Elysian School System Gilgit-Baltistan

Elysian School System Gilgit-Baltistan Happiness through Education

الیزین کو دیکھنا ہے تو عمارت سے آگے دیکھیےکچھ ادارے عمارتیں بناتے ہیں، کچھ نسلیں بناتے ہیںمحمد سلیم معاویہتعلیم کو صرف ف...
01/10/2026

الیزین کو دیکھنا ہے تو عمارت سے آگے دیکھیے

کچھ ادارے عمارتیں بناتے ہیں، کچھ نسلیں بناتے ہیں

محمد سلیم معاویہ

تعلیم کو صرف فیس کی ایک رسید، امتحان کے ایک نتیجے یا کسی خوب صورت عمارت کے آئینے میں دیکھنا شاید تعلیم کے ساتھ انصاف نہیں۔ ایک سکول کی عمارت ہمیں اس کی وسعت دکھا سکتی ہے، اس کی فیس اس کی لاگت بتا سکتی ہے، اور اس کے نتائج اس کی ایک جھلک دکھا سکتے ہیں، مگر تعلیم کی اصل کہانی ان سب کے پیچھے کہیں اور لکھی جا رہی ہوتی ہے؛ ایک کلاس روم میں، ایک استاد کے اندازِ تدریس میں، ایک بچے کے سوال میں، اس کی غلطی کو درست کرنے کے طریقے میں اور اس مسلسل کوشش میں کہ جو بچہ آج کسی بات کو نہیں سمجھ پا رہا، وہ کل اسے سمجھنے کے قابل ہو جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کسی تعلیمی ادارے کی اصل شناخت سامنے آتی ہے۔
گلگت بلتستان جیسے خطے میں جہاں تعلیم ہمیشہ سے امید، محرومی اور مستقبل کے درمیان ایک اہم پل رہی ہے، ہمیں اب یہ سوال زیادہ سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف امتحان کے لیے تیار کر رہے ہیں یا زندگی کے لیے؟ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ آج کے بچے کو صرف معلومات یاد کرا دینا کافی نہیں۔ اسے سمجھنا، سوال کرنا، غور کرنا، مسئلہ حل کرنا، اپنی بات مؤثر انداز میں بیان کرنا، دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنا اور حاصل کیے ہوئے علم کو نئی صورتِ حال میں استعمال کرنا بھی آنا چاہیے۔ یہی اکیسویں صدی کی تعلیم کا بنیادی تقاضا ہے۔
اسی پس منظر میں الیزین سکول سسٹم کو دیکھا جائے تو اس کے تعلیمی نظام کی ایک اہم خصوصیت اس کا منظم اور مربوط اندازِ کار ہے۔ یہاں بچے کی تعلیم کو صرف ایک استاد کی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے ایک پورے تعلیمی نظام کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ استاد بچے کی روزمرہ کارکردگی، اس کی فہم، رویے، شرکت اور تعلیمی ضرورت کو دیکھتا ہے۔ پرنسپل اس عمل کی نگرانی اور رہنمائی کرتا ہے۔ کوآرڈینیٹرز کلاس روم میں جا کر تدریسی عمل کا مشاہدہ کرتے ہیں، اساتذہ کے ساتھ تعلیمی معاملات پر کام کرتے ہیں اور اپنی مشاہداتی معلومات آگے پہنچاتے ہیں۔ پھر اکیڈمک مینجمنٹ اور اکیڈمک ڈائریکٹر کی سطح پر ان امور کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یوں ایک بچے کے گرد محض ایک استاد نہیں بلکہ ایک ایسا تعلیمی حلقہ تشکیل پاتا ہے جس کا مرکز بچہ اور اس کی سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ بات بظاہر سادہ ہے، مگر تعلیم کے میدان میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ اچھا تعلیمی نظام وہ نہیں جس میں صرف یہ دیکھا جائے کہ استاد نے سبق پڑھا دیا یا نہیں؛ اچھا نظام وہ ہے جو یہ بھی دیکھے کہ بچے نے سبق سمجھا یا نہیں۔
کلاس روم آبزرویشن اسی لیے محض نگرانی کا نام نہیں۔ اس کا اصل مقصد یہ جاننا ہے کہ تدریس کس حد تک مؤثر ہے، بچے کس طرح شریک ہو رہے ہیں، کہاں فہم میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے اور استاد کو اپنی تدریس میں کہاں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ اگر مشاہدہ اصلاح کا ذریعہ بن جائے تو یہ استاد کی حوصلہ شکنی نہیں بلکہ اس کی پیشہ ورانہ ترقی کا وسیلہ بن جاتا ہے۔
اسی طرح عملی سرگرمی، سوال و جواب، گفتگو، مشاہدہ، گروہی کام اور خود کر کے سیکھنے کے طریقے بچے کو محض سننے والے سے سیکھنے والے میں تبدیل کرتے ہیں۔ جب بچہ کسی تصور کو صرف کتاب میں پڑھنے کے بجائے اسے دیکھتا، اس پر گفتگو کرتا، سوال اٹھاتا اور خود کسی سرگرمی میں حصہ لیتا ہے تو علم اس کے حافظے کی عارضی چیز نہیں رہتا بلکہ تجربے کا حصہ بننے لگتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں تعلیم کو محض معلومات کی منتقلی نہیں بلکہ سیکھنے کے عمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک استاد کا کمال صرف یہ نہیں کہ وہ کتنا بول سکتا ہے؛ اصل کمال یہ ہے کہ وہ اپنے سامنے بیٹھے بچوں کو کتنا سوچنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔
اور یہاں ایک حقیقت ایسی ہے جسے ہر تعلیمی ادارے اور ہر والدین کو سمجھنا چاہیے: ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔
کسی بچے کی فہم تیز ہوتی ہے، کسی کو وقت چاہیے۔ کوئی ایک مثال سے سمجھ لیتا ہے، کسی کو کئی مثالوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ کوئی فوراً اظہار کر لیتا ہے اور کوئی اپنی بات کہنے میں وقت لیتا ہے۔ کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جو مسلسل توجہ، اضافی مشق اور مختلف انداز کی وضاحت کے بغیر اپنی پوری صلاحیت تک نہیں پہنچ پاتے۔ ایسے بچے کو صرف ’’کمزور‘‘ کہہ دینا آسان ہے، مگر اس کی کمزوری کو سمجھنا اور اسے آگے لانے کے لیے حکمتِ عملی بنانا اصل تعلیمی محنت ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سکول کی عمارت اور ایک تعلیمی نظام کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔
پھر آتا ہے جانچ کا مرحلہ۔ امتحان کا مقصد صرف نمبر دینا نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ جاننا بھی ہونا چاہیے کہ بچہ کہاں کھڑا ہے، اس نے کیا سمجھا، کہاں مشکل پیش آ رہی ہے اور آئندہ تدریس میں کیا تبدیلی درکار ہے۔ مسلسل جائزہ اور تشکیلاتی جانچ اسی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یعنی جانچ صرف بچے کو پرکھنے کے لیے نہیں بلکہ تدریس کو بہتر بنانے کے لیے بھی ہوتی ہے۔
اسی طرح استاد کی تربیت بھی تعلیمی معیار کا بنیادی حصہ ہے۔ اگر دنیا بدل رہی ہے، نصاب بدل رہا ہے، بچوں کی ضروریات بدل رہی ہیں اور تدریس کے طریقے بدل رہے ہیں تو استاد کا سیکھنا بھی جاری رہنا چاہیے۔ ایک جدید سکول اپنے اساتذہ سے صرف پڑھانے کی توقع نہیں کرتا بلکہ انہیں سیکھنے، غور کرنے، اپنی تدریس کا جائزہ لینے اور بہتر ہونے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔
الیزین کے تعلیمی ڈھانچے میں اکیڈمک مینجمنٹ، مختلف مضامین کے کوآرڈینیٹرز، کلاس روم مشاہدہ، ماڈل لیسن اور کو-ٹیچنگ جیسے اقدامات اسی وسیع تصور کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تعلیم کو ایک مربوط اور مسلسل بہتر ہونے والا عمل سمجھا جائے۔
اب ایک سوال فطری طور پر سامنے آتا ہے: اگر یہ سب کچھ ہے تو پھر فیس کو کیسے دیکھا جائے؟
والدین کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ وہ جو رقم ادا کر رہے ہیں، اس کے بدلے ان کے بچے کو کیا مل رہا ہے۔ لیکن شاید ہمیں فیس کے سوال کو ایک قدم آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ سوال صرف یہ نہ ہو کہ فیس کتنی ہے؟ سوال یہ بھی ہو کہ اس فیس کے بدلے بچے پر کتنی تعلیمی محنت ہو رہی ہے؟
کیا اس کی کلاس کا مشاہدہ ہوتا ہے؟ کیا استاد کی تدریس کا جائزہ لیا جاتا ہے؟ کیا بچے کی فہم کو مسلسل جانچا جاتا ہے؟ کیا کم رفتار سے سیکھنے والے بچے کے لیے اضافی توجہ اور مختلف تدریسی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے؟ کیا بچے کو صرف یاد کرایا جاتا ہے یا سمجھنے، سوال کرنے اور عملی طور پر استعمال کرنے کا موقع بھی ملتا ہے؟ کیا اساتذہ کی اپنی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی پر بھی کام ہوتا ہے؟
اگر ان سوالات کا جواب تلاش کیا جائے تو فیس کا معاملہ بھی زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھ میں آتا ہے۔
کسی ادارے کی فیس کو صرف ایک دوسرے ادارے کی فیس کے ساتھ رکھ کر دیکھنا مکمل موازنہ نہیں۔ تعلیمی قدر کا تعلق صرف رقم سے نہیں بلکہ اس پوری خدمت سے ہے جو بچے کو فراہم کی جا رہی ہے۔ جس طرح ایک کتاب کی قیمت دیکھ کر اس کے علم کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح کسی سکول کو صرف فیس کے ہندسے سے سمجھ لینا بھی مکمل تصویر نہیں دکھاتا۔
البتہ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ فیس کے سوال کو نظر انداز کر دیا جائے۔ والدین کو سوال کرنے کا حق ہے اور اداروں پر جواب دہ ہونے کی ذمہ داری۔ مگر سوال دلیل کے ساتھ ہو اور جواب بھی دلیل کے ساتھ۔ نہ بے جا تشہیر تعلیم کا متبادل ہے اور نہ بے بنیاد اعتراض تحقیق کا۔
اسی طرح الیزین کو گلگت بلتستان کے دوسرے بڑے اور معروف تعلیمی اداروں کے تناظر میں دیکھتے ہوئے بھی انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ موازنہ جذبات سے نہیں، معیار سے کیا جائے۔ دیکھا جائے کہ کلاس روم میں کیا ہو رہا ہے، بچے کی فہم کہاں تک پہنچی ہے، وہ اپنی بات کس اعتماد سے بیان کر سکتا ہے، مسائل کو کس طرح دیکھتا ہے اور سیکھے ہوئے علم کو کس حد تک استعمال کر سکتا ہے۔
آج الیزین کے طلبہ مختلف اعلیٰ تعلیمی مواقع تک پہنچ رہے ہیں اور اس ادارے نے گلگت بلتستان کے معروف تعلیمی اداروں کے درمیان اپنی تعلیمی شناخت بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ سفر کسی بھی ادارے کے لیے اہم ہے، لیکن اس کی حقیقی قدر کو مستند نتائج، طلبہ کے تعلیمی سفر، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں، اسکالرشپس اور عملی کامیابیوں کے ریکارڈ سے جانچنا زیادہ مناسب ہے۔ دعویٰ جتنا بڑا ہو، ثبوت بھی اتنا ہی واضح ہونا چاہیے۔
اور شاید یہی بات الیزین کے بارے میں بھی کہنے کی ضرورت ہے کہ اسے نہ صرف اس کی عمارت سے پہچانیے، نہ صرف اس کی فیس سے، نہ صرف اس کے اشتہار سے اور نہ صرف اس کے امتحانی نتیجے سے۔ اسے اس بچے سے پہچانیے جو وہاں پڑھ رہا ہے۔
کسی ایک دن کسی کلاس میں بیٹھ کر دیکھیے کہ استاد کس طرح پڑھاتا ہے۔ بچوں سے پوچھیے کہ انہوں نے کیا سمجھا۔ ان کا کام دیکھیے۔ ان کے سوال سنیے۔ یہ دیکھیے کہ جو بچہ پیچھے رہ گیا ہے، اس کے لیے کیا کیا جا رہا ہے۔ پھر شاید بہت سی وہ حقیقتیں سامنے آ جائیں جو کسی اشتہار، پوسٹر یا سوشل میڈیا کی بحث سے کبھی سامنے نہیں آ سکتیں۔
تعلیم پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں ایک ناصحانہ بات اپنے آپ سے بھی کہنی چاہیے: اپنے بچوں کے مستقبل کے معاملے میں نہ صرف نام سے متاثر ہوں، نہ صرف عمارت سے، نہ صرف فیس سے اور نہ صرف نمبر سے۔ سکول کو دیکھنا ہے تو کلاس روم میں دیکھیے؛ استاد کو دیکھنا ہے تو بچے کی فہم میں دیکھیے؛ اور ادارے کو جانچنا ہے تو اس کے نظام میں دیکھیے۔
کیونکہ ایک اچھا سکول وہ نہیں جو صرف بچے کو اگلی جماعت میں پہنچا دے؛ اچھا سکول وہ ہے جو بچے کو زندگی کے اگلے مرحلے کے لیے تیار کرے۔
اور نسلیں صرف کتابیں پڑھانے سے نہیں بنتیں۔ نسلیں اس وقت بنتی ہیں جب ان کے اندر سوال کرنے کا حوصلہ، سیکھنے کی لگن، دلیل سے بات کرنے کی عادت، مشکل سے نہ گھبرانے کا حوصلہ اور اپنے علم کو زندگی میں برتنے کی صلاحیت پیدا کی جائے۔
عمارتیں وقت کے ساتھ پرانی ہو جاتی ہیں، فرنیچر بدل جاتا ہے، یونیفارم بدل جاتے ہیں، کتابیں نئی آ جاتی ہیں؛ مگر بچے کے ذہن میں ڈالی گئی صحیح سوچ، اس کے اندر پیدا کی گئی سیکھنے کی عادت اور علم سے پیدا ہونے والی روشنی اس کے ساتھ بہت دور تک سفر کرتی ہے۔
اسی لیے الیزین کو دیکھنا ہے تو عمارت سے آگے دیکھیے؛ کلاس روم میں دیکھیے، بچے کی آنکھ میں دیکھیے، اس کی سوچ میں دیکھیے اور اس کے مستقبل میں دیکھیے۔
کیونکہ آخرکار کسی بھی تعلیمی ادارے کی سب سے بڑی عمارت اس کی دیواریں نہیں، اس کے طلبہ کا مستقبل ہوتا ہے۔

PROUD MOMENT FOR ELYSIAN! 🇵🇰⚓️Heartiest Congratulations to our brilliant alumnus Mr. Zain HassanHe has successfully qual...
28/09/2026

PROUD MOMENT FOR ELYSIAN! 🇵🇰⚓️

Heartiest Congratulations to our brilliant alumnus Mr. Zain Hassan

He has successfully qualified PNCT (26-B) and has been commissioned as Lieutenant in Pakistan Navy.

He is the only candidate recommended (26-B) from entire Gilgit-Baltistan - a historic achievement!

From Elysian School System, Gilgit-Baltistan to Pakistan Navy. You have made us all proud, Zain!

Elysian School Family
Happiness through education.

New faces. New ideas. New energy!Our Students Council has officially taken oath to represent, inspire, and lead.Looking ...
09/09/2026

New faces. New ideas. New energy!

Our Students Council has officially taken oath to represent, inspire, and lead.

Looking forward to a year of teamwork and excellence!




‎STUDENT COUNCIL ELECTION 2026 | ELYSIAN HIGHER SECONDARY SCHOOL GILGIT‎‎Leadership begins with responsibility, and demo...
09/09/2026

‎STUDENT COUNCIL ELECTION 2026 | ELYSIAN HIGHER SECONDARY SCHOOL GILGIT
‎
‎Leadership begins with responsibility, and democracy begins with participation!
‎
‎Elysian Higher Secondary School Gilgit successfully conducted the Students Council Election 2026, providing students with a meaningful opportunity to experience the democratic process, exercise their right to vote, and develop essential leadership and civic skills.
‎
‎From campaigning and presenting ideas to casting votes and respecting the electoral process, our students demonstrated confidence, responsibility, discipline, and democratic spirit.
‎
‎The activity reflects Elysian’s commitment to nurturing not only academically successful students but also responsible, confident, and future-ready citizens.
‎
‎
‎Elysian School System, Gilgit Baltistan
‎
‎
‎

🏆 A Moment of Pride for Elysian School System GB! 🏆Heartiest Congratulations to Rehan Abbas on his outstanding achieveme...
28/08/2026

🏆 A Moment of Pride for Elysian School System GB! 🏆

Heartiest Congratulations to Rehan Abbas on his outstanding achievement of securing 3rd Position at the Regional Level in the Computer Science Group in the AKU-EB Annual Examinations 2026! 🎉

This remarkable accomplishment reflects his dedication, perseverance, and academic excellence. We are incredibly proud of Rehan for bringing honor and recognition to Elysian School System GB.

👏 Congratulations, Rehan Abbas!
Your achievement is an inspiration to our entire Elysian family.

Keep shining, keep achieving! 🌟
Elysian School System GB — Your Success Is Our Success!

Elysian School System GB proudly celebrates the outstanding achievement of our brilliant students in the AKU-EB Annual E...
28/08/2026

Elysian School System GB proudly celebrates the outstanding achievement of our brilliant students in the AKU-EB Annual Examinations 2026 (SSC-I, SSC-II, HSSC-I & HSSC-II).

We are delighted to recognize our subject-wise highest scorers.

👏 Congratulations to all our shining achievers!
Your success is our success, and we wish you even greater accomplishments in the future.

12/08/2026
Congratulations REHAN ABBAS on securing 3rd position at provincial level computer science group.
12/08/2026

Congratulations
REHAN ABBAS on securing 3rd position at provincial level computer science group.

Top Performers SSC-I
12/08/2026

Top Performers SSC-I

Elysian School System, GB proudly celebrates 100% results in AKU-EB SSC & HSSC exams 2026.
12/08/2026

Elysian School System, GB proudly celebrates 100% results in AKU-EB SSC & HSSC exams 2026.

Address

Elysian Schools Headoffice, Naveed Shaheed Road, Zulfiqarabad Near Sadpara Chowk
Gilgit
15100

Opening Hours

Monday 09:00 - 15:00
Tuesday 09:00 - 15:00
Wednesday 09:00 - 15:00
Thursday 09:00 - 15:00
Friday 09:00 - 01:00
Saturday 09:00 - 15:00

Telephone

+925811452610

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Elysian School System Gilgit-Baltistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Elysian School System Gilgit-Baltistan:

Shortcuts

Share