04/05/2026
(حضرت سلیمان علیہ السلام کی بے مثل وفات )
ملک شام میں جس جگہ حضرت موسی علیہ السلام کا خیمہ گاڑا گیا تھا ٹھیک اسی جگہ حضرت داؤد علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی مگر عمارت پوری ہونے سے قبل ہی حضرت داؤد علیہ السلام کی وفات کا وقت ان پہنچا اور اپ نے اپنے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس عمارت کی تکمیل کی وصیت فرمائی چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کی جماعت کو اس کام پر لگایا اور عمارت کی تعمیر ہوتی رہی یہاں تک کہ اپ کی وفات کا وقت بھی قریب اگیا اور عمارت مکمل نہ ہو سکی تو اپ نے یہ دعا مانگی کہ الہی میری موت جنوں کی جماعت پر ظاہر نہ ہونے پائے تاکہ وہ برابر عمارت کی تکمیل میں مصروف عمل رہیں اور ان سبھوں کو جو علم غیب کا دعوی ہے وہ بھی باطل ٹھہر جائے یہ دعا مانگ کر اپ محراب میں داخل ہو گئے اور اپنی عادت کے مطابق اپنی لاٹھی ٹیک کر عبادت میں کھڑے ہو گئے اور اسی حالت میں اپ کی وفات ہو گئی مگر جن مزدور یہ سمجھ کر کہ اپ زندہ کھڑے ہوئے ہیں برابر کام میں مصروف رہے اور عرصہ دراز تک اپ کا اسی حالت میں رہنا جنوں کے گروہ کے لیے باعث حیرت اس لیے نہیں ہوا کہ وہ بارہا دیکھ چکے تھے کہ اپ ایک ایک ماہ بلکہ کبھی کبھی دو دو ماہ برابر عبادت میں کھڑے رہا کرتے تھے غرض ایک سال تک وفات کے بعد اپ اپنی لاٹھی کے سہارے کھڑے رہے یہاں تک کہ بحکم الہی دیمک نے اپ کی عصا کو کھا لیا اور عصا کے گر جانے سے اپ کا جسم مبارک زمین پر اگیا اس وقت جنوں کی جماعت اور تمام انسانوں کو پتہ چلا کہ اپ کی وفات ہو گئی ہے قران مجید میں اللہ تعالی نے اس واقعہ کو ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے پھر جب ہم نے ان حضرت سلیمان پر موت کا حکم بھیجا تو جنوں کو ان کی موت دیمک نے بتائی جو ان کے عصا کو کھا رہی تھی پھر جب حضرت سلیمان زمین پر ا گئے تو جنوں کو ہی حقیقت کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو وہ اس ذلت کے عذاب میں اتنی دیر تک نہ پڑے رہتے (سورہ سبا ع 2پارہ 22)
اس قرانی واقعہ سے ہدایت ملتی ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے مقدس بدن وفات کے بعد سڑتے گلتے نہیں ہیں کیونکہ اپ نے ابھی پڑھ لیا کہ ایک سال تک حضرت سلیمان علیہ السلام وفات کے بعد عصا کے سہارے کھڑے رہے اور ان کے جسم مبارک میں کسی قسم کا کوئی تغیر رو نما نہیں ہوا یہی حال تمام انبیاء علیہم السلام کا ان کی قبروں میں ہے کہ ان کے بدن کو مٹی کھا نہیں سکتی چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ جس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے بے شک اللہ نے زمین پر حرام فرما دیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے لہذا اللہ کے نبی زندہ ہیں اور ان کو روزی دی جاتی ہے (مشکوة ج ١ص 121باب الجمعہ)
حضرت سلیمان علیہ السلام کی عمر شریف53 سال کی ہوئی 13 برس کی عمر میں اپ کو بادشاہی ملی اور 40 برس تک اپ تخت سلطنت پر جلوہ گر رہے اپ کا مزار اقدس بیت المقدس میں ہے
پوسٹ پسند ائی ہو تو لائک اور شیئر کریں
Learn quran with hafiza Shumaila