31/08/2026
بچپن سے ہم نے قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ اکثر سنا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ مگر ہمیں قرآن کی ایک دوسری آیت کسی نے آج تک نہیں بتائی. تصویر اے۔آئی جنریٹڈ
القرآن، سورۃ الاعراف 7:179
اور بے شک ہم نے جہنم کے لیے بہت سے جن اور انسان پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل ہیں مگر اُن سے سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں، اور اُن کے کان ہیں مگر اُن سے سنتے نہیں۔ وہ چوپایوں(جانوروں) کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے۔ یہی لوگ غافل ہیں۔
یعنی انسان ہونا صرف شکل و صورت کا نام نہیں، بلکہ شعور، کردار، اطاعت اور احساسِ ذمہ داری کا نام ہے۔ انسان اپنے علم، اخلاق اور نیک اعمال، ریاضت و بندگی ذکر و فکر سے اپنی روح کو بلندی عطا کر سکتا ہے، اور بداعمالی، ظلم، تکبر اور نافرمانی سے روح کو پستی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
مولانا جلال الدین رومیؒ کی تعلیمات و شاعری بھی انسان کے اسی روحانی سفر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ رومیؒ کے ہاں انسان ایک ایسا مسافر ہے جو اپنے اصل کی تلاش میں مسلسل سفر کرتا ہے. کبھی بلندی کی طرف اور کبھی اپنی خواہشات کا غلام بن کر پستی کی طرف۔
دنیا میں بے شمار ایسی عظیم ہستیاں گزری ہیں جن کی شاعری، فکر اور تعلیمات آج بھی انسان کی سوئی ہوئی روح کو جگاتی ہیں۔ اُن کے تعلیمات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زندگی صرف اپنے لیے جینا نہیں، بلکہ اُن کی تعلیمات کی سمجھ اُن پر عمل، محبت اور خیر پیدا کرنا ہے۔
انسان جب اپنی خواہشات، نفرت، ظلم اور تکبر کے ہاتھوں اپنی روح کو مسخ کر لیتا ہے تو قرآن اُسے چوپایوں یعنی جانوروں سے بھی زیادہ بھٹکا ہوا قرار دیتا ہے۔
از قلم
رحمت کریم