01/10/2026
الیزین کو دیکھنا ہے تو عمارت سے آگے دیکھیے
کچھ ادارے عمارتیں بناتے ہیں، کچھ نسلیں بناتے ہیں
محمد سلیم معاویہ
تعلیم کو صرف فیس کی ایک رسید، امتحان کے ایک نتیجے یا کسی خوب صورت عمارت کے آئینے میں دیکھنا شاید تعلیم کے ساتھ انصاف نہیں۔ ایک سکول کی عمارت ہمیں اس کی وسعت دکھا سکتی ہے، اس کی فیس اس کی لاگت بتا سکتی ہے، اور اس کے نتائج اس کی ایک جھلک دکھا سکتے ہیں، مگر تعلیم کی اصل کہانی ان سب کے پیچھے کہیں اور لکھی جا رہی ہوتی ہے؛ ایک کلاس روم میں، ایک استاد کے اندازِ تدریس میں، ایک بچے کے سوال میں، اس کی غلطی کو درست کرنے کے طریقے میں اور اس مسلسل کوشش میں کہ جو بچہ آج کسی بات کو نہیں سمجھ پا رہا، وہ کل اسے سمجھنے کے قابل ہو جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کسی تعلیمی ادارے کی اصل شناخت سامنے آتی ہے۔
گلگت بلتستان جیسے خطے میں جہاں تعلیم ہمیشہ سے امید، محرومی اور مستقبل کے درمیان ایک اہم پل رہی ہے، ہمیں اب یہ سوال زیادہ سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف امتحان کے لیے تیار کر رہے ہیں یا زندگی کے لیے؟ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ آج کے بچے کو صرف معلومات یاد کرا دینا کافی نہیں۔ اسے سمجھنا، سوال کرنا، غور کرنا، مسئلہ حل کرنا، اپنی بات مؤثر انداز میں بیان کرنا، دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنا اور حاصل کیے ہوئے علم کو نئی صورتِ حال میں استعمال کرنا بھی آنا چاہیے۔ یہی اکیسویں صدی کی تعلیم کا بنیادی تقاضا ہے۔
اسی پس منظر میں الیزین سکول سسٹم کو دیکھا جائے تو اس کے تعلیمی نظام کی ایک اہم خصوصیت اس کا منظم اور مربوط اندازِ کار ہے۔ یہاں بچے کی تعلیم کو صرف ایک استاد کی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے ایک پورے تعلیمی نظام کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ استاد بچے کی روزمرہ کارکردگی، اس کی فہم، رویے، شرکت اور تعلیمی ضرورت کو دیکھتا ہے۔ پرنسپل اس عمل کی نگرانی اور رہنمائی کرتا ہے۔ کوآرڈینیٹرز کلاس روم میں جا کر تدریسی عمل کا مشاہدہ کرتے ہیں، اساتذہ کے ساتھ تعلیمی معاملات پر کام کرتے ہیں اور اپنی مشاہداتی معلومات آگے پہنچاتے ہیں۔ پھر اکیڈمک مینجمنٹ اور اکیڈمک ڈائریکٹر کی سطح پر ان امور کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یوں ایک بچے کے گرد محض ایک استاد نہیں بلکہ ایک ایسا تعلیمی حلقہ تشکیل پاتا ہے جس کا مرکز بچہ اور اس کی سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ بات بظاہر سادہ ہے، مگر تعلیم کے میدان میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ اچھا تعلیمی نظام وہ نہیں جس میں صرف یہ دیکھا جائے کہ استاد نے سبق پڑھا دیا یا نہیں؛ اچھا نظام وہ ہے جو یہ بھی دیکھے کہ بچے نے سبق سمجھا یا نہیں۔
کلاس روم آبزرویشن اسی لیے محض نگرانی کا نام نہیں۔ اس کا اصل مقصد یہ جاننا ہے کہ تدریس کس حد تک مؤثر ہے، بچے کس طرح شریک ہو رہے ہیں، کہاں فہم میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے اور استاد کو اپنی تدریس میں کہاں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ اگر مشاہدہ اصلاح کا ذریعہ بن جائے تو یہ استاد کی حوصلہ شکنی نہیں بلکہ اس کی پیشہ ورانہ ترقی کا وسیلہ بن جاتا ہے۔
اسی طرح عملی سرگرمی، سوال و جواب، گفتگو، مشاہدہ، گروہی کام اور خود کر کے سیکھنے کے طریقے بچے کو محض سننے والے سے سیکھنے والے میں تبدیل کرتے ہیں۔ جب بچہ کسی تصور کو صرف کتاب میں پڑھنے کے بجائے اسے دیکھتا، اس پر گفتگو کرتا، سوال اٹھاتا اور خود کسی سرگرمی میں حصہ لیتا ہے تو علم اس کے حافظے کی عارضی چیز نہیں رہتا بلکہ تجربے کا حصہ بننے لگتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں تعلیم کو محض معلومات کی منتقلی نہیں بلکہ سیکھنے کے عمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک استاد کا کمال صرف یہ نہیں کہ وہ کتنا بول سکتا ہے؛ اصل کمال یہ ہے کہ وہ اپنے سامنے بیٹھے بچوں کو کتنا سوچنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔
اور یہاں ایک حقیقت ایسی ہے جسے ہر تعلیمی ادارے اور ہر والدین کو سمجھنا چاہیے: ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔
کسی بچے کی فہم تیز ہوتی ہے، کسی کو وقت چاہیے۔ کوئی ایک مثال سے سمجھ لیتا ہے، کسی کو کئی مثالوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ کوئی فوراً اظہار کر لیتا ہے اور کوئی اپنی بات کہنے میں وقت لیتا ہے۔ کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جو مسلسل توجہ، اضافی مشق اور مختلف انداز کی وضاحت کے بغیر اپنی پوری صلاحیت تک نہیں پہنچ پاتے۔ ایسے بچے کو صرف ’’کمزور‘‘ کہہ دینا آسان ہے، مگر اس کی کمزوری کو سمجھنا اور اسے آگے لانے کے لیے حکمتِ عملی بنانا اصل تعلیمی محنت ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سکول کی عمارت اور ایک تعلیمی نظام کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔
پھر آتا ہے جانچ کا مرحلہ۔ امتحان کا مقصد صرف نمبر دینا نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ جاننا بھی ہونا چاہیے کہ بچہ کہاں کھڑا ہے، اس نے کیا سمجھا، کہاں مشکل پیش آ رہی ہے اور آئندہ تدریس میں کیا تبدیلی درکار ہے۔ مسلسل جائزہ اور تشکیلاتی جانچ اسی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یعنی جانچ صرف بچے کو پرکھنے کے لیے نہیں بلکہ تدریس کو بہتر بنانے کے لیے بھی ہوتی ہے۔
اسی طرح استاد کی تربیت بھی تعلیمی معیار کا بنیادی حصہ ہے۔ اگر دنیا بدل رہی ہے، نصاب بدل رہا ہے، بچوں کی ضروریات بدل رہی ہیں اور تدریس کے طریقے بدل رہے ہیں تو استاد کا سیکھنا بھی جاری رہنا چاہیے۔ ایک جدید سکول اپنے اساتذہ سے صرف پڑھانے کی توقع نہیں کرتا بلکہ انہیں سیکھنے، غور کرنے، اپنی تدریس کا جائزہ لینے اور بہتر ہونے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔
الیزین کے تعلیمی ڈھانچے میں اکیڈمک مینجمنٹ، مختلف مضامین کے کوآرڈینیٹرز، کلاس روم مشاہدہ، ماڈل لیسن اور کو-ٹیچنگ جیسے اقدامات اسی وسیع تصور کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تعلیم کو ایک مربوط اور مسلسل بہتر ہونے والا عمل سمجھا جائے۔
اب ایک سوال فطری طور پر سامنے آتا ہے: اگر یہ سب کچھ ہے تو پھر فیس کو کیسے دیکھا جائے؟
والدین کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ وہ جو رقم ادا کر رہے ہیں، اس کے بدلے ان کے بچے کو کیا مل رہا ہے۔ لیکن شاید ہمیں فیس کے سوال کو ایک قدم آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ سوال صرف یہ نہ ہو کہ فیس کتنی ہے؟ سوال یہ بھی ہو کہ اس فیس کے بدلے بچے پر کتنی تعلیمی محنت ہو رہی ہے؟
کیا اس کی کلاس کا مشاہدہ ہوتا ہے؟ کیا استاد کی تدریس کا جائزہ لیا جاتا ہے؟ کیا بچے کی فہم کو مسلسل جانچا جاتا ہے؟ کیا کم رفتار سے سیکھنے والے بچے کے لیے اضافی توجہ اور مختلف تدریسی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے؟ کیا بچے کو صرف یاد کرایا جاتا ہے یا سمجھنے، سوال کرنے اور عملی طور پر استعمال کرنے کا موقع بھی ملتا ہے؟ کیا اساتذہ کی اپنی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی پر بھی کام ہوتا ہے؟
اگر ان سوالات کا جواب تلاش کیا جائے تو فیس کا معاملہ بھی زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھ میں آتا ہے۔
کسی ادارے کی فیس کو صرف ایک دوسرے ادارے کی فیس کے ساتھ رکھ کر دیکھنا مکمل موازنہ نہیں۔ تعلیمی قدر کا تعلق صرف رقم سے نہیں بلکہ اس پوری خدمت سے ہے جو بچے کو فراہم کی جا رہی ہے۔ جس طرح ایک کتاب کی قیمت دیکھ کر اس کے علم کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح کسی سکول کو صرف فیس کے ہندسے سے سمجھ لینا بھی مکمل تصویر نہیں دکھاتا۔
البتہ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ فیس کے سوال کو نظر انداز کر دیا جائے۔ والدین کو سوال کرنے کا حق ہے اور اداروں پر جواب دہ ہونے کی ذمہ داری۔ مگر سوال دلیل کے ساتھ ہو اور جواب بھی دلیل کے ساتھ۔ نہ بے جا تشہیر تعلیم کا متبادل ہے اور نہ بے بنیاد اعتراض تحقیق کا۔
اسی طرح الیزین کو گلگت بلتستان کے دوسرے بڑے اور معروف تعلیمی اداروں کے تناظر میں دیکھتے ہوئے بھی انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ موازنہ جذبات سے نہیں، معیار سے کیا جائے۔ دیکھا جائے کہ کلاس روم میں کیا ہو رہا ہے، بچے کی فہم کہاں تک پہنچی ہے، وہ اپنی بات کس اعتماد سے بیان کر سکتا ہے، مسائل کو کس طرح دیکھتا ہے اور سیکھے ہوئے علم کو کس حد تک استعمال کر سکتا ہے۔
آج الیزین کے طلبہ مختلف اعلیٰ تعلیمی مواقع تک پہنچ رہے ہیں اور اس ادارے نے گلگت بلتستان کے معروف تعلیمی اداروں کے درمیان اپنی تعلیمی شناخت بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ سفر کسی بھی ادارے کے لیے اہم ہے، لیکن اس کی حقیقی قدر کو مستند نتائج، طلبہ کے تعلیمی سفر، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں، اسکالرشپس اور عملی کامیابیوں کے ریکارڈ سے جانچنا زیادہ مناسب ہے۔ دعویٰ جتنا بڑا ہو، ثبوت بھی اتنا ہی واضح ہونا چاہیے۔
اور شاید یہی بات الیزین کے بارے میں بھی کہنے کی ضرورت ہے کہ اسے نہ صرف اس کی عمارت سے پہچانیے، نہ صرف اس کی فیس سے، نہ صرف اس کے اشتہار سے اور نہ صرف اس کے امتحانی نتیجے سے۔ اسے اس بچے سے پہچانیے جو وہاں پڑھ رہا ہے۔
کسی ایک دن کسی کلاس میں بیٹھ کر دیکھیے کہ استاد کس طرح پڑھاتا ہے۔ بچوں سے پوچھیے کہ انہوں نے کیا سمجھا۔ ان کا کام دیکھیے۔ ان کے سوال سنیے۔ یہ دیکھیے کہ جو بچہ پیچھے رہ گیا ہے، اس کے لیے کیا کیا جا رہا ہے۔ پھر شاید بہت سی وہ حقیقتیں سامنے آ جائیں جو کسی اشتہار، پوسٹر یا سوشل میڈیا کی بحث سے کبھی سامنے نہیں آ سکتیں۔
تعلیم پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں ایک ناصحانہ بات اپنے آپ سے بھی کہنی چاہیے: اپنے بچوں کے مستقبل کے معاملے میں نہ صرف نام سے متاثر ہوں، نہ صرف عمارت سے، نہ صرف فیس سے اور نہ صرف نمبر سے۔ سکول کو دیکھنا ہے تو کلاس روم میں دیکھیے؛ استاد کو دیکھنا ہے تو بچے کی فہم میں دیکھیے؛ اور ادارے کو جانچنا ہے تو اس کے نظام میں دیکھیے۔
کیونکہ ایک اچھا سکول وہ نہیں جو صرف بچے کو اگلی جماعت میں پہنچا دے؛ اچھا سکول وہ ہے جو بچے کو زندگی کے اگلے مرحلے کے لیے تیار کرے۔
اور نسلیں صرف کتابیں پڑھانے سے نہیں بنتیں۔ نسلیں اس وقت بنتی ہیں جب ان کے اندر سوال کرنے کا حوصلہ، سیکھنے کی لگن، دلیل سے بات کرنے کی عادت، مشکل سے نہ گھبرانے کا حوصلہ اور اپنے علم کو زندگی میں برتنے کی صلاحیت پیدا کی جائے۔
عمارتیں وقت کے ساتھ پرانی ہو جاتی ہیں، فرنیچر بدل جاتا ہے، یونیفارم بدل جاتے ہیں، کتابیں نئی آ جاتی ہیں؛ مگر بچے کے ذہن میں ڈالی گئی صحیح سوچ، اس کے اندر پیدا کی گئی سیکھنے کی عادت اور علم سے پیدا ہونے والی روشنی اس کے ساتھ بہت دور تک سفر کرتی ہے۔
اسی لیے الیزین کو دیکھنا ہے تو عمارت سے آگے دیکھیے؛ کلاس روم میں دیکھیے، بچے کی آنکھ میں دیکھیے، اس کی سوچ میں دیکھیے اور اس کے مستقبل میں دیکھیے۔
کیونکہ آخرکار کسی بھی تعلیمی ادارے کی سب سے بڑی عمارت اس کی دیواریں نہیں، اس کے طلبہ کا مستقبل ہوتا ہے۔