MAJLIS RAIPURI

MAJLIS RAIPURI

Share

Majlis Raipuri is to spread spiritual thoughts of Great Sofia Bazurgh Hazrat Shah Abdul Qadir Raipuri ( R.A)

21/01/2017

*اللہ سے بات منوانے کا آسان طریقہ*
____________________________________

میں نے ایک سفید ریش بزرگ سے ایک سوال پوچھا
’’اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
‘‘ وہ مسکرائے‘ قبلہ رو ہوئے‘ پاؤں لپیٹے‘ رانیں تہہ کیں‘ اپنے جسم کا سارا بوجھ رانوں پر شفٹ کیا اور مجھ سے پوچھا
’’تمہیں اللہ سے کیا چاہیے؟‘‘
ہم دونوں اس وقت جنگل میں بیٹھے تھے‘ حبس اور گرمی کا موسم تھا‘ سانس تک لینا مشکل تھا‘ میں نے اوپر دیکھا‘ اوپر درختوں کے پتے تھے اور پتوں سے پرے گرم‘ پگھلتا ہوا سورج تھا‘ میں نے مسکرا کر عرض کیا
’’ اگر بادل آ جائیں‘ ذرا سی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں تو موسم اچھا ہو جائے گا‘‘
وہ ہنسے اور آہستہ سے بولے ’’لو دیکھو‘‘ وہ اس کے بعد بیٹھے بیٹھے رکوع میں جھکے اور پنجابی زبان میں دعا کرنے لگے
’’اللہ جی! کاکے کی دعا قبول کر لے‘ اللہ جی! ہماری سن لے‘‘ وہ دعا کرتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے‘ پہلے ان کی پلکیں گیلی ہوئیں‘ پھر ان کے منہ سے سسکیوں کی آوازیں آئیں اور پھر ان کی آنکھیں چھم چھم برسنے لگیں‘ وہ بری طرح رو رہے تھے۔
میں ان کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا‘ میں نے زندگی میں بے شمار لوگوں کو روتے دیکھا لیکن ان کا رونا عجیب تھا.
وہ ایک خاص ردھم میں رو رہے تھے‘ منہ سے سسکی نکلتی تھی‘ پھر آنکھیں برستیں تھیں اور پھر ’’اللہ جی! ہماری سن لے‘‘ کا راگ الاپ بنتا تھا.
میں پریشانی‘ استعجاب اور خوف کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ انھیں دیکھ رہا تھا‘ وہ دعا کرتے جاتے تھے‘ روتے جاتے تھے اور سسکیاں بھرتے جاتے تھے‘ میں نے پھر وہاں ایک عجیب منظر دیکھا.
مجھے ہوا ٹھنڈی ہوتی ہوئی محسوس ہوئی‘ آسمان پر اسی طرح گرم سورج چمک رہا تھا لیکن جنگل کی ہوا میں خنکی بڑھتی جا رہی تھی‘ میری پیشانی‘ سر اور گردن کا پسینہ خشک ہو گیا‘ میرے سینے اور کمر پر رینگتے ہوئے قطرے بھی غائب ہو گئے‘ میں ٹھنڈی ہوا کو محسوس کر رہا تھا اور حیران ہو رہا تھا‘ میرے دیکھتے ہی دیکھتے پتوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں‘ شاخیں ایک دوسرے کے ساتھ الجھنے لگیں‘ پودے ہوا کی موسیقی پر ناچنے لگے اور پھر بادل کا ایک ٹکڑا کہیں سے آیا اور سورج اور ہمارے سر کے درمیان تن کر ٹھہر گیا‘ وہ رکے‘ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور شکر ادا کرنے لگے۔
وہ دیر تک ’’اللہ جی!
آپ کا بہت شکر ہے‘ اللہ جی! آپ کی بہت مہربانی ہے‘‘ کہتے رہے‘ وہ دعا سے فارغ ہوئے‘ ذرا سا اوپر اٹھے‘ ٹانگیں سیدھی کیں اور منہ میری طرف کر کے بیٹھ گئے‘ ان کی سفید داڑھی آنسوؤں سے تر تھی‘ انھوں نے کندھے سے رومال اتارا‘ داڑھی خشک کی اور پھر بولے ’’ دیکھ لو! اللہ نے اپنے دونوں بندوں کی بات مان لی‘‘
میں نے ان کا ہاتھ پکڑا‘ چوما اور پھر عرض کیا ’’باباجی لیکن اللہ سے بات منوانے کا فارمولہ کیا ہے‘ اللہ کب‘ کیسے اور کیا کیا مانتا ہے؟
‘‘ وہ مسکرائے‘ شہادت کی دونوں انگلیاں آنکھوں پر رکھیں اور پھر بولے
’’ یہ دو آنکھیں فارمولہ ہیں‘‘
میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے ’’میں نے یہ فارمولہ اپنی ماں سے سیکھا‘ میں بچپن میں جب بھی اپنی سے کوئی بات منوانا چاہتا تھا تو میں رونے لگتا تھا‘ ماں سے میرا رونا برداشت نہیں ہوتا تھا‘ وہ تڑپ اٹھتی تھی‘ وہ مجھے گود میں بھی اٹھا لیتی تھی‘ مجھے چومتی بھی تھی‘ میری آنکھیں بھی صاف کرتی تھی اور میری خواہش‘ میری ضرورت بھی پوری کرتی تھی۔
میں ماں کی اس کمزوری کا جی بھر کر فائدہ اٹھاتا تھا‘ میں رو رو کر اس سے اپنی پسند کے کھانے بھی بنواتا تھا‘ اس سے نئے کپڑے اور نئے جوتے بھی لیتا تھا اور کھیلنے کے لیے گھر سے باہر بھی جاتا تھا‘‘
وہ رکے اور پھر آہستہ سے بولے ’’میں نے جب مولوی صاحب سے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا تو مولوی صاحب نے ایک دن فرمایا
’’ اللہ تعالیٰ انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے‘
یہ فقرہ سیدھا میرے دل میں لگا اور میں نے سوچا‘
میں رو کر اپنی ایک ماں سے سب کچھ منوا لیتا ہوں‘
اللہ اگر مجھ سے ستر ماؤں جتنی محبت کرتا ہے تو پھر میں رو رو کر اس سے کیا کیا نہیں منوا سکتا‘‘ وہ رکے اور بولے
’’ بس وہ دن ہے اور آج کا دن ہے‘ میں روتا ہوں‘ اللہ کی ذات میں ستر ماؤں کی محبت جگاتا ہوں اور میری ہر خواہش‘ میری ہر دعا قبول ہو جاتی هے.

15/09/2016

اسلام علیکم
ﷲ کے فضل وکرم اور خاص عنائیت سے ہر سال لاکھوں فرزندان توحید حج کی سعادت حاصل کرنے جاتے ہیں۔ یہ حجاج کرام اس پاک سرزمین پر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنے جاتے ہیں۔ اپنی جائز دنیاوی خواہشات کے پورا ہونے کی التجا کرنے جاتے ہیں۔ اور کچھ ﷲ کے خاص بندے اس ذات بابرکات سے اپنا تعلق مزید مظبوط کرنے جاتے ہیں
جب سے حج کا یہ سلسلہ بنا ہے تب سے اب تک بزرگوں اور علمائے کرام نے اس دھرتی پر جانے اور رہنے کے کچھ آداب بیان کیئے ہیں۔ جس میں سے سب سے بڑھ کر عاجزی ہے یعنی بندہ اس جگہ رہے تو اپنے آپ کو مٹا کر رہے۔ کوئی ایسا کام نہ کرے جس میں اس مٹی کے پتلے اور اس گندے نطفے کی پیداوار کے لیئے تفاخر کی جھلک بھی نظر آئے۔ کہ وہ ذات عالیشان ہے او۔ صرف وہی ذات ہر قسم کا فخر کرنے کے لائق ہے۔
مگر اس سال کا حج کچھ عجیب ڈھنگ سے آیا ہے۔ میرے کافی سارے احباب بھی امسال حج کی سعادت حاصل کرنے تشریف لے جا چکے ہیں۔ مگر افسوس صد افسوس! کہ میرے حاجی بھائی اپنا فخر ظاہر کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ کوئی بھائی بڑے بڑے ہوٹلوں کا اسٹیٹس لگانے پر لگا ہوا ہے تو کوئی مکہ مدینہ کے مہنگے ریسٹورینٹس کی لوکیشن ظاہر کرہا ہے۔ ایک بہت بڑی بیماری موبائل کیمرہ کی صورت میں آچکی ہے۔ ہر جگہ کی تصاویر لے کر اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا فرض عین سمجھا جاتا ہے۔ خودنمائی کا سب سے بڑا تمغہ سیلفی کی صورت میں لگایا جاتا ہے۔ حرمین شریفین میں پوز بنا بنا کر تصویریں کھینچ کر لگائی جاتی ہیں۔ پوز بنا بنا کر تصویریں کھینچی جاتی ہیں۔ دعا مانگتے احرام باندھے حجر اسود ملتزم پر سیلفیاں لی جاتی ہیں۔ حج کے ان پانچ دنوں مں بس کے سفر سے لے کر منی کے خیموں تک اور عرفات کے میدان سے لے کر جمرات ( شیطان) کی رمی تک کی تصاویر لگائی جارہی ہیں۔ کیا ہمیں اپنے اندر کے شیطان پر اعتبار نہیں کہ اس شیطان کی علامت کے ساتھ سیلفیاں لے رہے ہو؟ آخر کار ہم ظاہر کیا کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ہی ہیں جو حج کے لیئے منتخب ہوئے ہیں؟ یا یہ کہ عزیزواقارب کو یقین نہیں کہ یہ حج پر گیا ھے؟ کیا زیادہ پڑھ لکھ لیا ہے کہ سوشل میڈیا پر اسٹیٹس لگائے بغیر حج قبول نہ ہوگا؟
ہم نے جہاں تک پڑھا ہے کہ ﷲ کو عاجزی پسند ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میرا بندہ عاجزو نادم ہو کر میرے سامنے پیش ہو۔ اپنا آپ مٹا کر ہی اس ذات کے سامنے پیش ہونے کا مزہ ہے۔ مفتیان کرام نے متفقہ علیہ فتوی دیا ہے کہ خانہ کعبہ کے سامنے سیلفی لینا شرک اصغر ہے۔ کہ انسان سیلفی لے کر اپنی بڑائی پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے جو سراسر غلط ہے۔ ویسے بھی کعبہ کی طرف پشت کرنا علماکے نزدیک گناہ ہے ۔
ﷲ کے بندو عمرہ وحج تفریح کی جگہ نہیں بلکہ اپنی دنیا وآخرت سنوارنے کیلیئے درخواست پیش کرنے کا نہائیت مجرب نسخہ ہے۔ اس نسخہ کو اسی لیئے استعمال کرو۔ ورتہ ہم لوگ بھی ان میں سے ہو جائیں گے کہ حدیث پاک کے مفہوم کے مطابق قرب قیامت میں لوگ حرمین میں سیروتفریح کیلیئے آئیں گے۔ اور ہمارا موجودہ عمل یہ سب کچھ ثابت کررہ ہے
ﷲ کریم کہنے سننے سے زیادہ عمل کی توفیق دے آمین

بقلم محمد شفیق شیخ

08/09/2016

’’تصویر کا ایک رخ تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی میں یہ کمزوریاں اور عیوب تھے، اس کے نقوش میں توازن نہ تھا۔ قد و قامت میں تناسب نہ تھا، اخلاق کا جنازہ تھا، کردار کی موت تھا۔ جھوٹ اس کا شیوہ تھا۔ معاملات کا درست نہ تھا۔ بات کا پکا نہ تھا۔ بزدل اور کمزور تھا۔ مسلک کا ٹوڈی تھا۔ تقریر و تحریر ایسی ہے کہ پڑھ کر متلی ہونے لگتی ہے لیکن میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر اس میں کوئی کمزوری نہ بھی ہوتی۔ وہ مجسمہ حسن و جمال ہوتا، قویٰ میں تناسب ہوتا، چھاتی 45 انچ ہوتی، کمر ایسی کہ سی آئی کو بھی پتہ نہ چلتا، بہادر بھی ہوتا، مرد میدان ہوتا، کردار کا آفتاب ہوتا، خاندان کا مہتاب ہوتا، شاعری میں فردوسی وقت ہوتا، ابوالفضل اور فیضی اس کا پانی بھرتے، خیام اس کی چاکری کرتا، غالب اس کا وظیفہ خوار ہوتا، انگریزی کا شیکسپئر ہوتا اور اردو کا ابوالکلام ہوتا، پھر نبوت کا دعویٰ کرتا تو کیا ہم اسے نبی مان لیتے؟؟؟

میں تو کہتا ہوں کہ خواجہ غریب نواز اجمیریؒ، شیخ سید عبدالقادر جیلانیؒ، امام ابو حنیفہؒ، امام بخاریؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، ابن تیمیہ، امام غزالی ؒ یا حسن بصریؒ بھی نبوت کا دعویٰ کرتے تو کیا ہم انھیں نبی مان لیتے؟ اگر علیؓ دعویٰ کرتے کہ جسے تلوار حق نے اور بیٹی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی، سیدنا ابوبکر صدیقؓ، عمر فاروق اعظمؓ اور سیدنا عثمان غنی ؓ بھی دعویٰ کرتے تو کیا بخاری انھیں نبی مان لیتا؟ ہرگز نہیں، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کائنات میں کوئی انسان ایسا نہیں جو تخت نبوت پر سج سکے اور تاج امامت و رسالت جس کے سر پر ناز کر سکے، وہ ایک ہی ہے جس کے دم قدم سے کائنات میں نبوت سرفراز ہوئی۔‘‘

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ۔
💓

Photos 01/11/2015
Mobile uploads 14/10/2015
Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


MADINAH TOWN
Faisalabad
38000