18/08/2026
**حضرت امام رضا علیہ السلام** نے ربا کی حرمت کی وجہ کے بارے میں فرمایا:
🔹 **تجارتی معاملات میں ربا کی حرمت** کی علت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے اس لیے منع فرمایا کیونکہ اس میں مال کی بربادی اور فساد ہے۔ کیونکہ جب کوئی شخص ایک درہم کو دو درہم کے عوض خریدتا ہے تو ایک درہم تو اس درہم کے بدلے میں ادا ہو جاتا ہے جو اسے ملا، مگر دوسرا درہم ضائع ہو جاتا ہے (یعنی بلا عوض چلا جاتا ہے)۔
🔹 پس ربا پر مبنی خرید و فروخت اور معاملات ہر صورت میں خریدار اور فروشندہ دونوں کے لیے ایک قسم کی دھوکہ دہی ہیں۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ربا کو مال و دولت کی بربادی اور فساد کی وجہ سے حرام کیا ہے، جس طرح اس نے کم عقل، نادان یا دیوانے کے مال کو ان کے حوالے کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ خوف ہے کہ وہ سب کچھ تباہ و برباد کر دیں گے، یہاں تک کہ ان میں عقلی رشد (سمجھداری) ظاہر ہو جائے۔
🔹 پس اسی سبب سے اللہ عزّ و جلّ نے ربا اور ایک درہم کو دو درہم کے ساتھ لین دین کرنے کو ممنوع قرار دیا۔ اس کے علاوہ، ربا کی حرمت کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ اس سے اللہ کے حکم کو نظرانداز کیا جاتا ہے، اور جب اللہ نے صراحتاً اس سے منع کر دیا تو اس کا ارتکاب ایک بڑا گناہ ہے، اور اللہ کے حکم کو نظرانداز کرنا کفر کا سبب بنتا ہے۔
🔹 **قرضی ربا کی حرمت** کا راز یہ ہے کہ یہ لوگوں کو بھلائی کے کاموں (جیسے قرض الحسنہ) سے روکتا ہے، اموال تباہ ہوتے ہیں، اور لوگ نیک اعمال اور قرضِ حسنہ کی بجائے زیادہ تر مادی منفعت کے پیچھے بھاگتے ہیں، اور یہ خود معاشرے میں فساد، ظلم اور دولت کی بربادی کا باعث بنتا ہے۔
📚 شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، ج 2، ص93