06/08/2026
بچے بات کیوں نہیں مانتے
والدین کو کیا کرنا چاہیے
بہت سے والدین کی شکایت ہوتی ہے کہ ہم بار بار کہتے ہیں مگر بچہ سنتا ہی نہیں
ایسے والدین کو چاہیے کہ وہ خود کو زیادہ پریشان نہ کریں
بچے اپنی نشوونما کے مختلف مراحل میں ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں
والدین پرسکون رہ کر اس کی وجہ جاننے کی کوشش کریں
یاد رکھیں
ہر بار بچے کی طرف سے بات نہ ماننے کا مطلب ضد یا بدتمیزی نہیں ہوتا
اکثر بچے اس لیے بات نہیں مانتے کیونکہ انہیں حکم تو ملتا ہے مگر تعلق توجہ اور واضح رہنمائی نہیں ملتی
اسی وجہ سے وہ والدین کی بات کو ٹال دیتے ہیں
بچے صرف الفاظ نہیں سنتے
وہ والدین کا رویہ بھی پڑھتے ہیں
اگر ہر بات غصے ڈانٹ یا چیخ کر کہی جائے تو بچہ دفاعی رویہ اختیار کر لیتا ہے
اس کے برعکس جب والدین محبت احترام اور مستقل مزاجی کے ساتھ بات کرتے ہیں تو بچے آہستہ آہستہ تعاون کرنا سیکھتے ہیں
مثال کے طور پر
اگر بچہ کھیل میں مصروف ہے تو فوراً یہ نہ کہیں
ابھی سب چھوڑو اور پڑھنے بیٹھ جاؤ
بلکہ پہلے اس سے آنکھ ملا کر محبت سے کہیں
بیٹا پانچ منٹ بعد کھیل ختم کریں گے
پھر ہم مل کر ہوم ورک کریں گے
اس طرح بچہ ذہنی طور پر پہلے سے تیار ہو جاتا ہے اور مزاحمت بھی کم ہو جاتی ہے
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ
ترجمہ
اللہ کی رحمت سے آپ ان کے لیے نرم مزاج ہوئے
سورۃ آل عمران
رضوان عامر
تربیہ مینٹور
بچوں کی تربیت | والدین کی رہنمائی | روشن مستقبل
---
❤️ ✍🏻ㅤ 📩 📤
26/07/2026
پتہ نھیں مسئلہ کیا ھے 😱
اس بچی کو جب بھی ھوم ورک دیتا ھوں تو ھوم ورک والا پیج ھی غائب ھوجاتا ھے
پتہ نھی یے کس کی سازش ھے 😂
25/07/2026
بچہ وہی سیکھتا ہے جو وہ دیکھتا ہے
محترم والدین
بچے ہماری باتوں سے کم اور ہمارے کردار سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ سچ بولے، احترام کرے، صبر سے کام لے، نماز کا پابند ہو یا غصے پر قابو رکھے، تو سب سے پہلے ہمیں خود ان صفات کا عملی نمونہ بننا ہوگا۔
یاد رکھیں، والدین بچے کے پہلے استاد ہوتے ہیں اور گھر اس کی پہلی درسگاہ۔ اگر گھر میں محبت، عزت، نرم لہجہ، شکرگزاری اور دیانت داری کا ماحول ہوگا تو یہی عادتیں آہستہ آہستہ بچے کی شخصیت کا حصہ بن جائیں گی۔
لیکن اگر ہم خود اونچی آواز میں بات کریں اور بچے سے نرمی کی توقع رکھیں، یا خود ہر وقت موبائل میں مصروف رہیں اور بچے کو اسکرین سے دور رہنے کا کہیں، تو ہمارے الفاظ اپنا اثر کھو دیتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اس حقیقت کی بہترین مثال ہے کہ سب سے مؤثر تربیت عملی نمونہ پیش کرنے سے ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے کردار، اخلاق اور عمل سے لوگوں کے دل جیتے اور انہیں بہترین زندگی گزارنے کا طریقہ سکھایا۔
اس لیے اپنے بچے کو بدلنے سے پہلے خود کو دیکھیں۔ اکثر اوقات والدین کی ایک چھوٹی سی مثبت تبدیلی بچے کی شخصیت میں بڑی تبدیلی کا آغاز بن جاتی ہے۔
آج کا عملی کام
آج شعوری طور پر ایک ایسی اچھی عادت اختیار کریں جسے آپ اپنے بچے میں دیکھنا چاہتے ہیں، پھر دن کے اختتام پر غور کریں کہ آپ کے عمل کا بچے پر کیا اثر پڑا۔
آج کا سوال
آپ کی نظر میں کون سی ایک اچھی عادت ہے جسے بچے کو سکھانے سے پہلے والدین کو خود اپنانا چاہیے؟ اپنا جواب کمنٹ میں ضرور لکھیں۔
رضوان عامر
تربیہ مینٹور
بچوں کی تربیت | والدین کی رہنمائی | روشن مستقبل
❤️ ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
23/07/2026
حقیقی خوشی 💯
سبق سبقی سنانے کے بعد کلمے یاد کرنے کے بعد بچے انجوائے (کھیلتے) کرتے ھوئے 🎉
وقت گزر جاتا ھے لیکن یے خوشی والے لمحات ھمیشہ یاد رھتے ھیں 😊
? کیا آپکو بچپن کی کوئی بات یاد ھے
22/07/2026
ایک دوست نے کمنٹ کیا تھا کہ ۔۔
جب ھم نے ڈائیس والی تصویر رکھی تھی ۔
۔ اس نے کھا تھا کہ ڈائیس پر آنے کا ھر ایک کو موقعہ دیا جائے تو ۔ بالکل ھم ھر ایک بچے کو موقعہ دیتے ھے تاکہ ان میں اعتماد پیدا ھو اور ڈر ختم ۔
ھماری جگاڑی ڈائیس آپکو کیسی لگی 😂
21/07/2026
یے بچی پڑھائی نھیں کررھی تھی میں تو وجھ جان کر حیران ھوا
جب وجھ پوچھا تو کھا میرا غلاف اس نے اٹھایا ھے جب اسکو غلاف ملا تو پڑھنے لگی
ویسے بچوں کی لڑائیاں ایسی ھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ھوا کرتی ھیں بعد میں وہ خود ھی دود اور شکر کی طرح بن جاتے ھیں
کاش کہ ھم بڑوں میں بھی یھی خوبی پیدا ھوجائے آمین
(جنت کا سفر)
رضوان عامر تربیہ مینٹور