27/12/2025
عشقِ کسر
کِسی سفر کی طرح ہے محبوب سےجُدائی،
جہاں دِل کی دھڑکنیں،
نمازِ کَسر سی ادھوری ہو جاتی ہیں
چار رکعت کی جگہ دو،
جیسے اللہ کی رحمت میں ہو کَسرکی گنجائش
عاشق کا سانس ہوا آدھا
کبھی کبھی تو ہچکی میں رک جائے
پوری سانس کی اب ہمت کہاں
جیسے جدائی نے کسر واجب کر دی ہو
رشتے جو کبھی مکمل تھے
اب ناطے کی زنجیر ٹوٹ پھوٹ
خواہشیں ۔۔۔ جو اُدھوری ہیں
خواب ۔۔۔ نیم وا ہی رہ گئے
جیسے نماز میں کوئی قعدہ بھول جائے
فرض کفایہ سا ہے اب یہ جینا
نبھانا تو ہے
مگر آدھے دل سے
جیسے عشق کے ارکان سے کچھ منہا ہو جائے
کوئی رکوع کم...
جیسے سجدہ ادھورا رہ جائے
دل کی اذان خاموش ہو جائے
اور یادِ محبوب میں کسر کی نماز
یہ سفر ہے کہ ختم ہی نا ہو
بس ادھورا سا رہ جاتا ہے۔۔۔
سب کچھ۔۔۔۔ ھاں ! سب کُچھ
یہ کَسر نہیں
رحمت ہے شاید
کہ دل ٹوٹ بھی جائے۔۔۔۔ تو چلتا رہے
عاشق اُمید رکھتا ہے
کہ عشق کی اس ادھوری عبادت میں
کریم اللہ کی طرح،
یہ بھی بخش دے گا۔
(زیب٘ جاوید٘)
Check out Aurang Zaib Shami’s video.