27/05/2026
السلام و علیکم
عید الاضحی مبارک 🌙 🐑
دعا ہے کہ یہ عید آپ کی زندگی میں خوشیاں، سکون اور نئی کامیابیاں لے کر آئے۔
اسلامیہ ہائی سکول جناح کالونی فیصل آباد
Govt. Islamia High School Jinnah Colony Faisalabad
21/05/2026
گرمیوں کی چھٹیوں کے متعلق پرنسپل آفتاب عالم صاحب کا پیغام
Govt. Islamia High School Jinnah Colony Faisalabad
18/05/2026
اسلامیہ ہائی سکول جناح کالونی فیصل آباد میں جدید تعلیمی ذرائع کے مؤثر استعمال کی ایک خوبصورت مثال ، جہاں عربی کے قابل اور تجربہ کار استاد، جناب ظفر سلیم صاحب نے طلبہ کو قرآنِ پاک میں موجود رموزِ اوقاف کے موضوع پر ایک تفصیلی لیکچر دیا۔
پروجیکٹر اور ملٹی میڈیا پریزنٹیشن کی مدد سے پیش کیے گئے اس لیکچر میں قرآنِ مجید کی آیات اور عملی مثالوں کے ذریعے طلبہ کو نہایت آسان اور مؤثر انداز میں سمجھایا گیا کہ رموزِ اوقاف قراءت، تلفظ اور مفہوم کو درست انداز میں سمجھنے میں کس قدر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دو سے تین گھنٹے پر مشتمل اس سیشن کے دوران طلبہ کی توجہ، دلچسپی اور خاموش انہماک اس بات کا ثبوت تھا کہ جب محنتی اساتذہ جدید وسائل کے ساتھ تدریس کریں تو سیکھنے کا عمل مزید مؤثر اور بامقصد بن جاتا ہے۔
Maryam Nawaz Sharif
Rana Sikandar Hayat
Hashim Khan
Deo Secondary Faisalabad
Govt. Islamia High School Jinnah Colony Faisalabad
19/04/2026
Wishing the very best of luck to all our 9th-grade students appearing in the SSC Board Exams. You’ve got the knowledge, the talent, and the grit to succeed.
Go out there and make us proud! 🎓🏆
Rana Sikandar Hayat
Hashim Khan
18/04/2026
مفتی حافظ ظفر سلیم صاحب
(EST Arabic | شہادت العالمیہ (مساوی M.A) | تخصص فی الافتاء (مساوی MPhil) | B.Ed)
تاریخ پیدائش: 4 مارچ 1979
تدریسی خدمات کا آغاز: 26 اکتوبر 2009
گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول جناح کالونی میں جوائننگ: 22 جولائی 2020
کچھ شخصیات علم، عمل اور اخلاص کا ایسا حسین امتزاج ہوتی ہیں کہ ان کی موجودگی خود ایک ادارہ بن جاتی ہے۔ مفتی حافظ ظفر سلیم صاحب بھی انہی باوقار اور باعمل اساتذہ میں سے ہیں جن کی شخصیت علمِ دین، تدریس اور خدمتِ خلق کا ایک مکمل نمونہ پیش کرتی ہے۔
آپ نے قرآنِ پاک حفظ کیا، شہادتُ العالمیہ (مساوی ایم اے) کی ڈگری حاصل کی اور تخصص فی الافتاء (مساوی ایم فل) مکمل کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ عصری تعلیم سے بھی جڑے رہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ دینی اور دنیاوی علوم کو ساتھ لے کر چلنے کے قائل ہیں۔
بطور استاد آپ کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ آپ طلبہ کی نفسیات کو سمجھ کر انہیں پڑھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے زیرِ تعلیم 80 سال سے زائد افراد نے زندگی میں پہلی مرتبہ قرآنِ پاک پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ آپ نہ صرف پڑھاتے ہیں بلکہ سیکھنے کے شوق رکھنے والے طلبہ کو کتابت (خوبصورت لکھائی) بھی سکھاتے ہیں، جو آج کے دور میں ایک نایاب فن بنتا جا رہا ہے۔
مفتی صاحب 2002 سے کمپیوٹر کا استعمال کر رہے ہیں اور زیادہ تر مطالعہ اسی کے ذریعے کرتے ہیں۔ کتب سے محبت کا یہ عالم ہے کہ ان کے پاس ایک ذاتی لائبریری موجود ہے جس میں تقریباً ایک لاکھ کتب شامل ہیں، جن کی مالیت لاکھوں روپے ہے۔ یہ علمی ذخیرہ ان کے علم سے لگاؤ اور مسلسل سیکھنے کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔
آپ کی زندگی محنت، خودداری اور استقامت کی ایک مثال ہے۔ 1990 میں والد محترم کے انتقال کے بعد آپ نے اپنی تعلیم کا سفر جاری رکھا، یہاں تک کہ زمانہ طالب علمی میں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے خود ٹوپیاں بنا کر فروخت کرتے رہے، مگر کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔
آپ کے اساتذہ میں جلیل القدر شخصیات شامل ہیں جن میں شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب، پیرِ کامل سید جاوید حسین شاہ صاحب اور دیگر ممتاز علماء کرام شامل ہیں۔ آپ آج بھی اپنے اساتذہ کا اسی طرح احترام کرتے ہیں اور اہم معاملات میں ان سے رہنمائی لیتے ہیں، جیسا کہ ایک سچے طالب علم کا شیوہ ہوتا ہے۔
سکول کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ آپ مسجد میں درسِ قرآن، درسِ حدیث اور مختلف دینی کلاسز بھی باقاعدگی سے لیتے ہیں۔ آپ کی کلاسز میں بعض اوقات تین نسلیں ایک ساتھ بیٹھ کر علم حاصل کرتی ہیں — دادا، والد اور پوتا — جو آپ کے اثر اور اعتماد کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
آپ “التربیہ علم و عمل” گروپ کے کوآرڈینیٹر بھی ہیں، جس کے تحت تقریباً 500 علماء کرام کام کر رہے ہیں۔ خدمتِ خلق کا جذبہ بھی آپ میں بھرپور موجود ہے۔ حالیہ سیلاب کے دوران علی پور میں آپ نے تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا، جس میں راشن، خیمے، ادویات اور دیگر ضروریات شامل تھیں۔
بطور استاد آپ اپنے طلبہ کو صرف نصاب تک محدود نہیں رکھتے بلکہ انہیں اخلاق، آداب اور مضبوط ایمانی بنیادیں بھی فراہم کرتے ہیں۔ آپ کا مقصد ایسے طلبہ تیار کرنا ہے جن کا ایمان کسی بھی آزمائش میں متزلزل نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو EST ہونے کے باوجود اکثر ہائی سیکشن کی کلاسز، خصوصاً نہم اور دہم، پڑھانے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔
آپ کا اپنے مضمون پر عبور اس قدر مضبوط ہے کہ آپ کسی بھی ماحول میں، حتیٰ کہ اساتذہ کی موجودگی میں بھی، بغیر کسی جھجک کے پڑھاتے ہیں۔ آپ اسلام پر ہونے والے اعتراضات کا علمی اور تحقیقی انداز میں جواب دیتے ہیں اور عالمی سطح پر دینِ اسلام کا دفاع کرتے ہیں۔
ایسے اساتذہ نہ صرف ادارے کا فخر ہوتے ہیں بلکہ معاشرے کی حقیقی بنیاد بھی ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مفتی حافظ ظفر سلیم صاحب کو صحت، عزت، برکت اور مزید کامیابیوں سے نوازے،
ان کے علم میں اضافہ فرمائے اور ان کی خدمات کو قبولیت عطا فرمائے،
اور انہیں ہمیشہ دین و دنیا میں کامیابیوں کا ذریعہ بنائے رکھے۔
آمین 🤲
Govt. Islamia High School Jinnah Colony Faisalabad
07/03/2026
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
صفدر حسین صاحب
(EST Arts | MPhil Pakistan Studies | M.A Islamic Studies | M.A Political Science | M.Ed)
📚 تدریسی خدمات کا تجربہ: تقریباً 24 سال
🏫 گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول جناح کالونی میں جوائننگ: 10 فروری 2007
کچھ شخصیات اپنی وجاہت، سنجیدگی اور علمی وقار سے پہچانی جاتی ہیں۔ صفدر حسین صاحب بھی انہی باوقار اور پُرکشش اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر پہلی نظر میں ہی ایک سلجھا ہوا، باعلم اور ذمہ دار استاد محسوس ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت میں اعتماد بھی ہے اور شائستگی بھی ، اور یہی امتزاج انہیں منفرد بناتا ہے۔
تعلیم کے میدان میں ان کا سفر مضبوط علمی بنیادوں پر قائم ہے۔ انہوں نے MPhil مطالعۂ پاکستان، ایم اے اسلامیات، ایم اے پولیٹیکل سائنس، بی ایڈ اور ایم ایڈ جیسی اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔ یہ تعلیمی تنوع اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے مضمون میں گہرائی بھی رکھتے ہیں اور وسعت بھی۔
گورنمنٹ سیکٹر میں ان کی پہلی جوائننگ 10 فروری 2004 کو بطور ESE گورنمنٹ ایلیمنٹری اسکول 51 ج ب میں ہوئی۔ اس کے بعد گورنمنٹ پرائمری اسکول 219 ر ب فیصل آباد میں بطور ESE خدمات سرانجام دیں۔ پھر 10 فروری 2007 کو انہوں نے گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول جناح کالونی کو جوائن کیا ـ اور تب سے آج تک اسی ادارے سے وابستہ ہو کر خلوص اور دیانتداری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
بطور کلاس انچارج انہوں نے تقریباً 16 سال اسلامیہ ہائی اسکول جناح کالونی میں گزارے ہیں۔ ان کی کلاس کا رزلٹ ہمیشہ نمایاں اور قابلِ فخر رہا ہے۔ خصوصاً جن سینیئر کلاسز کو وہ اردو اور مطالعۂ پاکستان پڑھاتے ہیں، ان کے نتائج فیصل آباد بورڈ میں بھی نمایاں مقام حاصل کرتے رہے ہیں۔
ان سے پڑھنے والے طلبہ نہ صرف تعلیمی لحاظ سے مضبوط ہوتے ہیں بلکہ شخصیت کے اعتبار سے بھی سلجھے ہوئے، بااخلاق اور مہذب نظر آتے ہیں۔ یہ کسی بھی استاد کی اصل کامیابی ہوتی ہے کہ اس کے شاگرد صرف کتابی علم ہی نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی بھی سیکھیں۔
اپنے مضمون میں اتھارٹی سمجھے جانے والے صفدر حسین صاحب 2009 سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ساتھ بطور ٹیوٹر بھی وابستہ ہیں۔ یہ اعزاز ان کی علمی قابلیت اور تدریسی مہارت کا واضح ثبوت ہے کہ وہ نہ صرف اسکول کے طلبہ کو پڑھاتے ہیں بلکہ ایسے طلبہ کی بھی رہنمائی کرتے ہیں جو زندگی کے کسی بھی مرحلے میں اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
ان کی گفتگو ہمیشہ نپی تلی، مدلل اور سوچ سمجھ کر کی گئی ہوتی ہے۔ وہ غیر ضروری بات سے گریز کرتے ہیں اور اپنے کام کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے پاس بیٹھ کر اکثر کوئی نہ کوئی نئی اور مفید بات سیکھنے کو ملتی ہے کیونکہ وہ خود کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ رکھتے ہیں۔
اسلامیہ ہائی اسکول جناح کالونی میں جہاں ڈیجیٹل لرننگ کے لیے ایل ای ڈیز اسکرینز نصب ہیں، وہاں صفدر حسین صاحب ان سہولیات کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنے مضامین میں ڈیجیٹل مواد شامل کر کے طلبہ کو نہ صرف دلچسپ انداز میں پڑھاتے ہیں بلکہ تصورات کو مزید واضح اور پائیدار بناتے ہیں۔ ان کا اندازِ تدریس ایسا ہے کہ طلبہ مشکل کانسپٹس بھی آسانی سے سمجھ لیتے ہیں، اور وہ علم ان کی یادداشت میں دیرپا نقش ہو جاتا ہے۔
ایسے باوقار، باعلم اور بااخلاق استاد کسی بھی ادارے کا سرمایہ ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ صفدر حسین صاحب کو صحتِ کاملہ، عزت، وقار اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے،
ان کے علم و عمل میں برکت عطا کرے،
اور انہیں ہمیشہ طلبہ کے لیے روشنی اور رہنمائی کا ذریعہ بنائے رکھے۔
آمین 🤲
28/02/2026
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
شاہد عزیز صاحب
(SST | MSc Math Stat | M.Ed)
تدریسی خدمات کا تجربہ تقریبا 22 سال
کچھ اساتذہ اپنی سنجیدگی، وقار اور خاموش محنت سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایک ٹھہراؤ، ایک اعتماد اور ایک ایسی شرافت ہوتی ہے جو بنا کچھ کہے بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔ شاہد عزیز صاحب بھی انہی باوقار اور ہر دل عزیز اساتذہ میں سے ایک ہیں، جنہیں دیکھ کر پہلی نظر میں ہی ایک سلجھا ہوا، بااخلاق اور ذمہ دار استاد محسوس ہوتا ہے۔
تقریباً 22 سالہ تدریسی تجربے کے حامل شاہد عزیز صاحب نے 2004 میں بطور EST اپنی سروس کا آغاز گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول جناح کالونی سے ہی کیا۔ اس وقت ادارے کے پرنسپل شیخ اشفاق صاحب تھے، جنہوں نے پہلے ہی دن سے ان پر غیر معمولی اعتماد کا اظہار کیا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ شاہد عزیز صاحب نے شروع دن سے ہی اس اعتماد پر پورا اتر کر دکھایا۔
اپنے عہدے کے اعتبار سے EST ہونے کے باوجود انہیں ہائی کلاسز کا انچارج بنایا گیا۔ یہ ذمہ داری اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ محض ایک ٹیچر نہیں بلکہ ایک مکمل اور فل فلیج استاد کی حیثیت رکھتے تھے۔ اپنے مضمون پر مضبوط گرفت، کلاس پر شاندار کنٹرول اور طلبہ کو مشکل ترین کونسیپٹ آسان انداز میں سمجھانے کی صلاحیت نے انہیں میٹرک کلاسز کے لیے مخصوص کر دیا۔
2005 میں جلسہ تقسیمِ انعامات کے موقع پر انہیں “Most Regular Teacher” کا ایوارڈ دیا گیا۔ یہ اعزاز کسی رسمی کارکردگی کا نہیں بلکہ ان کی غیر معمولی حاضری اور ذمہ داری کا اعتراف تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ کبھی بلاوجہ چھٹی نہیں کرتے، اور آج بھی 22 سالہ سروس میں ان کا شمار ادارے کے سب سے زیادہ ریگولر اور کم چھٹی کرنے والے اساتذہ میں ہوتا ہے۔ یہ تسلسل خود ایک مثال ہے۔
شاہد عزیز صاحب کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ بغیر کسی لالچ کے، مکمل دیانتداری، ایمانداری اور انصاف کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ انہوں نے کبھی کسی کے لیے مشکل پیدا نہیں کی بلکہ ہمیشہ آسانی اور بہتری کا سبب بنے۔
2015 میں انہیں SST کے عہدے پر ترقی ملی اور وہ کمپری ہنسیو سکول سمن آباد تعینات ہوئے۔ تاہم 2019 میں دوبارہ اپنے ادارے گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول جناح کالونی میں بطور SST واپسی ہوئی، اور یوں ادارہ ایک بار پھر ان کی محنت، نظم و ضبط اور تجربے سے مستفید ہونے لگا۔
بطور استاد وہ ریاضی، فزکس اور سائنس کے مضامین پڑھاتے ہیں۔ ان کی کلاس میں ڈسپلن، صفائی اور ترتیب نمایاں ہوتی ہے۔ طلبہ کا یونیفارم، حاضری کا ریکارڈ، رزلٹ کی تیاری اور دیگر دستاویزات کی مینٹیننس ، ہر چیز انتہائی منظم انداز میں ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ دیگر اساتذہ بھی ان سے رہنمائی لیتے ہیں کہ وہ اتنی عمدگی سے ریکارڈ کس طرح برقرار رکھتے ہیں۔
طلبہ کے اعتماد کا عالم یہ ہے کہ اگر کسی کو میتھ یا فزکس کا کوئی پیچیدہ مسئلہ سمجھ نہ آئے تو وہ شاہد عزیز صاحب کا رخ کرتا ہے۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ان کے ایک جملے، ایک مثال یا ایک سادہ وضاحت سے مشکل سے مشکل کانسپٹ بھی واضح ہو جاتا ہے۔ یہی ایک کامیاب استاد کی پہچان ہے۔
اگرچہ وہ اپنے کام سے کام رکھنے والی شخصیت ہیں، لیکن ان کی شائستگی اور خوش اخلاقی انہیں سب کا محبوب بنا دیتی ہے۔ ان کی موجودگی میں وقار بھی ہے اور اپنائیت بھی۔ اسی لیے ادارے میں انہیں محبت سے یاد کیا جاتا ہے:
ہر دل عزیز، شاہد عزیز۔
اللہ تعالیٰ شاہد عزیز صاحب کو صحت، سکون، عزت اور مزید کامیابیوں سے نوازے،
ان کی محنت کو قبول فرمائے،
اور انہیں ہمیشہ علم کی روشنی پھیلانے کا ذریعہ بنائے۔
آمین 🤲