اہل کتاب کے لئے قرآن کی بشارت
*************************
قرآنی تعلیمات کے مطابق جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو اللہ کے فرمانبردار ہوں گے۔ سورہ البقرہ (آیت 62) اور سورہ المائدہ (آیت 69) کے مطابق، جو بھی انسان اللہ اور آخرت پر ایمان رکھے اور اچھے کام کرے، خواہ وہ مسلمان ہو، یہودی ہو، عیسائی ہو یا صابی، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔
ان قرآنی آیات میں قرآن کسی بھی انسان کو جنت میں داخل ہونے کے لئے تین بنیادی شرائط رکھتا ہے۔
1۔اللہ پر ایمان: اللہ کو ایک ماننا۔
2۔ آخرت پر ایمان: قیامت اور حساب کتاب پر یقین۔
3۔تقوی /عمل صالح: اچھے اور نیک کام کرنا۔
جب قرآن تین شرائط کو پورا کرنیوالے تمام اہل کتاب کو جنت کی بشارت دیتا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں کسی اہل کتاب اور مخالف فرقہ والے کو کافر ، مرتد اور زندیق کہیں۔
Learning & Growing
learning starts from questioning
ذہانت مصنوعی ہو سکتی ہے، مگر حماقت ہمیشہ اصلی ہی ہوتی ہے۔
04/08/2026
پاکستان معاشی دوڑ میں پیچھے کیوں رہ گیا؟
سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق سال 2000 میں پاکستان کی فی کس آمدنی 2880 ڈالر، بھارت کی 2010 ڈالر اور بنگلہ دیش کی 1620 ڈالر تھی، اور 2026 میں پاکستان کی فی کس آمدنی 6480 ڈالر، بھارت کی 12560 ڈالر اور بنگلہ دیش کی 9180 ڈالر ہو گئی۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی فی کس آمدنی میں اضافہ تو ہوا، لیکن بھارت اور بنگلہ دیش نے کہیں زیادہ تیزی سے ترقی کی، جس کے باعث ترقی کے دوڑ میں وہ پاکستان سے آگے نکل گئے۔
اس کی بنیادی وجوہات میں سیاسی عدم استحکام، پالیسیوں کا عدم تسلسل، کمزور برآمدات، توانائی کا بحران، دہشت گردی، منی لانڈرنگ، تعلیم اور صحت پر ناکافی سرمایہ کاری، تیز رفتار آبادی میں اضافہ، کمزور ٹیکس نظام، بڑھتے ہوئے قرضے، روپے کی قدر میں مسلسل کمی، بدعنوانی اور ادارہ جاتی کمزوریاں شامل ہیں۔ ان عوامل نے سرمایہ کاری، صنعت اور روزگار کے مواقع کو محدود کر دیا۔
دوسری جانب بھارت نے آئی ٹی، مینوفیکچرنگ،انسانی وسائل، تعلیم، ڈیجیٹل معیشت اور انفراسٹرکچر پر بھرپور توجہ دی، جبکہ بنگلہ دیش نے گارمنٹس کی صنعت، تعلیم و صحت ، برآمدات، انسانی وسائل، خواتین کی افرادی قوت اور انسانی وسائل کی ترقی کو اپنی معاشی پالیسی کا مرکز بنایا۔
پاکستان کے لیے اس میں واضح سبق ہے کہ اگر سیاسی استحکام، شفاف طرزِ حکمرانی، مضبوط ادارے، معیاری تعلیم، برآمدات میں اضافہ اور ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کو قومی ترجیح بنایا جائے تو ملک دوبارہ تیز رفتار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
جنوبی ایشیا کی معاشی دوڑ میں پاکستان پیچھے کیوں ؟ مہنگائی اور زرمبادلہ کے ذخائر کا تقابلی جائزہ
تحریر: دلیرشاہ
اکیسویں صدی کے آغاز پر جنوبی ایشیا کے کئی ممالک معاشی اعتبار سے تقریباً ایک جیسے چیلنجز سے دوچار تھے۔ چین صنعتی ترقی کی راہ پر گامزن تھا، بھارت اپنی معیشت کو آزاد کر چکا تھا، بنگلہ دیش ابھی ایک ابھرتی ہوئی برآمدی معیشت تھا، سری لنکا خانہ جنگی کے اثرات سے نبرد آزما تھا، جبکہ پاکستان کو بھی خطے کی اہم معیشتوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ لیکن گزشتہ پچیس برسوں میں ان ممالک کی معاشی سمتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہو گئیں۔ آج چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے، بھارت تیزی سے عالمی معاشی طاقت بن رہا ہے، بنگلہ دیش برآمدات اور انسانی ترقی میں نمایاں کامیابی حاصل کر چکا ہے، اور سری لنکا شدید بحران کے باوجود اصلاحات کے ذریعے استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ پاکستان عالمی معیشت میں اپنا حصہ بڑھانے کے بجائے نسبتاً کمزور پوزیشن میں کھڑا ہے۔
عالمی GDP میں حصہ (تقریباً)
ملک 2000 سے 2025 (تقریباً 25 سال) تبدیلی
چین 3.6% سے 16.5% 4 گنا سے زیادہ اضافہ
بھارت 1.4% سے 3.3۔ 2 گنا سے زیادہ اضافہ
بنگلہ دیش 0.08% سے 0.39% 5 گنا اضافہ
سری لنکا 0.16% سے 0.28% نمایاں اضافہ
پاکستان 0.18% سے 0.15% کمی
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ جن ممالک نے برآمدات، صنعت، انفراسٹرکچر، تعلیم، ٹیکنالوجی اور پالیسیوں کے تسلسل پر سرمایہ کاری کی، وہ عالمی معیشت میں اپنی جگہ مضبوط کرتے گئے، جبکہ پاکستان سیاسی عدم استحکام، کمزور گورننس، محدود صنعتی ترقی اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کی وجہ سے پیچھے رہ گیا۔
مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں کا عمومی تقابلی جائزہ
ملک مہنگائی پیٹرول کی قیمتوں کا عمومی رجحان
چین 0–2% نسبتاً مستحکم
بھارت 4–6% زیادہ، مگر فی کس آمدنی بھی زیادہ
بنگلہ دیش 8–10% نسبتاً مستحکم
سری لنکا 2022 میں 50% سے زائد، اب نمایاں کمی بحران کے بعد استحکام
پاکستان 20–30% یا اس سے زیادہ
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بھارت میں پیٹرول پاکستان سے مہنگا ہے، لیکن اصل معیار قیمت نہیں بلکہ قوتِ خرید (Purchasing Power) ہے۔ اگر کسی ملک میں آمدنی زیادہ ہو تو مہنگا پیٹرول بھی نسبتاً کم بوجھ بنتا ہے۔ پاکستان میں تنخواہوں اور پیداواری صلاحیت میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے ایندھن اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر عام شہری پر پڑتا ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر (2025، تقریباً)
ملک| زرمبادلہ کے ذخائر (ارب امریکی ڈالر)| عمومی صورتحال
چین 3,200+ دنیا کے سب سے بڑے ذخائر
بھارت۔ 690–710 انتہائی مضبوط اور مستحکم
بنگلہ دیش 25–30 برآمدات اور ترسیلاتِ زر سے تقویت
سری لنکا 6–7 بحران کے بعد بتدریج بہتری
پاکستان 14–16 محدود، درآمدات اور قرضوں کے دباؤ میں
زرمبادلہ کے ذخائر کسی بھی ملک کی معاشی طاقت کا اہم پیمانہ ہوتے ہیں۔ یہی ذخائر درآمدات، بیرونی قرضوں کی ادائیگی، کرنسی کے استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ چین اور بھارت نے اپنی مضبوط برآمدی معیشت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کی بدولت دنیا کے بڑے ذخائر قائم کیے۔ بنگلہ دیش نے گارمنٹس کی برآمدات اور ترسیلاتِ زر کے ذریعے اپنے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ کیا، جبکہ سری لنکا نے 2022 کے بحران کے بعد اصلاحات کے ذریعے انہیں دوبارہ بڑھانا شروع کیا۔ پاکستان کے ذخائر مسلسل دباؤ کا شکار رہے کیونکہ درآمدات زیادہ، برآمدات کم اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں بھاری رہیں۔
پاکستان کی معاشی مشکلات کی سب سے بڑی وجہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ گورننس کا بحران ہے۔ پالیسیوں کا بار بار تبدیل ہونا، سیاسی عدم استحکام، کمزور ادارے، ٹیکس نیٹ کا محدود ہونا، توانائی کے شعبے کے مسائل، برآمدات میں تنوع کی کمی، تعلیم اور تحقیق پر ناکافی سرمایہ کاری اور قرضوں پر بڑھتا ہوا انحصار وہ عوامل ہیں جنہوں نے معیشت کی رفتار کو سست رکھا۔
دوسری جانب چین نے مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کو قومی ترجیح بنایا، بھارت نے آئی ٹی، ڈیجیٹل معیشت، فارماسیوٹیکل اور سروس سیکٹر کو فروغ دیا، بنگلہ دیش نے ٹیکسٹائل، خواتین کی افرادی قوت اور برآمدات پر توجہ دی، جبکہ سری لنکا نے شدید بحران کے باوجود مالیاتی نظم و ضبط اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے استحکام کی راہ اختیار کی۔
پاکستان میں مہنگائی کا اصل سبب صرف عالمی تیل کی قیمتیں نہیں بلکہ روپے کی قدر میں کمی، کمزور زرِ مبادلہ کے ذخائر، درآمدات پر زیادہ انحصار، بجلی اور گیس کی بلند لاگت، بجٹ خسارہ، قرضوں پر سود کی ادائیگیاں اور کمزور پیداواری ڈھانچہ بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر معاشی بحران کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہری برداشت کرتا ہے۔
گزشتہ پچیس برسوں کا تقابلی جائزہ ایک واضح سبق دیتا ہے کہ قومی ترقی صرف قدرتی وسائل یا قرضوں سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ مضبوط اداروں، مستقل معاشی پالیسیوں، شفاف گورننس، برآمدات میں اضافے، صنعتی ترقی، تعلیم، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری سے ممکن ہوتی ہے۔ اگر پاکستان بھی ان شعبوں میں سنجیدہ اصلاحات نافذ کرے، ٹیکس نظام کو وسعت دے، توانائی کے شعبے کو مستحکم کرے، برآمدات میں اضافہ کرے اور پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنائے تو نہ صرف عالمی GDP میں اپنا حصہ بڑھا سکتا ہے بلکہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام جیسے دیرینہ مسائل پر بھی قابو پا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر قرضوں، مہنگائی اور کمزور معاشی نمو کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
حوالہ جات
1. International Monetary Fund (IMF), World Economic Outlook Database.
2. World Bank, World Development Indicators (WDI).
3. International Monetary Fund, International Financial Statistics (IFS).
4. Asian Development Bank (ADB), Asian Development Outlook.
5. United Nations Conference on Trade and Development (UNCTAD), Trade and Development Report.
6. State Bank of Pakistan (SBP), Foreign Exchange Reserves Statistics.
7. Reserve Bank of India (RBI).
8. People's Bank of China (PBOC).
9. Bangladesh Bank.
10. Central Bank of Sri Lanka.
حضرت امام محمد باقر علیہ سلام نے فرمایا:
"دنیا کے لالچی انسان کی مثال ریشم کے اس کیڑے جیسی ہے کہ جو اپنے اوپر جتنا ریشم لپیٹتا جاتا ہے اس کے نکلنے کا راستہ اتنا ہی تنگ ہوتا جاتا ہے اور آخر کار موت کے منہ میں چلا جاتا ہے"۔
(بحار الانوار، ج ۷۰، ص ۲۳)
کیا یہ نظام قرآن و سنت کے مطابق ہے؟
پاکستان کے آئین میں یہ اصول درج ہے کہ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکتی۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ لاکھوں روپے( 15 سے 50 لاکھ) ماہانہ تنخواہ لینے والے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں اور بعض دیگر مراعات یافتہ طبقوں کو سرکاری گاڑی، مفت یا رعایتی پیٹرول، سرکاری رہائش، مفت یا رعایتی بجلی، گیس اور دیگر بے شمار سہولیات کیوں فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والا ایک عام ملازم اپنی محدود آمدنی سے یہی تمام بنیادی ضروریات پوری کرنے پر مجبور ہوتا ہے؟
اگر معاشرے میں فلاح اور عدل کو بنیاد بنایا جائے تو زیادہ مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ کم آمدنی والے افراد کو زیادہ سہولتیں دی جائیں تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں، جبکہ زیادہ آمدنی والے افراد اپنی ضروریات خود پوری کرنے کی بہتر استطاعت رکھتے ہیں۔
یہ پالیسی اور قانون کس نے بنایا؟ کیا اس کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے، یا یہ محض انتظامی اور حکومتی فیصلوں کا نتیجہ ہے؟ کیا ایسی مراعات کا معیار انصاف اور مساوات کے اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہے؟
رسول اللہ ﷺ کے دورِ مبارک میں بیت المال کا نظام کمزور اور ضرورت مند طبقات کی کفالت کے لیے قائم تھا۔ زکوٰۃ اور دیگر مالی وسائل صاحبِ استطاعت افراد سے وصول کرکے مستحقین، فقراء، مساکین اور دیگر مقررہ مصارف پر خرچ کیے جاتے تھے۔ اسلامی تعلیمات میں معاشی انصاف، امانت، اعتدال اور کمزور طبقات کی مدد پر خاص زور دیا گیا ہے۔
لہٰذا یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا ہمارے موجودہ مالی اور انتظامی نظام میں وسائل اور مراعات کی تقسیم اسلامی اصولِ عدل، مساوات اور امانت کے مطابق ہو رہی ہے، یا اس پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ریاستی وسائل کا زیادہ منصفانہ استعمال یقینی بنایا جا سکے اور کم آمدنی والے شہریوں کو زیادہ سہولت اور تحفظ فراہم ہو۔
پہلے اسمبلی ممبران کی اردو تقریر اور انٹرویو سن کر شرم آتی تھی اب شکر ہے ممبران انگلش بھی بول لیتے ہیں
جمہوریت میں تو VIP عوام ہوتی ہے حکومتی عہدے عوام کی خدمت کے لئے ہوتے ہیں
گلگت شہر کے ہر گھر میں سمارٹ میٹر لگا دیں تو اس وقت بجلی سر پلس ہوجائے گی بجلی کم نہیں ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Website
Address
Gilgit
15100