/
کی تیاری_کیسے_کریں
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ہیڈ ماسٹر سکیل 17 جابز PPSC کے ذریعے بہت جلد متوقع ہیں۔
ہیڈماسٹر کیلئے کسی بھی مضمون میں ماسٹر/BS کے ساتھ بی ایڈ/ایم ایڈ/ایم اے ایجوکیشن میں سے کوئی ایک لازمی ہے۔
(جب کہ ایم اے ایجوکیشن والوں کو الگ سے بی ایڈ کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ بطور اکیڈمک اور پروفیشنل ڈگری مانی جاتی ہے)
#سلیبس:
80 نمبر بی ایڈ پورشن جبکہ 20 نمبر جنرل نالج
(English history,GSA,CSUrdu,isl pakaffairs)
جو requirements اشتہار میں Mention ہوتی ہیں وہ اپلائی کرنے کی آخری تاریخ تک آپ کے پاس ہونی چاہیئے.
بی ایڈ کی کتابیں پڑھیں اور اہم پوائینٹس نوٹ کریں, یوٹیوب سے لیکچر لیں، گوگل سے مختلف ویب سائٹس سے Mcqs حل کرنے کی پریکٹس کریں،
Join Our Online Preparation Session for conceptual study
مارکیٹ سے نیچے دی گئی بُکس میں سے کوئی بُک خریدیں اور ان سے بھی Mcqs حل کرنے کی پریکٹس کریں۔
1. Qualify Guide Headmaster By Pervaiz iqbal
2. Persona Education By Pervaiz iqbal
3.Zone of education
Learning Dose
We are living in 21st century. We are going to prepare students for environment which is outside the class. Our students are our future.
lets bring the environment in class or take the students in envirement to prepare them for 21st Century.
21/06/2022
We are Hiring competent and motivated staff.
If you are competent then come and join us for demo and interview.
Ph # 041- 8811944
WhatsApp # 0322- 8811944
Email: [email protected]
Address: The Educators Prime Campus II Samana pull Sargodha road Faisalabad Opposite The University of Faisalabad.
Pre School Section Head Required
Requirements:
》Masters degree along with the Montessori Diploma
》Relevant Work experience
》Good Command on English language
Benefits
Attractive Salary package
Best learning environment
*Join us for interview*
The Educators Prime Campus II Samana pull Sargodha road Faisalabad Opposite The University of Faisalabad
Contact details
Cell: 0322-8811944
Email: [email protected]
گرمیوں کی سبزیاں لگانے کا موسم:
15 فروری سے گرمیوں کی سبزیاں لگانے کا صحیح موسم
شروع ہو جاتا ہے
موسم گرما کی سبزیاں
جن کی پنیری لگائی جاتی ہے
اور بعد میں علحیدہ علحیدہ پودے لگائے جاتے ہیں:-
(1) ٹماٹر 🍅
(2) ہری مرچ 🌶️
(3) شملہ مرچ🫑
(4) بینگن🍆
موسم گرما کی سبزیاں:
جن کے بیج، پنیری کے بغیر ڈائرکٹ لگائے جاتے ہیں
(1) کھیرا🥒
(2) گھیا توری
(3) کالی توری
(4) کدو 🍈
(5) پیٹھا 🍈
(6) ٹینڈا🫒
(7) تر
(8) کریلا
(9) سبز پھلیاں
(10) لوبیا سفید
(11)لوبیا سرخ
(12) پودینہ
بیج
ہر بیج کو لگانے کا طریقہ الگ ہے.
موٹے بیج لگانے سے پہلے، رات بھر پانی میں بھگو کر لگائیں۔
اور انکو مٹی میں ایک انچ گہرا لگائیں۔
باریک بیجوں کو صرف مٹی کی سطح پر رکھکر اوپر سے کوکوپیٹ / مٹی سے سے ڈھانپ دیں۔
پانی کا ہلکا شاور کر دیں۔
بیج لگانے سے پہلے گملے یا زمین کی مٹی میں اچھی طرح پانی دیدیں۔
جن بیجوں کے چھلکے سخت ہیں۔ جیسے...
بادام آڑو خوبانی آلوبخارہ وغیرہ۔ انکو توڑ کر گری نکال کر لگائیں۔
کُچھ بیجوں کو اُبلتے پانی میں بھگو کر لگائیں۔
الائیچی/کالی مرچ/ بڑی الائیچی۔ وغیرہ۔
جس مٹی میں بیج لگائیں وہ بہت نرم ہو اور اس میں پانی کا نکاس اچھا ہو۔
بیجوں کو انفرادی طور پر الگ الگ لگائیں۔
جب کوئی بیج یا قلم لگاتے ہیں تو لگانے کے بعد اسے شاور سے پانی دیں اور گملے کو پولی تھین شیٹ سے کور کر دیں کیونکہ جتنی زیادہ ہیٹ heat ملی گی اتنی جلدی نئے پتے نکلیں گے اور تب تک کور رکھیں جب تک نئے پتے نا نکل آئیں ان میں ایک دو سوراخ کرلیں ان سوراخ سے آپ پانی دے سکتے ہیں.
زیادہ پانی نہ دیں جب ایک انچ تک مٹی خشک ہو جاے تب پانی دیں.
بیج لگانے کے بعد گوڈی نا کریں....
منقول
کل ایک دوست نے استفسار کیا کہ ہم مذہبی مواعظ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی سنتوں کا ذکر تو کثرت سے سنتے ہیں جو ’’رسومی’’ (ritualistic) ہیں، جیسے دائیں ہاتھ سے کھانا، مسواک اور خاص لباس پہننا وغیرہ، لیکن ایسی سنتوں کا ذکر عموماً نہیں سنتے جو کرداری (behavioral) ہیں۔ میں نے ان کو تو نہیں بتایا، لیکن دل میں سوچا کہ ہمیں وہی سنتیں بیان کرنا سوٹ کرتا ہے جو ہم کر کے دکھا سکیں۔ جو کر کے دکھانی مشکل ہوں، وہ ہم بیان بھی نہیں کرتے۔
تو آئیے، کچھ کرداری سنتوں کی یاد تازہ کر لیتے ہیں۔ ممکن ہے، ان میں سے کچھ پر عمل کی توفیق بھی مل جائے۔ آمین
1۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ آپ بچوں کو سلام کرنے میں پہل فرماتے تھے اور ان کے ساتھ بالکل بچوں جیسا بن کر کھیل اور ہنسی مزاح فرماتے تھے۔
2۔ آپ اپنی بیویوں کو یا خادموں کو نہ تو مارتے تھے اور نہ جھڑکتے تھے۔ فرماتے تھے کہ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کا برتاو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہو۔
3۔ آپ کبھی کسی کھانے کی چیز میں عیب نہیں نکالتے تھے۔ چیز پسند ہوتی تو کھا لیتے تھے، ورنہ خاموشی سے ہاتھ کھینچ لیتے تھے۔
4۔ آپ کسی کے ساتھ سخت کلامی یا بیہودہ گوئی نہیں فرماتے تھے۔ فرماتے تھے کہ جس کی بدکلامی کی وجہ سے لوگ اس سے گریز کریں، وہ اللہ کی نظر میں بدترین شخص ہے۔
5۔ قرض یا کسی چیز کی قیمت ادا کرتے ہوئے آپ واجب الادا رقم سے زیادہ ادا فرماتے تھے۔
6۔ آپ اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیتے تھے۔
7۔ مجلس میں لوگوں سے نمایاں ہو کر تشریف نہیں رکھتے تھے اور نہ اپنے آنے پر لوگوں کے کھڑا ہونے کو پسند فرماتے تھے۔
8۔ اگر مجلس میں بڑے اور چھوٹے دونوں موجود ہوں اور کوئی چیز تقسیم کرنے میں پہلا حق چھوٹوں کا بنتا ہو تو ان سے اجازت لیے بغیر بڑوں سے ابتدا نہیں فرماتے تھے۔
9۔ کوئی صاحب حق سخت کلامی کرتا تو اس پر بالکل برا نہیں مناتے تھے۔ فرماتے تھے کہ حقدار کو سخت بات کہنے کا حق ہوتا ہے۔
10۔ ہمیشہ مسکرا کر ملاقات فرماتے اورمخاطب کی طرف پوری طرح مڑ کر اور پوری توجہ سے گفتگو فرماتے تھے۔
11۔ کوئی بھی غریب یا بے حیثیت شخص آپ سے جب بھی اور مدینے کی جس گلی میں بھی روک کر بات کرنا چاہتا، آپ اس کی بات سنتے تھے اور کبھی خود اس سے رخصت نہیں چاہتے تھے، بلکہ جب وہ چاہتا، تبھی رخصت ہوتے تھے۔
12۔ خطبہ مختصر اور جامع دیتے تھے، دوران خطبہ میں ہاتھوں کو بہت زیادہ حرکت نہیں دیتے تھے اور دعا میں مسجع کلام اور پرتکلف انداز اختیار نہیں فرماتے تھے۔
13۔ اس کو سخت ناپسند فرماتے تھے کہ آپ کے سامنے آپ کے ساتھیوں کی غلطیاں اور عیوب بیان کیے جائیں۔ فرماتے تھے کہ میرے دل کو میرے ساتھیوں کی طرف سے صاف رہنے دیا کرو۔
منقول
Copied
"" "" "" جنات کا سائنسی تجزیہ"" "" ""
ایک سائنسدان کے قلم سے۔۔۔۔
بہت دلچسپ۔۔۔ضرور پڑھیں
جنات اللہ کی مخلوق ہیں یہ ہمارا یقین ہے ،
وہ آگ سے پیدا کیے گئے ،
ان میں شیاطین و نیک صفت دونوں موجود ہیں
اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے یہ تھریڈ اس بارے میں نہیں ہے ۔
یہ تھریڈ جنات کی سائینٹیفیک تشریح کے بارے میں ہے ۔
کیا وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہیں ؟
اور زیادہ اہم سوال یہ کہ ہم انہیں دیکھ کیوں نہیں سکتے ؟
لفظ جن کا ماخذ ہے ‘‘نظر نہ آنے والی چیز’’ اور اسی سے جنت یا جنین جیسے الفاظ بھی وجود میں آئے ۔
جنات آخر نظر کیوں نہیں آتے ؟
اس کی دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں ۔
پہلی وجہ یہ کہ انسان کا ویژن بہت محدود ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس کائینات میں جو (electromagnetic spectrum)
بنایا ہے اس کے تحت روشنی 19 اقسام کی ہے ۔
جس میں سے ہم صرف ایک قسم کی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو سات رنگوں پر مشتمل ہے ۔
میں آپ کو چند مشہور اقسام کی روشنیوں کے بارے میں مختصراً بتاتا ہوں ۔
اگر آپ gamma-vision میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو آپ کو دنیا میں موجود ریڈی ایشن نظر آنا شروع ہو جائے گا ۔
اگر آپ مشہور روشنی x-ray vision میں دیکھنے کے قابل ہوں تو آپ کے لیے موٹی سے موٹی دیواروں کے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی ۔
اگر آپ infrared-vision میں دیکھنا شروع کر دیں تو آپ کو مختلف اجسام سے نکلنے والی حرارت نظر آئے گی ۔
روشنی کی ایک اور قسم کو دیکھنے کی صلاحیت ultraviolet-vision کی ہو گی جو آپ کو اینرجی دیکھنے کے قابل بنا دے گا ۔
اس کے علاوہ microwave-vision اور radio wave-vision جیسی کل ملا کر 19 قسم کی روشنیوں میں دیکھنے کی صلاحیت سوپر پاور محسوس ہونے لگتی ہے ۔
کائینات میں پائی جانی والی تمام چیزوں کو اگر ایک میٹر کے اندر سمو دیا جائے تو انسانی آنکھ صرف 300 نینو میٹر کے اندر موجود چیزوں کو دیکھ پائے گی ۔
جس کا آسان الفاظ میں مطلب ہے کہ ہم کل کائینات کا صرف % 0.0000003 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔
انسانی آنکھ کو دکھائی دینے والی روشنی visible light کہلاتی ہے اور یہ الٹرا وائیلٹ اور انفراریڈ کے درمیان پایا جانے والا بہت چھوٹا سا حصہ ہے ۔
ہماری ہی دنیا میں ایسی مخلوقات موجود ہیں جن کا visual-spectrum ہم سے مختلف ہے ۔
سانپ وہ جانور ہے جو انفراریڈ میں دیکھ سکتا ہے
ایسے ہی شہد کی مکھی الٹراوائیلٹ میں دیکھ سکتی ہے ۔
دنیا میں سب سے زیادہ رنگ مینٹس شرمپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے ،
الو کو رات کے گھپ اندھیرے میں بھی ویسے رنگ نظر آتے ہیں جیسے انسان کو دن میں ۔
امیرکن کُک نامی پرندہ ایک ہی وقت میں 180 ڈگری کا منظر دیکھ سکتا ہے ۔
جبکہ گھریلو بکری 320 ڈگری تک کا ویو دیکھ سکتی ہے ۔
درختوں میں پایا جانے والا گرگٹ ایک ہی وقت میں دو مختلف سمتوں میں دیکھ سکتا ہے
جبکہ افریقہ میں پایا جانے والا prongs نامی ہرن ایک صاف رات میں سیارے saturn کے دائیرے تک دیکھ سکتا ہے ۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انسان کی دیکھنے کی حِس کس قدر محدود ہے اور وہ اکثر ان چیزوں کو نہیں دیکھ پاتا جو جانور دیکھتے ہیں ۔
ترمذی شریف کی حدیث نمبر 3459 کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ
جب تم مرغ کی آواز سنو تو اس سے اللہ کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب فرشتے کو دیکھتا ہے.........
اور جب گدھے کی رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیوں کہ اس وقت وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔
جب میں نے مرغ کی آنکھ کی ساخت پر تحقیق کی تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مرغ کی آنکھ انسانی آنکھ سے دو باتوں میں بہت بہتر ہے ۔
پہلی بات کہ جہاں انسانی آنکھ میں دو قسم کے light-receptors ہوتے ہیں وہاں مرغ کی آنکھ میں پانچ قسم کے لائیٹ ریسیپٹرز ہیں ۔
اور دوسری چیز fovea جوانتہائی تیزی سے گزر جانے والی کسی چیز کو پہچاننے میں آنکھ کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے مرغ ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہے جو روشنی دیں اور انتہائی تیزی سے حرکت کریں
اور اگر آپ گدھے کی آنکھ پر تحقیق کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اگرچہ رنگوں کو پہچاننے میں گدھے کی آنکھ ہم سے بہتر نہیں ہے لیکن گدھے کی آنکھ میں rods کی ریشو کہیں زیادہ ہے اور اسی وجہ سے گدھا اندھیرے میں درختوں اور سائے کو پہچان لیتا ہے یعنی آسان الفاظ میں گدھے کی آنکھ میں اندھیرے میں اندھیرے کو پہچاننے کی صلاحیت ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔
البتہ انسان کی سننے کی حِس اس کی دیکھنے کی حس سے بہتر ہے اگرچہ دوسرے جانوروں کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے
مثال کے طور پہ نیولے نما جانور بجو کے سننے کی صلاحیت سب سے زیادہ یعنی 16 ہرٹز سے لے کر 45000 ہرٹز تک ہے
اور انسان کی اس سے تقریباً آدھی یعنی 20 ہرٹز سے لے کر 20000 ہرٹز تک ۔
اور شاید اسی لیے جو لوگ جنات کے ساتھ ہوئے واقعات رپورٹ کرتے ہیں وہ دیکھنے کے بجائے سرگوشیوں کا زیادہ ذکر کرتے ہیں ۔
ایک سرگوشی کی فریکوئینسی تقریباً 150 ہرٹز ہوتی ہے
اور یہی وہ فریکوئینسی ہے
جس میں انسان کا اپنے ذہن پر کنٹرول ختم ہونا شروع ہوتا ہے ۔
اس کی واضح مثال ASMR تھیراپی ہے
جس میں 100 ہرٹز کی سرگوشیوں سے آپ کے ذہن کو ریلیکس کیا جاتا ہے ۔
اس تھریڈ کے شروع میں ، میں نے جنات کو نہ دیکھ پانے کی دو ممکنہ وجوہات کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک تو میں نے بیان کر دی لیکن
دوسری بیان کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹی سی تھیوری سمجھانا چاہتا ہوں ۔
سنہ 1803 میں ڈالٹن نامی سائینسدان نے ایک تھیوری پیش کی تھی کہ کسی مادے کی سب سے چھوٹی اور نہ نظر آنے والی کوئی اکائی ہو گی اور ڈالٹن نے اس اکائی کو ایٹم کا نام دیا ۔
اس بات کے بعد 100 سال گزرے جب تھامسن نامی سائینسدان نے ایٹم کے گرد مزید چھوٹے ذرات کی نشاندہی کی جنہیں الیکٹرانز کا نام دیا گیا ۔
پھر 7 سال بعد ردرفورڈ نے ایٹم کے نیوکلیئس کا اندازہ لگایا ،
صرف 2 سالبعد بوہر نامی سائینسدان نے بتایا کہ الیکٹرانز ایٹم کے گرد گھومتے ہیں
اور دس سال بعد 1926 میں شورڈنگر نامی سائینسدان نے ایٹم کے اندر بھی مختلف اقسام کی اینرجی کے بادلوں کو دریافت کیا ۔
جو چیز 200 سال پہلے ایک تھیوری تھی ، آج وہ ایک حقیقت ہے ، اور آج ہم سب ایٹم کی ساخت سے واقف ہیں حالانکہ اسے دیکھ پانا آنکھ کے لیے آج بھی ممکن نہیں ۔
ایسی ہی ایک تھیوری 1960 میں پیش کی گئی جسے string theory کہتے ہیں ۔ اس کی ڈیٹیلز بتانے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔
انسان کی حرکت آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، اوپر اور نیچے ہونا ممکن ہے جسےجسے تین ڈائیمینشنز یا 3D کہتے ہیں ۔ ہماری دنیا یا ہمارا عالم انہی تین ڈائیمینشز کے اندر قید ہے ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے ۔
لیکن string theory کے مطابق مزید 11 ڈائیمینشنز موجود ہیں ۔ میں ان گیارہ کی گیارہ ڈائیمینشنز میں ممکن ہو سکنے والی باتیں بتاؤں گا ۔
اگر آپ پہلی ڈائیمینش....
میں ہیں تو آپ آگے اور پیچھے ہی حرکت کر سکیں گے ۔
اگر آپ دوسری ڈائیمینشن....
میں داخل ہو جائیں تو آپ آگے پیچھے اور دائیں بائیں حرکت کر سکیں گے ۔
تیسری ڈائیمینشن .....
میں آپ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہر طرف حرکت کر سکیں گے اور یہی ہماری دنیا یا جسے ہم اپنا عالم کہتے ہیں ، ہے ۔اگر آپ کسی طرح سے
چوتھی ڈائیمینشن....
میں داخل ہو جائیں تو آپ وقت میں بھی حرکت کر سکیں گے ۔
پانچویں ڈائیمینشن.....
میں داخل ہونے پر آپ اس عالم سے نکل کر کسی دوسرے عالم میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ عالم ارواح ۔
چھٹی ڈائیمینشن .....
میں آپ دو یا دو سے زیادہ عالموں میں حرکت کرنے کےقابل ہو جائیں گے اور میرے ذہن میں عالم اسباب کے ساتھ عالم ارواح اور عالم برزخ کا نام آتا ہے ۔
ساتویں ڈائیمینشن....
آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ اس عالم میں بھی جا سکیں گے جو کائینات کی تخلیق سے پہلے یعنی بِگ بینگ سے پہلے کا تھا۔
آٹھویں ڈائیمینشن....
آپ کو تخلیق سے پہلے کے بھی مختلف عالموں میں لیجانے کے قابل ہو گی ۔
نویں ڈائیمینشن....
ایسے عالموں کا سیٹ ہو گا جن میں سے ہر عالم میں فزیکس کے قوانین ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہوں گے ۔ ممکن ہے کہ وہاں کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہو ۔
اور آخری اور دسویں ڈائیمینشن ۔۔۔
اس میں آپ جو بھی تصور کر سکتے ہیں ، جو بھی سوچ سکتے ہیں اور جو بھی آپ کے خیال میں گزر سکتا ہے ، اس ڈائیمینشن میں وہ سب کچھ ممکن ہو گا ۔
اور میری ذاتی رائے کے مطابق جنت ۔۔۔ شاید اس ڈائیمینشن سے بھی ایک درجہ آگے کی جگہ ہے کیوں کہ
حدیث قدسی میں آتا ہے کہ جنت میں میرے بندے کو وہ کچھ میسر ہو گا جس کے بارے میں نہ کبھی کسی آنکھ نےدیکھا ، نہ کبھی کان نے اس کے بارے میں سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال گزرا ۔
اور دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ میرا بندہ وہاں جس چیز کی بھی خواہش کرے گا وہ اس کے سامنے آ موجود ہو گی ۔
بالیقین جنات ، ہم سے اوپر کی ڈائیمینشن کے beings ہیں....
اور یہ وہ دوسری سائینٹیفیک وجہ ہے
جس کی بناء پر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔
ان دس ڈائیمینشنز کے بارے میں جاننے کے بعد آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ
جنات کے بارے میں قرآن ہمیں ایسا کیوں کہتا ہے کہ وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ،
یا پھر عفریت اتنی تیزی سے سفر کیسے کر سکتے ہیں جیسے سورۃ سباء میں ذکر ہےکہ ایک عفریت نے حضرت سلیمانؑ کے سامنے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا دعویٰ کیا تھا ۔
یا پھر کشش ثقل کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوتا اور وہ اڑتے پھرتے ہیں ۔
یا پھر کئی دوسرے سوالات جیسے عالم برزخ ، جہاں روحیں جاتی ہیں ،
یا عالم ارواح جہاں تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح سے عہد لیاتھا کہ تم کسی اور کی عبادت نہیں کرو گے اور سب نے ہوش میں اقرار کیا تھا ،
یا قیامت کے روز دن کیسے مختلف ہو گا ،
یا شہداء کی زندگی کس عالم میں ممکن ہے ۔
ان تمام عالموں یعنی عالم برزخ ، عالم ارواح یا عالم جنات کے بارے میں تحقیقی طور پر سوچنا ایک بات ہے ،
لیکن جس چیز نے ذاتی طور پرپر میرے دل کو چھوا ......
وہ سورۃ فاتحۃ کی ابتدائی آیت ہے ۔
الحمد للہ رب العالمین ۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ، جو تمام عالموں کا رب ہے ۔
اور میں سمجھتا ہوں کہ ‘‘تمام عالم’’ کے الفاظ کا جو اثر اب میں اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں ، وہ پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا...
31/01/2022
Admissions Open
The Educators Prime Campus II
05/01/2022
We need admin officer in our school
The Educators Prime Campus II Sargodha road Samana pull opposite The University of Faisalabad
28/12/2021
We are hiring energetic and potential candidates
Attractive Salary package
Best working environment
Bring your cv and join us for interview.....
1 January to 6 January
Walk in interviews......
Grab the opportunity and be the part of best school of your area
Address:
The Educators Prime Campus II
Samana pull Sargodha road Faisalabad
Opposite The University of Faisalabad
Contact: 0301 7460137
میدان عرفات میں آخری نبی، نبی رحمت محمد رسول اللہﷺ نے 9 ذی الجہ ، 10 ہجری (7 مارچ 632 عیسوی) کو آخری خطبہ حج دیا تھا۔ آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، کیونکہ ہمارے نبی نے کہا تھا، میری ان باتوں کو دوسروں تک پہنچائیں۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔۔
*۱*۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔
*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔ (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔
*۳*۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،
*۴*۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔
*۵*۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔
*٦*۔ اللہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کر دو)۔
*۷*۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔
*۸*۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔
*۹*۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔
*۱۰*۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔
*۱۱* ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔
برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔
*۱۲*۔ یاد رکھو! تم ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔
*۱۳*۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جاےَ گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔
*۱۴*۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔
*۱۵*۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کر سکیں۔
*پھر آپ نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا*،
*۱٦*۔ اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔
*نوٹ*: اللہ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے، جو اس پیغام کو سنیں/پڑھیں اور اس پر عمل کرنے والے بنیں۔ اور اس کو آگے پھیلانے والے بنیں۔ اللہ ہم سب کو اس دنیا میں نبی رحمت کی محبت اور سنت عطا کرے، اور آخرت میں جنت الفردوس میں اپنے نبی کے ساتھااکٹھا کرے، آمین۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
FDA
Faisalabad
38000