11/06/2026
چک نمبر 611 گ ب: پارٹ 6 – زراعتی ارتقاء، دائی کا تندور و بھٹی، پانی کا سفر اور دیسی سفری صعوبتیں
پچھلے حصوں میں آپ نے جکے کے چک کی تاریخ، کھیلوں کی رونقوں، عید کی منفرد روایات اور شادی بیاہ کے بدلتے رنگوں کا مطالعہ کیا۔ چھٹے حصے میں ہم ذکر کریں گے اس مٹی کی زرخیزی، بیلوں سے سولر تک کے زراعتی سفر، گاؤں کی سانجھی روایات (دائی کا تندور، بھٹی اور کنواں)، پرانے وقتوں کے دیسی سفر اور صحت کے میدان میں درپیش چند اہم چیلنجز کا۔
🌾 زراعت کا قدیم و جدید سفر: بیلوں کی جوڑی سے سولر ٹیوب ویل تک
چک 611 گ ب کی معیشت کا دارومدار ہمیشہ سے زراعت پر رہا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کھیتی باڑی کے طریقوں میں ایک بڑا انقلاب آیا ہے:
ابتدائی دور (روایتی کھیتی باڑی): آغاز میں یہاں کاشتکاری کے روایتی طریقے رائج تھے۔ کسان بیلوں کی مدد سے کھیتوں میں ہل چلایا کرتے تھے اور کنووں سے پانی نکالنے کے لیے بھی بیلوں کا ہی سہارا لیا جاتا تھا۔
تکنیکی ارتقاء: وقت بدلا تو بیلوں کی جگہ "پیٹر انجن" والے ٹیوب ویلوں نے لے لی۔ اب جدت اور ترقی کی طرف بڑھتے ہوئے گاؤں کے اکثریتی زمینداروں نے سولر ٹیوب ویل لگوا لیے ہیں، جس سے نہ صرف بجلی اور ڈیزل کے اخراجات کم ہوئے ہیں بلکہ آبپاشی بھی آسان ہو گئی ہے۔
فصلوں میں تنوع (Crop Diversification): ماضی میں یہاں کے کسان صرف دو روایتی فصلیں یعنی گندم اور کماد (گنا) کاشت کرنے تک محدود تھے۔ مگر اب سوچ بدل چکی ہے۔ مقامی زمینداروں نے اپنی معاشی حالت بدلنے کے لیے جدید کاشتکاری اپنائی ہے اور اب یہاں بڑے پیمانے پر بہاریہ مکئی، مکئی کی دیگر جدید اقسام اور مختلف منافع بخش سبزیاں کاشت کی جا رہی ہیں۔
👩⚕️ گاؤں کی "دائی": صحت کی ضامن، سانجھا تندور اور دانے بھوننے کی بھٹی
ماضی میں جب جدید ہسپتال نہیں تھے، تو گاؤں میں "دائی" کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ وہ نہ صرف ایک طبی سہولت کار تھی بلکہ گاؤں کی ثقافت کا ایک اہم ستون بھی تھی:
گھریلو ڈلیوریز اور دیسی علاج: گاؤں میں بچوں کی پیدائش (ڈلیوریز) گھروں میں ہی ہوتی تھی اور یہ تمام ذمہ داری دائی بڑی مہارت سے نبھاتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین کے دیگر پیچیدہ طبی مسائل کو وہ اپنے روایتی اور دیسی نسخوں سے حل کیا کرتی تھی۔
دوپہر اور رات کا سانجھا تندور: دائی کے پاس روٹیاں لگانے کے لیے ایک بڑا تندور موجود تھا۔ گاؤں کی عورتیں اور بچے گھروں سے آٹا گوندھ کر پراتوں اور چنگیروں میں دائی کے تندور پر لاتے تھے۔ دوپہر کے کھانے اور رات کے وقت دائی یہاں پورے گاؤں کی گرم گرم روٹیاں پکا کر دیتی تھی، اور لوگ یہاں سے روٹیاں پکوا کر اپنے گھروں کو لے جاتے تھے۔
عصر کے وقت دانے بھوننے کی بھٹی: روٹیاں پکانے کے بعد، عصر کے وقت دائی کا ایک الگ روپ سامنے آتا تھا جب وہ دانے بھوننے کے لیے اپنی خصوصی بھٹی سلگاتی تھی۔ پورا گاؤں گھروں سے مکئی اور چاول کے دانے لے کر وہاں پہنچ جاتا تاکہ بھٹی کی گرم ریت میں انہیں فرائی یا بھون کر لذیذ مرمرے اور پھلیاں تیار کروائی جا سکیں۔
سماجی بیٹھک اور ہنسی مذاق: یہ تندور اور بھٹی صرف کھانا پکانے کی جگہ نہیں تھی، بلکہ یہ گاؤں کا "سوشل میڈیا" تھی۔ تندور پر روٹیاں لگنے اور بھٹی پر دانے بھوننے کے دوران یہاں عورتوں اور بچوں کا ایک بڑا مجمع لگا رہتا تھا۔ جہاں روٹیاں لگتیں اور دانے بھونے جاتے، وہیں پورے گاؤں کی خبریں زیرِ بحث آتیں، خواتین ایک دوسرے سے سکھ دکھ سانجھے کرتی تھیں، اور ہنسی مذاق، چٹکلوں اور دیسی پن سے بھرپور محفل جمتی جو باہمی محبت کو بڑھانے کا سبب بنتی تھی۔
💧 پانی کا ارتقاء: مرکزی کنویں سے الیکٹرک پمپس تک
گاؤں میں پینے کے پانی کا سفر بھی انسانی ترقی کی ایک خوبصورت کہانی بیان کرتا ہے:
مرکزی کنواں: شروع شروع میں گاؤں کے بالکل درمیان میں ایک بڑا کنواں ہوتا تھا۔ پورے گاؤں کے مرد اور خواتین وہیں سے پانی بھر کر لے جاتے تھے اور پینے کے پانی کا واحد ذریعہ یہی کنواں تھا۔
ہینڈ پمپ (نلکے): وقت بدلا تو گاؤں میں ہاتھ سے چلنے والے ہینڈ پمپ (نلکے) لگ گئے، جس سے لوگوں کو گھروں کے قریب یا اندر ہی پانی کی سہولت میسر آ گئی۔
الیکٹرک واٹر پمپ: اور اب جدید دور میں لوگ بجلی سے چلنے والے واٹر پمپس پر منتقل ہو چکے ہیں، جس نے پانی نکالنے کی مشقت کو بالکل ختم کر دیا ہے۔
🛣️ پرانا دیسی ماحول اور سفری صعوبتیں: پیدل سفر سے پنڈی شیخ موسیٰ تک
شروع کے دور میں چک 611 گ ب کا ماحول بالکل خالص، سادگی سے بھرپور اور روایتی "دیسی ٹائپ" تھا۔ اس دور میں نہ تو کوئی پکی سڑک تھی اور نہ ہی ٹرانسپورٹ کا کوئی باقاعدہ انتظام:
پیدل اور جانوروں کا سفر: لوگ زیادہ تر قریبی یا دور دراز کے سفر کے لیے گھوڑے اور گدھے استعمال کرتے تھے۔
شہروں کا رخ: اگر کسی کو تاندلیانوالہ، سمندری، اوکاڑہ یا فیصل آباد جیسے بڑے شہروں کی طرف جانا ہوتا، تو گاؤں والے پہلے کئی کلومیٹر کا فاصلہ پنڈی شیخ موسیٰ تک پیدل طے کرتے تھے۔ وہاں پہنچ کر وہ بسوں پر بیٹھتے اور اپنے مقررہ شہروں کی طرف روانہ ہوتے تھے۔ یہ سفر تھکا دینے والا مگر محبتوں سے بھرا ہوتا تھا۔
🌊 گوگیرہ برانچ: معاشی لائف لائن اور گاؤں کا "دیسی سویمنگ پول"
گاؤں کے بالکل پاس سے گزرنے والی نہر گوگیرہ برانچ (جو آگے چل کر گڑھ فتح شاہ کے مقام پر ختم ہوتی ہے) اس علاقے کے لیے قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔ یہ نہر صرف زمینوں کو سیراب نہیں کرتی، بلکہ گاؤں کی سماجی زندگی کا ایک اہم مرکز ہے:
لوکل پکنک پوائنٹ: گرمیوں کے موسم میں یہ نہر پورے گاؤں کے لیے ایک "دیسی سویمنگ پول" کا کام کرتی ہے۔ بچے اور نوجوان تپتی دھوپ میں خود کو تروتازہ رکھنے کے لیے سارا سارا دن اس کے ٹھنڈے پانی میں گزار دیتے تھے اور ساتھ ہی لذیذ آموں کی محفلیں جمتی تھیں۔ اب یہ ٹرینڈ ذرا کم ہو گیا ہے لیکن پرانی یادیں آج بھی زندہ ہیں۔
روزمرہ کی ضرورت: روایتی دیہاتی زندگی کی طرح، گاؤں کے مویشی اسی نہر سے پانی پیتے ہیں اور ایک طویل عرصے تک گاؤں کی خواتین نہر اور ٹیوب ویل کے کناروں پر کپڑے دھونے کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے تھیں۔ نہر اور اس کے ساتھ پھیلے گھنے جنگلات مل کر ایک نہایت سحر انگیز نظارہ پیش کرتے تھے۔
📚 تعلیمی بیداری اور صحت کے موجودہ مسائل
تعلیمی انقلاب: اگرچہ گاؤں شہر سے دور رہا، لیکن یہاں کے لوگوں کی سوچ میں ایک شاندار تبدیلی آئی ہے۔ ماضی کے برعکس، اب چک 611 گ ب کے والدین اپنی بچیوں کو ہائی اسکول, کالج اور یونیورسٹیوں تک اعلیٰ تعلیم دلوا رہے ہیں، جو ایک روشن مستقبل کی علامت ہے۔
صحت کے چیلنجز: جہاں تعلیمی شعور بڑھا ہے، وہاں صحت کی بنیادی سہولیات کے لحاظ سے یہ چک اب بھی مشکلات کا شکار ہے۔ گاؤں کے اندر کوئی ہسپتال یا سرٹیفائیڈ ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔ مقامی لوگ اب بھی معمولی بیماریوں کے لیے لوکل ڈسپنسرز سے ہی علاج کروانے پر مجبور ہیں۔ ہنگامی حالت میں نزدیک ترین سرکاری ہسپتال اب بھی پنڈی شیخ موسیٰ میں ہی ہے، جہاں شہر کی دوری کے باعث مریضوں کو پہنچانے میں سخت دقت پیش آتی ہے۔
🐎 ایک نیا ثقافتی رنگ: گھوڑا ڈانس اور نیزہ بازی کا عروج
کھیلوں کے میدان میں جہاں پرانے کھیل دھندلا رہے ہیں، وہیں چک 611 گ ب میں ایک انتہائی شاندار اور مثبت رجحان نے جنم لیا ہے۔ گاؤں کے شوقین افراد نے اب اعلیٰ نسل کے گھوڑے پالنے شروع کیے ہیں۔
اب یہاں باقاعدگی سے گھوڑا ڈانس اور نیزہ بازی (Tent Pe***ng) کے مقابلوں کا انعقاد کروایا جاتا ہے۔ گھوڑوں کی ٹاپوں کی تھاپ، نیزہ بازوں کی مہارت اور روایتی دھنیں پورے علاقے کے لیے ایک بہترین تفریح اور ثقافتی رونق کا سبب بن رہی ہیں، جس سے نوجوان نسل میں اپنی مٹی کے روایتی کھیلوں کا شوق دوبارہ جاگ اٹھا ہے۔
از قلم: شاہد حسین وٹو