Ehsan Educational Resources

Ehsan Educational Resources

Share

"Ehsan Educational Resources" is a non profit organization.

"Ehsan Educational Resources" is a non profit organization and a group of professionals from different industries who collectively work towards providing Free Education to the Students who cannot afford it.

29/04/2026

بنگلہ دیش آج منگل 28 اپریل کو اپنے پہلے جوہری بجلی گھر میں یورینیم ایندھن کی بھرائی شروع کر رہا ہے، جسے کُل 2,400 میگا واٹ کی پیداواری صلاحیت والے اس نیوکلیئر پاور پلانٹ کو آن لائن کر دینے کی طرف کلیدی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ بات ڈھاکہ میں ملکی حکومت کی طرف سے بتائی گئی۔

31/03/2024

Islam

29/09/2023

نعتوں قوالیوں تقریروں تحریروں جلسے جلوسوں سے محبت حاصل نہیں ہوتی. محبت عملی کردار کا تقاضا کرتی ہے. محبوب ص کی محبت تبھی نصیب ہوگی جب محبوب جیسے کردار کے مالک بن جاؤ گے زندگی کے آخری سانس تک محبوب کے ہر حکم پر عمل کرتے رہو گے..

محبت عمل اور کردار مانگتی ہے..

شارٹ کٹ اور آسان راستے والی محبت کبھی منزل تک نہیں پہنچاتی..

مجنوں

12/09/2023

اور وہ (صرف) اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کوکھانا کھلاتے ہیں ۔(اور ان سے کہتے ہیں) ہم تمہیں خاص اللہ کی رضاکے لیے کھانا کھلاتے ہیں ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔بیشک ہمیں اپنے رب سے ایک ایسے دن کا ڈر ہے جو بہت ترش، نہایت سخت ہے۔

سورہ الدھر آیت 8 تا 10

21/04/2023
30/01/2023

پاکستان نور ہے اور نور کو زوال نہیں. پاکستان اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے. ایک وقت آئے گا جب پاکستان کی ہاں اور نہ میں اقوام عالم کے فیصلے ہوا کریں گے..

یہ تین بزرگ ہستیوں کے اقوال ہیں جن کا آجکل کچھ نام نہاد لبرلز کی جانب سے مذاق اڑایا جا رہا ہے. چودہ سو سال ہوتے ہیں کہ اس زمین پر تاریخ عالم کے سب سے عظیم لیڈر سے ان کے ساتھیوں نے عرض کیا کہ کئی دن کے فاقوں کی وجہ سے ان کی کمر میں جھکاؤ آ گیا ہے پیٹ پچک گیا ہے اور وہ سیدھے کھڑے نہیں ہو سکتے. اپنی کمر کو سیدھا رکھنے کے لیے انہوں نے اپنے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ رکھا تھا. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے شکم مبارک سے کپڑا ہٹایا تو لوگوں نے دیکھا کہ دو پتھر باندھے ہوئے تھے..

یہ مختصر سا واقعہ بتاتا ہے کہ قربانی ایسے دی جاتی ہے..جب تک کسی قوم کا عام فرد قربانی کے لیے تیار نہیں ہوگا اور قوم کا راہنما اس سے بھی دوگنا قربانی کے لیے اپنے آپ کو پیش نہیں کرے مثال قائم نہیں کرے گا تب تک کوئی قوم مشکلات کا مقابلہ کر کے ترقی کی راہ پر نہیں چل سکتی. غالباً یہ واقعہ بابا جی اشفاق احمد مرحوم سے منسوب ہے کہ ایک بار وہ چین کے دورے پر گئے. ایک چینی دانشور ان کا دوست تھا جب اشفاق صاحب اس کے گھر میں مہمان بن کر کچھ دن کے لیے ٹھہرے تو ان کے میزبان چینی نے ان کی خوب خاطر تواضع کی. اس زمانے میں چینیوں کو انتہائی غریب اور غیر ترقی یافتہ قوم سمجھا جاتا تھا. اشفاق صاحب فرماتے ہیں کہ اس خاطر تواضع کے دوران ایک بات بہت عجیب محسوس ہوئی کہ ان کا چینی دوست اور اس کے اہل خانہ اپنے لیے انتہائی کنجوسی کا مظاہرہ کیا کرتے تھے. یہاں تک کہ وہ لوگ ایک روٹی کے چار ٹکڑے کرتے اور اسی سے پیٹ بھر لیا کرتے. اشفاق صاحب کو پشیمانی بھی ہوتی کہ وہ اس قدر تنگدستی میں سے گزر رہے تھے جبکہ ان کے لیے وہ دو روٹیوں کا بندوبست کرتے. ایک دن دوپہر کے وقت دروازے کے سامنے سے ایک ٹھیلے والا خربوزے بیچتے ہوئے گزر رہا تھا. اشفاق صاحب کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں چین کا خربوزہ کھا کر دیکھتا ہوں کہ اس کا ذائقہ کیسا ہے. انہوں نے میزبان سے اپنی خواہش کا اظہار کیا. میزبان نے بچے کو گلی میں بھیجا اور ایک خربوزہ منگوا لیا. خربوزے کو کاٹ کر اشفاق صاحب کے سامنے پیش کیا گیا. خربوزہ بہت خوش ذائقہ اور لذیذ تھا. انہوں نے میزبان اور ان کے بچوں بھی اپنے ساتھ شامل کرنا چاہا لیکن انہوں نے انکار کر دیا. اشفاق صاحب نے زیادہ زور دیا تو میزبان نے نہایت ادب کے ساتھ عرض کیا کہ اس وقت چین اتنا ترقی یافتہ نہیں ہوا کہ اس کی قوم خربوزے جیسی عیاشی سے لطف اندوز ہو سکے.. پھر اس جذبے اور سوچ نے چینی قوم کو اس عروج پر پہنچا دیا جو آج ہمارے سامنے ہے،

میں کل ایک شخص کی گفتگو سن رہا تھا. وہ کسی یورپی ملک میں عرصہ دراز سے کسی یونیورسٹی میں پڑھا رہا ہے. کہنے لگا میں کچھ عرصہ پہلے پاکستان آیا تو کراچی میں اس کے دوست نے دعوت کی. کھانے کی میز پر بیٹھے تو درجنوں انواع و اقسام کے کھانوں سے میز لدی ہوئی تھی. طرح طرح کے گوشت مچھلیوں کا سالن پھل سویٹ ڈشز اور چیزیں پڑی ہوئی تھیں ان سب میں سے صرف ایک چیز پاکستانی تھی اور وہ تھے نان جو کسی قریبی تندور سے منگوائے گئے تھے.. یہاں تک کہ پینے کا پانی بھی دبئی کی کسی کمپنی کا پینے کے لیے رکھا گیا تھا..

پاکستان کو برا بھلا کہنے والوں سے ایک سوال ھے کہ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اس کے گھر میں کتنی اشیا ہیں جو غیر ملکی نہیں ہیں؟ جب آپ پانی تک غیر ملکی کمپنیوں کا پیتے ہیں اپنے پانی سے آپ کو خوف آتا ہے کہ کہیں پی کر بیمار نہ ہو جائیں حالانکہ یہی پانی پی کر ہمارے بزرگوں نے سو سو سال کی عمریں پائی ہیں تو پھر پیچھے کیا رہ جاتا ہے؟.. ہمارے حکمران طبقہ ہم سے ایک لاکھ قدم آگے ہیں ان کے گھروں میں آپ کو ایک بھی چیز ایسی نہیں ملے گی جو مقامی ہوگی..

پاکستان کو کچھ بھی نہیں ھے نہ ہی کچھ ہوگا اور نہ ہی پاکستان کہیں جا رہا ہے.. بس ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ ہم کس قدر پاکستانی ہیں.. جب تک اوپر سے لیکر نیچے تک کفایت شعاری کی عادت پیدا نہیں ہوگی تب تک ہم اسی طرح ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے اور ساتھ ساتھ پاکستان کو گالیاں دیتے رہیں گے..

ہم جس حال میں گزر رہے ہیں ہمیں اس سے نکلنے کے لیے اپنی عادات کو درست کرنا ہوگا. اس قوم نے ان شا اللہ تعالٰی دوبارہ واپس اپنے ٹریک پر واپس آنا ہے. لیکن اس سے پہلے ہمارے حکمرانوں سمیت ہم سب کو پیٹ پر پتھر باندھنے کے لیے تیار ہونا پڑے گا. اپنی بے لگام خواہشات کو لگام دینا ہوگی اور اپنے لیے کچھ اصول ضابطے بنانا ہونگے..

ڈیفالٹ ہونے سے نہ تو کوئی ملک تباہ ہو جاتا ہے اور نہ ہی کوئی قوم ختم ہو جاتی ہے. اس دنیا میں یورپ سمیت کئی ممالک کئی کئی بار ڈیفالٹ ہوئے اور پھر محنت کرکے دوبارہ واپس اپنے قدموں پر کھڑے ہو گئے. لیکن ان لوگوں نے محنت کی. لگژری رہن سہن ختم کر کے سادگی اور کفایت شعاری اختیار کی.. ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو موٹرسائیکل یا کار کی سواری چھوڑ کر سائیکل کی سواری پر آنے کے لئے تیار ہیں؟ کتنے ہیں جو مہنگی غیر ملکی اشیاء کو چھوڑ کر مقامی سستی اشیاء استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں؟ ہم میں سے ہر کوئی یہ سوچتا ہے کہ اکیلا میں ہی کیوں قربانی دوں؟ فلاں تو کفایت شعاری کے لیے تیار نہیں تو پھر میں کیوں؟..

یہ درست ہے کہ پاکستان پر اس وقت بہت ہی برا وقت آیا ہوا ہے لیکن اتنا بھی برا وقت نہیں کہ پاکستان کو خدانخواستہ کچھ ہو جائے گا.. ان شا اللہ تعالٰی کچھ بھی نہیں ھوگا. پوری قوم کو اس سے نکلنے کے لئے متحد ہونا پڑے گا اور ان شا اللہ تعالٰی یہ قوم متحد بھی ہوگی اور پھر سب کچھ دوبارہ ٹھیک بھی ہو جائے گا.

مجنوں

19/12/2022

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک)
سابق امریکی وزیر خارجہ اور یہودی اسٹریٹجسٹ ہنری کیسنجر نے ایک مقالہ تحریر کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کو مذاکرات کے ذریعے ختم کر کے ایک اور عالمی جنگ کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔
سابق امریکی وزیر خارجہ 99 سالہ ہنری کیسنجر نے اپنے ایک مقالہ میں لکھا ہے کہ 1916ء میں امریکی حکومت ڈپلومیسی کے ذریعے پہلی عالمی جنگ ختم کرا سکتی تھی لیکن اس نے اس موقع سے سیاسی دلائل کی بنیاد پر فائدہ نہیں اٹھایا۔ ہنری کیسنجر نے 17دسمبر کو دی اسپیکٹر میں ایک مقالہ لکھا جس کا عنوان ہے ’’وہ جنگ جس میں دو ایٹمی ممالک تیسرے ملک میں روایتی ہتھیاروں سے ایک دوسرے کے مقابل ہیں‘‘۔ اس مقالے میں ہنری کیسنجر نے لکھا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ اصل میں امریکہ اور روس کے درمیان جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔

ہنری کیسنجر جس صلح کے معاہدے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اس میں یوکرین نیٹو کا حصہ بنتا نظر آتا ہے کیونکہ کیسنجر کو یقین ہے کہ اب یوکرین کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے اور روس کے لئے بھی لازم ہے کہ وہ 24 فروری کی حدود تک پیچھے ہٹ جائے جبکہ جنگ کے بعد دونتسک، لوہانسک اور کریمیہ کے علاقوں پر بھی مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

ہنری کیسنجر نے مزید لکھا ہے کہ 1916ء میں پہلی عالمی جنگ کے دوران جنگ میں شامل ممالک امریکہ کی ثالثی کی کوشش میں تھے لیکن اس وقت کے امریکی صدر وڈرو ولسن نے دوبارہ کرسی اقتدار تک پہنچنے کےلئے مذاکرات کو تعطل میں ڈال دیا جس سے بہت زیادہ دیر ہوگئی اور جنگ مزید دو سال تک جاری رہی جس کا یورپ کو ناقابل تلاقی نقصان پہنچا۔

امریکی اسٹریٹجسٹ کا خیال ہے کہ اگر امریکہ بروقت اقدام کرتا تو لاکھوں افراد کی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ ہنری کیسنجر نے کہا ہے کہ یوکرین تاریخ میں پہلی مرتبہ یورپ کے مرکز میں تبدیل ہوا ہے اور روسی فوجیوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ کیسنجر نے مزید لکھا ہے کہ چین سمیت بین الاقوامی برادری روس کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کی دھمکی اور ان کے استعمال کی مخالف ہے اور اب یوکرین کے غیرجانب دار رہنے کا کوئی معنیٰ نہیں، صلح کے منصوبے میں یوکرین کو ہر حال میں نیٹو کے ساتھ جوڑنا پڑے گا۔

22/09/2022

ٹرانس جینڈر

وہ چار شہر تھے، آبادی تقریباً دس لاکھ کے قریب تھی، صبح کا وقت تھا وہ سب اپنے کام کاج میں مصروف تھے کہ اچانک بلکی سی گڑگڑاہٹ کی آواز پیدا ہونے لگی اور زمین ہلنے لگی ایسے لگا جیسے زلزلہ آ گیا ہو، لوگ اس پراسرار آواز اور پھر زمین ہلنے کی وجہ سے گھبرا کر گھروں سے باہر نکل آئے تاکہ زلزلے کے نتیجے میں مکانات اگر زمین بوس ہوئے تو وہ اپنی جان بچا سکیں پھر گڑگڑاہٹ کی آواز اور زمین ہلنا رک گئی۔

چند لمحے سکون رہا اور پھر زمین اتنی شدت سے ہلنے لگی کہ مکانات گرنے لگے لیکن لوگ چونکہ پہلے جھٹکے کے بعد گھروں سے نکل آئے تھے اس لیے مکانات کے گرنے کے باوجود بھی سب لوگ، زخمی یا ہلاک ہونے سے بچ گئے، زمین کی حرکت میں شدت آتی جا رہی تھی لیکن لوگوں نے ایک بات نوٹ کی کہ یہ زلزلہ صرف اتنے حصے میں آ رہا تھا جتنے حصے میں شہری آبادی تھی، شہر سے باہر کی سڑکیں اور راستے بالکل ٹھیک اور نارمل حالت میں تھے، جتنی جگہ پر شہر کے مکانات تھے اتنے علاقے کی زمین اردگرد سے کئی فٹ اونچی ابھر آئی تھی یوں لگ رہا تھا جیسے صرف شہر کے علاقے کے نیچے کی زمین میں بیلچہ گھسا کر اتنے علاقے کی مٹی کو نیچے والی زمین سے الگ کر دیا گیا ہو، شہر کے لوگ انتہائی خوفزدہ اور پریشان ہو چکے تھے، وہ شہر کے علاقے سے باہر بھی نہیں نکل سکتے تھے کیونکہ شہر کی زمین کافی اونچی اٹھ چکی تھی اور دونوں زمینوں کے درمیان گہری کھائی سی بن چکی تھی، ایک بار پھر گڑگڑاہٹ اور زمین کی حرکت رک گئی تھی اور پھر یوں لگا جیسے پورے شہر کی زمین کو کسی نے ہاتھ میں اٹھا لیا ہو اور زمین کے اس ٹکڑے نے جہاں شہر واقع تھا آسمان کی جانب پرواز شروع کر دی، پھر کئی کلومیٹر اوپر بلندی پر پہنچ کر زمین کے اس ٹکڑے کو الٹا کر کے زمین کی طرف پوری قوت سے پھینک دیا گیا، سارے شہر کے انسان سر کے بل تیزی سے زمین کی طرف بڑھ رہے تھے، ان کے درمیان اور نیچے زمین کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہو رہا تھا اور پھر ایک زوردار دھماکے کے ساتھ پورے کا پورا شہر اپنی آبادی سمیت زمین کے ساتھ الٹا ٹکرا گیا اور سب کچھ ملیامیٹ ہو گیا، یہ بہت تیزی اور شدت سے ہوا تھا، شہر کی ساری آبادی ایک سیکنڈ میں پس کر پاؤڈر جیسی بن گئی، کچھ افراد زندہ بچ گئے تھے لیکن وہ شدید زخمی ہو گئے تھے، انہوں نے شدید زخمی بونے کے باوجود اپنی جان بچانے کے لیے اس علاقے سے نکلنے کے لیے دوڑ لگا دی، ارد گرد ہر طرف مٹی دھول کے بادل رہ گئے تھے، مکانات مکمل طور پر مٹی کے ساتھ مٹی ہو چکے تھے پھر اچانک آسمان سے پتھروں کی برسات شروع ہو گئی اور وہ پتھر ان انسانوں کو لگنے لگے جو زخمی تھے اور جان بچا کر بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے، ایک بات بہت عجیب تھی کہ ہر ایک پتھر پر ان کے الگ الگ نام لکھے ہوئے تھے، پتھر پر جس جس کا نام ہوتا تھا وہ پتھر صرف اسی کے جسم پر گر کر اس کو کچل رہا تھا پھر وہ سب بھاگنے والے بھی مر گئے، ہر طرف خاموشی چھا گئی، صرف پانچ منٹ پہلے جہاں ہنستا بستا شہر تھا وہاں صرف دھوئیں کے بادل رہ گئے تھے اور مکمل طور پر خاموشی کا راج قائم ہو چکا تھا۔

اس پورے شہر کو اس کی زمین اور آبادی سمیت جبرئیل فرشتے نے اپنے پر کے ذریعے سے اٹھایا تھا اور پھر بلندی پر لے جا کر الٹا پٹخ دیا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے باقی شہروں کو ان کی آبادیوں سمیت اٹھا کر بلندی سے الٹا پٹخ کر تباہ کر دیا تھا، ان لوگوں کے ساتھ یہ کیا ہوا تھا؟ کیوں ہوا تھا اور یہ لوگ کون تھے؟ یہ سب لوگ بدترین عذابِ الہی کا شکار ہوئے تھے، یہ سب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم سے تعلق رکھتے تھے، یہ سب ایک ایسے گناہ کے عادی تھے جو انتہائی بدترین تھا۔

کچھ دن پہلے پاکستان کی یا کا پہلی یا پہلا ٹرانس جینڈر ڈاکٹر بن گئی یا بن گیا، اسے خوب خوب پروموٹ کیا جا رہا ہے، سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا پر یوں لگتا ہے جیسے ایک طوفان آ گیا ہو صرف ایک یہی خبر ہر طرف تیزی سے پھیلائی جا رہی ہے، ایک ایسا بہت بڑا گروہ جو پاکستان میں زیرِ زمین اور دنیا بھر میں سرعام موجود ہے ٹرانس جینڈر نامی لعنت کو عزت دار اور فطرت کے عین مطابق ثابت کرنے میں مصروف ہے۔

یہ ٹرانس جینڈر کون ہے؟ یہ ایک مکمل مرد ہے، جسمانی طور پر اس کے اندر کوئی نقص نہیں تھا، شادی کرنے اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے مالا مال تھا لیکن اس کے اندر نفسیاتی طور پر ایسی خرابی پیدا ہو گئی تھی کہ یہ لڑکیوں کی طرح ناز و ادا دکھانے لگا، یہ لڑکی تو نہیں تھا لیکن اس نے خود کو لڑکی تصور کر لیا، اس کے اندر ہم جنس پرستی کی علت پیدا ہو گئی، پاکستان میں سن دو ہزار اٹھارہ میں ایک قانون پاس ہوا جس کے تحت ایسے لوگ جو مرد ہونے کے باوجود خود کو عورت سمجھتے ہیں یا عورت خود کو مرد سمجھتی ہے وہ خود کو اپنی من پسند جنس کے طور پر پیش کر سکتے ہیں چنانچہ اس نے بھی خود کو ٹرانس جینڈر عورت کے طور پر نادرا کے آفس میں رجسٹر کروا لیا، اب یہ جسمانی طور پر مرد خود کو ذہنی طور پر عورت ثابت کر کے ٹرانس جینڈر بن چکا ہے کیونکہ اسے یہ کرنے کی آزادی اس ملک نے دی ہے اگرچہ وہ مرد ہے لیکن اگر صرف ذہنی طور پر خود کو عورت سمجھتا بے تو اسے خود کو عورت کے طور پر شو کرنے کے سب ہی حقوق ملنے چاہئیں، یہ جسمانی طور پر نارمل مرد ہے تو ہوتا رہے، اسے کاغذات میں ٹرانس جینڈر عورت کے طور پر سمجھا جائے۔

ٹرانس جینڈر کے نام سے دھوکہ نہ کھائیں، بعض لوگ ہیجڑوں کو ٹرانس جینڈر سمجھ لیتے ہیں یہ شدید غلط فہمی ہے، ان بیچاروں کو تو کوئی پوچھتا بھی نہیں، انہیں ہیجڑا کہلانے کے لیے کسی قانون کی ضرورت نہیں وہ تو جسمانی طور پر ہی ادھورے ہیں، نامکمل ہیں، انہیں تو سپریم کورٹ الگ شناخت دے چکی ہے، یہ قانون ہیجڑوں کے لیے نہیں بلکہ جسمانی طور پر نارمل مرد عورتوں کے لیے بنایا گیا ہے، یہ قانون جسمانی طور پر نارمل لیکن ذہنی طور پر نفسیاتی مریضوں کے لیے بنایا گیا ہے، پاکستان کے سب ہی ڈاکٹر چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اس قسم کے نفسیاتی افراد کا مکمل علاج موجود ہے، وہ دوبارہ ذہنی طور پر نارمل ہو سکتے ہیں تو پھر انہیں ہم جنس پرستی کی طرف راغب کیوں کیا جا رہا ہے؟

یہ نئے بننے والے قانون کی مہربانی ہے کہ جسمانی طور پر مکمل مرد خود کو عورت قرار دے کر کسی دوسرے مرد کے ساتھ شادی کر کے دونوں پھر ہم جنس پرستی کی زندگی گزار سکتے ہیں، ایسا قانون حضرت لوط علیہ السلام کی اس قوم کے اندر بھی نہیں بن سکا تھا جسے اس گناہ کی پاداش میں بدترین عذاب کا نشانہ بنا کر روئے زمین سے اس کا وجود ہی مٹا دیا گیا تھا، یہ عذابِ الہی کو دعوت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، یاد رکھیے اس قانون کے ذریعے ہم جنس پرستی جیسے عظیم گناہ کو پاکستان جیسی مسلم ریاست میں جائز قرار دے دیا گیا ہے اور سب ہی پاکستانی یا تو لاعلمی کی وجہ سے خاموش ہیں یا پھر جبراً خاموش کروا دیئے گئے ہیں، ان ہم جنس پرستوں کے لیے آسانی پیدا کر دی گئی ہے کہ جس طرح چاہیں یہ اپنے من پسند گناہ کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم میں کچھ لوگ ایسے تھے جو اس گناہ سے شدید نفرت کیا کرتے تھے، وہ لوگ آواز بھی اٹھاتے تھے، شور بھی مچاتے ہوں گے، احتجاج بھی کرتے ہوں گے، کمزور اور کم ہونے کے باوجود اپنے حصے کا کام کرتے ہوں گے، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس عذاب سے بچا لیا، وہ دنیا اور آخرت میں بھی اللہ کی پکڑ سے بچ گئے اور جنت میں اپنا گھر بنا چکے تھے، فتنوں کے لحاظ سے یہ بہت مشکل ترین وقت ہے، اب حق کی آواز بلند کرنا ناممکن بنا دیا گیا ہے، اس گناہ کا سب میڈیا والوں کو علم بے لیکن انہیں روزی روٹی کے شکنجے میں اس طرح جکڑ دیا گیا ہے کہ ان کی روحیں بھی قید ہو گئی ہیں، ضمیر مر گئے ہیں، آواز نہیں اٹھا سکتے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ گناہ کے خلاف زبانی کلامی آواز اٹھانے والوں کا ایمان دل میں برا کہنے والوں سے ایک درجہ اوپر کا ہوتا ہے، میں کوشش کرتا رہوں گا کہ اپنے آپ کو ایمان کے اس درجے پر لازمی قائم رکھوں جس میں صرف دل میں برائی کو برا نہ کہا جاتا ہو بلکہ برائی کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہو۔

یاد رکھیے اور کسی غلط فہمی میں مت رہیے کہ عذاب صرف پرانی قوموں پر ہی آیا کرتا تھا، پتھر صرف انہی پر برستے تھے، چہرے صرف انہیں کے مسخ ہوتے تھے، نہیں ایسا نہیں ہے یہ شدید غلط فہمی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک حدیث میں یہ بھی فرمایا ہے کہ جب گناہوں کا یہ عالم ہوگا تو انتظار کرو تیز آندھیوں کا، آسمان سے پتھروں کے برسنے کا، چہرے مسخ ہونے کا اور زمین میں دھنسائے جانے کا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حصے کا کام کرنے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائے، آمین.....

تحریر مجوں دیوانہ. سنہ 2021..

Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Rail Bazaar Street No
Faisalabad
38000