08/10/2026
آج کل لوگ ریستوران میں جا کر بلا جھجک 5000 کا کھانا کھا لیتے ہیں،
ویٹر کو 500 روپے ٹپ دے دیتے ہیں،
لیکن جیسے ہی بات آتی ہے تعلیم کی —
تو وہی لوگ سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ
"کیا یہ کورس واقعی ضروری ہے؟"
"یہ فیس کچھ زیادہ تو نہیں؟"
دکھ کی بات یہ نہیں کہ وہ پیسے نہیں دے سکتے… دکھ یہ ہے کہ وہ تعلیم کو اہم نہیں سمجھتے!
اور یہ بات ان والدین کے لیے نہیں —
بلکہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ہر چیز کے لیے بجٹ رکھتے ہیں،
لیکن بچوں کی تعلیم کو "فالتو خرچ" سمجھتے ہیں۔
ابھی حال ہی میں دنیا نے کچھ ممالک کو ایک دوسرے پر طاقت آزماتے دیکھا —
لیکن ایک ملک تھا، جس نے صرف ٹیکنالوجی اور علم کی بنیاد پر
دنیا کو دھمکی دی،
اور سب اس کی بات سنتے رہے!
یہ سب راتوں رات نہیں ہوا —
انہوں نے 20 سال پہلے اپنے بچوں کو صرف ڈگری کے لیے نہیں،
بلکہ فکر، تجسس، ہنر، اور ٹیکنالوجی کے لیے تیار کیا۔
میری بات یاد رکھنا…
جتنا بڑا مسئلہ تم حل کرو گے،
اتنا ہی بڑا معاوضہ تمہیں دنیا دے گی۔
کیونکہ دنیا آج بھی اسی قوم کی طرف دیکھتی ہے
جو تعلیم اور ٹیکنالوجی میں آگے ہو،
اور کل بھی اسی کے قدموں میں بیٹھے گی — جو ان میدانوں میں حکمرانی کر رہا ہو گا۔
فیصلہ آپ کا ہے!
"چاہیں تو آج بچوں کو علم دے دیں،
یا کل ان کے لیے صرف دعا باقی رہ جائے۔"