The Leaders Academy, Khomer Gilgit

The Leaders Academy, Khomer Gilgit

Share

Learn today to become a leader tomorrow.

02/11/2025
Photos from The Leaders Academy, Khomer Gilgit's post 01/03/2025

🚀 **The Leaders Academy: Admissions Now Open!** 🌟

Photos from The Leaders Academy, Khomer Gilgit's post 22/01/2025
20/01/2024

Admissions Open for the session 2024. ECD to 9th.

08/01/2024

*علامہ اقبال کی نظم "ہندی مکتب"*

*اقبال! یہاں نام نہ لے علمِ خودی کا*
*موزوں نہیں مکتب کے لیے ایسے مقالات*

مطلب: اے اقبال برصغیر میں جو تعلیمی نظام مسلط کیا گیا ہے وہاں خود شناسی اور خود معرفتی کے علم کی یا خودی کی بات نہ کر۔ کیونکہ ان تعلیمی اداروں کے طالب علم مصنوعی تہذیب و تمدن کی بنا پر اپنی شناخت سے بے گانہ ہو چکے ہیں-

*بہتر ہے کہ بیچارے ممولوں کی نظر سے*
*پوشیدہ رہیں باز کے احوال و مقامات*

مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ تعلیم اور تہذیب و تمدن نے درس گاہوں میں پڑھنے والوں کو شاہبازوں سے کمزور چڑیاں بنا کر رکھ دیا ہے ۔ اس لیے ان کے سامنے بازوں کی کیفیات اور مرتبوں کی بات کرنا بے سود ہے ۔ وہ اسے نہ سمجھیں گے اور نہ اس پر عمل کریں گے ۔


*آزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک سال*
*کس درجہ گراں سیر ہیں محکوم کے اوقات*

مطلب: اس شعر میں آزاد اور محکوم کی زندگی کا مقابلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ آزاد شخص کا ایک لمحہ محکوم کے ایک سال کے برابر ہوتا ہے۔ آزاد ایک لمحہ میں وہ کچھ کر گزرتا ہے جو غلام سالوں میں نہیں کر پاتا ۔

*آزاد کا ہر لحظہ پیامِ ابدیت*
*محکوم کا ہر لحظہ نئی مرگِ مفاجات*

مطلب: آزاد کے ایک ایک لمحہ میں ہمیشگی کا پیغام ہوتا ہےاور غلام کا ایک ایک لمحہ ناگہانی موت ہوتا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ آزاد قوم کا آزاد شخص ایک ایک لمحہ میں وہ عملی اور یادگار کام کرتا ہے جس سے وہ خود بھی بنتا ہے اور اس کی قوم بھی بنتی ہے ۔ لیکن غلام قوم کا شخص غلامی کی وجہ سے ذلت کی زندگی بسر کرتا ہے ۔

*آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منور*
*محکوم کا اندیشہ گرفتارِ خرافات*

مطلب: آزاد شخص کا فکر، اس کا فلسفہ اور اس کی عقل اصل اور صحیح باتوں سے روشن ہوتی ہے جب کہ غلام کا فکر و فلسفہ اور خیال فضول باتوں میں لگا رہتا ہے ۔


*محکوم کو پیروں کی کرامات کا سودا*
*ہے بندہَ آزاد خود اک زندہ کرامات*

مطلب: غلام چونکہ عملاً بے کار ہو چکا ہوتا ہے اس لیے وہ فوق الفطرت یا عادت کے خلاف اور قانون فطرت سے ہٹ کر کسی کام کے ہونے کی لگن رکھے ہوئے ہوتا ہے کہ شاید غائب سے کوئی ایسی بات ہو جائے جو اس کی کامیابی کی ضمانت ہو یعنی وہ فضول بنیادوں پر اپنی ترقی اور زندگی کی عمارت تعمیر کر سکتا ہے جب کہ آزاد شخص کا ایک ایک لمحہ خود کرامت ہوتا ہے ۔ وہ ایسے ایسے کارنامے سر انجام دیتا ہے کہ اسے فوق الفطرت سہاروں کی ضرورت نہیں رہتی ۔

*محکوم کے حق میں ہے یہی تربیت اچھی*
*موسیقی و صورت گری و علمِ نباتات*

مطلب: غلام قوموں کے مدرسوں میں ایسا نصاب راءج کرتی ہیں جس سے وہ حقیقی علم حاصل نہ کر سکیں- ان کے لیے گانا بجانا، تصویریں بنانا اور نباتات قسم کے علوم سے واقف کروایا جاتا ہے جن کا آزاد سوچ اور حقیقی ترقی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بلکہ ان سے ان میں زوال پذیری کی صورتیں پیدا ہوں-

Want your school to be the top-listed School/college in Gilgit?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Behind Nisa Market, Khomer Chowk
Gilgit
15100