20/07/2026
میرا یہ ماننا نہیں کہ اگر کوئی طالبِ علم ناکام ہو جائے تو اس کا سارا قصور صرف اسی کا ہوتا ہے۔ ایک استاد اور ماں باپ کی توجہ، محنت، محبت اور درست رہنمائی نالائق سے نالائق بچے کو بھی قابل بنا سکتی ہے۔
میں اکثر یہی کہتی ہوں کہ ایک استاد کو ماں جیسا ہونا چاہیے۔ جس طرح جب بچہ روتا ہے تو ماں پہلے اسے لوری دے کر چپ کرانے کی کوشش کرتی ہے، اگر پھر بھی نہ مانے تو اسے پیار سے بہلاتی ہے، دلاسہ دیتی ہے، اس کا حوصلہ بڑھاتی ہے اور ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ وہ چپ ہو جائے۔
بالکل اسی طرح اگر کوئی طالبِ علم پڑھنے میں کمزور ہو تو استاد کو چاہیے کہ اسے ڈانٹنے یا مایوس کرنے کے بجائے محبت سے پڑھائے، حوصلہ دے، اس کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو بھی سراہا جائے، اس کی تعریف کی جائے اور اس کے دل و دماغ میں یہ یقین پیدا کیا جائے کہ تم نالائق نہیں ہو، تم بھی کامیاب ہو سکتے ہو۔
یقین کریں، چاہے طالبِ علم کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو، اگر اسے ایک مخلص استاد کی محنت، محبت، وقت، رہنمائی اور اعتماد مل جائے تو وہ ضرور آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا۔ ایک استاد کی محنت اور خلوص ایک طالبِ علم کی زندگی کا رخ بدل سکتے ہیں۔ وہ اسے کہاں سے کہاں پہنچا سکتا ہے، اس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔
ہر بچے میں صلاحیت ہوتی ہے، ضرورت صرف ایک ایسے استاد کی ہوتی ہے جو اس صلاحیت پر یقین رکھے۔
مس فوزیہ صدیق
https://darulahsaan.com/