16/06/2026
فرمانِ الہیٰ
پارہ: 21 ,سورۃ العنکبوت 29، آیت: 45
اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ ؕ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ لَذِکۡرُ اللّٰہِ اَکۡبَرُ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُوۡنَ(45)
۴۵۔ (اے نبی صَلی اللّٰہ عَلیہ وَ آلہٖ وَسلّم !) آپ کی طرف کتاب کی جو وحی کی گئی ہے اس کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں، یقینا نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے اور تم جو کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
45۔ دن میں پانچ مرتبہ اللہ کی بارگاہ میں جانے والا شخص اپنے آپ کو ہمیشہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر پاتا ہے اور اللہ کی بارگاہ میں بیٹھ کر بے حیائی اور برائی کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔ البتہ ارتکاب گناہ ناممکن نہیں، ارتکاب کرنا ممکن رہ جاتا ہے۔ مگر جس کے دل میں یہ شعور بیدار ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں ہے وہ جرم کے ارتکاب سے شرماتا اور ڈرتا ہے۔ نماز نمازی کے ضمیر کو بیدار رکھتی ہے جس سے گناہ کا احساس بھی زندہ رہتا ہے۔ رہا یہ سوال کہ پھر بہت سے نمازی بدعمل کیوں ہوتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نماز برائیوں سے روکنے کے لیے علت تامہ نہیں ہے، مقتضی ہے۔ مثلاً دوستی کسی کی حمایت کے لیے مقتضی ہے، علت تامہ نہیں۔ ممکن ہے دیگر تقاضوں سے متصادم باتوں کی وجہ سے دوستی کے تقاضے پورے نہ ہوں۔ پھر نماز اگر صرف عادت کے طور پر پڑھی جائے، ضمیر اور وجدان نماز نہ پڑھے تو ایسی نمازوں کے اثرات بھی کمزور ہوتے ہیں۔
لَذِکۡرُ اللّٰہِ اَکۡبَرُ : نماز اللہ کا ذکر ہے اور ذکر خدا فحشاء و منکر کو دور کرنے سے بڑا ہے یا تمام اعمال سے بڑا ہے یا قابل وصف و بیان سے بڑا ہے۔
(ترجمہ و تفسیر: مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی قدس سرہ)
14/06/2026
فرمانِ الہیٰ
پارہ: 20 ,سورۃ العنکبوت 29، آیت: 44
خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ(44)
۴۴۔ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے، اس میں ایمان والوں کے لیے یقینا ایک نشانی ہے۔
(ترجمہ: مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی قدس سرہ)
12/06/2026
فرمانِ الہیٰ
پارہ: 20 ,سورۃ العنکبوت 29، آیت: 43
وَ تِلۡکَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُہَا لِلنَّاسِ ۚ وَ مَا یَعۡقِلُہَاۤ اِلَّا الۡعٰلِمُوۡنَ(43)
۴۳۔ اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں مگر ان کو علم رکھنے والے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔
43۔ عام سطحی ذہن ان مثالوں میں مشبہ بہ (جس کی تشبیہ دی گئی ہے) کی طرف جاتا ہے۔ وہ عظیم ہے تو تمثیل عظیم، وہ حقیر ہے تو تمثیل حقیر ہے۔ جب کہ اہل علم کا ذہن وجہ شبہ کی طرف جاتا ہے۔ مکڑی کی مثال میں عامۃ الناس کا ذہن مکڑی کی طرف اور اہل علم کا ذہن نا پائیداری کی طرف جاتا ہے، جس سے اس مثال کی لطافت سمجھ میں آتی ہے۔
(ترجمہ و تفسیر: مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی قدس سرہ)
10/06/2026
فرمانِ الہیٰ
پارہ: 20 ,سورۃ العنکبوت 29، آیت: 42
اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ(42)
۴۲۔ یہ لوگ اللہ کے علاوہ جس چیز کو پکارتے ہیں اللہ کو یقینا اس کا علم ہے اور وہی بڑا غالب آنے والا،حکمت والا ہے۔
(ترجمہ: مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی قدس سرہ)
09/06/2026
فرمانِ الہیٰ
پارہ: 20 ,سورۃ العنکبوت 29، آیت: 42
مَثَلُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡلِیَآءَ کَمَثَلِ الۡعَنۡکَبُوۡتِ ۖۚ اِتَّخَذَتۡ بَیۡتًا ؕ وَ اِنَّ اَوۡہَنَ الۡبُیُوۡتِ لَبَیۡتُ الۡعَنۡکَبُوۡتِ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ(41)
۴۱۔ جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا ولی بنایا ہے ان کی مثال اس مکڑی کی سی ہے جو اپنا گھر بناتی ہے اور گھروں میں سب سے کمزور یقینا مکڑی کا گھر ہے اگر یہ لوگ جانتے ہوتے۔
41۔ اس کائنات میں قوت کا سرچشمہ اللہ کی ذات ہے۔ اگر کسی کے پاس کوئی طاقت موجود ہے تو اسی سرچشمے سے متصل اور اسی طاقت کے ذیل میں واقع ہونے کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی اس سلسلے سے باہر چلا جاتا ہے تو اس کی بے ثباتی اور ناتوانی مکڑی کے جالے کی طرح ہے، جو معمولی چوٹ کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
(ترجمہ و تفسیر: مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی قدس سرہ)
08/06/2026
فرمانِ الہیٰ
پارہ: 20 ,سورۃ العنکبوت 29، آیت: 40
فَکُلًّا اَخَذۡنَا بِذَنۡۢبِہٖ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِ حَاصِبًا ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَخَذَتۡہُ الصَّیۡحَۃُ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ خَسَفۡنَا بِہِ الۡاَرۡضَ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَغۡرَقۡنَا ۚ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظۡلِمَہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ(40)
۴۰۔ پس ان سب کو ان کے گناہ کی وجہ سے ہم نے گرفت میں لیا پھر ان میں سے کچھ پر تو ہم نے پتھر برسائے اور کچھ کو چنگھاڑ نے گرفت میں لیا اور کچھ کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ کو ہم نے غرق کر دیا اور اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا مگر یہ لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے۔
40۔ چنانچہ گناہوں کی سزا کے طور پر قوم عاد پر پتھر برسائے، قوم ثمود کو دھماکے سے تباہ کیا، قارون کو زمین میں دھنسا دیا اور فرعون کو غرق کر دیا۔
یہ سزائیں خود ان کے کرتوتوں کے لازمی نتائج کے طور پر وقوع پذیر ہوئیں۔ ان سزاؤں کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ نے ان پر ظلم کیا ہو۔ یہاں اہل مکہ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ تم تاریخ کے اس مکافات عمل سے مستثنیٰ نہیں ہو۔ تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ ہونے والا ہے۔
(ترجمہ و تفسیر: مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی قدس سرہ)
06/06/2026
فرمانِ الہیٰ
پارہ: 20 ,سورۃ العنکبوت 29، آیت: 39
وَ قَارُوۡنَ وَ فِرۡعَوۡنَ وَ ہَامٰنَ ۟ وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ مُّوۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ فَاسۡتَکۡبَرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا کَانُوۡا سٰبِقِیۡنَ (39)
۳۹۔ اور قارون و فرعون اور ہامان کو (بھی ہم نے ہلاک کیا) اور بتحقیق موسیٰ واضح دلائل لے کر ان کے پاس آئے تھے پھر بھی انہوں نے زمین میں تکبر کیا لیکن وہ (ہماری گرفت سے) نکل نہ سکے ۔
(ترجمہ: مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی قدس سرہ)
05/06/2026
فرمانِ الہیٰ
پارہ: 20 ,سورۃ العنکبوت 29، آیت: 38
وَ عَادًا وَّ ثَمُوۡدَا۠ وَ قَدۡ تَّبَیَّنَ لَکُمۡ مِّنۡ مَّسٰکِنِہِمۡ ۟ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَصَدَّہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ وَ کَانُوۡا مُسۡتَبۡصِرِیۡنَ (38)
۳۸۔ اور عاد و ثمود کو (بھی ہلاک کیا) اور بتحقیق ان کے مکانوں سے تمہارے لیے یہ بات واضح ہو گئی اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال کو آراستہ کیا اور انہیں راہ (راست) سے روکے رکھا حالانکہ وہ ہوش مند تھے۔
38۔ وَ کَانُوۡا مُسۡتَبۡصِرِیۡنَ : وہ ہوش مند تھے۔ اس جملے کی دو تفسیریں ہیں: ایک یہ کہ یہ قوم راہ راست سے منحرف ہونے سے پہلے دین فطرت دین توحید پر تھی۔ دوسری تفسیر یہ کی جاتی ہے کہ یہ لوگ شیطان کے ہتھے اس لیے نہیں چڑھے کہ یہ نادان لوگ تھے، بلکہ یہ خاصے عقل و خرد کے مالک تھے۔
پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ آج جن مقامات کو احقاف، یمن اور حضر موت کہتے ہیں، یہاں قوم عاد آباد تھی اور شمال حجاز میں رابغ سے لے کر عقبہ تک اور خیبر سے لے کر تبوک تک کے تمام علاقوں میں قوم ثمود آباد تھی۔
(ترجمہ و تفسیر: مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی قدس سرہ)
04/06/2026
فرمانِ الہیٰ
پارہ: 20 ,سورۃ العنکبوت 29، آیت: 37
فَکَذَّبُوۡہُ فَاَخَذَتۡہُمُ الرَّجۡفَۃُ فَاَصۡبَحُوۡا فِیۡ دَارِہِمۡ جٰثِمِیۡنَ (37)
۳۷۔ پس انہوں نے شعیب کی تکذیب کی تو انہیں زلزلے نے گرفت میں لے لیا پس وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔
37۔ سورہ ہود میں فرمایا: اس قوم کو خوفناک آواز نے ہلاک کیا ہے۔ ممکن ہے خوفناک دھماکے سے شدید زلزلے کے ساتھ خوفناک آواز بھی نکلی ہو۔
(ترجمہ و تفسیر: مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی قدس سرہ)
03/06/2026
فرمانِ الہیٰ
پارہ: 20 ,سورۃ العنکبوت 29، آیت:36
وَ اِلٰی مَدۡیَنَ اَخَاہُمۡ شُعَیۡبًا ۙ فَقَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ ارۡجُوا الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ(36)
۳۶۔ اور (ہم نے) مدین کی طرف ان کی برادری کے شعیب (کو بھیجا) تو انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی بندگی کرو اور روز آخرت کی امید رکھو اور زمین میں فساد برپا نہ کرو ۔
(ترجمہ: مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی قدس سرہ)