25/06/2026
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حارث بن ہشام کی جانب یہ پیغام ارسال فرمایا:
کل یومِ عاشورہ ہے، لہٰذا تم (خود بھی) روزہ رکھو اور اپنے اہلِ خانہ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دو۔
موطأ (امام مالک)
https://www.facebook.com/darululoomOfficial
www.darululoomfaisalabad.com
24/06/2026
یومِ عاشورہ: فضائل، احکام اور خصوصیات
یہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے۔ (مسلم: 1126)
نبی کریم ﷺ اس دن کا روزہ رکھنے کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ (بخاری: 2006)
عاشورہ کا دن (محرم کا) دسواں دن ہے۔ (ترمذی: 755)
یہ وہ دن ہے جس میں موسیٰ علیہ السلام فرعون پر غالب آئے۔ (بخاری: 4680)
اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام نے (اللہ کا) شکر ادا کرنے کے لیے اس دن کا روزہ رکھا۔ (بخاری: 2004)
عہدِ نبوت میں بچے بھی اس دن کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ (مسلم: 1126)
کفارِ قریش بھی زمانۂ جاہلیت میں اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔ (مسلم: 1162)
اس دن کا روزہ پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ (بخاری: 1162)
یہ ایک نیک (اور بابرکت) دن ہے۔ (بخاری: 2004)
یہ ایک عظمت والا دن ہے۔ (بخاری: 3396)
اسلاف (صحابہ و تابعین) کی ایک جماعت دورانِ سفر بھی اس کا روزہ رکھتی تھی۔ (لطائف المعارف لابن رجب: 99/1)
یومِ عاشورہ کو کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا تھا۔ (بخاری: 1592)
عاشورہ کے روزے میں ایک دن پہلے کا روزہ ملا کر یہودیوں کی مخالفت کی جائے۔ (مسلم: 1134)
www.darululoomfaisalabad.com https://www.facebook.com/darululoomOfficial
23/06/2026
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب لباس (حِبرہ) روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن حسان بن ثابت روتے ہوئے اپنے والد کے پاس آئے، اس وقت وہ ایک کم سن بچے تھے۔ والد نے دریافت کیا: "کس چیز نے تمہیں رلایا؟" بچے نے جواب دیا: "مجھے ایک ایسے پرندے (کیڑے) نے ڈنک مارا ہے جو گویا 'حِبرہ' کی چادروں میں لپٹا ہوا تھا۔" (کتاب: «حياة الحيوان»)
اور حِبَرَة: یمن کی دھاری دار چادروں کی ایک قسم ہے، جو مختلف رنگوں سے آراستہ ہوتی ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کے محبوب ترین ملبوسات میں سے تھی، اور آج بھی جزیرہ نما عرب کے جنوبی قبائل میں زیب تن کی جاتی ہے۔
شرح : بچے نے اپنی معصومیت میں پیلے اور کالے رنگ کی دھاریوں والے بھڑ کو ایک ایسا پرندہ سمجھا جس نے یمنی چادر (حبرہ) اوڑھ رکھی ہو۔
19/06/2026
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سعید بن العاص (رضی اللہ عنہ) بردبار اور سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے۔ جب وہ کسی چیز سے محبت کرتے یا اس سے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے، تو (اپنی زبان سے) اس کا تذکرہ نہیں کرتے تھے، اور فرمایا کرتے تھے: 'دل بدلتے رہتے ہیں، لہٰذا انسان کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ آج کسی کی تعریفیں کرے اور کل کو اس کی برائیاں بیان کرنے لگے۔
حوالہ:
[الإصابة في تمييز الصحابة (3/92)]