بھی موڈ بدل گیا،
یار اب تم نے ماما کو اوکے کہہ دیا ہے ، اب انکار کرنا اچھا نہیں لگتا۔
معارج چپ کر کے ناشتہ کرنے لگ گئی۔
حمین ناشتہ کر کے نیچے چلا گیا اور سیدھا عدن کے کمرے میں پہنچا،
عدن اسے دیکھ کر کھل اٹھی،
عدن کو بازؤوں میں بھرتے ہوئے حمین نے پوچھا تم پاکستان جا رہی ہو؟
نہیں تو، آپ کو کس نے کہا؟
اچھا مجھے لگا ماما ساتھ جا رہی ہو ،
نہیں میں ابھی پچھلے دنوں میں ہی تو آئی ہوں آپ کہتے ہیں تو چلی جاتی ہوں ۔
حمین نے اس کے بال کانوں کے پیچھے کرتے ہوئے کہا میں تمہارے لیے رکا ہوا ہوں ،
عدن نے کہا تو آپ چلے جائیں ویسے بھی آپ کے پاس میرے لیے فرصت کہاں ہے ۔
حمین نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا سارا وقت تمہارا ہی ہے جاناں۔
عدن اس کے بازؤوں میں کسمسا گئی ۔
حمین نے باری باری اس کی دونوں آنکھیں چومیں ۔
کسی نے دروازے پہ دستک دی تو حمین پیچھے ہو گیا ،
عدن نے اسے چھیڑا یہ لو تمہاری کچھ لگتی آگئی ہاہاہا
دروازہ کھولا تو سامنے ماما تھیں ، حمین کو اندر دیکھ کر ماما نے کہا تمہیں کہیں چین نہیں ہے پہلے اوپر تھے اب نیچے پہنچ گئے ہاہاہا
ماما کیا کروں ڈبل جاب ہے ہاہاہا
بدتمیز ہی رہنا تم۔۔۔۔۔ عدن کی بھی ہنسی چھوٹ گئی۔
ماما آپ معارج کو ساتھ لے جائیں ،
کیوں ؟ میں عدن کو ساتھ لینے آئی ہوں ۔
جی ماما ٹھیک ہے میں آپ کے ساتھ چلوں گی،
حمین نے اسے آنکھیں بڑی کر کے دیکھا ،
ماما کہہ رہی ہیں میں انکار نہیں کر سکتی،
ماما نے کہا عدن بیٹا معارج ساتھ جا رہی ہے تم ادھر ہی رہ لو اس شیطان کا کوئی پتا نہیں ادھر نیا چاند نا چڑھا دے، ہمارے آتے آتے میری کوئی تیسری بہو نا ہمارا استقبال کر رہی ہو ہاہاہا
عدن نے کہا ماما خیر ہے اسے بھی پتا لگے ذمے داری پڑے گی تیسری اس کا خون چوسے گی پھر سکون سے رہے گا ہاہا
ماما آپ اجازت دیں چار چار کی لائن لگا دوں ،
ماما نے اسے گور کر دیکھا ، بس اب جتنا ہو گیا ہے کافی ہے اب ہمیں بھی کوئی خوشخبری دو ہم نے بس تمہارے ولیمے نہیں کھانے ۔
تینوں ہنستے رہے پھر حمین نے کہا ماما آپ اجازت دیں تو اسے ترکی گھما لاؤں بیچاری کا بچپن کا خواب تھا اور یہ کبھی پاکستان سے باہر بھی نہیں گئی،
حمینننننن کیا میں پاکستان سے باہر نہیں گئی، توبہ۔
ماما نے کہا اچھا تم دونوں چلے جانا مگر ایک ہفتے تک واپس بھی آجانا، ہم نے بھی پاکستان بس ایک ہفتے کے لیے ہی جانا ہے ۔
حمین نے عدن کو دیکھا جو اسے گور رہی تھی ، حمین ۔۔ اس نے کشن اٹھا کر مارا،
حمین نے کہا اچھا میں کچھ دیر میں آتا ہوں ،
کیوں کسی کی یاد آ رہی ہے یا اوپر والی کا ڈر ہے ہاہاہا
حمین ہنستے ہوئے باہر نکل گیا،
اوپر گیا تو معارج پیکنگ کر رہی تھی ، تم واقعی جا رہی ہو ؟
ہاں حمین جا رہی ہوں ، آپ آرام سے اس کے ساتھ رہنا،
اچھا یار منہ تو نا بناؤ نا،
نہیں میں اپنے دل سے کہہ رہی ہوں ، شاید میری وجہ سے آپ اسے وقت نہیں دیتے،
حمین نے اس کی بات کاٹی ، ایسا نہیں ہے گڑیا ، بس میں دونوں میں توازن رکھنا چاہتا ہوں ،
معارج چپ کر کے سنتی رہی،
دن ڈھل گیا، اگلے دن ان کی فلائیٹ تھی، حمین انہیں چھوڑنے ایئرپورٹ گیا مگر فلائٹ کو ذرا تاخیر ہو گئی اچانک معارج کی طبیعت بگڑنے لگ گئی،
ماما بھی پریشان ہو گئیں ، اس کے بابا نے کہا چلو گھر چلتے ہیں ہم بھی بعد میں پاکستان چلے جائیں گے ، معارج کا ٹمپریچر اچانک بڑھ کر پھر کم ہو گیا ، اسے الٹیاں آ رہی تھی ،
ماما آپ چلے جائیں میں بعد میں آجاؤں گی، اس نے زبردستی انہیں جانے کا کہہ دیا ،
حمین اسے لے کر ہسپتال گیا، اس کے ٹیسٹ وغیرہ ہوئے تو ڈاکٹر نے کہا اسے ٹائیفائڈ ہے، احتیاطی تدابیر اور ادویات لکھ کر اسے مکمل طور پر ریسٹ کرنے کا کہا،
حمین کی گاڑی باہر رکی تو عدن بھاگ کر دروازے تک آئی یہ تب سے بے چینی سے حمین کا انتظار کر رہی تھی ،
حمین نے معارج کو سہارا دیا اور اندر لایا،
کیا ہوا اسے؟ عدن بھی پریشان ہو گئی ،
کچھ نہیں بس ٹائیفائڈ کی علامات ہیں ، عدن نے بھی اسے سہارا دیا اور اپنے کمرے تک لے آئی،
معارج کو اپنی ہوش نہیں تھی، مگر اسے پتا لگ رہا تھا عدن نے اسے سہارا دیا ہے اور اپنے کمرے میں لے آئی ہے ،
حمین اور عدن باہر کھڑے باتیں کر رہے تھے جب معارج نے سنا عدن کہہ رہی تھی حمین اپنی کل کی فلائٹ کینسل کر دیں ہم ترکی پھر کبھی چلے جائیں گے فی الحال معارج کے پاس رہنا چاہیے ۔
معارج کے ذہن میں ایک لمحہ خیال آیا یہ حمین کی خوشنودی کے لیے ایسا کر رہی ہو گی مگر آنے والے دنوں میں اس کا یہ یہ خیال ختم ہونے والا تھا ۔
عدن نے جاگ جاگ کر دن رات اس کی تیمارداری کی،
معارج کو کچھ پتا نہیں لگتا تھا وہ کب سو جاتی کب جاگتی مگر عدن نے اس کی دوائیوں اور علاج کا پورا خیال رکھا، ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق اسے ہر طرح کی چیزیں بنا کر دیں ،
دو تین دن ایسے ہی گزر گئے ، معارج بہت کمزور ہو چکی تھی ، ماما کی بھی بار بار کالز آتیں ،
معارج اب کچھ بہتر ہو رہی تھی ، مگر اب اس کے ذہن میں ایک ہی بات تھی یہ کس مٹی کی بنی ہوئی ہے ؟ میرے بار بار باتیں سنانے کے بعد بھی اس نے مجھے کبھی کچھ نہیں کہا، اور اب ایک بہن ایک ماں کی طرح اتنے دنوں سے میرا خیال رکھ رہی ہے،
عدن زیادہ تر اس کے پاس ہی بیٹھی رہتی اکثر راتوں کو بیٹھے بیٹھے اسے نیند آجاتی تو وہ کرسی کے ساتھ ہی ٹیک لگا کر سوجاتی مگر معارج کی ہلکی سی آواز سے بھی اٹھ کر اسے پوچھتی کچھ چاہیے ؟ عدن نے پانچ چھ دن ایسے ہی گزار دیے، اسے کھانا کھلانے ، دواؤں کے علاوہ باقی سارے کام، واشروم تک عدن خود لے کر جاتی رہی،
حمین بھی ساتھ ہی تھا مگر بابا کے پاکستان جانے کے بعد یہ سٹور پہ بھی چلا جاتا ادھر کا کام دیکھتا اور دن میں کئی مرتبہ کال کر کے معارج کا پوچھتا،
ساتویں دن معارج کی طبیعت کچھ مزید بہتر ہوئی اور وہ خود اٹھ کر چلنے پھرنے میں آسانی محسوس کر رہی تھی مگر کمزوری کی وجہ سے ابھی بھی اسے ریسٹ کرنا تھا،
عدن نے اسے سہارا دے کر اٹھایا ، معارج کونسے کپڑے نکالوں آج ؟
معارج اسے تکتی رہ گئی ، اور اس کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں ۔
آئی ایم سوری عدن میں نے ہمیشہ تمہارے ساتھ ناروا سلوک کیا،
عدن کے گلے لگ کر معارج رونے لگ گئی،
اوہو کیا ہو گیا معارج ، تم مجھے ہمیشہ سے بہت عزیز رہی ہو بس غلط فہمی ہو تو ہم کسی کے لیے کچھ بھی کریں اسے احساس نہیں ہوتا،
عدن نے ٹشو پیپر سے اس کا منہ صاف کیا،
معارج اس کے گلے لگی رہی، میں تمہارا ساری زندگی شکریہ ادا نہیں کر سکتی ، پہلے تم نے حمین کے لیے اتنا کچھ کیا اور اب میرے لیے، معارج کی آنکھوں سے آنسو نکل گئے ،
یہ میرا فرض ہے معارج ، تم چاہے کچھ بھی سمجھو مگر تم دونوں کا خیال رکھنا میری ذمے داری ہے،
وپسے تمہیں حمین کے بارے میں کیسے پتا لگا ؟
معارج نے ساری بات بتائی کیسے وہ حمین کے لیپ ٹاپ کی ہسٹری سے دواؤں کے بارے میں سرچ دیکھتی رہی اور پھر کچھ نساء کے ای میلز تھے، پھر پاکستان جا کر ساری بات پتا لگی،
ان دونوں کو خبر ہی نہیں تھی حمین کب آیا اور دروازے پہ کھڑا ہو کر ان کی باتیں سن رہا تھا ، اس نے بھی شکر ادا کیا کہ اب دونوں نارمل رہ سکیں گی ۔
حمین نے دروازے پہ دستک دی، اگر میری بد خوئیاں ختم ہو گئی ہیں تو میں اندر آجاؤں ،
دونوں چونک گئیں ، عدن نے اسے بیڈ پہ بٹھایا اور کہا آئیں اب آپ کی خبر لیتی ہوں ، معارج کی ہنسی نکل گئی، کتنے دن بعد اس کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی ، ہاتھ سے آنکھیں رگڑنے کے بعد معارج نے کہا اب میری طبیعت بہتر ہے آپ دونوں ترکی گھوم آؤ، ویسے بھی کل پرسوں ماما نے آجانا ہے،
عدن نے کہا نہیں ہم تمہیں ایسے چھوڑ کر نہیں جا سکتے، ترکی پھر کبھی چلے جائیں گے ۔
معارج آج خود کو بہت ہلکا محسوس کر رہی تھی ، شاید اس کے زہن سے یہ بوجھ اتر چکا تھا جو وہ خود خیالی میں عدن کے بارے میں رکھتی تھی ۔
تینوں باہر صحن میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے ، عدن اسے دوائی کھلا رہی تھی ،
معارج نے کہا عدن میں تمہیں ایک بات کے لیے کبھی معاف نہیں کروں گی، عدن کا ماتھا ٹھنکا ، اب کیا ہوا ؟
تم نے مجھے اپنی شادی پہ نہیں بلایا ،
تینوں ہنسنے لگ گئے ، معارج اب ہر گزرتے منٹ کے ساتھ بہتر ہو رہی تھی ،
حمین نے کہا آج شام پھر ڈاکٹر پاس جائیں گے ،
عدن اٹھی اور کمرے سے بریف کیس لے آئی جس میں وہ معارج کے لیے تحفے لے کر آئی تھی ،
باری باری کر کے اس نے ساری چیزیں نکالی، معارج کو گولڈ بریسلیٹ بہت پسند آیا، اس پہ معارج ہادی لکھا ہوا تھا ،
عدن بہت شکریہ یار۔۔۔۔۔
عدن نے اس کی بات کاٹ دی، شکریہ کی بات نہیں ہے ۔
تینوں نے ڈھیر ساری باتیں کی اور شام کے وقت ڈاکٹر پاس گئے ، چیک اپ کروایا ، رپورٹ نارمل تھی مگر ڈاکٹر نے اسے ابھی بھی احتیاط کرنے کا کہا،
باہر سے کھانا کھا کر تینوں گھر آئے تو معارج عدن کے کمرے میں چلی گئی اور جا کر بیڈ پہ بیٹھ گئی،
حمین کو اندر آتا دیکھ کر معارج نے کہا جناب آپ کا بیڈ روم اوپر ہے، عدن ہنسنے لگ گئی،
حمین نے کہا واہ تم دونوں کی بن گئی ہے تو اب میں سائیڈ پہ ۔۔۔۔
عدن نے کہا آپ دونوں ادھر سو جاؤ میں صوفے پہ سو جاؤں گی ، اتنا کہہ کر عدن صوفے پہ بیٹھ گئی اور وہ دونوں بھی آ کر صوفے پہ بیٹھ گئے ،
پھر عدن کے کمرے میں لگا ٹی وی آن کر کے وہ مووی دیکھنے لگ گئے ،
معارج نجانے کب حمین کے کندھے پہ سر رکھے سو چکی تھی ، عدن نے اسے سوتا دیکھ کر ٹی وی بند کیا اور کہا حمین آپ اس کے ساتھ سو جاؤ میں اوپر سو جاتی ہوں ،
عدن اٹھ کر چلی گئی ، حمین نے اسے اٹھا کر بیڈ پہ لٹایا اور اس کے چہرے سے بال پیچھے کر کے ماتھا چوما،
کچھ لمحے بعد معارج کی آنکھ کھلی ، حمین۔
جی گڑیا ؟
عدن کہاں ہے ؟
وہ تو اوپر کمرے میں جا کر سو چکی ہے ۔
اچھا میں بھی سونے لگی ہوں آپ جا کر اس کے ساتھ سو جائیں ۔
حمین نے مسکرا کر اسے دیکھا اور گڈ نائٹ کہہ کر اوپر چلا گیا ۔
کمرے کا دروازہ کھولا تو عدن جاگ رہی تھی ، تم سوئی نہیں ابھی ؟
نہیں بس نیند نہیں آرہی ، عدن اٹھ کر اس کے گلے لگ گئی۔
حمین ،
جی؟
عدن نے کہا کچھ نہیں ، اور اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی،
حمین نے اس کی گردن پہ بوسہ دیا، تو اس نے حمین کے گرد اپنے بازو مزید سخت کر دیے،
آج دونوں بہت پرسکون لگ رہے تھے ۔
صبح تینوں دیر سے جاگے،
حمین نیچے آیا تو معارج ناشتہ بنا رہی تھی ، اس نے جا کر معارج کو سلام کیا،
عدن اٹھ گئی؟
ہاں اٹھ گئی ہے اور ابھی نہا رہی ہے تم ناشتہ نا بناتی وہ خود بنا لیتی۔
کوئی بات نہیں حمین، اس کو اب آرام کرنے دو،
عدن نیچے آئی تو ناشتہ تیار تھا، معارج اسے گلے لگ کر بڑی گرمجوشی سے ملی،
تینوں ناشتے سے فارغ ہوئے تو حمین سٹور پہ چلا گیا ،
یہ دونوں بیٹھ کر چائے پی رہی تھیں جب دروازے پہ گھنٹی بجی،
عدن باہر گئی تو ماما پاپا آچکے تھے،
ماما نے اندر آ کر دیکھا تو معارج بھی نیچے ہی تھی، اس سے مل کر ماما کو ذرا سکون ملا میری بیٹی اب ٹھیک ہے ؟
جی ماما ،
زیادہ مسئلہ تو نہیں ہوا ؟
نہیں ماما عدن نے بہت خیال رکھا ہے ، عدن بھی اندر آچکی تھی،
ماشاءاللہ میری دونوں بیٹیاں چائے پی رہی ہیں ، پھر دونوں سے کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد ماما بھی سونے کے لیے کمرے میں چلی گئیں ۔
حمین گھر آیا تو ماما پاپا سے ملنے ان کے کمرے میں چلا گیا،
پاپا نے اسے گلے لگایا اور کہا آخرکار کامیاب ہو ہی گئے ۔
حمین نے کچھ نا سمجھتے ہوئے ماما کی طرف دیکھا، ماما نے کہا یہ جو باہر دونوں کو اکٹھا کر دیا ہے ہاہاہا
پھر کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد ماما نے کہا عدن کو اب ترکی گھما لاؤ،
تینوں صحن میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے ، حمین آپ دونوں نے ترکی کب جانا ہے ؟معارج نے پوچھا ۔
کیوں تم نے بھی ساتھ جانا ہے ؟
نہیں آپ ترکی جاؤ گے تو میں پاکستان چلی جاؤں گی نا۔
عدن نے کہا معارج تم بھی ساتھ آجاؤ،
نہیں یار تم دونوں کا پلان ہے میں اگلی دفعہ جاؤں گی ،
دو دن بعد یہ تینوں ایئرپورٹ پہ پہنچے ، معارج کی فلائٹ پاکستان کی تھی اور یہ دونوں ترکی کے لیے روانہ ہو رہے تھے ، عدن نے اسے ایک بار پھر کہا معارج تین چار دن پاکستان رہ کر تم بھی ترکی آجانا،
اچھا میرا دل کیا تو بتا دوں گی،
معارج انہیں اکیلے وقت گزارنے کے لیے سپیس دے رہی تھی ،
آخری دفعہ تینوں ملے اور اپنی اپنی منزل کی طرف چلے گئے ۔
معارج بابا کے گھر رہی اور اکثر عدن کو فون کرتی رہی ، عدن اور حمین ترکی ایک ہفتہ گزارنے کے بعد اٹلی چلے گئے ،
عالیہ اور فاطمہ نے بہت اچھا استقبال کیا،
فاطمہ کی ڈگری پوری ہو چکی تھی اور اس نے عدن سے اجازت لی میں اپنے گھر جانا چاہتی ہوں اور ادھر اپنا کلینک بناؤں گی،
عدن نے عالیہ سے کہا اس کے جانے کا بندوبست کر دینا اور کلینک فارمیسی کے لیے جتنے پیسے چاہیے اس کے اکاؤنٹ میں رکھوا دینا، فاطمہ کو تو جیسے دنیا جہان مل گیا ، اس نے عدن کے گلے لگ کر شکریہ کہا،
شکریہ تو ہمیں ادا کرنا چاہیے تمہارا فاطمہ۔
کچھ دن بعد معارج بھی واپس سعودی عرب آچکی تھی مگر وہ دونوں اٹلی گھوم رہے تھے ،
عدن جب واپس آئی تو امیدسے تھی،
ان کے گھر بہت خوشیوں کا سماں تھا، معارج ہر وقت اس کے آگے پیچھے گھومتی اور اس کی ہر چیز کا خیال رکھتی،
کبھی اس کی پسند کی چیز اور کبھی صحت بخش کھانے،
اففف یار تم نے مجھے موٹا کر دینا ہے ، معارج ،
معارج نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور کہا موٹی آپ خود ہو رہی ہو ، عدن شرما گئی ۔
بالآخر وہ دن آہی گیا جس کا سب کو انتظار تھا،
ہر طرف سے مبارکباد کی آوازیں آرہی تھیں ، حمین نے معارج کے ہاتھوں سے اپنا بیٹا اٹھایا اور اس کی کانوں میں اذان دی، اسے گھٹی دینے کے بعد اس کا نام محمد سکندر حمین رکھا،
سکندر اسے کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ، دو دن بعد عدن بھی ہسپتال سے گھر شفٹ ہو گئی،
رات کے وقت معارج اس کے کمرے سے مل کر گئی تو دروازے پہ ایک لمحہ رکی، عدن کو اپنا اٹلی والا خواب یاد آگیا، بالکل ہوبہو کمرہ ، سامنے حمین تھا اور اس کا بیٹا مگر اسے بس ایک بات کبھی نہیں بھولی کہ کمرے کے دروازے پہ کون تھی، معارج اسے دیکھ کر مسکرا کر چلی گئی ، حمین نے سکندر کی طرف دیکھا جو کھڑکی سے باہر چاند کو دیکھ رہا تھا اور اس کی آنکھیں لال ہو رہی تھیں ،
عدن اور حمین دونوں سکندر کے پاس کھڑے ہو گئے اور ایک دوسرے کو دیکھ کر کہا نہیں نہیں نہیں ، اور عدن نے کھڑکی بند کر دی، مگر سکندر کی آنکھوں سے ابھی بھی لالی نہیں گئی اور اس نے مسکرا کر دونوں ماں باپ کو دیکھا، حمین نے اپنا ہاتھ ماتھے پر رکھا اور عدن بھی سوچ میں پڑ گئی اب دوبارہ اس کے لیے بھیڑیا مکاؤ فارمولا بنانا پڑے گا۔
ختم شد۔
کیسا لگا پھر ؟ آپ بتاؤ اس کا دوسرا پارٹ لکھنا چاہیے یا نہیں ؟
حمین سالار۔