30/05/2021
میں میڑک کے رزلٹ کے بعد ایف ایس سی میں بائیولوجی اور ریاضی کی چوائس کے متعلق کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہا تھا.
نویں اور دسویں کے امتحانات میں میرے ریاضی میں 75/75 نمبر آۓ تھے. سو میں نے ریاضی پڑنے کے لیے آگے بھی انجینئرنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا.
سید فدا حسین شاہ صاحب گھر پر تشریف لاۓ تو میں نے انہے اپنے ارادے سے متعلق آگاہ کیا.
انہوں نے مجھے آگے بائیولوجی پڑھنے کا حمک صادر کر دیا. میں کچھ کشمکش میں تھا کیونکہ اگرچہ مجھے بائیولوجی بھی بہت پسند تھی لیکن میرا ڈاکٹر بننے کا ارادہ نہیں تھا. یہی وجہ تھی کہ سکول کی الوداعی پارٹی پر جب بائیولوجی کے استاد عمران خان صاحب سے میں نے اپنی ڈائری پر آٹوگراف لیے تو انہوں نے کہا کہ آگے بائیو پڑھنے کا ارادہ ہے؟
میں نے کہا سر ڈاکٹر نہین بننا. بائیو پسند بہت ہے.
سر نے پھر بھی میری ڈائری پر لکھ دیا.
"میں تمہیں مستقبل کا دل کا سپیشلسٹ ڈاکٹر دیکھنا چاہتا ہوں"
میں صرف مسکرا دیا.
خیر شاہ صاحب کے کہنے پر میں نے بائیولوجی رکھ لی. لیکن ایف ایس سی کرتے ہوۓ احساس ہوا کہ استاد واقعی استاد ہوتا ہے.
شاہ صاحب کا اگرچہ اپنا مضمون ریاضی تھا لیکن انہوں نے مجھے بائیو رکھنے کا کہا
مجھے خود بھی احساس ہوا کی اصل پسند میری بائیولوجی ہی تھی. یہ تو شاہ صاحب کی بدولت تھا کہ مجھے ریاضی بھی اچھا لگتا تھا اور میرے نمبر بھی پورے آ گۓ.
میڈیکل کالج میں داخلے سے پہلے چاہ صاحب اس دنیا سے رخصت ہو گۓ.
چند دن پہلے میرا MBBS فائنل ائیر کے امتحانات کا رزلٹ آیا. الحمدللہ اب میں ایک ڈاکٹر ہوں. چند دن بعد الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں میری ہاؤس جاب شروع ہو جاۓ گی.
میں آج ان کی قبر پر حاضر ہوا تھا. دعا کے بعد میں رستے میں یہ سوچتا رہا کہ یہ ہستی کس قدر آسانی سے اپنے طلبا کی کریر کونسلنگ کرتی تھی. کیسے اپنے طلبا کے مستقبل کی فکر تھی. استاد کا جو اصل مقام ہے , شاہ صاحب کی زندگی کو دیکھ کر واقع احساس ہوتا ہے کہ اصل استاد اس کو کہتے ہیں.
تحریر
ڈاکٹر علی رضا بندیشہ
Admin and creater of this page