Karakuram Prime Academy

Karakuram Prime Academy The karakuram prime Academy where quality speaks itself

Study tour 2026Sherqilla valley
06/09/2026

Study tour 2026
Sherqilla valley

28/08/2026

اولاد کی تعلیم کے ساتھ حفاظت بھی ضروری ہے

تحریر: حُسن آرا
تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور ہر والدین کا خواب ہوتا ہے کہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں، کامیاب ہوں اور معاشرے میں ایک باوقار مقام پیدا کریں۔ لیکن کیا صرف اچھی تعلیم اور ایک بڑی ڈگری ہی ہمارے بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے؟
یقیناً نہیں۔
تعلیم کے ساتھ محفوظ ماحول، اخلاقی تربیت، شعور، خود اعتمادی اور والدین کی نگرانی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
آج گلگت بلتستان کے والدین کے لیے یہ سوال غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے گھر سے دور خصوصاً گلگت شہر کی طرف بھیجتے وقت کن عوامل کو مدنظر رکھیں۔ حالیہ عرصے میں جنسی ہراسانی اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات سے متعلق سامنے آنے والی خبریں یقیناً ہر حساس والدین کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔ یہ مسئلہ صرف کسی ایک شہر، ادارے یا طبقے تک محدود نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔
ایسے حالات میں ہمیں خوف پیدا کرنے کے بجائے احتیاط، شعور اور ذمہ داری کو فروغ دینا ہوگا۔
کیا کم عمر بچوں کو لازماً گھر سے دور بھیجنا ضروری ہے؟
والدین کو اس سوال پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
اگر کسی بچے کو انٹرمیڈیٹ تک معیاری تعلیم اپنے ہی علاقے میں دستیاب ہو، اچھے اساتذہ موجود ہوں اور والدین اس کی روزمرہ زندگی کی بہتر نگرانی کر سکتے ہوں تو صرف اس تصور کی بنیاد پر کہ بڑے شہر میں تعلیم زیادہ اچھی ہےکم عمر بچے کو گھر سے دور بھیجنے کا فیصلہ ضروری نہیں۔
خاص طور پر گوپس۔یاسین ریجن میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران تعلیمی مواقع میں بہتری آئی ہے۔ آغا خان ہائیر سکینڈری سکول نے بھی اس خطے میں اپنی تعلیمی خدمات کا آغاز کیا ہے، جہاں معیاری تعلیم، قابل اساتذہ اور نسبتاً کم تعلیمی اخراجات کے ساتھ مقامی سطح پر بچوں کے لیے بہتر مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔اس کے علاؤہ گورنمنٹ سطح پر بھی کالجز کے اندر بہترین تعلیمی سہولیات کے ساتھ محفوظ ماحول ہے۔ محض بچوں کی ضد یا دوسروں کی دیکھا دیکھی اپنے علاقے میں تعلیمی سہولیات ہونے کے باوجود بڑے شہر خاص طور پر گلگت کی طرف یا اس سے آگے بڑے شہروں کی طرف بغیر سوچے سمجھے اپنے بچوں کو بیجھنا چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی یہ کوئ زمہ دارانہ رویہ نہیں ہے۔
اگر ایک بچہ اپنے ہی علاقے میں رہتے ہوئے اچھے تعلیمی ادارے سے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کر سکتا ہے تو والدین کو اس اختیار پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ بچہ والدین اور خاندان کی نگرانی میں رہتا ہے۔ اس کے دوستوں، معمولات، آمدورفت اور تعلیمی سرگرمیوں سے والدین زیادہ باخبر رہ سکتے ہیں۔ نیز آج کے معاشی چیلینجز جس کی وجہ سے خاندان بہت متاثر ہیں ایسے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ لینا بچے کی حفاظت اور معاشی مسائل دونوں سے عافیت مل سکتی ہے
یونیورسٹی کی تعلیم کے لیے عمر اور شعور بھی اہم ہیں
انٹرمیڈیٹ کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ایک نوجوان میں عموماً اپنے اچھے برے کی تمیز، سماجی معاملات کو سمجھنے، لوگوں کے رویوں کو پرکھنے اور اپنے فیصلے کرنے کی صلاحیت پہلے کی نسبت زیادہ پیدا ہو جاتی ہے۔
اس کے بعد یونیورسٹی کی تعلیم کے لیے کسی دوسرے شہر کا انتخاب کیا جائے تو نوجوان کے لیے گھر سے دور رہتے ہوئے اپنے معاملات کو سمجھداری سے سنبھالنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
یہ کوئی حتمی اصول نہیں کہ ہر بچے کو لازماً اپنے علاقے میں ہی تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔ ہر بچے کی ذہنی پختگی، تعلیمی ضرورت، ادارے اور حالات مختلف ہوتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ والدین فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں، محض معاشرتی رجحان یا دوسروں کی دیکھا دیکھی نہیں۔
بچے کو "گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ" سے آگے بھی سکھانے کی ضرورت ہے
ہم اپنے بچوں کو کتابیں پڑھاتے ہیں، امتحانات کی تیاری کرواتے ہیں، اچھے نمبروں کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن کیا ہم انہیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان کی ذاتی حدود کی خلاف ورزی کرے تو انہیں کیا کرنا ہے؟
بچوں کو عمر کے مطابق یہ ضرور سکھایا جانا چاہیے کہ:
ان کا جسم ان کی اپنی ملکیت ہے۔
کوئی بھی شخص—چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو—انہیں ایسے انداز میں چھونے کا حق نہیں رکھتا جس سے وہ غیر محفوظ یا غیر آرام دہ محسوس کریں۔
انہیں یہ بھی سکھایا جائے کہ کسی غلط رویے کو راز نہ بنائیں۔ اگر کوئی شخص انہیں ڈرائے دھمکائے، بلیک میل کرے، تحفے یا کسی اور لالچ کے ذریعے قریب آنے کی کوشش کرے تو فوراً والدین یا کسی قابلِ اعتماد فرد کو اطلاع دیں۔
والدین اور بچوں کے درمیان اعتماد کی فضا ضروری ہے
بعض اوقات بچے کسی ناخوشگوار واقعے کا شکار ہونے کے باوجود والدین کو اس لیے نہیں بتاتے کہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ انہیں ہی قصوروار ٹھہرایا جائے گا، ڈانٹ پڑے گی یا خاندان میں بدنامی ہوگی۔
یہ رویہ خطرناک ہے۔
والدین کو اپنے بچوں سے بار بار یہ کہنا چاہیے اگر کبھی تمہارے ساتھ کوئی غلط رویہ ہو کوئی تمہیں ہراساں کرے یا تمہیں کسی ایسی صورتحال کا سامنا ہو جس سے تم خوفزدہ یا پریشان ہو جاؤ تو سب سے پہلے ہمیں بتانا۔ ہم تمہیں الزام نہیں دیں گے ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔
یہ اعتماد بچے کو بہت سے خطرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
ہاسٹل یا دوسرے شہر بھیجنے سے پہلے تحقیق کریں
اگر بچے کو گلگت یا کسی دوسرے شہر میں بھیجنا ضروری ہو تو والدین کو صرف ادارے کی شہرت دیکھ کر مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔
انہیں یہ ضرور معلوم کرنا چاہیے کہ
بچہ کہاں رہائش اختیار کرے گا؟
اس کی نگرانی کون کرے گا؟
ہاسٹل کا انتظام اور ماحول کیسا ہے؟
آنے جانے کا محفوظ انتظام موجود ہے یا نہیں؟
بچے کے پاس ہنگامی صورتحال میں کس قابلِ اعتماد شخص سے رابطے کا اختیار ہوگا؟
تعلیمی ادارے میں طلبہ کے تحفظ اور شکایات کے لیے مؤثر نظام موجود ہے یا نہیں؟
والدین کو چاہیے کہ بچے کے ساتھ باقاعدگی سے رابطہ رکھیں اور صرف نمبروں اور حاضری کے بارے میں نہیں بلکہ اس کے جذبات دوستوں ماحول اور روزمرہ تجربات کے بارے میں بھی بات کریں۔
بیٹے اور بیٹی دونوں کی حفاظت ضروری ہے
جنسی ہراسانی اور زیادتی کو صرف بچیوں کا مسئلہ سمجھنا بھی درست نہیں۔اجکل لڑکے خاص طور پر زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ ماضی میں ہوئے بےشمار واقعات اور حالیہ واقعات خاص طور پر امپھری دن دھاڑے دریا کنارے ایک درندے کا بچے کے ساتھ جنسی زیادتی اور ابھی چند دن پہلے ہنزہ میں معصوم بچے کا جنسی درندوں کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننا والدین کو ہوش کے ناخن لینے کے لئے کافی ہے۔ اس لیے والدین کو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں دونوں کو ذاتی حدود، محفوظ اور غیر محفوظ رویوں، آن لائن خطرات اور مدد طلب کرنے کے طریقوں سے آگاہ کرنا چاہیے۔
اسی طرح سوشل میڈیا اور آن لائن رابطوں کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی والدین کی ذمہ داری بڑھا دی ہے۔ بچوں کو غیر ضروری طور پر اپنی تصاویر، ذاتی معلومات یا حساس مواد کسی کے ساتھ شیئر کرنے سے روکنا اور آن لائن بلیک میلنگ کے خطرات سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں بڑے خواب ضرور دیکھنے چاہئیں، مگر ان خوابوں کی تعبیر کے لیے درست وقت درست جگہ اور درست فیصلہ بھی ضروری ہے۔
تعلیم کے لیے بڑا شہر ضروری نہیں، بڑا وژن ضروری ہے۔
صرف ڈگری کافی نہیں، شعور بھی ضروری ہے۔
اور صرف آزادی کافی نہیں، ذمہ داری بھی ضروری ہے۔
اگر ہمارے اپنے علاقے میں معیاری تعلیم دستیاب ہے تو ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ بچوں کو انٹرمیڈیٹ تک ممکن ہو تو والدین کی نگرانی میں تعلیم دلانا، پھر ان کی ذہنی پختگی اور شعور کو دیکھتے ہوئے یونیورسٹی کی تعلیم کے لیے باہر بھیجنا ایک ایسا راستہ ہو سکتا ہے جس پر والدین سنجیدگی سے غور کریں۔
ہمیں اپنے بچوں کو خوفزدہ نہیں کرنا، بلکہ باخبر اور مضبوط بنانا ہے۔
انہیں تعلیم بھی دینی ہے، تربیت بھی کرنی ہے؛
انہیں آزادی بھی دینی ہے، ذمہ داری بھی سمجھانی ہے۔
اور سب سے بڑھ کر انہیں یہ یقین دلانا ہے کہ مشکل کی کسی بھی گھڑی میں ان کے والدین ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
کیونکہ ہمارا مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہمارے بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ بنیں، بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ وہ محفوظ، باشعور، باکردار اور خوداعتماد انسان بن کر زندگی میں آگے بڑھیں۔

07/08/2026
EID MUBARAK ❤️
20/03/2026

EID MUBARAK ❤️

23/02/2026

Outdoor activity. 👍🥰👫🤽⛹️🤹🏃

Admissions are open.
07/02/2026

Admissions are open.

20/11/2025

Speech of one of shinning star of the school.

Happy independence day Gilgit baltistan celebration today at Karakuram Prime Academy.
01/11/2025

Happy independence day Gilgit baltistan celebration today at Karakuram Prime Academy.

Little hands, big love 💙 Making Father’s Day cards with all our hearts!
19/06/2025

Little hands, big love 💙 Making Father’s Day cards with all our hearts!

Address

Street # 3
Gilgit
15150

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:00
Wednesday 08:00 - 14:00
Thursday 08:00 - 14:00
Friday 08:00 - 14:00
Saturday 08:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Karakuram Prime Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category