18/03/2022
متاثرین اور حکومت کی بے بسی۔۔۔
تحصیل رونرو مسلسل چار ماہ سے زلزلے کی زد میں ہیں ۔27 دسمبر 2021 سے شروع ہونے ولا سلسہ اپ تک نہ تھماسکا اور دن بہ دن زلزلے کی جھٹکے زیادہ ہورہے ہیں ۔خاص طور پر گجیئ یونین اس وقت تباہی کا منظر دیکھے رہا ہے۔لوگوں کو نہ دن میں سکوں ہے اور نہ رات میں کوگ نہ تو ٹھیک سے کام کرسکتا ہیں اور نہ آرام کرسکتے ہیں ۔اس وقت کاشت کاری کا موسم مگر لوگ پرنشان حال کی صورت میں ہیں ۔95 فیصد لوگوں کا دو وقت کی روٹی کا ذریعہ کھتی باڑی اور مال مولیشی ہے۔پانی کی نہر کو ہر روزہ صرف کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے کوگ ذہنی مریض بن چکی ہیں ۔پانی کی نہریں 10 کلومیڑ لمبی ہے جس کی وجہ سے ہر وقت صاف کرنا اور فصلوں کو پانی دینا ناممکن ہوگیا ہے۔اگر صورت حال یہی رہئ تو لوگ قہصہ حالی اور دماغی بیماریوں میں متیلا ہوگئے۔ لوگوں کا ذریعہ آمدانی آلو، گندم ، گھاس اور مال مویشی ہے۔اس وقت گجئ سنسبر اور یلبو کے عوام بے یار مدر گار حکومت کی امداد کے منتظر ہیں۔امداد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ دو کلو آٹا دو چینی اور کچھ صابن دو اور کہا جائے کی ہم نے امدار دی ہے۔۔اس وقت متاثرین کا دو کلو آٹا دو چینی کا مطالبہ نہیں ہے بلکہ ایک مکمل مسلہ تولب حال ہے۔ اپ تک ہزاروں کی تعدا میں مال و مویشی کا نقصان ہوا ہے ۔ پورا گجی یونین میں مکانات رہنیے کے قابل نہیں ہے۔100 فیصد مکانات تباہ ہوچکے ہیں ۔مگر مقامی انتظامیہ کی نااہلی اور کریش کی وجہ سے اپ تک کوئی مسلئہ نہیں رہا ہے ۔اس وقت روندو کی مقامی انتظامہ دو نمبری میں پہلے نمبر پہ ہے۔ ٹینٹ کے نام پر لوگوں کی عزت و آبرو کا جنازہ نکال جارہاہے۔ دو یا تین خاندانوں کے درمیان ایک ٹینٹ دینا متاثرین کی توہین ہے۔ کیا وزیر اعلی یا صوبائی وزیر راجہ ناصر علی خان اپنے گھر ولا اور کسی نامحرم خاندان کے ساتھ مل کر ایک ٹینٹ میں رات گزار سکتے ہیں یا مقامی انتظامہ کے لوگ اپنی گھر والوں کو کسی غیر کے ساتھ رات گزارنے دہے گئے مگر ایسا نہیں کرتے مگر اس وقت رونرو غریب اور بے بس عوام کے ساتھ ایسا غیر اسلامی غیر اخلاقی سلوک کیا جارہا ہے۔اگر حکومت ایک ٹینٹ نہیں دے سکتی ہے تو اور کیا کرسکتی ہے ۔وزیر اعلی گلگت بلستان اور گورنر کا دودہ بھی ناکام رہا ہے ۔ان دونوں نے عوام کو چورنا گلکر چلے گیے۔گورنر گلگت بلستان کو دودہ تو مختلف تھا۔ وہ تو متاثرین کے پاس گیا ہی بلکہ الیسے لوگوں کو امداد دیاگیا جن کا ایک انچ بھی نقصان نہیں پہنچاتھا۔یہ نااہل انتظامیہ اور حکومت کچھ لوگوں کی تحفظات نہی دی سکتی ہے تو 21 کڑور عوام کو کیا کرسکتی ہے ۔اس لے آج ریاست پاکستان دن بہ دن معاشی اور سیاسی طور پر کمزور ہو رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ حکمرانوں کی نااہلی اور کریش ہے۔ایک زرعی ملک اور قدرتی وسائل سے مالامال ملک اس وقت تباہئ کے آخری حلات غیر میں ہے۔ گکگت بلستان کے نمائندے کھبی دبئی میں تو کھبی میں، پاکستان کے مختلف شہروں میں ناچ گانوں میں مصروف ہیں ۔خاص کر راجہ ناصر علی خان جو 16 مارچ کی زلزلے کے وقت فیصل آباد میں ناچنے میں مصروف تھے۔16 مارچ کو آنے والے زلزلے میں اپ تک کئی افراد زخمی اور ایک شحض وفات ہوچگا ہے۔اس زلزلے میں گجی سبسر اور یلبو میں تباہی کردی ہے۔ تمام مکانات تباہ ہوچکے ہیں ۔ٹنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس سردی میں لوگ کھل آسمان زندگی بسر کررہے ہیں۔لوگوں کا رابط ایک گاوں سے دوسرے گاوں منقطہ ہوچکا ہے۔۔دو دن بعد بھی رابطہ نہ ہونا پریشان کن ہے۔اس وقت حکومت کو ٹینٹ اور دو کلو آٹا دو چینی دینے کی ضرورت نہیں بلکہ لوگوں کو کسی محفوظ مقام میں تبدیل کرنا اشد ضروری ہے ۔اگر ایسا نہیں ہوا تو سانحہ 8 اکتوبر 2005 کشمیر کا واقعہ پیش آتاسکتا ہے۔ اس وقت کے شیطان اور ظالم حکمران کو اس بات پر جلد از جلد کسی دوسرے مقام میں تبدیل کرنا اشد ضروری ہے ۔ہم راجہ ناصر علی خان ارو اس کی موجودہ نااہل انتظامیہ کی جنتی مزمت کی جائے کم کیونکہ انکی وجہ سے چار ماہ بعد بھی لوگ غیر محفوظ ہے ۔ کم از کم ایک دن میں 100 سے زیادہ جھٹکے آتے ہیں جس کی وجہ سے نہ دن میں سکوں اور نہ رات کو۔حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد متاثرین کو کسی محفوظ مقام میں تبدیل کرنا اشد ضروری ہے ۔۔ہم متاثرین حکومت وقت سے درج ذیل مطالبات کرتے ہیں ۔
1۔زلزے زدگان کو جلد از جلد کسی مناسب اور محفوظ مقام میں ایڈجسٹ کیا جائے۔
2۔کسی مناسب جگے پر منتقل کر کے ان کو رہنے اور زندگی کی دوسری طبعی و غزائی سہولیات فوری مہیا کی جائے۔
3۔ مالی اور جانی نقصانات کا جلد از جلد معاوضہ دیا جائے ۔
4۔ تباہشدہ مکانات کو دوبارہ تعمیر کرنے کا معاوضہ دیا جائے۔
5۔ مقامی لوگوں کی ذریعے معاش زارعت پر ہے مگر زلزلے کی وجہ سے نہریں نظام تباہ و برباد ہوچکے ہیں ۔
6۔ اگر صورت حال بیتر نہیں ہوئی تو مقامی لوگ بھوک سے مر جائے گئے۔۔
7۔ اپ تک ہزاروں کی تعدا میں مال و مویشی مر چکی ہے ان کو فوری معاوضہ ادا کیا جائے ۔
ہم متاثرین اس وقت گلگت بلستان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سب سے پہلے جلد از جلد زلزلہ زدگان کو فورا کسی مناسب اور صاف سہولت جگہ میں ایڈجسٹ کیا جائے ۔آس جگے میں صرف پانی صحت ،تعلیم اور گھر کے ایک فرد کو مالازمت دی جائے تاکہ دو وقت کی روٹی کا ذریعہ بن سکے۔
8۔ گجی یونین کے تمام لوگوں کے طالبہ و طالبات کے فیسوں کو معاف کیا جائے اور تمام طالبہ و طالبات کو حالاتبیتر ہونے تک معاوضہ دیا جائے تاکہ اپنی تعلیم جارہی کر سکتے۔ ہم صدر پاکستان ، وزیراعظم پاکستان صوبائی حکومت اور راجہ ناصر علی خان سے مطالبہ کرتےہیں کہ
ہمارےطالبہ و طالبات کو فوری معاوضہ ادا کیا جائے اور فیسوں کو معاف کیا جائے ۔
ہم والسچانسلر یونیورسٹی آف بلستان اور جامعہ قراقرم یونیورسٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرین کے بچوں کی فیسن معاف کی جائے ۔۔