Inislam

Inislam Bridging hearts and minds with online Quran teaching. Discover the beauty and wisdom of the Quran from the comfort of your home.

Join us for engaging, personalized lessons for all ages.

(حضرت سلیمان علیہ السلام کی بے مثل وفات )ملک شام میں جس جگہ حضرت موسی علیہ السلام کا خیمہ گاڑا گیا تھا ٹھیک اسی جگہ حضرت...
04/05/2026

(حضرت سلیمان علیہ السلام کی بے مثل وفات )
ملک شام میں جس جگہ حضرت موسی علیہ السلام کا خیمہ گاڑا گیا تھا ٹھیک اسی جگہ حضرت داؤد علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی مگر عمارت پوری ہونے سے قبل ہی حضرت داؤد علیہ السلام کی وفات کا وقت ان پہنچا اور اپ نے اپنے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس عمارت کی تکمیل کی وصیت فرمائی چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کی جماعت کو اس کام پر لگایا اور عمارت کی تعمیر ہوتی رہی یہاں تک کہ اپ کی وفات کا وقت بھی قریب اگیا اور عمارت مکمل نہ ہو سکی تو اپ نے یہ دعا مانگی کہ الہی میری موت جنوں کی جماعت پر ظاہر نہ ہونے پائے تاکہ وہ برابر عمارت کی تکمیل میں مصروف عمل رہیں اور ان سبھوں کو جو علم غیب کا دعوی ہے وہ بھی باطل ٹھہر جائے یہ دعا مانگ کر اپ محراب میں داخل ہو گئے اور اپنی عادت کے مطابق اپنی لاٹھی ٹیک کر عبادت میں کھڑے ہو گئے اور اسی حالت میں اپ کی وفات ہو گئی مگر جن مزدور یہ سمجھ کر کہ اپ زندہ کھڑے ہوئے ہیں برابر کام میں مصروف رہے اور عرصہ دراز تک اپ کا اسی حالت میں رہنا جنوں کے گروہ کے لیے باعث حیرت اس لیے نہیں ہوا کہ وہ بارہا دیکھ چکے تھے کہ اپ ایک ایک ماہ بلکہ کبھی کبھی دو دو ماہ برابر عبادت میں کھڑے رہا کرتے تھے غرض ایک سال تک وفات کے بعد اپ اپنی لاٹھی کے سہارے کھڑے رہے یہاں تک کہ بحکم الہی دیمک نے اپ کی عصا کو کھا لیا اور عصا کے گر جانے سے اپ کا جسم مبارک زمین پر اگیا اس وقت جنوں کی جماعت اور تمام انسانوں کو پتہ چلا کہ اپ کی وفات ہو گئی ہے قران مجید میں اللہ تعالی نے اس واقعہ کو ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے پھر جب ہم نے ان حضرت سلیمان پر موت کا حکم بھیجا تو جنوں کو ان کی موت دیمک نے بتائی جو ان کے عصا کو کھا رہی تھی پھر جب حضرت سلیمان زمین پر ا گئے تو جنوں کو ہی حقیقت کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو وہ اس ذلت کے عذاب میں اتنی دیر تک نہ پڑے رہتے (سورہ سبا ع 2پارہ 22)
اس قرانی واقعہ سے ہدایت ملتی ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے مقدس بدن وفات کے بعد سڑتے گلتے نہیں ہیں کیونکہ اپ نے ابھی پڑھ لیا کہ ایک سال تک حضرت سلیمان علیہ السلام وفات کے بعد عصا کے سہارے کھڑے رہے اور ان کے جسم مبارک میں کسی قسم کا کوئی تغیر رو نما نہیں ہوا یہی حال تمام انبیاء علیہم السلام کا ان کی قبروں میں ہے کہ ان کے بدن کو مٹی کھا نہیں سکتی چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ جس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے بے شک اللہ نے زمین پر حرام فرما دیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے لہذا اللہ کے نبی زندہ ہیں اور ان کو روزی دی جاتی ہے (مشکوة ج ١ص 121باب الجمعہ)
حضرت سلیمان علیہ السلام کی عمر شریف53 سال کی ہوئی 13 برس کی عمر میں اپ کو بادشاہی ملی اور 40 برس تک اپ تخت سلطنت پر جلوہ گر رہے اپ کا مزار اقدس بیت المقدس میں ہے
پوسٹ پسند ائی ہو تو لائک اور شیئر کریں
Learn quran with hafiza Shumaila

( تخت بلقیس کس طرح ایا )ملکہ سبا بلقیس کا تخت شاہی اسی گز لمبا اور 40 گز جوڑا تھا سونے اور چاندی وغیرہ طرح طرح کے جواہرا...
04/05/2026

( تخت بلقیس کس طرح ایا )
ملکہ سبا بلقیس کا تخت شاہی اسی گز لمبا اور 40 گز جوڑا تھا سونے اور چاندی وغیرہ طرح طرح کے جواہرات اور موتیوں سے اراستہ تھا جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ بلقیس کے قاصد اور اس کے ہدایہ و تحائف کو ٹھکرا دیا اور اس کو یہ حکم نامہ بھیجا کہ وہ مسلمان ہو کر میرے دربار میں حاضر ہو جائے تو اپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ بلقیس کے یہاں انے سے پہلے ہی اس کا تخت میرے دربار میں ا جائے چنانچہ اپ نے اپنے درباریوں سے یوں فرمایا قران پاک نے اس کو اس طرح ارشاد فرمایا کہ اے درباریو تم میں کون ہے کہ بلقیس کا تخت میرے پاس لے ائے قبل اس کے کہ وہ سب مطیع ہو کر میرے حضور حاضر ہوں تو ایک سرکش جن بولا کہ میں وہ تخت لا دوں گا قبل اس کے کہ اپ اجلاس برخواست کریں اور میں اس پر قوت والا اور امانت دار ہوں (سورة النمل ع 3پارہ 19)
جن کا بیان سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس سے بھی جلد وہ تخت میرے دربار میں ا جائے یہ سن کر اپ کے وزیر حضرت اصف بن برخیہ جو اسم اعظم جانتے تھے اور ایک با کرامت ولی تھے انہوں نے حضرت سلیمان سے عرض کیا جیسا کہ قران مجید نے فرمایا انہوں نے کہا جن کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے اپ کے حضور میں حاضر کر دوں گا اپ کی انکھ جھپکنے سے پہلے (سوة النمل ع3پارہ 19)
چنانچہ حضرت اصف بن برخیہ نے روحانی طاقت سے بلقیس کے تخت کو ملک سبا سے بیت المقدس تک حضرت سلیمان علیہ السلام کے محل میں کھینچ لیا اور وہ تخت زمین کے نیچے سے چل کر لمحہ بھر میں ایک دم حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی کے قریب نمودار ہو گیا تخت کو دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ کہا کہ قران پاک نے اس کو ان الفاظ میں بیان فرمایا یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے ازمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور جو شکر کرے وہ اپنے ہی بھلے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا رب بے پرواہ اور بڑی خوبیوں والا ہے (سورةالنمل ع 3پارہ 19)
پوسٹ پسند ائی ہو تو لائک اور شیئر کریں
Learn quran with hafiza Shumaila

(حضرت سلیمان علیہ السلام کا ہد ہد )یوں تو سبھی پرندے حضرت سلیمان علیہ السلام کے مسخر اور تابعہ فرمان تھے لیکن اپ کا ہد ہ...
02/05/2026

(حضرت سلیمان علیہ السلام کا ہد ہد )
یوں تو سبھی پرندے حضرت سلیمان علیہ السلام کے مسخر اور تابعہ فرمان تھے لیکن اپ کا ہد ہد اپ کی فرمانبرداری اور خدمت گزاری میں بہت مشہور ہے اسی ہد ہد نے اپ کو ملک صبا کی ملکہ بلقیس کے بارے میں خبر دی تھی کہ وہ ایک بہت بڑے تخت پر بیٹھ کر سلطنت کرتی ہے اور بادشاہوں کے شایان شان جو بھی سر و سامان ہوتا ہے وہ سب کچھ اس کے پاس ہے مگر وہ اور اس کی قوم ستاروں کی پجاری ہیں اس خبر کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کے نام جو خط ارسال فرمایا اس کو یہی ہد ہد لے کر گیا تھا چنانچہ قران کریم کا ارشاد ہے کہ حضرت سلیمان نے ہد ہد سے فرمایا کہ تم میرا یہ خط لے جاؤ اور ان کے پاس یہ خط ڈال کر پھر ان سے الگ ہو کر تم دیکھو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں
چنانچہ ہدہد یہ خط لے کر گیا اور بلقیس کی گود میں اس خط کو اوپر سے گرا دیا اس وقت اس نے اپنے گرد امرا و ارکان سلطنت کا مجمع اکٹھا کیا پھر خط کو پڑھ کر لرزہ براندام ہو گئی اور اپنے اراکین سے یہ کہا کہ اے سردارو میری طرف ایک عزت والا خط ڈالا گیا ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ہے اور بے شک وہ اللہ کے نام سے ہے جو بڑا مہربان اور نہایت ہی رحیم ہے خط کا مضمون یہ ہے کہ تم مجھ پر بلندی نہ چاہو اور تم مسلمان ہو کر میرے حضور حاضر ہو جاؤ (سورة النمل ع 2پارہ 19)
خط سنا کر بلقیس اپنی سلطنت کے امیروں اور وزیروں سے مشورہ کیا تو ان لوگوں نے اپنی طاقت اور جنگی مہارت کا اعلان و اظہار کر کے حضرت سلیمان علیہ السلام سے جنگ کا ارادہ ظاہر کیا اس وقت عقلمند بلقیس نے اپنے امیروں اور وزیروں کو سمجھایا کہ جنگ مناسب نہیں ہے کیونکہ اس شہر ویران اور شہر کے عزت دار باشندے ذلیل و خوار ہو جائیں گے اس لیے میں یہ مناسب خیال کرتی ہوں کہ کچھ ہدیہ اور تحائف ان کے پاس بھیج لوں اس سے امتحان ہو جائے گا کہ حضرت سلیمان صرف بادشاہ ہیں یا اللہ کے نبی بھی ہیں اگر وہ نبی ہوں گے تو ہرگز میرا ہدیہ قبول نہیں کریں گے بلکہ ہم لوگوں کو اپنے دین کے اتباع کا حکم دیں گے اور اگر وہ صرف بادشاہ ہوں گے تو میرا ہدیہ قبول کر کے نرم پڑ جائیں گے چنانچہ بلقیس نے 5 سو غلام 500 لونڈیاں بہترین لباس اور زیوروں سے اراستہ کر کے بھیجے اور ان لوگوں کے کے ساتھ 5 سو سونے کی اینٹیں اور بہت سے جواہرات مشک و عنبر اور ایک جڑاؤ تاج مع ایک خط کے اپنے قاصد کے ساتھ بھیجا ہدہد یہ سب دیکھ کر روانہ ہو گیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں ا کر سب خبریں پہنچا دیں چنانچہ بلقیس کا قاصد جب چند دنوں کے بعد تمام سامانوں کو لے کر دربار میں حاضر ہوا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے غضبناک ہو کر قاصد سے فرمایا قران پاک نے اس کو ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے
اپ نے فرمایا کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرتے ہو تو اللہ نے مجھے جو دیا ہے وہ اس سے بڑھ کر اور بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے تم واپس جاؤ ہم ان پر وہ لشکر لائیں گے جن کی انہیں طاقت نہ ہوگی اور ضرور ہم ان کو ان کے شہر سے ذلیل کر کے نکال دیں گے اور وہ پست ہو جائیں گے (سور ة النمل ع 3پارہ 19)
چنانچہ اس کے بعد جب قاصد نے واپس لوٹ کر بلقیس کو سارا ماجرہ سنایا تو بلقیس حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہو گئی اور حضرت سلیمان کا دربار اور یہاں کے عجائبات دیکھ کر اس کو یقین اگیا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام خدا کے نبی برحق ہیں اور ان کی سلطنت اللہ کی طرف سے ہے حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کو اپنے دین کی دعوت دی تو اس نے نہایت ہی اخلاص کے ساتھ اسلام قبول کر لیا پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس سے نکاح کر کے اس کو اپنے محل میں رکھ لیا اس سلسلے میں ہدہد نے جو کارنامے انجام دیے وہ بلاشبہ عجائبات عالم میں سے ہیں جو یقینا حضرت سلیمان علیہ السلام کے معجزات میں سے ہیں پوسٹ پسند ائی ہو تو لائک اور شیئر کریں
Learn quran with hafiza Shumaila

(حضرت سلیمان علیہ السلام اور ایک چیونٹی )حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے فرزند ہیں یہ اپنے مقدس باپ کے ...
01/05/2026

(حضرت سلیمان علیہ السلام اور ایک چیونٹی )
حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے فرزند ہیں یہ اپنے مقدس باپ کے جانشین ہوئے اور اللہ تعالی نے ان کو بھی نبوت اور سلطنت دونوں سعادتوں سے سرفراز فرما کر تمام روئے زمین کا بادشاہ بنا دیا اور 40 برس تک اپ تخت سلطنت پر جلوہ گر رہے جن و انسان شیاطین اور چرندو پرندوں درندوں سب پر اپ کی حکومت تھی سب کی زبانوں کا اپ کو علم عطا کیا گیا اور طرح طرح کی عجیب و غریب صنعتیں اپ کے زمانے میں بروئے کار ائیں چنانچہ قران مجید میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا اور حضرت سلیمان حضرت داؤد کے جانشین ہوئے اور انہوں نے کہا کہ اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز میں سے عطا کیا گیا ہے بے شک یہ کھلا ہوا فضل خداوندی ہے )سورہ النمل ع 2پارہ 19)
اسی طرح دوسری جگہ قران مجید میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا اور سلیمان کے بس میں ہوا کر دی اس کی صبح کی منزل ایک مہینہ کی راہ اور شام کی منزل ایک مہینے کی راہ اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا اور جنوں میں سے وہ جو اس کے اگے کام کرتے اس کے رب کے حکم سے اور جو ان میں ہمارے حکم سے پھرے ہم اسے بھڑکتی اگ کا عذاب چکھائیں گے اس کے لیے بناتے ہیں وہ جو چاہتا اونچے اونچے محل اور تصویریں اور بڑے حوضوں کے برابر لگن اور لنگر دار دیگیں (سورہ سبا ع 2پارہ 22)
روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام جن و انس وغیرہ اپنے تمام لشکروں کو لے کر طائف یا شام میں وادی نمل سے گزرے جہاں چیونٹیاں بکثرت تھیں تو چیونٹیوں کی ملکہ جو مادہ اور لنگڑی تھی اس نے تمام چیونٹیوں سے کہا کہ اے چیونٹیو تم سب اپنے گھروں میں چلی جاؤ ورنہ حضرت سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں بے خبری میں کچل ڈالے گا چیونٹی کی اس تقریر کو حضرت سلیمان علیہ السلام نے تیل تین میل کی دوری سے سن لیا اور مسکرا کر ہنس دیے چنانچہ رب تعالی نے قران مجید میں ارشاد فرمایا یہاں تک کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام مع لشکر کے وادی نمل میں ائے تو ایک چیونٹی بولی کہ اے چیونٹیو تم اپنے گھروں میں چلی جاؤ کہ تمہیں حضرت سلیمان اور ان کے لشکر بے خبری میں کچل نہ ڈالیں تو حضرت سلیمان اس بات سے مسکرا کر ہنس دیے (سورہ النمل ع 2پارہ19)
پوسٹ پسند آئی ہو تو لائک اور شیئر کریں ک
Learn quran with hafiza Shumaila

(حضرت ایوب علیہ السلام کا امتحان )حضرت ایوب علیہ السلام اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور ان کی والدہ حضرت لوط ع...
30/04/2026

(حضرت ایوب علیہ السلام کا امتحان )
حضرت ایوب علیہ السلام اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور ان کی والدہ حضرت لوط علیہ السلام کے خاندان میں سے ہیں اللہ تعالی نے اپ کو ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا تھا حسن صورت بھی اور مال اور اولاد کی کثرت بھی بے شمار مویشی اور کھیت اور باغ وغیرہ کے اپ مالک تھے جب اللہ تعالی نے اپ کو ازمائش و امتحان میں ڈالا تو اپ کا مکان گر پڑا اور اپ کے تمام فرزندان اس کے نیچے دب کر مر گئے اور تمام جانور جس میں سینکڑوں اونٹ اور ہزارہا بکریاں تھیں سب مر گئے تمام کھیتیاں اور باغات بھی برباد ہو گئے غرض اپ کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا اپ کو جب ان چیزوں کے ہلاک اور برباد ہونے کی خبر دی جاتی تھی تو اپ حمد الہی کرتے اور شکر بجا لاتے تھے اور فرماتے تھے کہ میرا کیا تھا اور کیا ہے جس کا تھا اس نے لے لیا جب تک اسے نے مجھے دے رکھا تھا میرے پاس تھا جب اس نے چاہا لے لیا میں ہر حال میں اس کی رضا پر راضی ہوں اس کے بعد اپ بیمار ہو گئے اور اپ کے جسم مبارک پر بڑے بڑے ابلے پڑ گئے اس حال میں سب لوگوں نے اپ کو چھوڑ دیا بس فقط اپ کی بیوی جن کا نام رحمت بنت افرائیم تھا جو حضرت یوسف علیہ السلام کی پوتی تھی اپ کی خدمت کرتی تھی سالہا سال تک اپ کا یہی حال رہا اپ ابلوں اور پھوڑوں کے زخموں سے بڑی تکلیف میں رہے عام طور پر لوگوں میں مشہور ہے کہ معاذ اللہ اپ کو کوڑھ کی بیماری ہو گئی تھی چنانچہ بعض غیر معتبر کتابوں میں اپ کے کوڑھ کے بارے میں بہت سے غیر معتبر داستانیں بھی تحریر ہیں مگر یاد رکھو کہ یہ سب باتیں بالکل غلط ہیں اور ہرگز ہرگز اپ یا کوئی نبی بھی کبھی کوڑھ اور جزام کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوا اس لیے یہ مسئلہ متفق علیہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا تمام ان بیماریوں سے محفوظ رہنا ضروری ہے جو عوام کے نزدیک باعث نفرت و حقارت ہیں کیونکہ انبیاء علیہم السلام کا یہ فرض منصبی ہے کہ وہ تبلیغ کرتے رہیں تو ظاہر ہے کہ جب عوام ان کی بیماریوں سے نفرت کر کے ان سے دور بھاگیں گے تو بھلا تبلیغ کا فریضہ کیوں کر ادا ہو سکے گا الغرض حضرت ایوب علیہ السلام ہرگز کبھی کوڑھ یا جذام کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ اپ کے بدن پر کچھ ابلے اور پھوڑے پھنسیاں نکل ائی تھیں جن سے اپ برسوں تکلیف اور مشقت جھیلتے رہے اور برابر صابر و شاکر رہے پھر اپ نے بحکم الہی اپنے رب سے یوں دعا مانگی قران پاک نے اس کو ان الفاظ میں بیان فرمایا اے رب مجھے تکلیف پہنچ گئی ہے اور تو تمام مہربانوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے (سورةالانبیاء ع 5ص17)
جب اپ خدا کی ازمائش میں پورے اترے اور امتحان میں کامیاب ہو گئے تو اپ کی دعا مقبول ہوئی اور ارحم الراحمین حکم فرمایا کہ اے ایوب اپنا پاؤں زمین پر مارو اپ نے زمین پر پاؤں مارا تو فورا ایک چشمہ پھوٹ پڑا حکم الہی ہوا کہ اس پانی سے غسل کرو چنانچہ اپ نے غسل کیا تو اپ کے بدن کی تمام بیماریاں دور ہو گئیں پھر اپ 40 قدم دور چلے تو دوبارہ زمین پر قدم مارنے کا حکم ہوا اور اپ کے قدم مارتے ہی پھر ایک دوسرا چشمہ نمودار ہو گیا جس کا پانی بے حد ٹھنڈا بہت شیری اور نہایت لذیذ تھا اپ نے وہ پانی پیا تو اپ کے باطن میں نور ہی نور پیدا ہو گیا اور اپ کو اعلی درجے کی صحت اور نورانیت حاصل ہو گئی اور اللہ تعالی نے اپ کی تمام اولاد کو دوبارہ زندہ فرما دیا اور اپ کی بیوی کو دوبارہ جوانی بخشی اور ان کے کثیر اولاد ہوئی پھر اپ کا تمام ہلاک شدہ مال مویشی اور اسباب و سامان بھی اپ کو مل گیا بلکہ پہلے جس قدر مال و دولت کا خزانہ تھا اس سے کہیں زیادہ مل گیا اس بیماری کی حالت میں ایک دن اپ نے اپنی بیوی صاحبہ کو پکارا تو وہ بہت دیر کر کے حاضر ہوئی اس پر غصہ میں ا کر اپ نے ان کو 100 درہ مارنے کی قسم کھا لی تھی تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے ایوب اپ ایک سنکوں کی جھاڑو سے ایک مرتبہ اپنی بیوی کو مار دیجئے اس طرح اپ کی قسم پوری ہو جائے گی چنانچہ اللہ تعالی نے قران مجید میں اس واقعہ کو اس طرح بیان فرمایا ہے ہم نے فرمایا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو یہ ہے ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کا اور ہم اسے اس کے گھر والے اور ان کے برابر اور اپنی رحمت سے عطا فرما دیے عقلمندوں کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے اور ہم نے فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو دے کر اس سے مار دو اور قسم نہ توڑو بے شک ہم نے اس ایوب کو صابر پایا وہ کیا ہی اچھا بندہ ہے بے شک وہ خدا کی طرف بہت رجوع انے والا ہے (سورہ ص ع 4پارہ 23)
الغرض حضرت ایوب علیہ السلام اس امتحان میں پورے پورے کامیاب ہو گئے اور اللہ تعالی نے ان کو اپنی نوازشوں اور عنایتوں سے ہر طرح سرفراز فرما دیا اور قران مجید میں ان کی مدح خوانی فرما کر اواب کے لاجواب خطاب سے ان کے سر مبارک پر سر بلندی کا تاج رکھ دیا پوسٹ پسند ائی ہو تو لائک اور شیئر کریں ا
Learn quran with hafiza Shumaila

(حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بت شکنی )حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت پرستی کے معاملہ میں پہلے تو اپنی قوم سے مناظرہ کر ک...
27/04/2026

(حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بت شکنی )
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت پرستی کے معاملہ میں پہلے تو اپنی قوم سے مناظرہ کر کے حق کو ظاہر کر دیا مگر لوگوں نے حق کو قبول نہیں کیا بلکہ کہا کہ کل ہماری عید کا دن ہے اور ہمارا ایک بہت بڑا میلہ لگے گا وہاں اپ چل کر دیکھیں کہ ہمارے دین میں کیا لطف اور کیسی بہار ہے اس قوم کا یہ دستور تھا کہ سالانہ ان لوگوں کا ایک میلہ لگتا تھا لوگ ایک جنگل میں جمع ہوتے اور دن بھر لہو ولعب مشغول رہ کر شام کو بت خانہ میں جا کر بتوں کی پوجا کرتے اور بتوں کے چڑھاوے مٹھائی اور کھانوں کو پرشاد کے طور پر کھاتے حضرت ابراہیم علیہ السلام قوم کی دعوت پر تھوڑی دور تو میلا کی طرف چلے لیکن پھر اپنی بیماری کا عذر کر کے واپس لوٹ ائے اور قوم کے لوگ میلا میں چلے گئے پھر جو میلا میں نہیں گئے اپ نے ان لوگوں سے صاف صاف کہہ دیا کہ قران پاک نے اس کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے مجھے خدا کی قسم ہے کہ میں ضرور ضرور تمہارے بتوں کے ساتھ برا سلوک کروں گا تمہارے چلے جانے کے بعد (سورہ الانبیاء ع 5)
چنانچہ اس کے بعد اپ کلہاڑی لے کر بت خانہ میں تشریف لے گئے اور دیکھا کہ اس میں چھوٹے بڑے بہت سے بت ہیں اور دروازہ کے سامنے ایک بہت بڑا بت ہے ان جھوٹے معبودوں کو دیکھ کر توحید الہی کے جذبہ سے اپ جلال میں اگئے اور کلہاڑی سے مار مار کر بتوں کو چکنا چور کر ڈالا اور سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا اور کلہاڑی اس کے کندھے پر رکھ کر اپ بت خانہ سے باہر چلے ائے قوم کے لوگ جب میلا سے واپس لوٹ کر بت پوجنے اور پرشاد کھانے کے لیے بت خانہ میں گھسے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کے دیوتا ٹوٹے پھوٹے پڑے ہیں ایک دم سب وہ بو کھلا گئے اور شور مچا کر چلانے لگے کہ قران پاک نے اس کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ہمارے خداؤں کے ساتھ کس نے یہ سلوک کیا ہے بے شک وہ ظالم ہے (سورہ الانبیاء)
تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم نے ایک جوان کو جس کا نام ابراہیم ہے اس کی زبان سے ان بتوں کو برا بھلا کہتے ہوئے سنا ہے قوم نے کہا کہ اس جوان کو لوگوں کے سامنے لاؤ شاید لوگ گواہی دیں کہ اس نے بتوں کو توڑا ہے چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بلائے گئے تو قوم کے لوگوں نے پوچھا کہ اے ابراہیم کیا تم نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے اس بڑے بت نے کیا ہوگا کیونکہ کلہاڑی اس کے کاندھے پر ہے اخر تم لوگ اپنے ان ٹوٹے پھوٹے خداؤں ہی سے کیوں نہیں پوچھتے کہ کس نے تمہیں توڑا ہے اگر یہ بول سکتے ہیں تو انہی سے پوچھ لو وہ خود بتا دیں گے کہ کس نے انہیں توڑا ہے قوم نے سر جھکا کر کہا کہ اے ابراہیم ہم ان خداؤں سے کیا اور کیسے پوچھیں اپ تو جانتے ہی ہیں کہ یہ بت بول نہیں سکتے یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جلال میں تڑپ کر فرمایا کہ قران پاک نے اس کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے تو کیا تم لوگ اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں نفع دے اور نہ نقصان پہنچائے تف ہے تم پر اور ان بتوں پر جن کو اللہ کے سوا تم لوگ پوجتے ہو کیا تم لوگ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے (سورہ الانبیاء ع17)
اپ کی اس حق گوئی کا نعرہ حق سن کر قوم نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ شور مچایا اور چلا چلا کر بت پرستوں کو بلایا قران پاک نے اس کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے اے لوگو حضرت ابراہیم کو اگ میں جلا دو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہے تو کرو (سورہ الانبیاءع5)
چنانچہ ظالموں نے اتنا لمبا چوڑا اگ کا الاؤ جلایا کہ اس اگ کے شعلے اتنے بلند ہو رہے تھے کہ اس کے اوپر سے کوئی پرندہ بھی اڑ کر نہیں جا سکتا تھا پھر اپ کو ننگے بدن کر کے ان ظلم و ستم کے مجسموں نے ایک گوپن کے ذریعے اس اگ میں پھینک دیا اور اپنے اس خیال میں مگن تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جل کر راکھ ہو گئے ہوں گے مگر احکم الحاکمین کا فرمان اس اگ کے لیے یہ صادر ہو گیا قران پاک نے اس کو اس طرح ارشاد فرمایا ہم نے فرما دیا کہ اے اگ تو ٹھنڈی اور سلامتی بن جا ابراہیم علیہ السلام پر چنانچہ نتیجہ یہ ہوا جس کو قران مجید نے ان الفاظ میں ارشاد فرمایا اور انہوں نے حضرت ابراہیم کا برا چاہا تو ہم نے انہیں سب سے زیادہ گھاٹا اٹھانے والا ناکام بنا دیا اگ بجھ گئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام زندہ اور سلامت رہ کر نکل ائے اور ظالم لوگ کف افسوس مل کر رہ گئے (سورة الانبیاء ع5پارہ 17)
(حضرت ابراہیم علیہ السلام کا توکل )
روایت ہے کہ جب نمرود نے اپنی ساری قوم کے روبرو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اگ میں پھینک دیا تو زمین و اسمان کی تمام مخلوقات چیخ مار مار کر بارگاہ خداوندی میں عرض کرنے لگی کہ خداوند تیرے خلیل اگ میں ڈالے جا رہے ہیں اور ان کے سوا زمین میں کوئی اور انسان تیری توحید کا علمبردار اور تیرا پرستار نہیں لہذا تو اجازت دے کہ ہم ان کو امداد اور نصرت کریں تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ ابراہیم میرے خلیل ہیں اور میں ان کا معبود ہوں تو اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام سبھوں سے فریاد کر کے مدد طلب کریں تو میری اجازت ہے کہ سب ان کی مدد کرو اور اگر وہ میرے سوا کسی اور سے کوئی مدد طلب نہ کرے تو تم سب سن لو کہ میں ان کا دوست اور حامی و مددگار ہوں لہذا تم سب ان کا معاملہ میرے اوپر چھوڑ دو اس کے بعد اپ کے پاس پانی کا فرشتہ ایا اور کہا کہ اگر اپ فرمائیں تو میں پانی برسا کر اس اگ کو بجھا دوں پھر ہوا کا فرشتہ حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ اگر اپ کا حکم ہو تو میں زبردست اندھی چلا کر اس اگ کو اڑا دوں تو اپ نے ان دونوں فرشتوں سے فرمایا کہ مجھے تم لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے مجھ کو میرا اللہ کافی ہے اور وہی میرا بہترین کار ساز ہے وہی جب چاہے گا اور جس طرح اس کی مرضی ہوگی میری مدد فرمائے گا (صاوی ج 3ص 68)
(کون سی دعا پڑھ کر اپ اگ میں گئے )
ایک روایت میں یہ بھی ایا ہے کہ جب کافروں نے اپ کو اگ میں ڈالا تو اپ نے اس وقت یہ دعا پڑھی لا الہ الا انت سبحنک لک الحمد ولک الملک لا شریک لک اور جب اپ اگ کے شولوں میں داخل ہو گئے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور کہا کہ اے خلیل اللہ کیا اپ کو کوئی حاجت ہے تو اپ نے فرمایا کہ تم سے کوئی حاجت نہیں ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ پھر خدا ہی سے اپنی حاجت عرض کیجئے تو اپ نے جواب دیا کہ وہ میرے حال کو خوب جانتا ہے لہذا مجھے اس سے سوال کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر شریف 16 یا 20 برس کی تھی
(اپ کتنی دیر تک اگ میں رہے )
اس بارے میں کہ اپ کتنی مدت تک اگ کے اندر رہے تو تین اقوال ہیں بعض مفسرین کا قول ہے کہ سات دنوں تک اپ اگ کے شعلوں میں رہے اور بعض نے یہ تحریر کیا کہ 40 دن رہے اور بعض کہتے ہیں کہ 50 دن تک اپ اگ میں رہے واللہ تعالی اعلم (صاوی 3ص و جلالین وغیرہ)
پوسٹ پسند ائی ہو تو لائک اور شیئر کریں ں
Learn quran with hafiza Shumaila

(دریا کی موجوں سے ماں کی گود میں )فرعون کو نجومیوں نے یہ خبر دی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہوگا جو تیری سل...
26/04/2026

(دریا کی موجوں سے ماں کی گود میں )
فرعون کو نجومیوں نے یہ خبر دی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہوگا جو تیری سلطنت کی بربادی کا سبب ہوگا اس لیے فرعون نے اپنی فوجوں کو یہ حکم دے دیا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو اس کو قتل کر دیا جائے اسی مصیبت و افت کے دور میں حضرت موسی علیہ السلام پیدا ہوئے تو ان کی والدہ نے فرعون کے خوف سے ان کو ایک صندوق میں رکھ کر صندوق کو مضبوطی سے بند کر کے دریا نیل میں ڈال دیا دریا سے نکل کر ایک نہر فرعون کے محل کے نیچے بہتی تھی یہ صندوق دریائے نیل سے بہتے ہوئے نہر میں چلا گیا اتفاق سے فرعون اور اس کی بیوی اسیہ دونوں محل میں بیٹھے ہوئے نہر کا نظارہ کر رہے تھے جب ان دونوں میں صندوق کو دیکھا تو خدام کو حکم دیا کہ اس صندوق کو نکال کر محل ملائیں جس صندوق کو کھولا گیا تو اس میں سے ایک نہایت خوبصورت بچہ نکلا جس کے چہرہ پر حسن و جمال کے ساتھ ساتھ انوار نبوت کی تجلیاں چمک رہی تھیں فرعون اور اسیہ دونوں اس بچے کو دیکھ کر دل و جان سے اس پر قربان ہو نے لگے اور اسیہ نے فرعون سے کہا کہ قران پاک نے اس کو ان الفاظ میں بیان فرمایا یہ بچہ میری اور تیری انکھ کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل مت کرو شاید یہ ہمیں نفع دے یا ہم اس کو بیٹا بنا لیں اور وہ انجام سے بے خبر تھے (سورہ القصص ع1)
اس پورے واقعہ کو قران مجید نے سورہ طہ میں اس طرح بیان فرمایا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے اور جب ہم نے اے موسی تیری ماں کے دل میں وہ بات ڈال دی جو الہام کرنا تھا کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دے تو دریا اس کو کنارے پر ڈال دے کے وہ اس کو اٹھا لے جو میرا اور اس کا دشمن ہے اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے پالا جائے (سورہ طہ ع 2پارہ 16)
چونکہ ابھی حضرت موسی علیہ السلام شیر خوار بچے تھے اس لیے ان کو دودھ پلانے والی کسی عورت کی تلاش ہوئی مگر اپ کسی عورت کا دودھ پیتے ہی نہیں تھے ادھر حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ بے حد پریشان ہو کر انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام کی بہن مریم کو جستجوئے حال کے لیے فرعون کے محل میں بھیجا اور مریم نے جب یہ حال دیکھا کہ بچہ کسی عورت کا دودھ نہیں پیتا تو انہوں نے فرعون سے کہا کہ میں ایک عورت کو لاتی ہوں شاید کہ یہ اس کا دودھ پینے لگیں چنانچہ مریم حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ کو فرعون کے محل میں لے کر گئیں اور انہوں نے جیسے ہی جوش محبت میں سینے سے چمٹا کر دودھ پلایا تو اپ دودھ پینے لگے اس طرح حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ کو ان کا بچھڑا ہوا لال مل گیا اس واقعہ کا تذکرہ قران مجید کی سورہ قصص میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اور صبح کو موسی کی ماں کا دل بے صبر ہو گیا یقینا قریب تھا کہ وہ اس کا حال کھول دیتی اگر ہم اس کے دل پر ڈھارس نہ بندھا دیتے یہ اس لیے ہم نے کیا کہ اسے ہمارے وعدہ پر یقین رہے اور موسی کی ماں نے ان کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے تو چلی جا تو وہ اسے دور سے دیکھتی رہی اور ان لوگوں کو اس کی خبر نہ تھی اور ہم نے سب دائیاں اس پر حرام کر دی تو حضرت موسی کی بہن بولی کہ کیا میں تمہیں ایسے گھر والے بتا دوں کہ تمہارے لیے اس بچے کو پال دیں اور وہ اس کے خیر خواہ ہیں تو ہم نے اسے ان کی ماں کی طرف لوٹا دیا کہ ماں کی انکھ ٹھنڈی ہو اور وہ غمگین نہ ہو اور وہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ اس کو نہیں جانتے (سورہ قصص پارہ 20ع1)
(حضرت موسی کی والدہ کا نام )
حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ کا نام یوحاند اور باپ کا نام عمران ہے اور حضرت موسی علیہ السلام کی بہن کا نام مریم ہے مگر یاد رکھو کہ یہ وہ مریم نہیں ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ ہیں حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ مریم حضرت موسی علیہ السلام کی بہن سے سینکڑوں برس بعد پیدا ہوئیں (صاوی ج 3ص45ص 46)
جب اللہ تعالی کا فضل ہوتا ہے تو دشمن سے وہ کام کرا لیتا ہے جو دوست بھی نہیں کر سکتے دیکھ لیجئے کہ فرعون حضرت موسی علیہ السلام کا سب سے بڑا دشمن تھا مگر حضرت موسی علیہ السلام کی پرورش فرعون ہی کے گھر میں ہوئی یہ بھی معلوم ہوں ہوا کہ جب اللہ تعالی کسی کی حفاظت فرماتا ہے تو کوئی بھی اس کو نہ ضائع کر سکتا ہے نہ ضرر پہنچا سکتا ہے غور کرو کہ حضرت موسی علیہ السلام کو کس طرح باحفاظت صحت و سلامتی کے ساتھ اللہ تعالی نے پھر ان کی ماں کی گود میں پہنچا دیا
پوسٹ پسند ائی ہو تو لائک اور شیئر کریں ں
Learn quran with hafiza Shumaila e pak

(حضرت عیسی علیہ السلام کے پہلی تقریر )جب حضرت مریم حضرت عیسی علیہ السلام کو گود میں لے کر بنی اسرائیل کی بستی میں تشریف ...
24/04/2026

(حضرت عیسی علیہ السلام کے پہلی تقریر )
جب حضرت مریم حضرت عیسی علیہ السلام کو گود میں لے کر بنی اسرائیل کی بستی میں تشریف لائیں تو قوم نے اپ پر بدکاری کی تہمت لگائی اور لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اے مریم تم نے یہ بہت برا کام کیا حالانکہ تمہارے والد میں کوئی خرابی نہیں تھی اور تمہاری ماں بھی بدکار نہیں تھی بغیر شوہر کے تمہارے لڑکا کیسے ہو گیا جب قوم نے بہت زیادہ طعنہ زنی اور بدگوئی کی تو حضرت مریم خود تو خاموش رہیں مگر اشارہ کیا کہ اس بچے سے تم لوگ سب کچھ پوچھ لو تو لوگوں نے کہا کہ ہم اس بچے سے کیا اور کیوں کر اور کس طرح گفتگو کریں یہ تو ابھی بچہ ہے جو پالنے میں پڑا ہوا ہے قوم کا یہ کلام سن کر حضرت عیسی علیہ السلام نے تقریر شروع کر دی جس کا ذکر اللہ پاک نے قران مجید میں یوں فرمایا ہے حضرت عیسی نے کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے نبی اور برکت والا بنایا میں جہاں بھی رہوں اور مجھے نماز اور زکوۃ کی تاکید فرمائی جب تک میں زندہ رہوں اور مجھے میری ماں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا بنایا اور رہے سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں (سورہ مریم ع2پارہ 16)
یہ حضرت عیسی علیہ السلام کا معجزہ ہے کہ پیدا ہوتے ہی فصیح زبان میں ایسی جامع تقریر فرمائی اس تقریر میں سب سے پہلے اپ نے اپنے کو خدا کا بندہ کہا تاکہ کوئی انہیں خدا یا خدا کا بیٹا نہ کہہ سکے کیونکہ لوگ ائندہ اپ پر تہمت لگانے والے تھے اور یہ تہمت اللہ تعالی پر لگتی تھی اس لیے اپ کے منصب رسالت کا یہی تقاضا تھا کہ اپنی والدہ پر لگائی جانے والی تہمت کو رفع کرنے سے پہلے اس تہمت کو دفع کریں جو اللہ تعالی پر لگائی جانے والی تھی اللہ اکبر سچ ہے کہ خداوند قدوس جس کو نبوت کے شرف سے نوازتا ہے یقینا اس کی ولادت نہایت ہی پاک اور طیب و طاہر ہوئی ہے اور بچپن ہی سے اس کو نبوت کے اعلی اثار ظاہر ہونے لگتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام کی اس تقریر سے معلوم ہوا کہ نماز زکوۃ اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک یہ ایسے فرائض ہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی شریعت میں بھی فرض تھے پوسٹ پسند ائی ہو تو لائک اور شیئر کریں
Learn quran with hafiza Shumaila e pak

(سفر مجمع البحرین کی جھلکیاں )ایک روایت میں ہے کہ جب فرعون ماں اپنے لشکر کے دریائے نیل میں غرق ہو گیا اور حضرت موسی علیہ...
23/04/2026

(سفر مجمع البحرین کی جھلکیاں )
ایک روایت میں ہے کہ جب فرعون ماں اپنے لشکر کے دریائے نیل میں غرق ہو گیا اور حضرت موسی علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے ساتھ مصر میں قرار نصیب ہوا تو ایک دن موسی علیہ السلام کا اللہ تعالی سے اس طرح مکالمہ شروع ہوا
(حضرت موسی علیہ السلام )
خداوند تیرے بندوں میں سے سب سے زیادہ تجھ کو محبوب کون سا بندہ ہے
(اللہ تعالی)
جو میرا ذکر کرتا ہے اور مجھے کبھی فراموش نہ کرے
(حضرت موسی علیہ السلام )
سب سے بہتر کرنے والا کون ہے
(اللہ تعالی)
جو حق کے ساتھ فیصلہ کرے اور کبھی بھی خواہش نفسانی کی پیروی نہ کرے
(حضرت موسی علیہ السلام )
تیرے بندوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے
(اللہ تعالی)
جو ہمیشہ اپنے علم کے ساتھ دوسروں سے علم سیکھتا رہے تاکہ اس طرح اسے کوئی ایک ایسی بات مل جائے جو اسے ہدایت کی طرف رہنمائی کرے یا اس کو ہلاکت سے بچا لے
(حضرت موسی علیہ السلام )
اگر تیرے بندوں میں کوئی مجھ سے زیادہ علم والا ہو تو مجھے اس کا پتہ بتا دے
(اللہ تعالی)
خضر تم سے زیادہ علم والے ہیں
(حضرت موسی علیہ السلام )
میں انہیں کہاں تلاش کروں
(اللہ تعالی)
ساحل سمندر پر چٹان کے پاس
(حضرت موسی علیہ السلام )
میں وہاں کیسے اور کس طرح پہنچوں
(اللہ تعالی)
تم ایک ٹوکری میں ایک مچھلی لے کر سفر کرو جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے بس وہیں خضر سے تمہاری ملاقات ہوگی (مدارک التنزیل نسفی ج٣ص١٨)
اس کے بعد حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے خادم اور شاگرد حضرت یوشع بن نون بن افرائیم بن یوسف علیہم السلام کو اپنا رفیق سفر بنا کر مجمع البحرین کا سفر فرمایا حضرت موسی علیہ السلام چلتے چلتے جب بہت دور چلے گئے تو اس جگہ سو گئے اسی جگہ مچھلی ٹوکری میں تڑپ کر سمندر میں کود گئی اور جس جگہ پانی میں ڈوبی وہاں پانی میں ایک سوراخ بن گیا حضرت موسی علیہ السلام نے نیند سے بیدار ہو کر پھر چلنے لگے جب دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو اپ نے اپنے شاگرد حضرت یوشع بن نون علیہ السلام سے مچھلی طلب فرمائی تو انہوں نے عرض کیا کہ چٹان کے پاس جہاں اپ سو گئے تھے مچھلی کود کر سمندر میں چلی گئی اور میں اپ کو بتانا بھول گیا اپ نے فرمایا کہ ہمیں تو اس جگہ کی تلاش تھی بہرحال پھر اپنے قدموں کے نشانات کو تلاش کرتے ہوئے اس جگہ پہنچ گئے جہاں حضرت خضر سے ملاقات کی جگہ بتائی گئی تھی وہاں پہنچ کر حضرت موسی علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک بزرگ کپڑوں میں لپٹے ہوئے بیٹھے ہیں جب حضرت موسی علیہ السلام نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے تعجب سے فرمایا کہ اس زمین میں سلام کرنے والے کہاں سے اگئے پھر انہوں نے پوچھا کہ اپ کون ہیں تو اپ نے فرمایا کہ میں موسی ہوں تو انہوں نے دریافت کیا کہ کون موسی کیا اپ بنی اسرائیل کے موسی ہیں تو اپ نے فرمایا کہ جی ہاں تو حضرت خضر نے فرمایا کہ اے موسی مجھے اللہ تعالی نے ایک ایسا علم دیا ہے جس کو اپ نہیں جانتے اور اپ کو اللہ تعالی نے ایسا علم دیا ہے جس کو میں نہیں جانتا مطلب یہ تھا کہ میں علم اسرار جانتا ہوں جس کا اپ کو علم نہیں اور اپ علم الژائع جانتے ہیں جس کو میں نہیں جانتا پھر حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ اے خضر کیا اپ مجھے اس کی اجازت دیتے ہیں کہ میں اپ کے پیچھے پیچھے چلوں تاکہ اللہ تعالی نے اپ کو جو علوم دیے ہیں اپ کچھ مجھے بھی تعلیم دیں تو حضرت خضر نے کہا کہ اپ میرے ساتھ ہرگز ہرگز صبر نہ کر سکیں گے حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ میں انشاءاللہ تعالی صبر کروں گا اور ہرگز ہرگز کبھی بھی کوئی نافرمانی نہیں کروں گا حضرت خضر نے کہا کہ شرط یہ ہے کہ اپ مجھ سے کسی بات کے متعلق کوئی سوال نہ کریں یہاں تک کہ میں خود اپ کو بتا دوں غرض اس عہد و معاہدہ کے بعد حضرت خضر نے حضرت موسی اور یوشع بن نون علیہم السلام کو اپنے ساتھ لے کر سمندر کے کنارے کنارے چلنا شروع کر دیا یہاں تک کہ ایک کشتی پر نظر پڑی اور کشتی والوں نے تینوں صاحبان کو کشتی میں سوار کر لیا اور کشتی کا کرایہ بھی نہیں مانگا جب یہ لوگ کشتی میں بیٹھ گئے تو حضرت خضر نے اپنے جھولے میں سے کلہاڑی نکال لی اور کشتی کو پھاڑ کر اس کا ایک تختہ نکال کر سمندر میں پھینک دیا یہ منظر دیکھ کر حضرت موسی علیہ السلام برداشت نہ کر سکے اور حضرت خضر سے یہ سوال کر بیٹھے قران پاک نے اس کو ان الفاظ میں بیان فرمایا کیا اپ نے کشتی پھاڑ دی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کشتی والے غرق ہو جائیں گے یہ اپ نے بہت برا کام کیا (سورہ کہف ع10)
حضرت خضر نے کہا کہ کیا میں نے اپ سے یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ اپ ہرگز ہرگز میرے ساتھ صبر نہ کر سکیں گے حضرت موسی علیہ السلام نے معذرت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے بھول کر سوال کر دیا لہذا اپ میری بھول پر میری گرفت نہ کیجئے اور میرے کام میں مشکل نہ ڈالیے پھر یہ حضرات کچھ دور اگے کو چلے تو خضر نے ایک نابالغ بچے کو دیکھا جو اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹھا تھا حضرت خضر نے گلا دبا کر اور زمین پر پٹک کر اس بچے کو قتل کر ڈالا یہ ہوش ربا خونی منظر دیکھ کر حضرت موسی علیہ السلام میں صبر کی تاب نہ رہی اور اپ نے ذرا سخت لہجے میں حضرت خضر سے یہ کہہ دیا قران پاک نے اس کو ان الفاظ میں بیان فرمایا کیا اپ نے ایک ستھری جان بغیر کسی جان کے بدلے قتل کر دی بلا شبہ اپ نے بہت ہی برا کام کر ڈالا ہے (سورہ کہف ع 10)
حضرت خضر نے پھر یہی جواب دیا کہ کیا میں نے اپ سے یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ اپ ہرگز ہرگز میرے ساتھ صبر نہ کر سکیں گے حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ اچھا اب اگر اس کے بعد میں اپ سے کچھ پوچھوں تو اپ میرے ساتھ نہ رہیے گا اس میں شک نہیں کہ میری طرف سے اپ کا کوئی عذر پورا ہو چکا ہے پھر اس کے بعد ان حضرات نے ساتھ ساتھ چلنا شروع کر دیا یہاں تک کہ یہ لوگ ایک گاؤں میں پہنچے اور گاؤں والوں سے کھانا طلب کیا مگر گاؤں والوں میں سے کسی نے بھی ان صالحین کی دعوت نہیں کی پھر ان دونوں نے گاؤں میں ایک گرتی ہوئی دیوار پائی تو حضرت خضر نے اسم اعظم پڑھ کر اس دیوار کو سیدھی کر دیا حضرت موسی علیہ السلام گاؤں والوں کی بد اخلاقی سے بیزار تھے ہی اپ کو غصہ اگیا برداشت نہ کر سکے اور یہ فرما دیا کہ اگر اپ چاہتے تو اس کام کی مزدوری لے لیتے (سورہ کہف ع 11)
یہ سن کر حضرت خضر نے کہہ دیا کہ اب میرے اور اپ کے درمیان جدائی ہے اور جن چیزوں کو دیکھ کر اپ صبر نہ کر سکے ان کا راز میں اپ کو بتا دوں گا سنیے جو کشتی میں نے پھاڑ ڈالی وہ چند مسکینوں کی تھی جس کی امدنی سے وہ لوگ گزر بسر کرتے تھے اور اگے ایک ظالم بادشاہ رہتا تھا جو سالم اور اچھی کشتیوں کو چھین لیا کرتا تھا اور اے بدار کشتیوں کو چھوڑ دیا کرتا تھا تو میں نے قصدا ایک تختہ نکال کر اس کشتی کو عیب دار کر دیا تاکہ ظالم بادشاہ کے غضب سے محفوظ رہے اور جس لڑکے کو میں نے قتل کر دیا اس کے والدین بہت نیک اور صالح تھے اور یہ لڑکا پیدائشی کافر تھا اور والدین اس لڑکے سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور اس کی ہر خواہش پوری کرتے تھے تو ہمیں یہ خوف و خطرہ نظر ایا کہ وہ لڑکا کہیں اپنے والدین کو کفر میں نام مبتلا کر دے اس لیے میں نے اس لڑکے کو قتل کر کے اس کے والدین کو کفر سے بچا لیا اب اس کے والدین صبر کریں گے تو اللہ تعالی اس لڑکے کے بدلے میں اس کے والدین کو ایک بیٹی عطا فرمائے گا جو ایک نبی سے بیاہی جائے گی اور اس کے شکم سے ایک نبی پیدا ہوگا جو ایک امت کو ہدایت کرے گا اور گرتی ہوئی دیوار کو سیدھی کرنے کا راز یہ تھا کہ یہ دیوار دو یتیم بچوں کی تھی جس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا اور ان دونوں کا باپ ایک صالح اور نیک ادمی تھا اگر ابھی یہ دیوار گر جاتی تو ان یتیموں کا خزانہ گاؤں والے لے لیتے اس لیے اپ کے پروردگار نے یہ چاہا کہ یہ دونوں یتیم بچے جوان ہو کر اپنا خزانہ نکال لیں اس لیے ابھی میں نے دیوار کو گرنے نہیں دیا یہ خداوند تعالی کی ان بچوں پر مہربانی ہے اور اے موسی اپ یقین اور اطمینان رکھیں کہ میں نے جو کچھ بھی کیا ہے اپنی طرف سے نہیں کیا ہے بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالی کے حکم سے کیا ہے اس کے بعد حضرت موسی علیہ السلام اپنے وطن واپس لوٹ ائے (جلالین صاوی مدارک وغیرہ ملخصا)
(حضرت خضر کا تعارف )
حضرت خضر علیہ السلام کی کنیت ابو العباس اور نام بلیا اور ان کے والد کا نام ملکان ہے بلیا سریانی زبان کا لفظ ہے عربی زبان میں اس کا ترجمہ احمد ہے خضر ان کا لقب ہے اور اس لفظ کو تین طرح سے پڑھ سکتے ہیں حضر خضر خضر کے معنی سبز چیز کے ہیں یہ جہاں بیٹھتے تھے وہاں اپ کی برکت سے ہری ہری گھاس اگ جاتی تھی اس لیے لوگ ان کو خضر کہنے لگے یہ بہت ہی علی خاندان ہے اور ان کے اباؤ اجداد بادشاہ تھے بعض عارفین نے فرمایا ہے کہ جو مسلمان ان کا اور ان کے والد کا نام اور ان کی کنیت یاد رکھے گا انشاءاللہ تعالی اس کا خاتمہ ایمان پر ہوگا (صاوی ج ٣ص17)
(حضرت خضر زندہ ولی ہیں )
بعض لوگوں نے حضرت خضر کو نبی بتایا ہے لیکن اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ اپ ولی ہیں اور جمہور علماء کا یہی قول ہے کہ اپ اب بھی زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے کیونکہ اپ نے اب حیات پی لیا ہے اپ کے گرد بکثرت اولیاء کرام جمع رہتے ہیں اور فیض پاتے ہیں چنانچہ عارف باللہ حضرت سید بکری نے اپنے قصیدہ درد السحر میں اپ کے بارے میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ ترجمہ تیرے حق کی قسم کہ حضرت خضر زندہ ہیں اور ان کی وفات کا قائل وہی ہوگا جو ان کے نور جمال سے ملاقات نہیں کر سکا ہے تو میری طرف سے ان پر جب جب باد صبا چلے ستھرا سلام ہو کہ پاکیزگی کے ساتھ باد صبا ان کو پہنچائے حضرت خضر پیارے اقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے ہیں اس لیے یہ صحابی بھی ہیں (تفسیر صاوی ج 3ص18)
پوسٹ پسند ائی ہو تو لائک اور شیئر کریں ں
Learn quran with hafiza Shumaila e pak

Address

Faisalabad
3800

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Inislam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category