15/04/2026
زبیر بلوچ کی جبری گمشدگی ناقابلِ برداشت عمل ہے، جبکہ بلوچ طالب علموں کی بڑھتی ہوئی جبری گمشدگیاں بلوچ طلباء و طالبات کو دانستہ بنیاد پر تعلیم سے محروم رکھنے کی ایک منظم کوشش ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب ڈیرہ غازی خان سے بلوچ طالب علم زبیر بلوچ کی جبری گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اسے بلوچ طلباء کے خلاف جاری ظلم، ناانصافی اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا تسلسل قرار دیتی ہے۔
گزشتہ کئی مہینوں سے ڈیرہ غازی خان میں بلوچ طلباء کو مسلسل جبری گمشدگیوں اور ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ حقیقت بنتی جا رہی ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو صرف ان کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، گویا بلوچ ہونا ہی ایک جرم بنا دیا گیا ہو۔
اسی ظلم کی ایک اور دردناک کڑی زبیر بلوچ کی جبری گمشدگی ہے۔ گزشتہ رات تقریباً دو بجے بھٹہ کالونی، ڈیرہ غازی خان میں ان کے گھر پر دھاوا بول کر انہیں ریاستی اہلکاروں نے زبردستی اٹھا لیا۔ اس دوران ان کے اہلِ خانہ نے مزاحمت کی تو انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک تعلیم یافتہ نوجوان کو اس طرح گھر کی دہلیز سے اٹھا لینا نہ صرف ایک خاندان کے لیے اذیت ناک لمحہ ہے بلکہ یہ ریاستی جبر اور انسانی وقار کی کھلی توہین بھی ہے۔
زبیر بلوچ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ وہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبۂ پولیٹیکل سائنس سے ایم فل مکمل کر چکے ہیں، جبکہ آج ان کی جبری گمشدگی نہ صرف ان کے خاندان بلکہ بلوچ طلباء کے لیے شدید اضطراب، خوف اور بے چینی کا سبب بنی ہوئی ہے۔ یہ ایک تلخ اور ناقابلِ برداشت حقیقت ہے کہ بلوچ نوجوان، چاہے وہ کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتے ہوں، مسلسل جبری گمشدگیوں کا شکار بنائے جا رہے ہیں اور ان کے خاندان اذیت، کرب اور بے یقینی کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب مطالبہ کرتی ہے کہ زبیر بلوچ کو فوری طور پر باحفاظت بازیاب کیا جائے اور ان کے اہلِ خانہ کی بے چینی اور تکلیف کا فوری ازالہ کیا جائے۔ آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب تمام انسان دوست حلقوں، بلوچ عوام، طلباء اور باشعور طبقات سے اپیل کرتی ہے کہ زبیر بلوچ کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں اور اس ظلم کے خلاف متحد ہو کر ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑے ہوں۔