اردو آن لائن اکیڈمی

اردو آن لائن اکیڈمی

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from اردو آن لائن اکیڈمی, Education, Gilgit.

ہم سکھاتے ہیں اردو گرامر نۓ امتحانی نظام کے مطابق سوالات وجوابات پرائمری سے پی ایچ ڈی
تک اردو کی تعلیم اردو گرامر اور تخلیقی لکھائی

https://youtube.com/@urduonlinepoint?si=TSTFLPM8Px20kAWK

25/05/2026

لفظی و لغوی پس منظر

یہ ترکیب دو عربی الفاظ کا مجموعہ ہے:

تجاہل: جاہل بننا، نادانی کا مظاہرہ کرنا، یا جان بوجھ کر انجان بننا

عارفانہ: معرفت سے، یعنی جاننے والے کا انداز، عاقلانہ یا دانشمندانہ۔

ادبی اصطلاح میں اس کا مطلب ہے "جاننے والے کا انجان بن جانا"۔ یعنی متکلم حقیقت سے پوری طرح واقف ہوتا ہے، مگر کسی خاص مقصد کے لیے لاعلمی کا ناٹک کرتا ہے

وضاحت: شاعر یا ادیب کسی ایسی بات یا حقیقت کا ذکر کرتا ہے جسے وہ خود بہت اچھی طرح جانتا ہے، لیکن کلام میں خوبصورتی، شوخی یا زور پیدا کرنے کے لیے ایسے سوالات کرتا ہے یا نادانی ظاہر کرتا ہے گویا وہ اس سے بالکل بے خبر ہے

۔مقصد: اس کا بنیادی مقصد بات میں تاثیر، جذباتیت اور تجسس پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ سننے یا پڑھنے والا متوجہ ہو سکے۔@

16/05/2026

ہاتھ کنگن: ہاتھ میں پہنا جانے والا زیور (کڑا یا چڑی)۔ یہ جسم کا وہ حصہ ہے جو ہر وقت انسان کی اپنی نظروں کے سامنے رہتا ہے۔

آرسی: یہ قدیم برصغیر (پاک و ہند) کا ایک روایتی زیور ہے۔ یہ چاندی یا سونے کی ایک بڑی انگوٹھی ہوتی تھی جو خواتین اپنے ہاتھ کے انگوٹھے میں پہنتی تھیں۔ اس انگوٹھی کے اوپر نگینے کی جگہ ایک چھوٹا سا گول آئینہ جڑا ہوتا تھا۔

کیا: یہاں "کیا" سے مراد "کیا ضرورت" یا "کیا فائدہ" ہے۔

۲۔ ضرب المثل کا فلسفہ اور منطق

پرانے زمانے میں جب خواتین تیار ہوتی تھیں، تو اپنے چہرے کا سنگھار، ابرد یا مانگ دیکھنے کے لیے انگوٹھے کی "آرسی" (آئینے) کو اپنے چہرے کے سامنے لاتی تھیں، کیونکہ چہرہ آئینہ دیکھے بغیر نظر نہیں آ سکتا۔لیکن جب بات ہاتھ میں پہنے ہوئے کنگن کی ہو، تو ہاتھ تو خود بخود انسان کے سامنے موجود ہوتا ہے۔ ہاتھ کے کنگن کو دیکھنے کے لیے انگوٹھے کو چہرے کے پاس لا کر آئینے میں دیکھنے کی منطق بالکل فضول ہے۔ یہ عقل کے خلاف ہے کہ جو چیز براہ راست نظر آ رہی ہو، اسے دیکھنے کے لیے کسی اور واسطے یا آلے کا سہارا لیا جائے۔

پس، اس موازنے سے یہ قانون وضع ہوا کہ "جو سچائی اتنی واضح ہو کہ اسے ہر انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے، اس کے لیے دلیلیں، گواہیاں یا ثبوت مانگنا وقت کا ضیاع ہے"۔

15/05/2026

Do like n comment
گیس پیپر

05/05/2026

محاورات

28/10/2025

تنقید اورتنقیص میں فرق
*ابھی تو تنقید ہو رہی ہے*

*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*

لو، اور سُنو! اب کہنے والے یہ کہہ رہے ہیں کہ

’’پوری قوم کا مزاج ’تنقیدی مزاج‘ ہوگیا ہے۔ جسے دیکھو بس تنقید کیے جارہا ہے۔ ہر بات پر تنقید۔ اچھی بات پر بھی تنقید اور بُری بات پر توخیر تنقید کا حق بنتا ہی ہے۔‘‘ مگر یہ بات کہنے والے خود کیا کررہے ہیں؟ تنقید کرنے والوں پر تنقید ہی تو کررہے ہیں۔

یہ تماشا دیکھ کر آج ہمارا بھی جی چاہا کہ لفظ ’تنقید‘ کے بے موقع استعمال پرجی کھول کر تنقیدکی جاوے۔ اس مفید لفظ کا غیر مفید استعمال عام ہوا جارہا ہے۔ تنقید کرنے کے جو معانی اب لیے جانے لگے ہیں وہ عَجَب ہیں: ’کسی کو بُرا بھلا کہنا، کسی کے اندر عیب تلاش کرنا، کسی کی بُرائیاں کھوجنا، کسی پر اعتراض کرنا اور کسی کے نقائص بیان کرنا‘ وغیرہ وغیرہ۔گویا تنقید کے عمل کو ایک بُرا عمل بنادیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ قابلؔ اجمیری جیسے قابل شخص کو بھی اپنے دیوانہ پن پر ’اُن‘کی طرف سے ہونے والے ’اعتراضات ‘کا ذکر کرنے کے لیے یہی لفظ سُوجھا:

ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاقِ جنوں پہ لیکن
تمھاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے

کیا معلوم وہ کیا کریں گے؟ عجب نہیں کہ جواب میں وہ بھی کوئی شعر بک دیں۔ مگر تنقید کے موجودہ تصورات کی جو فہرست اوپر دی گئی ہے وہ سب مفاہیم لفظ ’تنقیص‘ کے ہیں۔ عزیزو! برائی بیان کرنے کو تنقید نہیں کہتے، تنقیص کہتے ہیں۔ تنقید تو اور ہی شے ہے۔

’تنقید‘ کا لفظ نکلا ہے’نَقَدَ‘ سے۔ ’نَقَدَ‘ کے لفظی معنی ہیں ’چونچ مارنا‘۔ راقم الحروف کا نہایت محققانہ خیال ہے کہ چونچ وہی مارے گا جس کے چونچ ہوگی۔ پس پرندوں ہی کو چونچ مارنے کا حق ہے۔ اور حق تو یہ ہے کہ مرغا بھی ایک پرندہ ہے۔ پَر انسانوں کا ڈالا ہوا رزق کھا کھا کر اِس طائرِ لاہوتی کی پرواز میں کوتاہی آگئی ہے۔ اب زمین سے اُڑکر بس دیوار کے اوپر تک جاتا ہے اور دیوار سے اُڑان بھر کر واپس زمین پراُتر آتا ہے، اس تمنا میں کہ زمین پر اُترتے ہی شاید وہ بھی آدمی بن جائے۔ سُنا ہے کسی روز سلیمؔ بھائی نے منہ اُٹھاکر اپنے دیوار نشیں مرغِ بیت سے کہہ دیا تھا کہ ’’اب ذرا نیچے اُتریے آدمی بن جائیے‘‘۔حاصلِ کلام یہ کہ مرغے کے پر بھی ہیں اور چونچ بھی۔ آپ نے چونچ مارتے تو دیکھا ہی ہوگا، بالخصوص بی مرغی اور اُن کے میاں مرغِ مُسَلّم کو،باہم۔ یہاں لفظ ’مُسَلّم‘ پر ہم نے ایک خاص وجہ سے خاص کر کے اِعراب لگائے گئے ہیں۔وہ خاص وجہ یہ ہے کہ ایک خاص ٹیلی وژن چینل کی ایک خاص خاتون نے ایک خاص پروگرام میں (غالباًیہ دیکھ کرکہ مرغ مسلمانوں کا من بھاتا کھاجا ہے) مرغِ مُسَلّم کو ’مرغِ مُسلِم‘ پڑھ دیا۔اس پر محترمہ قانتہ رابعہ (گوجرہ) سے کوئی بچہ پوچھ بیٹھا:

’’نانی امّاں!کیا مرغ غیر مُسلم بھی ہوتا ہے؟‘‘

بچے کو سمجھانا چاہیے کہ غیر مسلم صرف انسانوں اور جنوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے سوا دیگر تمام مخلوقات اور اللہ تعالیٰ کی تمام تخلیقات چار و ناچار مُسلم ہیں۔ دیکھیے مرغ کا ذکر آتے ہی ہم موضوع سے بھٹک کر اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ بتانا یہ تھا کہ مرغا مرغی، دونوں مسلم میاں بیوی، اپنے آٹھ دس بچوں کے ساتھ، رزقِ حلال کی تلاش میں زمین پر چونچ مارتے پھرتے ہیں۔ چونچ سے زمین کریدتے ہیں اور زمین کرید کرید کر گھاس پھوس یا دیگر غیر مطلوب اشیاکو الگ کردیتے ہیں۔ پھراپنی پسند کے کیڑے مکوڑے یا دانہ دُنکا الگ نکال کر ہنسی خوشی کھا لیتے ہیں۔ تو اے بیگمات اور اے حضرات! ’’دس بچے خوش حال گھرانا‘‘ کا عالی شان نصب العین رکھنے والے اس کثیرالاولاد گھرانے کا وہ سارا عمل ’’تنقید‘‘ کہلاتا ہے کہ جس عمل میں حصولِ رزقِ حلال کے لیے وہ فرداً فرداً اپنی چونچ استعمال کرتے ہیں۔

گویا تنقید کا عمل اصلاً گھاس پھوس الگ اور دانہ دُنکا الگ کردینے کا عمل ہے۔ مدیرانِ جرائد کو اس فن میں طاق ہونا چاہیے اور ہیں بھی۔ ہم نے بہت سے مدیروں کو دیکھا ہے کہ موصولہ مضامین میں سے بڑی محنت، مشقت اور مہارت سے چن چن کر یا چگ چگ کر دانہ دُنکا الگ نکال لیتے ہیں اورگھاس پھوس چھاپ دیتے ہیں۔

اُردو میں ’نقد‘کے ایک معنی تو وہی ہیں جو فوراً آپ کے ذہن میں آگئے کہ یہی معنی نظیرؔ اکبر آبادی کے ذہن میں بھی تھے، کہتے ہیں:

کلجگ نہیں، کرجُگ ہے یہ، یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے اِس ہات دے اُس ہات لے

’کَل جُگ‘ کا مطلب ہے کالا زمانہ، جس میں گناہوں کی کثرت ہو۔ لوٹ مار کا دور دورہ ہو۔ ’کَرجُگ‘ کام کرنے کا زمانہ، ادلے بدلے کا زمانہ۔ ’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘ کا دور۔ سودا نقد لینے کے لیے جو مال و زر استعمال ہوتا ہے اُسے ’نقدی‘ کہتے ہیں۔ درہم و دینار کے لیے ’نقد‘ کا لفظ اس وجہ سے بھی استعمال کیا گیا کہ ان کے لین دین کے وقت کھرا کھوٹا پرکھا جاتا ہے۔ جو رقم فوراً ادا کردی جائے بس وہی ’نقد‘ ہے۔ نظیرؔ اکبر آبادی کی طرح ہاتھوں ہاتھ سودا کیا جائے تو اسے ’نقدا نقد‘ کہتے ہیں۔ شاعروں کے پاس درہم و دینار تو ہوتے نہیں، وہ کوچۂ دلدار میں ’نقدِ دل‘ اور ’نقدِ جاں‘ لیے پھرتے ہیں۔ تسلیمؔ کی کفایت شعاری کو تسلیمات کہ اُن نے دونوں’ نقدیاں‘ ساتھ نہیں گنوا دیں:

ہوا نقدِ دل نذرِ ناز و ادا
فقط نقدِ جاں اور باقی رہا

ادب اور فن کی دنیا میں تخلیقات اور شہ پاروں پر رائے زنی کرنا ’نقد ونظر‘‘ کہلاتا ہے۔جو شخص کھرا کھوٹا پرکھنے کی صلاحیت رکھتاہے اُسے ’ناقد‘ کہتے ہیں۔اگر وہ کچھ زیادہ ہی پرکھنے لگے تو ’نقاد‘ بن جاتا ہے۔اصطلاحاً نقاد اُس شخص کو کہا جاتا ہے جو تنقید نگار ہو۔ اپنی تحریر میں کسی تخلیق کاریا فن کارکے کھرے کھوٹے کی نشان دہی کرتا ہو۔ کھرا کھوٹا پرکھنے والا شخص شاید ہی کسی کو پسند آتا ہو۔خواہ اُسے ناقد کہیے یا نقاد۔ اب آپ سے کیا پردہ؟ہم خود اپنے ناقدین سے دور بھاگتے ہیں اور نقادوں سے تو کوسوں دور۔ بعض ضعیف العمر نقاد اتنے ماہر اور مشّاق ہوگئے ہیں کہ کالم پڑھے بغیر بھی اس پر طویل تنقید کر سکتے ہیں۔ایک مشہور کہاوت میں ’نقاد‘ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے:

’’دونوں ٹانگوں کے بغیر پیدا ہونے والا شخص، جو ٹانگیں رکھنے والوں کو دوڑ کے مقابلے میں جیتنے کے گُرسکھا تا ہے‘‘۔

سچ پوچھیے تو تنقید کا اصل حق ہمارے محدثین نے ادا کیا ہے۔حدیث کے راویوں اور اُن کی زندگی کے رویوں پر جس انداز سے نظر کی ہے، وہ اُنھیں کا حصہ تھا۔تابعین کے دور تک حدیث کے پانچ لاکھ راویوں کی خوبیاں اور خامیاں چھانٹ چھانٹ کر بیان کی جاچکی تھیں۔ محدثین نے، جو در اصل فنِ روایتِ حدیث کے ’’ناقدین‘‘ تھے،اُصول، اصطلاحات، قواعد اور ضوابط مرتب کرکے ایسا معیار قائم کردیا جس کی مدد سے کھرا اور کھوٹا، صحیح اورغلط، حقیقی اوروضعی یا قوی اور ضعیف کو الگ الگ کر نا آسان ہوگیا۔ انھوں نے تصویر کے دونوں رُخ محفوظ کردیے۔ کوئی رُخ چھپایا نہیں۔ تنقید اسی کو کہتے ہیں۔اس جرح و تعدیل کے باعث دیگرمذاہب و ملل کے مقابلے میں ہماراذخیرۂ روایات زیادہ قابلِ اعتبارہوگیا۔ ہمیں صحیح اورغلط کی پہچان سکھا دی گئی۔ ساتھ ہی’صحت‘ کی درجہ بندی بھی کردی گئی۔ جب کہ دوسروں کے ہاں غلط کے انبار میں سے درست کو ڈھونڈ نکالنا بقول شخصے اندھیرے کمرے میں گھاس کے ڈھیرسے سوئی تلاش کرنے کے مترادف ہے۔
ہمیں اپنی عظیم تنقیدی روایت کو کلیجے سے لگا کر رکھنا چاہیے۔ صحیح کو صحیح کہنا اور غلط کو غلط کہنا ہی تنقید ہے۔ خوبیاں بیان کرنا تنقید کا جزو ہے۔ خامیاں تو بے دیکھے بھی دکھائی دے جاتی ہیں۔ خوبیاں تلاش کرنے کی کوشش کیجیے۔ خوبیاں بیان کرنے سے معاشرے میں خوبیاں پروان چڑھتی ہیں۔ تنقید کے نام پر صرف خامیاں اُچھالتے پھریں گے تو معاشرے بھر میں خامیاں ہی اُچھلتی نظر آئیں گی۔

*_________نخلستانِ ادب__________*

Photos from ‎اردو آن لائن اکیڈمی‎'s post 20/10/2025

,,,,,,
بارھویں جماعت

03/10/2025

تلخیص کسی فن پارے، عبارت یا تقریر کی طوالت کو کم کر کے اس کے خلا صے یا لب لباب کو بیان کرنا ہے۔ اہم نکات کو مد نظر رکھا جائے اور ان کا مفہوم بھولنے نہ پائے۔ تلخیص متعلقہ عبارت کا ایک تہائی ہو۔
اہمیت:
اس مصروف دور میں دفتری کاموں میں خلاصہ نگاری کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔طویل احکام اور مفصل تحریروں کی تلخیص کردی جاتی ہے جسے متعلقہ لوگ پڑھ لیتے ہیں ۔ اسی طرح وقت ضائع نہیں ہو تا
تلخیص نگاری کے اصول :
1.عبارت کو کم از کم تین دفعہ پڑھیں تا کہ اس کا مفہوم اچھی طرح سمجھ میں آجائے۔
2.دوسری مرتبہ پڑھتے ہوے اہم نکات کو نشان زد کر لیں۔
3.خیالات وفقرات کی ترتیب نہیں بدلنی چاہیے۔
4.عبارت میں موجود اہم نکات کو ترتیب وار لکھ لیناچاہیے۔
5.تلخیص اصل عبارت کی ایک تہائی ہونی چاہیے ،دو چار الفاظ کم یا زیادہ ہو جائیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
6.اصل عبارت کتنے ہی پیراگرافوں میں کیوں نہ ہو, تلخیص ایک پیراگراف میں لکھنی چاہئیے ۔
7.اصل عبارت کااسلوب قائم رکھنا غیر ضروری ہےورنہ لکھنے والے کو لفظوں پر زیادہ توجہ دینا ہو گی۔
8.عبارت میں موجود تشبیہات و استعارات کو یکسر ختم کر دیں۔ ندائیہ فقروں اور سوالوں کو سادہ الفاظ میں لکھیں نیزاشعار کو تلخیص میں جگہ نہ دی جائے۔
9.عبارت میں عنوان کے امکانات ابتدائی حصے میں ساٹھ فی صد آخری حصے میں بیس فی صداوردرمیانی حصے میں دس فی صداورعبارت کے مجموعی تاثرمیں دس فی صد ہوتے ہیں۔
10.عبارت کا ایک عنوان لکھ کر دومتبادل عنوانات لکھ لیںجیے جوعنوان درست ہو گا اس کے نمبر مل جائیں گے۔

عبارت : 1

"مشغلے تہذیب کی نشانی ہیں۔ پرانے وقتوں میں انسانی زندگی کا دائرہ اس قدر وسیع نہیں تھا جتنا کہ اب ہے ۔ قوموں کی سطح پر تعلقات نہ بن پاتے تھے، علم و ادب اور فنون لطیفہ کی طرف بہت کم لوگ توجہ دیتے تھے۔ لوگوں کے مزاج میں عام طور پر اکھڑ پن تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی میں آرام و آسائش کے مواقع بڑھتے گئے تو مشغلہ بازی بھی باقاعدہ ایک رجحان بنتی چلی گئی ۔ سیر و شکار ،جانور پالنا، عجیب و غریب چیزیں اکٹھی کرنا، مختلف کھیل کھیلنا ،ٹکٹ اور پرانے سکے جمع کرنا سب مشغلوں کی مختلف اقسام ہیں۔
مشغلے انسانی کردار کی عکاسی کرتے ہیں اور وقت کاٹنے کا ایک بہت اچھا ذریعہ ہیں ۔"
1. عبارت کی پہلی ریڈنگ کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبارت ” مشغلے" کے بارے میں ہے۔ اس کو.پڑھ کر جو موضوع یا عنوان سمجھ میں آتے ہیں وہ یہ ہیں۔
1.انسانی تہذیب اور مشغلے ۔
(2) مشغلے اور تہذیب کا ارتقا ۔
(3) مشاغل کی اہمیت ۔
2.دوسری ریڈنگ کے بعد پنسل سے نشان لگانے پر عبارت کے اہم کلیدی حصے..... جن کے نیچے
نشان لگایا گیا ہے۔ عبارت کے وہ حصے جنہیں مختصر کیا جاسکتا ہے انہیں خالی چھوڑ دیا گیا ۔
3.تیسری ریڈنگ کے بعد جو تلخیص تیار ہوتی ہے یعنی تلخیص کارف خاکہ درج ذیل ہے:۔
عنوان انسانی تہذیب اور مشغلے
مشغلوں سے انسانی تہذیب کی ترقی کا اندازہ ہوتا ہے۔ پہلے لوگ سخت مزاج تھے، انھیں علم و ادب سے دل چسپی نہ تھی۔ زندگی میں ترقی کے ساتھ ساتھ مشغلہ بازی میں بھی ترقی ہوتی گئی، مختلف قسم کے مشاغل سےانسانی کردار کا پتا چلتا ہے اور یہ فارغ وقت کا اچھا مصرف ثابت ہوتے ہیں۔
4۔اصل عبارت سے موازنہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ عبارت کو اور مختصر اور بہتر بنایا جاسکتا
ہے۔ تو اب یہ صورت بنی۔
تلخیص
عنوان :انسانی تہذیب اور مشغلے
مشغلے انسانی تہذیب کی نشانی ہیں۔ پہلے پہل زندگی محدود تھی ۔ لوگ سخت مزاج تھے آہستہ آہستہ
آسائشیں بڑھتی گئیں۔ مشاغل بدلتے گئے۔ مختلف مشاغل سے انسانی کردار کی عکاسی ہوتی ہے اور یہ وقت گزارنے کا اچھا ذریعہ ہیں۔

عبارت
مقامی یا مادری زبان ہر ایک کو عزیز ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے۔ اس کے علاوہ ایک اور زبان بھی ہے جس کا درجہ مادری یا مقامی زبان سے بڑھ کر ہے اور وہ قومی زبان ہے۔ مقامی بولی ایک خاص رقبے تک محدود ہوتی ہے اس لیے اس کا اثر بھی محدود ہوتا ہے۔ قومی زبان کی حدود زیادہ وسیع ہوتی ہیں، اس لیے اس کا حلقہ اثر بھی وسیع ہوتا ہے۔ مقامی بولی صرف ایک مقام کی ہوتی ہے۔ قومی زبان کے ذریعے قوم کا ہر فرداپنی آواز ساری قوم تک پہنچا سکتا ہے۔ مقامی بولی میں یہ قوت اور دم کہاں؟ قومی زبان پوری قوم کے خصائص اور اس کی روایات کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ مقامی بولی صرف ایک جزو کی نمائندگی کرتی ہے اور بس۔ قومی زبان قوم کے شیرازہ کو مضبوط کرتی ہے اور اسے منتشر ہونے سے بچاتی ہے اور قومیت کے ولولے کو زندہ اور تازہ
رکھتی ہے۔
عنوان
قومی زبان کی اہمیت
متبادل عنوانات
2.قومی زبان اور مقامی زبانیں
3.قومی زبان، قومی روایات کی آئینہ دار ہوتی ہے
تلخیص
مقامی یا مادری زبان کے علاوہ ایک قومی زبان بھی ہوتی ہے۔ مقامی زبان کا حلقہ اور اثر محدود ہوتا ہے جب کہ قومی زبان کی حدود اور حلقہ وسیع ہوتا ہے اور وہ قومی کردار اور روایات کی آئینہ دار ہوتی ہے جو اتفاق ویکجہتی اور قومیت کے جذبے کو زندہ اور توانا رکھتی ہے۔

عبارت
الٰہی اتو سب کچھ دے مگر مفلسی نے دے، بیماری ہوگی اسے بھگت لیں گے، بے علمی ہوگی اسے سمجھ لیں گے، کمزور بھی اُٹھا سکتے ہیں، تلواریں بھی کھا سکتے ہیں، ایک تنگ دستی نہیں اُٹھا سکتے ۔ یہ کلموہی جس گھر میں جاتی ہے ، سو سو روپ لاتی ہے، بھو کا یہ سلائے، پیاسا یہ پھڑکائے، معصوم بچوں پر ترس یہ نہ کھائے ، بوڑھے اپاہجوں پر رحم اسے نہ آئے ، جی کہ یہ لائے جان کو یہ گھلائے جیتے جی یہ تو
مارے، بھلے چنگے کو بیمار یہ ڈال دے، شاہ کو چور یہ بنادے۔ حکمت میں لقمان ہو اور گرہ میں کچھ نہ ہو تو کوئی منہ نہیں لگاتا۔ مرتبہ میں ولی ہو اور کچھ فیض نہ پہنچائے تو کوئی اس کے پاس نہیں پھٹکتا۔

تلخيص:
مفلسی کی تباہ کاریاں
بیماری، جہالت، کمزوری اور تلوار کے زخم برداشت کیے جاسکتے ہیں، لیکن مفلسی قابل برداشت نہیں ۔ اس کے بے رحم ہاتھوں کے سامنے بچے، بوڑھے، اپاہچ فقیر، بادشاہ بھی بے بس ہیں ۔ حکیم اور ولی بھی اس کے طفیل لوگوں کی نگاہوں میں حقیر ہو جاتے ہیں۔

30/08/2025


غزل اقبال۔بارھویں جماعت
۱۔ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
فنی جائزہ
قافیہ و ردیف: جہاں / امتحاں (قافیہ)، اور بھی ہیں (ردیف)۔
استعارات و علامات: "ستارے" کائنات کی بلندیوں کا استعارہ ہیں، "جہاں" نئی منزلوں کی علامت ہے، "عشق کے امتحاں" روحانی و عملی جدوجہد کی علامت ہے۔
فکری جائزہ
زندگی میں جمود نہیں، آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔
عشق محض جذباتی کیفیت نہیں بلکہ منزل تک پہنچنے کا جذبہ ہے اور یہ امتحانات کبھی ختم نہیں ہوتے۔
تشریح:اقبال کے نزدیک کائنات لامحدود ہے۔ ستاروں سے آگے بھی نئی منزلیں اور جہان موجود ہیں۔ انسان کا سفر ختم نہیں ہوا۔ عشق وہ قوت ہے جو انسان کو مسلسل نئی آزمائشوں سے گزارتی ہے تاکہ وہ بلندیوں کی طرف بڑھتا رہے۔
2۔تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں
فنی جائزہ:
قافیہ و ردیف: فضائیں / کارواں (قافیہ)، اور بھی ہیں (ردیف)۔
استعارات و علامات: "فضائیں" کائنات کی وسعت، "کارواں" اجتماعی جدوجہد اور مسافروں کی علامت ہے۔
فکری جائزہ
انسان اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں، دوسروں کے قافلے بھی ساتھ ہیں۔
تشریح
یہ شعر اجتماعی زندگی اور تعاون کا سبق دیتا ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ کائنات سنسان نہیں بلکہ یہاں بے شمار قافلے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں۔ یعنی جو شخص عمل اور جدوجہد کا راستہ اختیار کرتا ہے، وہ اکیلا نہیں ہوتا۔
3:قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
فنی جائزہ
قافیہ و ردیف: آشیاں (قافیہ)، اور بھی ہیں (ردیف)۔
استعارات و علامات: "رنگ و بو" مادی لذتوں کی علامت ہے، "چمن" امکانات کی دنیا ہے،
"آشیاں" نئی منزلوں کا استعارہ ہے۔
فکری جائزہ
مادی دنیا پر قناعت کرنا انسان کی فطرت کے خلاف ہے۔آگے اور بھی راستے، باغ اور منزلیں موجود ہیں۔
تشریح
یہ شعر قناعت شکنی کا درس دیتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ دنیا کے مادی حسن و لذت پر مطمئن نہ ہو، بلکہ آگے بڑھ۔ اور بھی جہان اور بلند تر مقامات انسان کا انتظار کر رہے ہیں۔
4:۔اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
فنی جائزہ
قافیہ و ردیف: نشیمن / فغاں (قافیہ)، اور بھی ہیں (ردیف)۔
استعارات و علامات: "نشیمن" منزل یا آشیانہ، "آہ و فغاں" آزمائش اور جدوجہد کی علامت ہیں۔
فکری جائزہ
ناکامی پر غم نہیں کرنا چاہیے۔زندگی میں اور بھی مواقع آتے رہتے ہیں۔
تشریح
اقبال کا پیغام ہے کہ اگر ایک منزل یا آشیانہ ہاتھ سے نکل جائے تو افسردہ نہ ہوں۔ زندگی میں اور بھی مراحل، اور بھی کٹھنیاں ہیں جو انسان کو نکھارتی ہیں۔ یہ شعر حوصلے اور استقامت کا بہترین درس ہے۔
5۔تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
فنی جائزہ
قافیہ : آسمان، ردیف اور بھی ہیں۔
استعارات و علامات: "شاہین" خودداری، بلند پروازی اور آزادی کا استعارہ ہے، "آسماں" نئی منزلوں کی علامت ہے۔
فکری جائزہ
انسان کو شاہین کی طرح بلند پرواز رہنا چاہیے۔
قناعت نہیں بلکہ آگے بڑھنا اور نئی منزلیں کھوجنا زندگی کا مقصد ہے۔
تشریح
اقبال نوجوان کو شاہین سے تشبیہ دیتے ہیں کہ تیرا اصل کام پرواز ہے، رکنا نہیں۔ تیرے سامنے بے شمار آسمان ہیں۔ یہ شعر ولولہ اور عزم کی تحریک ہے۔

6۔اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
فنی جائزہ
قافیہ : مکاں (قافیہ)، اور بھی ہیں (ردیف)۔
علامات: "روز و شب" وقتی زندگی کے مسائل، "زمان و مکاں" لامحدود امکانات اور کائناتی وسعتوں کی علامت ہیں۔
فکری جائزہ
وقتی اور روزمرہ کی مصروفیات میں الجھ کر اپنی پرواز محدود نہ کر۔وقت اور مکان کی وسعتیں لامحدود ہیں، آگے بڑھنا چاہیے۔
تشریح
یہ شعر فلسفیانہ پیغام رکھتا ہے۔ اقبال انسان کو روز و شب کے معمولی مسائل میں الجھ کر اپنی بلند پروازی کھو دینے سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ تیرے لیے اور بھی زمانے اور جہان ہیں۔
8۔گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں
فنی جائزہ
قافیہ : رازداں (قافیہ)، اور بھی ہیں (ردیف)۔
علامات: "انجمن" معاشرہ یا محفل، "رازداں" ہم خیال اور ہمنوا ساتھی ہیں۔
فکری جائزہ
پہلے اقبال اپنی فکر میں تنہا تھے۔
اب ان کے ہم خیال اور ساتھی بھی موجود ہیں۔
تشریح
یہ شعر امید اور اجتماعی شعور کی طرف اشارہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اب وہ اکیلے نہیں، ان کے ساتھ اور بھی لوگ ہیں جو ان کے افکار کو سمجھتے اور آگے بڑھاتے ہیں۔ یہ اجتماعی تحریک اور قومی بیداری کی علامت ہے۔

03/08/2025

#
اردوجماعت بارھویں
۔تشریح:حمد
سیدصبیح الدین رحمانی
سیدصبیح الدین رحمانی کی شاعری میں قلبی سوز اور روحانی کیفیت نمایاں ہوتی ہے، قاری کو جذب کں لے جاتی ہے۔
ان کے کلام میں عشقِ رسول ﷺ اور حرمین سے والہانہ عقیدت جھلکتی
شعرنمبر1: کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر
دیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر، اللہ اکبر اللہ چ
فنی محاسن:
صنعت تکرارِ : "اللہ اکبر اللہ اکبر"
صنعت مراعاة النظیر: "رونق"، "منظر"، "برابر"
صنعت اشتقاق؛دیکھوں،دیکھے
مفہوم:
خانہ کعبہ کا منظر اتنا حسین ہے کہ آدمی دیکھتا ہی رہ جائے۔
تشریح:
شاعر اپنے جذبات میں ڈوبا ہوا ہے، جب وہ کعبہ کے نظارے کو دیکھتا ہے تو زبان سے صرف ایک ہی کلمہ نکلتا ہے: "اللہ اکبر"۔ یہ منظر اس قدر دل فریب ہے کہ دیکھنے والا بار بار دیکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس میں نہ صرف عبادت، عشق، اور سجدہ شامل ہیں بلکہ روحانی سرشاری بھی ہے۔
چشم حیرت دیکھتی ہے تجھے
دل عبادت میں ڈھلتا جاتا ہے"
شعرنمبر2. حمد خدا سے تر ہیں زبانیں، کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیں
بس اک صدا آ رہی ہے برابر، اللہ اکبر اللہ اکبر
فنی محاسن:
مرکب اضافی:حمدخدا
صنعت مراعاة النظیر:زبانیں،کانوں،اذانیں، صدا
صنعت تکرار:اللہ اکبر اللہ اکبر
مفہوم:
ہر طرف خدا کی حمد و ثنا جاری ہے ۔ پورے ماحول میں اللہ اکبرکی صدا گونج رہی ہے .
تشریح:
مکہ مکرمہ کی فضا کو شاعر نے خوبصورتی سے بیان کیا ہے، جہاں حجاج کی زبانیں ذکرِ الٰہی سے تر ہیں اور اذانوں کی آوازیں دلوں کو گرماتی ہیں۔ "بس اک صدا" یعنی کعبے کے ارد گرد ہر طرف "اللہ اکبر" کی گونج ہے، جو روح کو بلند کرتی ہے۔
ہر طرف اک صدا ہے اللہ کی
یہ زمیں ہے، مگر آسماں لگتی ہے
شعرنمبر3: تیرے حرم کی کیا بات مولا، تیرے کرم کی کیا بات مولا
تا عمر لکھ دے آنا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
فنی محاسن:
ہم قافیہ الفاِظ: "حرم" اور "کرم"
صنعت تکرار : "کیا بات مولا" ،کیابات _اللہ اکبراللہ اکبر
مفہوم:
شاعر کی آرزو ہے کہ ساری زندگی میں بار بار حرم میں حاضری اس کے نصیب میں لکھی جائے۔
تشریح:
یہ شعر حرمِ پاک کے روحانی جمال اور اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں پر شکر و تحسین کا اظہار ہے۔ شاعر فریاد کرتا ہے کہ اسے زندگی بھر کے لیے بار بار اس مقامِ مقدس کی زیارت نصیب ہو۔ یہ ایک عاشقِ حرم کی سچی طلب ہے۔
شعرنمبر 4: مانگی ہیں میں نے جتنی دعائیں، منظور ہوں گی، مقبول ہوں گی
میزابِ رحمت ہے میرے سر پر، اللہ اکبر اللہ اکبر
فنی محاسن:
صنعت مراعاة النظیر:دعائیں،منظور،مقبول
تلمیح:میزاب رحمت
مرکب اضافی:میزاب رحمت
صنعت تکرار:اللہ اکبر،اللہ اکبر
بحر:رجز
مفہوم:
میزابِ رحمت کے نیچے کھڑے ہونے کی وجہ سےشاعرکوہقین ہے کہ اس کی دعائیں ضرورقبول ہوں گی۔
تشریح:
میزابِ رحمت وہ جگہ ہے جہاں سے بیت اللہ کی چھت سے بارش کا پانی گرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں دعا بہت قبول ہوتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس مقام پر دعا کرتے ہوئے اسے اپنی دعاؤں کی قبولیت کا یقین ہے۔ یہ دعا و استغفار اور روحانی امید کا حسین امتزاج ہے۔
شعرنمبر5؛ حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں، اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کو
کہ لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
فنی محاسن:
صنعت تکرارِ : "دیکھتا ہوں"
تلمیح:حرم
حرف بیان :کہ
حرف استفہام:کہاں
مرکب اضافی:میرامقدر
مفہوم:
شاعر گناہوں کے باوجود مقدس مقام پر حاضرہونے پر شکرگزارہے۔
تشریح:
یہ شعر روح کی جھرجھری اور احساسِ ندامت کا مظہر ہے۔ شاعر حیرت زدہ ہے کہ ایک گناہگار شخص جیسے وہ خود ہے، وہ کس طرح اتنے مقدس مقام پر آ گیا۔ یہ اس کے مقدر کی بلند نظری اور اللہ کے کرم کی عظمت کا بیان ہے۔
شعرنمبر6: یاد آگئیں جب اپنی خطائیں اشکوں میں ڈھلنے لگیں التجائیں رویا غلافِ
کعبہ پکڑ کراللہ اکبر اللہ اکبر
فنی محاسن:
مرکب اضافی:اپنی خطائیں
پیکرتراشی:خطاؤں کااشکوں کاروپ دھارنا
صنعت تلمیح:غلاف کعبہ
مرکب اضافی:غلاف کعبہ
صنعت تکرار:اللہ اکبراللہ اکبر
مفہوم
شاعرکی اپنے گناہوں کی یاد پر آنسو بہنے لگے اور دعائیں نکلنے لگیں وہ غلافِ کعبہ تھام کر روتا ہوا اللہ کی عظمت بیان کرنے لگا۔
تشریح:
یہ شعر روحانی توبہ، ندامت اور خلوصِ دل سے مانگی گئی دعاؤں کی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔
شاعر ایک ایسے لمحے کا ذکر کرتا ہے جب وہ حرمِ کعبہ میں موجود ہے، اور جیسے ہی اُسے اپنے ماضی کے گناہ، کوتاہیاں اور لغزشیں یاد آتی ہیں، اس کا دل بھر آتا ہے۔
یہ احساسِ گناہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ اس کے آنسو بہنے لگتے ہیں اور دعائیں خود بخود آنکھوں کے راستے اشک بن کر بہنے لگتی ہیں۔
پھر وہ غلافِ کعبہ کو تھام کر روتا ہے، عاجزی کے ساتھ، التجاؤں کے ساتھ، اور اللہ کی کبریائی کا اعلان کرتا ہے —
"اللہ اکبر، اللہ اکبر" — یعنی وہ جان چکا ہوتا ہے کہ گناہ کتنا ہی بڑا ہو، رب کی رحمت اس سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔
شعرنمبر7: بھیجا ہے جنت سے تجھ کو خدا نے
چوما ہے تجھ کو میرے مصطفٰی نے
اے سنگِ اسود تیرا مقدر
اللہ اکبر اللہ اکبر
۳۔ فنی محاسن:**
*استعارہ:* "سنگِ اسود" کو جنت کا تحفہ قرار دیاہے۔
صنعت مراعاة النظیر؛ جنت، مصطفٰی ﷺ اور حجرہ اسود
صنعت تکرار:اللہ اکبر اللہ اکبر
*تلمیح:*: جنت، مصطفٰی ﷺ اور حجرہ اسود
حرف ندا:اے سنگ اسود
مفہوم
حجراسودایک ایسا باعظمت پتھر ہے جسے جنت سے نازل کیا گیا اور رسولِ پاک ﷺ نے اس کا بوسہ لیا، یہی اس کی شان اور قسمت ہے۔
تشریح:اس شعر میں سنگِ اسود کے تقدس اور عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہاللہ تعالیٰ نے سنگِ اسود ( کعبے کے رکنِ یمانی میں نصب سیاہ پتھر) ایک ایسا باعظمت پتھر ہے جسے جنت سے نازل کیا گیا کو براہِ راست جنت سے زمین پر بھیجا، جس سے اس کی ماورائی حیثیت ظاہر ہوتی ہے۔
پھر نبی کریم ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اسے بوسہ دیا، جو کسی بھی شے کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔
یہی سب کچھ اس پتھر کی عظمت، مقام اور مقدر کو ظاہر کرتا ہے۔
شاعر اس پر وجد میں آ کر "اللہ اکبر اللہ اکبر" کی صدا بلند کرتا ہے، جو اس کی حیرت، محبت اور عقیدت کا اظہار ہے۔
شعرنمبر_8: دیکھا صفا اور مروہ بھی دیکھا
رب کے کرم کا جلوہ بھی دیکھا
دیکھا وہاں اک سروں کا سمندر
اللہ اکبر اللہ اکبر
فنی محاسن:
صنعت تکرار : "دیکھا... بھی دیکھا" ۔
تجسیم /پیکرتراشی(Personification): "رب کے کرم کا جلوہ" کو اس طرح بیان کیا گیا ہے جیسے کرم ایک نظر آنے والی شے ہو۔
استعارہ:: "سروں کا سمندر"( حاجیوں کے ہجوم صنعت تلمیح:(صفا، مروہ، رب، اللہ اکبر)
مفہوم :
شاعر کہتا ہے کہ میں نے صفا اور مروہ کی مقدس پہاڑیوں ، خدا کے کرم اور وہاں حاجیوں کابڑاہجوم دیکھا۔
تشریح:
یہ شعر ایک حاجی کے روحانی تجربے کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر نے صفا اور مروہ کی زیارت کو بیان کیا ہے، جو حج کے خاص مناسک میں شامل ہیں۔ ان پہاڑیوں پر حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی جدوجہد کی یاد تازہ ہوتی ہے، اور ان کا ذکر ایمان افروز جذبہ پیدا کرتا ہے۔
"رب کے کرم کا جلوہ بھی دیکھا" — اس مصرعے سے شاعر کا روحانی سکون اور شکرگزاری جھلکتی ہے کہ اسے رب کی عنایت سے یہ عظیم سعادت نصیب ہوئی۔
آخری مصرعے "دیکھا وہاں اک سروں کا سمندر" میں شاعر حاجیوں کے جم غفیر کو ایک سمندر سے تشبیہ دیتا ہے، جو ان کی کثرت اور یکسوئی کا منظر پیش کرتا ہے۔ یہ سب "اللہ اکبر" کے ورد کے ساتھ، ایک عظیم عبادت کا منظر بن جاتا ہے، جو ایمان، عاجزی اور رب کے حضور بندگی کی انتہا ہے۔
شعرنمبر_9: مولٰی صبیح اور کیا چاہتا ہے
بس مغفرت کی عطا چاہتا ہے
بخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر
اللہ اکبر اللہ اکبر
فنی محاسن:
تکرار اچاہتا ہے... چاہتا ہے"، "اللہ اکبر اللہ اکبر"
حرف ندا:مولی
مفہوم: شاعر کوئی اور خواہش نہیں رکھتا، بس اللہ سے مغفرت کا طلب گار ہے۔
تشریح:ق
شاعر (یا نعت گو صبیح رحمانی) اس شعر میں ایک سچے مومن کی سب سے بڑی خواہش کو بیان کرتا ہے۔ وہ دنیاوی آسائشوں یا شہرت کا طلبگار نہیں، بلکہ صرف اللہ کی رضا اور مغفرت چاہتا ہے۔
پہلا مصرع "مولیٰ صبیح اور کیا چاہتا ہے" میں شاعر نہایت عاجزی سے اپنے رب سے مخاطب ہے، اور اپنا قلبی حال بیان کرتا ہے۔
دوسرا مصرع "بس مغفرت کی عطا چاہتا ہے" اس بات کا اعلان ہے کہ سب دعاؤں کی معراج دراصل بخشش ہے، جو انسان کے لیے ابدی نجات کا راستہ ہے۔
آخری مصرع میں شاعر کہتا ہے:
"بخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر" — یعنی اے خدا! جو بندہ تیری بخشش کا طالب ہے، اس پر اپنا کرم فرما۔
یہ التجا عبادت، بندگی، اور روحانی فروتنی کا اعلیٰ اظہار ہے۔
آخر میں "اللہ اکبر اللہ اکبر" کی صدا ایک جذباتی اور ایمان افروز فضا قائم کرتی ہے، گویا یہ ہر دعا کا حاصل اور ہر التجا کا اختتام

31/07/2025

غزل کی تشریح۔جماعت بارھویں
خواجہ میردرد
# # عمومی خصوصیاتِ سخنِ دردؔ:
1. **صوفیانہ رنگ**: دردؔ کی شاعری میں وحدت الوجود، فنا، بقا، اور عشقِ الٰہی کے موضوعات ملتے ہیں۔
2. **سادگی اور گہرائی**: ان کے اشعار ظاہری سادگی کے باوجود باطنی گہرائی رکھتے ہیں۔
3. **فلسفیانہ انداز**: کئی اشعار میں وجودیات، حقیقتِ انسان، اور کائنات کے اسرار پر غور ملتا ہے۔
شعرنمبر1:جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تُو ہی آیا نظر جِدھر دیکھا"**
**فنی محاسن:**
صنعت تضاد: ادھر ادھر
تجنیس تام: ادھر،ادھر
تکرار:ادھر،ادھر
**مفہوم:**
دنیا میں آکر میں نے ہر طرف دیکھا، مگر جس سمت بھی نظر اٹھائی، تو (خدا/معشوق حقیقی) ہی نظر آیا۔
**تشریح:**
شاعر کہتا ہے کہ اس نے دنیا کی ہر چیز کو دیکھا، مگر حقیقت یہ نکلی کہ ہر چیز میں خدا ہی جلوہ گر ہے۔ یہ وحدت الوجود کا صوفیانہ تصور ہے۔
"تُو ہی آیا نظر" سے مراد یہ ہے کہ کائنات کی ہر شے اسی یکتا ذات کا مظہرہے۔بقول شاعر
اے خداتوہے واحدویکتا
ہے یہ شاہی فقط تجھے زیبا
شعرنمبر2:جان سے ہو گئے بدن خالی
جس طرف تُو نے آنکھ بھر دیکھا
**فنی محاسن:**
استعارہ : "آنکھ بھر دیکھا" میں **آنکھ** کوa
Ja **توجہِ الٰہی** کا استعارہ بنایا گیا ہے۔
طاق /تضاد:
"جان" (روح) اور "بدن خالی" کے درمیان **تضاد**
🔹 مفہوم:
جس طرف تُو نے پوری توجہ سے دیکھا، وہاں میری جان تک نکل گئی اور میرا جسم خالی رہ گیا۔
🔹 تشریح:
شاعر محبوب کے حسن اور نظر کی شدت بیان کرتا ہے۔ جب محبوب نے شاعر کو محبت بھری نظر سے دیکھا تو اس نظر کی طاقت اتنی زیادہ تھی کہ وہ خود کو سنبھال نہ سکا اور یوں لگا جیسے جان نکل گئی ہو۔بقول شاعر
دکھائی دیے یوں کہ بے خودکیا
ہمیں آپ سے بھی جداکرچلے
شعرنمبر3:نالہ، فریاد، آہ اور زاری
آپ سے ہو سکا، سو کر دیکھا
فنی محاسن:
صنعت مراعات النظیر:نالہ،فریاد،آہ وزاری
**مفہوم:**
میں نے نالہ، فریاد، آہ و زاری کی ہر ممکن شکل اپنے رب کے سامنے پیش کر کے دیکھ لی۔
**تشریح:**
یہ شعر انسان کی عاجزی اور اللہ سے راز و نیاز کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ اس نے ہر طرح سے اپنی بے چینی اور محبت کا اظہار کیا، مگر شاید ابھی تک مقصود تک نہیں پہنچا۔ بقول شاعر
تیری نظرہے میرادل ہے کیاکیاجاۓ
جنوں خردکے مقابل ہے کیاکیاجاۓ
جھکادیاہے محبت نے آپ کے درپر
جبیں اٹھاؤں یہ ممکن نہیں ہے کیاکیاجاۓ
شعرنمبر4:اُن لبوں نے نہ کی مَسِیحائی
ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا"*
**فنی محاسن:**
صنعت تلمیح:
مسيحائی،حضرت عیسیٰؑ کے **معجزے** کی طرف اشارہ ہے۔
تضاد (Paradox):
- "مر دیکھا" میں **موت** کو **عشق کی حیات** سے جوڑا گیا ہے۔
صنعت سیاقة الاعداد:
سو ،سو
صنعت تکرارِ :سوسو
مفہوم:
اُن (معشوق/خدا) کے لبوں نے کوئی شفا بخش بات نہیں کی، جبکہ ہم نے تو ہر طرح سے مرنے کی کیفیات دیکھ لیں۔
*تشریح:**
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ یہاں شاعر کہتا ہے کہ معشوق کے لبوں سے کوئی حیات بخش کلمہ نہیں نکلا، جبکہ عاشق نے تو ہر طرح کی اذیت جھیلی۔
صوفیا کے نزدیک عشق میں "مرنا" فنا پانا ہے۔ یہاں شاعر کہتا ہے کہ اس نے عشق کی ہر اذیت برداشت کی، مگر معشوق کی طرف سے کوئی سکون نہیں ملا۔ بقول شاعر

شعرنمبر5: عاشق مزاج ہے کوئی؟
درد کو قصہ مختصر دیکھا
**فنی محاسن:**
ظاہری تضاد:
زورِ عاشق" اور "مختصر" میں باوجود
مقطع:درد
🔹 مفہوم:
کیا کسی میں سچے عاشق جیسی طاقت ہے؟ "درد" (یعنی شاعر خود) کے لیے تو ساری کہانی بس ایک ہی جملے میں ختم ہو گئی۔
🔹 تشریح:
شاعر کہتا ہے کہ اگر کوئی سچا عاشق ہو تو وہ تکلیفوں کو برداشت کر لیتا ہے۔ میں، یعنی "درد"، نے تو اپنی پوری محبت کی داستان کو صرف ایک مختصر سی بات میں بیان کر دیا۔ اس میں سادگی بھی ہے اور درد بھی۔بقول شاعر

Want your school to be the top-listed School/college in Gilgit?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Gilgit
15100