Usman Goraya

Usman Goraya

Share

Teacher | Life Coach|

23/08/2026

Dinning -Kruger effect
Expert
ہونے کا وہم

21/08/2026

کیا کوئی صرف چند جملوں سے آپ کی پوری شخصیت جان سکتا ہے؟ 🧠

ممکن ہے آپBarnum Effect کا شکار ہو رہے ہوں—ایک نفسیاتی phenomenon جس میں عام اور مبہم باتیں ہمیں اپنی ذات کے بارے میں بالکل درست محسوس ہوتی ہیں۔

ایسی psychological tricks کو سمجھیں، دھوکے سے بچیں اور اپنی thinking کو بہتر بنائیں۔

19/08/2026

دوسروں سے نہیں، اپنے کل کے آپ سے مقابلہ کریں۔

04/07/2026
28/06/2026

got

25/06/2026

واقعۂ کربلا میں حضرت حر بن یزید ریاحیؓ کا کردار نہایت اہم اور سبق آموز ہے۔ وہ ابتدا میں یزیدی لشکر کے ایک کمانڈر تھے، لیکن بعد میں حق کو پہچان کر حضرت امام حسینؓ کے لشکر میں شامل ہوگئے اور شہادت کا عظیم مقام حاصل کیا۔

حضرت حرؓ نے امام حسینؓ کا راستہ کہاں روکا؟

جب حضرت امام حسینؓ مکہ مکرمہ سے اہلِ کوفہ کی دعوت پر عراق کی طرف روانہ ہوئے، تو راستے میں مختلف مقامات سے گزرتے ہوئے آپ 2 محرم 61 ہجری کو کربلا پہنچے۔

اس سے پہلے، مقام ذو حُسَم (ذو حسم) کے قریب حضرت حر بن یزید ریاحیؓ نے تقریباً ایک ہزار سواروں کے ساتھ امام حسینؓ کے قافلے کا راستہ روکا۔

اس وقت کیا ہوا؟

حضرت حرؓ کو گورنرِ کوفہ عبید اللہ بن زیاد کی طرف سے حکم ملا تھا کہ امام حسینؓ کو کوفہ نہ پہنچنے دیا جائے۔
* جب حرؓ کے لشکر کی امام حسینؓ سے ملاقات ہوئی تو سخت گرمی تھی اور ان کے سپاہی پیاسے تھے۔
* امام حسینؓ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ حرؓ کے تمام سپاہیوں اور ان کے گھوڑوں کو پانی پلایا جائے۔

یہ امام حسینؓ کے عظیم اخلاق کا مظہر تھا۔

نماز کا واقعہ

نماز کے وقت حضرت امام حسینؓ نے نماز پڑھائی اور حضرت حرؓ اور ان کے ساتھیوں نے بھی آپؓ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔

بعد ازاں امام حسینؓ نے اہلِ کوفہ کے خطوط دکھائے اور فرمایا کہ اگر تم لوگ مجھے نہیں چاہتے تو میں واپس چلا جاتا ہوں۔

حضرت حرؓ نے جواب دیا کہ:

"مجھے ان خطوط کے بارے میں علم نہیں، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آپ کو کوفہ لے جاؤں یا ایسی جگہ روکوں جہاں سے آپ واپس نہ جاسکیں۔"

چنانچہ حضرت حرؓ امام حسینؓ کے قافلے کو کوفہ جانے یا مدینہ واپس جانے کی اجازت نہ دے سکے اور بالآخر قافلہ کربلا کی سرزمین پر پہنچ گیا۔

حضرت حرؓ کیسے امام حسینؓ کے لشکر میں شامل ہوئے؟

عاشورہ (10 محرم) کی صبح جب حضرت حرؓ نے دیکھا کہ:

* یزیدی لشکر جنگ پر مصر ہے۔
* امام حسینؓ کی تمام صلح کی تجاویز رد کردی گئی ہیں۔
* امام حسینؓ اور ان کے اہلِ بیتؓ کو پانی سے محروم کر دیا گیا ہے۔

تو ان کے دل میں شدید اضطراب پیدا ہوا۔

روایات کے مطابق حرؓ اپنے ساتھی سے کہنے لگے:

"میں اپنے آپ کو جنت اور جہنم کے درمیان پاتا ہوں، اور خدا کی قسم! میں جنت کے علاوہ کسی چیز کو اختیار نہیں کروں گا، خواہ مجھے ٹکڑے ٹکڑے ہی کیوں نہ کر دیا جائے۔"

اس کے بعد حضرت حرؓ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر یزیدی لشکر سے نکل آئے اور امام حسینؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

انہوں نے عرض کیا:

"اے رسول اللہ ﷺ کے نواسے! میں وہی شخص ہوں جس نے آپ کا راستہ روکا تھا۔ میں اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرتا ہوں۔ کیا میری توبہ قبول ہوگی؟"

حضرت امام حسینؓ نے فرمایا:

"ہاں، اللہ تمہاری توبہ قبول فرمائے۔ تم آزاد ہو، جیسے تمہاری ماں نے تمہارا نام حر (آزاد) رکھا تھا۔"

اس کے بعد حضرت حرؓ امام حسینؓ کے جانثار ساتھیوں میں شامل ہوگئے اور بہادری سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔

اہم تاریخی شخصیات

* امام حسین بن علی
* حر بن یزید ریاحی
* عبید اللہ بن زیاد
* عمر بن سعد
* یزید بن معاویہ

یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں توبہ، حق شناسی اور قربانی کی ایک عظیم مثال سمجھا جاتا ہے۔ تاریخی تفصیلات مختلف مصادر جیسے تاریخ طبری، الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، اور البدایہ والنہایہ (ابن کثیر) میں مختلف روایات کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔
#کربلا #محرم

19/06/2026

کیا آپ بھی کسی خوف کی وجہ سے اپنے خوابوں سے دور ہیں؟

09/06/2026

30/05/2026

Want your school to be the top-listed School/college in Gojra?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Gojra
36120