15/04/2026
صالحین سے نسبت رکھنے والے مقامات پر نماز پڑھنا بدعت نہیں، سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
تحقیق ۔
دارالأفتاء المصریہ
ترجمہ ۔
مفتی ناصر جاوید سیالوی
مسند بزار ، معجم کبیر از امام طبرانی ، دلائل النبوۃ از امام بیہقی میں ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج شریف کے سفر میں ان مقامات پر نماز اداء فرمائی۔
1=مدینہ منورہ کے مقام پر جس کو آپ کی ہجرت گاہ بننے کا شرف حاصل ہونا تھا ۔
2=مدین میں اس درخت کے پاس جس کے نیچے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں کے جانوروں کو پانی پلانے کے بعد آرام کیا تھا
3=طور سیناء میں اس مقام پر جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا تھا۔
4 =بیت لحم کے مقام پر جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی۔
من الآيات التى رآها النبى ﷺ فى ليلة الإسراء ما رواه البزار والطبرانى والبيهقى وصححه فى كتابه «دلائل النبوة» من حديث شداد ابن أوس أن النبى ﷺ لما أسرى به مرَّ بأرض ذات نخل، فأمره جبريل أن ينزل من فوق البراق ليصلى، فصلى ثم أخبره أن المكان الذى صلى فيه هو يثرب أو طيبة، وإليها المهاجر، ثم أمره أن يصلى عندما مر بمدين عند شجرة موسى، وهى التى استظل بها بعد أن سقى الغنم للمرأتين قبل أن يلتقى بأبيهما-كما قال بعض الشراح -ولما مر الركب بطور سيناء أمره أن يصلى أيضا، وذلك حيث كلم الله موسى، وعند المرور ببيت لحم صلى أيضا، وذلك حيث ولد عيسى ابن مريم.
هذا هو ما ورد بطريق صحيح كما ذكره البيهقى
المفتي
عطية صقر.
مايو ١٩٩٧