Taj Quran Academy

Taj Quran Academy عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھلائے۔’’

12/09/2026

*پریشانیوں اور رزق میں تنگی کا حل*
پریشانیوں اورمصائب کا حل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ و استغفار کے ذریعے متوجہ ہوں اور اپنے مسائل کا حل اللہ تعالیٰ کے حوالے کردیجیے، اور اللہ تعالیٰ کو اپنے مسائل کے حل کا وکیل بنادیجیے، اللہ تعالیٰ کبھی آپ کا سہارا نہیں چھوڑیں گے۔

پریشانیوں کے حل اور رزق میں برکت کے لیے درج ذیل ہدایات پر عمل کیجیے:

اگر نمازوں کی پابندی نہیں ہے تو پنج وقتہ نماز کا اہتمام کیجیے، نمازوں کے بعد دعائیں بھی کیجیے اور استغفارکی کثرت کریں، نیز درج ذیل اعمال کا اہتمام کریں:

1۔ سورہ واقعہ اور سورہ طارق فجر اور مغرب کے بعد ایک ایک مرتبہ پڑھنےکا اہتمام کریں۔

2۔ فجر کی نماز کے بعد ستر مرتبہ پابندی سے یہ آیت پڑھا کریں، ان شاءاللہ رزق کی تنگی ختم ہو جائے گی:

*اَللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَن يَشَاء وَهُوَ الْقَوِيُّ العَزِيزُ ( الشوري)*

3۔۔ ہر نماز کے بعد سات مرتبہ اور چلتے پھرتے درج ذیل دعا کا اہتمام کریں:

*"اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيْ بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَ أَغْنِنِيْ بِفَضْلِكَ عَنْ مَنْ سِوَاكَ"*

نیز حسبِ توفیق صدقہ نکالنے کا معمول بنالیجیے، اگر پہلے سے معمول ہے تو اسے جاری رکھیے، اور بہتر یہ ہے کہ صدقہ یا تو دینی طلبہ پر خرچ کیجیے، یا اپنے قریبی غریب رشتہ داروں پر،
اللہ رب العزت آپ کے مسائل حل فرمادیں گے۔ ان شاءاللہ تعالیٰ

عدل و انصاف زندگی کا اصول ہےاسلام ہمیں عدل و انصاف کی ایسی تعلیم دیتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہے۔گھر میں اولاد کے...
11/09/2026

عدل و انصاف زندگی کا اصول ہے

اسلام ہمیں عدل و انصاف کی ایسی تعلیم دیتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہے۔
گھر میں اولاد کے درمیان، رشتوں میں، کاروباری معاملات میں، فیصلوں میں اور روزمرہ کے برتاؤ میں،ہر جگہ انصاف کا دامن تھامنا ضروری ہے۔

اکثر ہماری پسند، ناپسند، رشتہ داری، ذاتی مفاد اور جذبات ہمیں انصاف سے ہٹا دیتے ہیں۔ مگر ایک مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے مفاد کے خلاف بھی حق اور انصاف کا ساتھ دے۔

نبی کریم ﷺ نے عدل و انصاف کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم اجر کی بشارت دی ہے۔

یاد رکھیے: کسی کے ساتھ انصاف کرنا صرف اُس کا حق ادا کرنا نہیں، بلکہ اپنے لیے اللہ کی رضا کا راستہ کھولنا ہے۔

11/09/2026
10/09/2026

*وہ استاد… جس نے تمہیں قرآن پڑھنا سکھایا تھا*
کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اپنے ماضی کے اُن دنوں کو یاد کرنا…
جب تمہارے ہاتھ میں پہلی بار قرآنِ کریم آیا تھا۔
حروف اجنبی تھے، مخارج سے زبان ناواقف تھی،
اور تم "اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ" بھی شاید درست ادا نہیں کر پاتے تھے۔
پھر ایک استاد تھا…
ایک ایسا معلم جس کے سامنے تم روز بیٹھتے تھے۔
وہ تمہاری زبان کی ہر کجی پکڑتا،
غلط حرف پر روکتا،
مخارج درست کرواتا،
ایک لفظ کو بار بار پڑھواتا…
اور تم کبھی جھنجھلا بھی جاتے تھے کہ
"استاد جی! اتنی بار کیوں پڑھوا رہے ہیں؟"
تمہیں کیا معلوم تھا کہ
وہ تمہاری زبان کو صرف الفاظ کے لیے نہیں،
اللہ کے کلام کے لیے تیار کر رہا تھا۔
وہ استاد تمہاری غلطیاں سنتا رہا…
تمہیں درست کرتا رہا…
تم آگے بڑھتے گئے،
اور وہ وہیں رہ گیا—
اپنی سادہ سی جگہ پر،
نئے بچوں کی زبانیں درست کرتے ہوئے۔
پھر وقت گزرا…
تم نے قرآن پڑھا،
اعلیٰ تعلیم حاصل کی،
بڑی بڑی ڈگریاں لیں،
دنیا میں مقام بنایا،
لوگ تمہیں عزت سے پکارنے لگے۔
مگر افسوس…!
تمہیں وہ استاد یاد نہ رہا۔
جس نے تمہاری زبان کو قرآن کے قابل بنایا،
آج تم اسی زبان سے بڑے بڑے لیکچر دیتے ہو…
مگر کبھی اُس استاد سے دو لفظ محبت کے بولنے کی فرصت نہیں ملتی۔
کبھی سوچا ہے…؟
جس دن تمہاری کامیابی پر دنیا تمہیں مبارکباد دے رہی تھی،
شاید وہ بوڑھا استاد کسی کونے میں بیٹھا
اپنے کسی نئے شاگرد کی "ر" اور "ض" درست کر رہا تھا۔
اور شاید اسے آج بھی یاد ہو
کہ تم پہلی بار قرآن کیسے پڑھتے تھے۔
تم اسے بھول گئے…
مگر ممکن ہے وہ آج بھی تمہارے لیے دعا کرتا ہو۔
اے قرآن پڑھ کر بلند مقام حاصل کرنے والے!
اپنی کامیابی کے نشے میں اپنے محسن کو مت بھول جانا۔
اپنی ڈگریوں کی الماری کے سامنے کھڑے ہو کر کبھی یہ بھی سوچنا کہ
اگر اُس استاد نے تمہاری زبان نہ سنواری ہوتی،
اگر اُس نے تمہیں قرآن کا پہلا سبق نہ دیا ہوتا،
تو شاید آج تم قرآن کی ایک آیت بھی صحیح نہ پڑھ پاتے۔
ڈگریاں تمہیں دنیا میں پہچان دے سکتی ہیں،
مگر قرآن کی پہلی درست تلاوت سکھانے والے استاد کا احسان تمہاری روح پر ہے۔
اگر استاد زندہ ہے تو آج ہی اسے فون کرو…
اس کے پاس جاؤ…
اس کے ہاتھ چومو…
اور صرف اتنا کہہ دو:
"استاد جی! میں آپ کو نہیں بھولا…
میری زبان پر آج قرآن کے جو حروف صحیح ادا ہوتے ہیں،
ان میں آپ کی محنت شامل ہے۔"
اور اگر وہ استاد اس دنیا سے جا چکا ہے…
تو ذرا آنکھیں بند کرو،
اس کا چہرہ یاد کرو،
اور دل سے کہو:
"اے میرے محسن استاد!
کاش میں نے آپ کی قدر آپ کی زندگی میں جان لی ہوتی…
آج میرے پاس الفاظ بہت ہیں،
مگر آپ کو شکریہ کہنے کے لیے
آپ میرے پاس نہیں ہیں…"
*اللّٰهم اغفر لمعلّمي، وارحمه رحمةً واسعة، واجزه عني خير الجزاء، واجعل كل حرفٍ علّمنيه في ميزان حسناته إلى يوم ألقاك۔*
*یا اللہ! میرے استاد کی مغفرت فرما،*
*ان پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرما،*
*اور قرآن کا جو حرف انہوں نے مجھے سکھایا،*
*اسے قیامت تک ان کے میزانِ حسنات میں جاری فرما۔*
استاد چلا جاتا ہے…
مگر اس کی سکھائی ہوئی ایک آیت
اس کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔

08/09/2026

حضرت آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہا اپنے ننھے بیٹے حضرت محمد ﷺ کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ گئیں، جہاں انہوں نے اپنے شوہر حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب کی قبر کی زیارت کی اور اپنے ننھیال سے ملاقات کی۔ واپسی کے سفر میں مقامِ ابواء پر وہ شدید بیمار ہو گئیں۔

اسی پرامن وادی میں انہوں نے اپنے چھ سالہ بیٹے کو سینے سے لگائے زندگی کے آخری لمحات گزارے۔ پھر وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، اور رسول اللہ ﷺ کم عمری ہی میں والد اور والدہ دونوں کی شفقت سے محروم ہو گئے۔

حضرت امِ ایمن (برکہ رضی اللہ عنہا) نے اس نازک وقت میں نبی کریم ﷺ کی دلجوئی کی، حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کی تدفین کا انتظام کیا، اور پھر آپ ﷺ کو بحفاظت مکہ مکرمہ واپس لے آئیں، جہاں آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ ﷺ کی کفالت سنبھالی۔

بعد کے زمانے میں رسول اللہ ﷺ مقامِ ابواء سے گزرے تو اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے۔ صحیح احادیث کے مطابق آپ ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی، آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اور آپ ﷺ کو روتا دیکھ کر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی آبدیدہ ہو گئے۔

یہ ایمان افروز واقعہ ہمیں والدین سے محبت، ان کی یاد، ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور نبی کریم ﷺ کی رحمت و شفقت کا درس دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین کی قدر کرنے، ان کے حقوق ادا کرنے اور رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ ﷺ. آمین۔ 🤲🤍

31/08/2026

*ایک عابد کی دعا اور رحمت کی بارش*

کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے زمانۂ مبارک میں بنی اسرائیل شدید قحط کا شکار ہو گئے۔ بارش کا نام و نشان نہ تھا، زمین خشک اور لوگ سخت پریشانی میں مبتلا تھے۔

لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:

"اے اللہ کے نبی! ہمارے لیے بارش کی دعا فرمائیے۔"

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

"سب لوگ میرے ساتھ فلاں پہاڑ کی طرف چلو۔"

چنانچہ لوگ آپ علیہ السلام کے ساتھ پہاڑ کی طرف روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

"تم میں سے جس شخص سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہے، وہ میرے ساتھ نہ رہے اور واپس لوٹ جائے۔"

یہ سنتے ہی بہت سے لوگ واپس چلے گئے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ فرمایا:

"جس سے کبھی کوئی گناہ ہوا ہو، وہ بھی واپس چلا جائے۔"

اس مرتبہ بھی سب لوگ واپس لوٹ گئے۔ صرف ایک شخص باقی رہ گیا، جس کا نام بَرَخ بیان کیا جاتا ہے اور جس کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی تھی۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سے فرمایا:

"کیا تم نے میری بات نہیں سنی؟"

اس نے عرض کیا:

"جی ہاں، میں نے آپ کی بات سنی ہے۔"

آپ علیہ السلام نے فرمایا:

"کیا تم سے کبھی کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا؟"

اس نے عرض کیا:

"ایک واقعہ مجھ سے ضرور ہوا ہے۔ میں وہ آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں۔ اگر وہ گناہ ہے تو میں بھی واپس چلا جاؤں گا۔"

اس نے بتایا:

"ایک مرتبہ میں ایک ایسے گھر کے قریب سے گزرا جس کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اچانک میری نظر اندر موجود ایک شخص پر پڑی۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ مرد تھا یا عورت۔ جب مجھے احساس ہوا کہ میری نظر ایک نامناسب چیز پر پڑ گئی ہے تو میں نے اپنی آنکھ سے کہا:

اے آنکھ! تو نے غلط کام میں جلدی کی، اب تو میرے ساتھ نہیں رہ سکتی۔

چنانچہ میں نے اپنی وہ آنکھ نکال دی۔ اگر میرا یہ دیکھنا گناہ تھا تو میں واپس چلا جاتا ہوں۔"

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

"تمہارا یہ عمل گناہ نہیں، بلکہ تم نے اپنی نظر کی حفاظت کی ہے۔ اب تم ہی اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کرو۔"

یہ سن کر اس عابد نے ہاتھ اٹھائے اور نہایت عاجزی سے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا:

"یا قدوس! یا قدوس! تیرے خزانوں میں کوئی کمی نہیں۔ اگر تو عطا فرمائے تو تیرے خزانوں میں کوئی کمی نہیں آتی۔ میرے مولا! تو بخل سے پاک ہے، اور تجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ اے ہمارے رب! ہمیں اپنی رحمت کی بارش سے سیراب فرما۔"

ابھی اس کی دعا مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ اچانک رحمت کے بادل برسنے لگے۔ 🌧️

خشک زمین سیراب ہوگئی، ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیا اور قحط کا خاتمہ ہونے لگا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور وہ عابد بارش میں بھیگتے ہوئے واپس لوٹ آئے۔

سبق:
ہمیں اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اصل قدر اخلاص، تقویٰ، گناہوں سے بچنے اور اللہ کے سامنے عاجزی کی ہے۔ کبھی انسان کی ایک سچی توبہ، ایک خالص عمل اور ایک دل سے نکلی ہوئی دعا رحمتِ الٰہی کے دروازے کھول دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اخلاص، پاکیزگیِ نظر، سچی توبہ اور قبول ہونے والی دعاؤں کی دولت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

منقول

*حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سخاوت* حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ...
30/08/2026

*حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سخاوت*

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کچھ مانگنے حاضر ہوا تو آپ نے مجھے منع کر دیا، پھر حاضر ہوا، پھر منع کر دیا۔ تو میں نے عرض کیا کہ یا تو آپ مجھے عطا فرمائیں یا میں سمجھوں گا کہ آپ مجھ پر بخل کر رہے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ بخل سے بری کون سی بیماری ہو سکتی ہے؟ بات یہ ہے کہ جب تم مجھ سے مانگنے آئے تو میں نے تمہیں ایک ہزار دینے کا ارادہ کیا تھا۔ چنانچہ آپ نے مجھے تین ہزار گن کر عنایت فرمائے۔
(مکارم الاخلاق، ص: 226)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے ہمیں صدقہ کا حکم دیا۔ اس وقت میرے پاس مال تھا، چنانچہ میں نے سوچا کہ آج تو میں حضرت ابوبکر سے سبقت لے جاؤں گا۔ چنانچہ میں آدھا مال لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: عمر! گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟ میں نے عرض کیا: آدھا چھوڑ کر آیا ہوں۔

حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت ابوبکر اپنا کل مال لے کر حاضر ہوئے، اور آنحضرت ﷺ کے پوچھنے پر جواب دیا کہ میں نے اپنے گھر والوں کے لیے صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو چھوڑا ہے۔ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر سے کہہ دیا کہ اب آئندہ میں آپ سے سبقت لے جانے کا مقابلہ کبھی نہیں کروں گا۔
(الترغیب والترہیب، مکارم الاخلاق، ص: 387)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تو چالیس ہزار درہم کے مالک تھے۔ یہ ساری رقم اللہ کے راستے میں خرچ کر دی اور بہت سے غلاموں کو خرید کر آزاد کیا، جن میں حضرت بلال اور حضرت عامر بن فہیرہ جیسے جلیل القدر حضرات شامل ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: کسی مال نے مجھے اتنا نفع نہیں پہنچایا جتنا مجھے ابوبکر کے مال نے نفع پہنچایا ہے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر رونے لگے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اور میرا مال تو صرف آپ ہی کے لیے ہے۔

27/08/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
تمام احباب کیسے ہیں ۔

یہ شام کا بُصرٰی ہے!بُصرٰی محض شام کا ایک قدیم شہر نہیں، بلکہ سیرتِ نبوی ﷺ میں ایک عظیم اور بابرکت مقام رکھتا ہے۔ اس شہر...
24/08/2026

یہ شام کا بُصرٰی ہے!

بُصرٰی محض شام کا ایک قدیم شہر نہیں، بلکہ سیرتِ نبوی ﷺ میں ایک عظیم اور بابرکت مقام رکھتا ہے۔ اس شہر کا تذکرہ رسولِ اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت، آپ ﷺ کے سفروں، نبوت کی بشارت، قیامت کی نشانیوں اور جنت کے بیان جیسے اہم واقعات کے ضمن میں ملتا ہے۔

۱۔ ولادتِ نبوی ﷺ اور بُصرٰی

رسولِ اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر بُصرٰی کے محلات، بازار اور وہاں موجود اونٹوں کی گردنیں ایک نور سے روشن ہوگئیں۔ امّ المؤمنین حضرت آمنہ بنت وہبؓ سے بھی اس واقعے کے بارے میں روایت منقول ہے، جبکہ خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’میری والدہ نے مجھے جنم دیتے وقت دیکھا کہ ان سے ایک نور ظاہر ہوا، جس سے شام کے شہر بُصرٰی کے محلات روشن ہوگئے۔‘‘

ایک روایت میں ’’جب وہ مجھے حمل میں لیے ہوئے تھیں‘‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔

حضرت آمنہؓ فرماتی ہیں:

’’میں نے ایسا نور دیکھا، گویا وہ ایک ستارہ تھا جو مجھ سے نکلا اور اس نے بُصرٰی میں اونٹوں کی گردنیں روشن کردیں۔‘‘

ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس نور سے شام کے محلات اور بازار روشن ہوگئے، یہاں تک کہ بُصرٰی میں موجود اونٹوں کی گردنیں بھی دکھائی دینے لگیں۔

۲۔ رسول اللہ ﷺ کی بُصرٰی آمد

یہ مقدس شہر اس سعادت سے بھی مشرف ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں یہاں قدم رنجہ فرمایا۔ مشہور روایات کے مطابق آپ ﷺ کم از کم دو مرتبہ بُصرٰی تشریف لائے۔

پہلی مرتبہ آپ ﷺ اپنے چچا حضرت ابو طالب کے ساتھ یہاں آئے۔ اس وقت آپ ﷺ کم سن تھے۔ بعض روایات میں آپ ﷺ کی عمر نو سال اور بعض میں بارہ سال بیان کی گئی ہے۔

دوسری مرتبہ آپ ﷺ حضرت خدیجہؓ کے غلام میسرہ کے ساتھ تشریف لائے۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر مبارک پچیس برس تھی۔

۳۔ بُصرٰی میں بحیرٰی راہب اور نبوت کی بشارت

بُصرٰی ہی میں رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی علامات کو ایک اہلِ کتاب عالم، بحیرٰی راہب نے پہچانا۔ اس نے سابقہ آسمانی کتابوں میں محفوظ علامات کی روشنی میں آپ ﷺ کے اندر وہ نشانیاں دیکھیں جن کی خبر ان کتابوں میں دی گئی تھی۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’وہ اس نبی کو اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الأعراف، آیت 157)

کہا جاتا ہے کہ بحیرٰی اسی خانقاہ سے باہر نکلا جس کے آثار تصویر میں کھجور کے درخت کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔ وہ عام طور پر کسی کے استقبال کے لیے باہر نہیں آتا تھا، لیکن جب اس نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو آپ ﷺ میں نبوت کی علامات پہچان لیں۔

اس نے آپ ﷺ کے چچا حضرت ابو طالب سے کہا کہ وہ آپ ﷺ کو واپس لے جائیں اور آپ ﷺ کی حفاظت کریں، کیونکہ یہ آخری زمانے کے نبی ہیں۔ اس نے آپ ﷺ کی پشتِ مبارک پر مہرِ نبوت دیکھی، درختوں اور پتھروں کے آپ ﷺ کی آمد سے پہلے جھکنے کی علامات دیکھیں، بادل کو آپ ﷺ پر سایہ فگن پایا اور یہ بھی دیکھا کہ درخت کا سایہ آپ ﷺ کی جانب مائل ہے۔

اس نے آپ ﷺ کے والد اور والدہ کے بارے میں پوچھا تو اسے بتایا گیا کہ دونوں وفات پاچکے ہیں۔

پھر اس نے لات اور عُزّیٰ کے نام پر آپ ﷺ سے سوال کرنا چاہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’مجھے لات اور عُزّیٰ کے بارے میں کچھ نہ پوچھو، اللہ کی قسم! مجھے ان دونوں سے زیادہ کسی چیز سے بغض نہیں ہوا۔‘‘

یہ سن کر بحیرٰی کو یقین ہوگیا کہ یہی وہ ہستی ہیں جن کی علامات کا ذکر سابقہ کتابوں میں موجود ہے۔ وہ تمنا کرنے لگا کہ کاش اسے اس عظیم نبی ﷺ کی بعثت کا زمانہ نصیب ہوجائے۔

شاعر نے اس کیفیت کو یوں بیان کیا ہے:

لما رآه بحيرا قال نعرفه
بما حفظنا من الأسماء والسيم

’’جب بحیرا نے انہیں دیکھا تو کہا:
ہم انہیں ان ناموں اور نشانیوں سے پہچانتے ہیں جو ہم نے محفوظ کر رکھی ہیں۔‘‘

۴۔ حجاز کی عظیم آگ اور بُصرٰی

بُصرٰی کا تعلق ایک اور حیرت انگیز واقعے سے بھی ہے۔

سنہ ۶۵۴ ہجری میں مدینہ منورہ کے قریب ایک عظیم آتش فشاں نما آگ ظاہر ہوئی۔ اس آگ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی منقول تھی کہ وہ اتنی نمایاں ہوگی کہ بُصرٰی میں اس کی روشنی سے اونٹوں کی گردنیں دکھائی دیں گی۔

جب یہ واقعہ پیش آیا تو لوگوں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس کے حالات روایت کیے اور مؤرخین نے اسے اپنی کتابوں میں محفوظ کیا۔ یہاں تک بیان کیا گیا ہے کہ بُصرٰی میں اس آگ کی روشنی میں تحریریں لکھی گئیں اور اس واقعے کی خبر مدینہ تک بھی پہنچائی گئی۔

یوں بُصرٰی ان مقامات میں شامل ہوگیا جہاں رسول اللہ ﷺ کی بیان کردہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کا ظہور دیکھا گیا۔

۵۔ جنت کے بیان میں بُصرٰی

بُصرٰی کا تذکرہ صرف دنیا کے تاریخی واقعات تک محدود نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے جنت کی وسعت بیان کرتے ہوئے بھی اس شہر کا ذکر فرمایا۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے! جنت کے دو دروازوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور ہَجَر کے درمیان، یا مکہ اور بُصرٰی کے درمیان ہے۔‘‘

گویا بُصرٰی کا نام اس دنیا کی تاریخ ہی میں نہیں، بلکہ اہلِ ایمان کے ابدی گھر، جنت کی وسعت کے بیان میں بھی رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے آیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بُصرٰیِ شام ایک ایسا شہر ہے جس کے گلی کوچوں میں تاریخِ اسلام کی کئی عظیم یادیں سانس لیتی ہیں؛ یہاں رسول اللہ ﷺ کی ولادت کے نور کی جھلک کا ذکر ملتا ہے، آپ ﷺ کے قدموں کی آمد کا تذکرہ ہے، نبوت کی علامات کی گواہی ہے، ایک عظیم پیش گوئی کے ظہور کی یاد ہے اور جنت کی وسعت بیان کرتے ہوئے بھی اس کا نام آتا ہے۔

بُصرٰی محض ایک شہر نہیں؛ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔

#المولدالنبوي

Address

Faisalabad
38000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Taj Quran Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share