Momentzz of Living

Momentzz of Living

Share

“Live in the present and make it so beautiful that it will be worth remembering.” Ida Scott Taylor

05/11/2021

ہم ملیں گے کہیں
کسی بَار میں
اپنی باقی بچی عمر کی پامالی کے جام ہاتھوں میں پکڑے ہوئے
اور ایک ہی گھونٹ میں یہ سیّال اندر اتارتے ہوئے..!
ہم ملیں گے..!
عمار

18/06/2021

ایک کمپنی کے ڈائریکٹر نے جنرل میٹنگ میں ایک لطیفہ سنایا. سب قہقہے لگانے لگے سوائے ایک کے. ڈائریکٹر نے اس سے پوچھا " لگتا ہے آپ کو جوک سمجھ نہیں آیا."؟ اُن صاحب نے کہا سمجھ تو آگیا لیکن چونکہ میں آج صبح اپنا استعفیٰ دے چکا ہوں تو ہنسنے پر اب مجبور نہیں ہوں.

مزاح یا ذوق لطیف کا مسئلہ الگ ہے. یہ آپ کے ذوق اور تعلق پر آپ کو ایک خوشگوار تاثر دیتا ہے. لیکن گالی یا برے الفاظ کا مسئلہ بلکل الگ ہوتا ہے. آپ کا تعلق جیسا بھی ہو آپ اسے محسوس کرتے ہیں.

دُنیا کی ہر زبان میں گالیاں بھی ہیں اور برے الفاظ بھی. کیونکہ ہر انسان میں غصہ نفرت بغض حسد کینہ جیسے جذبات ہوتے ہیں. کچھ ان کو اظہار بنا لیتے ہیں. کچھ کنٹرول کر لیتے ہیں. زبان کی لغت دونوں کا مطلب اور ریکارڈ رکھ لیتی ہے. لیکن یہ کلچر نہیں ہوتا بلکہ کسی فرد کے ذوق اور شخصیت کی انفرادی پہچان ہوتی ہے. کچھ الفاظ گالی نہ ہوتے بھی کسی ایک معاشرے میں گالی بن جاتے ہیں. جیسے سیاستدان کسی معاشرے کا معزز فرد ہوگا لیکن ہمارے ہاں یہ اپنی گفتگو اپنے معیار پر تقریباً گالی بننے کے قریب ہیں.

بابا بلھے شاہ نے کہا تھا.
"برے بندے نوں میں لبن ٹریا پر برا لبا نہ کوئی"
"جد میں اندر جھاتی پائی تے مے توں برا نہ کوئی "تو وہ جو گالی کو پنجابی زبان کا کلچر سمجھتے ہیں ہم چونکہ ان کی سیاست سے مستعفی ہو چکے تو ہمیں نہ ان پر اب ہنسی آتی ہے نہ غصہ. لیکن ایک مشورہ ہے کہ زبان کا کلچر نہیں آپ اپنا ذاتی کلچر ضرور چیک کر لیں.

ریاض علی خٹک

16/06/2021

لوگوں كیلئے آسانیاں پیدا كرو تاكہ تمهارا رب تمهارے لئے آسانیاں پیدا کرے۔
اللہ آپکو ڈھیروں خوشیاں اور آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین

15/06/2021

سفر کا آغاز ہوتے ہی پہلا چندہ پی آئی اے نے وصول کیا۔ لاہور سے کراچی پی آئی اے کی فلائٹ ہے۔ کراچی سے ماسکو قطر ائیر ویز کی۔ آج تلک میرے ہینڈ کیری کیمرا بیگ کو کسی نے نہیں تولا۔ آج لائف میں پہلی بار پی آئی کا بورڈنگ پاس لیتے کہا گیا کہ ذرا بیگ کا وزن تو کروایں۔ اصولی و قانونی طور پر بات درست تھی۔ وزن کروایا تو 14 کلو نکل آیا۔ فرمایا گیا کہ 7 کلو کی اجازت ہے باقی کے پیسے دے دیں یا پھر سیٹ کو اپ گریڈ کر کے فرسٹ کلاس کر لیں تو اس میں یہ بیگ لے جانے کی اجازت ہے۔ حساب کتاب لگایا تو معلوم ہوا کہ اضافی وزن کے پیسے 3200 بن رہے ہیں اور کلاس اپ گریڈ کے 5000۔ چنانچہ کلاس اپ گریڈ کروا لی گئی۔

چلنے لگا تو من میں آیا کہ قومی ائیر لائن کے عملے کا شکریہ ادا کر دوں کہ زندگی میں پہلی بار وہ بمطابق بک عمل کر رہے ہیں اور یہ اچھی بات ہے۔ میں نے کہا " شکریہ آپ کا۔ آپ کی وجہ سے ہی پی آئی اے کا خسارہ 14 ارب سے کم ہو کر صرف 69 کروڑ رہ گیا ہے"۔ عملے نے سن کر مسکراہٹ پیش کی۔

قومی ائیر لائن کو لوگوں نے نیو خان بس سروس سمجھ رکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ لوگ 2 بیگز بھی لئے کیبن میں گھس رہے ہوتے ہیں اور اس سے قبل کوئی خاص چیکنگ بھی نہ ہوتی تھی۔ پی آئی اے کی سروس جیسے تیسے بھی ہے، مانا کہ اپ ٹو ڈیٹ نہیں نہ ہی دوسری ائیرلائنز کے مقابلے میں اتر سکتی ہے مگر جو بھی ہے ، ہے تو قومی۔ اندرون ملک سفر کرتے میں نے ذاتی طور پر قومی ائیر لائن کے نامساعد حالات کے باوجود اور کبھی کبھی دیگر ائیرلائن کی ٹکٹ سستی ہونے کے باوجود بھی پی آئی اے کو ترجیح دی ہے۔ وجہ صرف یہ کہ اس سے رومانس کا رشتہ ہے۔ جیسی تیسی ہے قومی تو ہے ناں۔
سید مہدی بخاری

14/06/2021

‏بتایا جاتا ہےکہ41 ڈگری سینٹی گریڈ ٹمپریچر ہے۔ ساتھ لکھا ہوتا ہے 49Ć feel like۔ اس کا کیا مطلب ہوا؟
مثال کے طور پر آپ کی اپنے والد صاحب سے کسی بات پر بےعزتی ہورہی ہو اور اوپر سےکوئی رشتہ دار آجائے،تو ہونے والی بے عزتی کا تناسب تو وہی رہےگا مگر اسکو محسوس کرنےکی شدت بڑھ جائے گی۔ 😂😂🤣🤣
منقول

14/06/2021

الہلال سوسائٹی کے عظیم انسان محمد حنیف صاحب سے ملیےـ

الہلال سوسائٹی کے ایک چھوٹے سے پارک میں صبح فجر کے بعد واک کرتے ہوئے میں نے ان موصوف کے ہاتھ میں ایک لیٹر والی پانی کی بوتل دیکھی۔ وہ ہر پھیرے میں کسی ایک پودے کو پانی دیتے اور پھر آگے بڑھ جاتے ۔ آگے جا کر پانی کی بوتل بھرتے اور پھر کسی پودے کو سینچ دیتے ۔

یہ سب کچھ مجھے عجیب سا لگا تو میں نے پوچھ ہی لیا کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں ؟ حنیف صاحب نے بتایا کہ پارک کا پانی دینے والا پائپ ختم ہوگیا ہے، سرکار کے پاس نیا پائپ خریدنے کے پیسے نہیں ۔ مالی تن آسان ہو گئے ہیں، وہ بھی پانی نہیں دیتے ۔تمام پودے سوکھ گئے تھے لہذا میں نے پودوں کو بچانے کی یہ راہ نکالی ۔ ہر روز ہر پودے کو اپنے ہاتھوں سے پانی ۔ الحمدللّٰہ اب سب پودے ہرے ہوگئے ہیں ۔

پودوں سے یہ محبت اور انہیں زندہ و شاداب رکھنے کے لیئے جو جتن حنیف صاحب نے کیئے اور کر رہے ہیں اس پر دل سے ان کے لیئے دعائیں نکلیں ۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے دس بقراطی طریقے ہو سکتے ہیں مگر قابل تحسین بات یہ ہے کہ انہیں جو سجھائی دیا انہوں نے وہ کر دیا ۔ میں بھی تو انہی کے ساتھ واک کر رہا تھا مگر مجھے تو یہ توفیق نہیں ہوئی ۔ سچ یہ ہے کہ سر راہ لوگ ملتے ہیں اور ہمیں شرمندہ کرکے چلے جاتے ہیں ۔

مجھے حنیف صاحب ان سینکڑوں لوگوں سے زیادہ اچھے لگے جو تصور کی کھیتی میں ہر روز لاکھوں پودے لگاتے ہیں مگر ان کے پودے نہ نمو پاتے ہیں نہ وجود ۔
بشکریہ:- پاکستان رنگ
Copied

10/06/2021

😂😂 Tag ur best friend 😜

08/06/2021
05/06/2021

پی آئی اے من موجی ائیرلائن ہے۔ دل مانے تو چلتی ہے۔ دل نہ مانے تو تاخیر سے چلتی ہے۔ گذشتہ روز کراچی سے اسلام آباد کی فلائٹ ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر کا شکار ہوئی۔ میں ائیرپورٹ پر آتے جاتے لوگوں کی شکلیں دیکھ کر بڑی مشکل سے وقت گزارتا رہا۔ جب شام 7 کی فلائٹ پر بلآخر رات ساڑھے آٹھ بجے چیک ان شروع ہوا تو یہ انکشاف ہوا کہ جہاز چونکہ تاخیر سے پہنچا تھا لہذا اس کی صفائی وغیرہ پر دھیان نہیں دیا گیا۔ نیو خان بس سروس جیسی ہی صفائی تھی۔ ریپرز اور منرل واٹر کی خالی بوتلیں جہاز کے فرش پر لڑھک رہی تھیں۔

فلائٹ فل پیک تھی۔ ایک نشست بھی خالی نہ تھی۔ سامان کے کیبن لوگوں نے اپنے دستی سامان سے مکمل بھر دیئے تھے۔ میری نشت سب سے آگے تھی جو پی آئی اے کی فرسٹ کلاس کہلاتی ہے حالانکہ رتی برابر فرق بھی نہیں۔ صرف یوں ہے کہ پہلی چار نشستیں ایک الگ سے کیبن میں ہیں اور جہاز پر قدم دھرتے ہی آ جاتی ہیں۔ باقی بیچ میں پی آئی اے کا سٹاف پردہ لگا کر ان وی آئی پیز نشستوں کو باقی جہاز سے اپنے تئیں الگ کر کے الگ تصور کرتا ہے۔ میرے برابر ایک نشست خالی تھی۔ میری نشست کھڑکی کے پاس تھی۔ ایک صاحب راہداری والی نشست پر بیٹھے تھے۔ عمر ان کی ہو گی لگ بھگ 45 سے 50 کے بیچ۔

کیبن کریو کسی مسافر کا دستی سامان کیبن میں ایڈجسٹ کرنے کو آیا۔ یہ ایک ہینڈسم سے پچاس پچپن سالہ آدمی تھے۔ انہوں نے کیبن کھولا۔ اس میں جگہ بنانے کو اس میں دھرا ایک ڈبہ سا باہر نکالا تا کہ مسافر کا بیگ ایڈجسٹ کر کے پھر یہ ڈبہ بھی ایڈجسٹ کر دیا جائے۔ جیسے ہی انہوں نے ڈبہ نکالا میری قطار میں ایک سیٹ چھوڑ کر بیٹھے صاحب اچانک سیخ پا ہو گئے۔ یکایک وہ اونچی چلائے۔ انگریزی زبان میں کہنے لگے " یہ بہت مہنگا کیک کا ڈبہ تھا۔ میں نے خود ایڈجسٹ کیا۔ تم نے کیک خراب کر دیا ہے سارا۔ ہاو ڈئیر یو ؟ "۔ کیبن کریو نے انتہائی شائستہ لہجے میں جواب دیا کہ سر کیک کو کچھ نہیں ہوا۔ نہ اس کا ڈبہ خراب ہوا ۔ آپ بے فکر رہیں میں نے احتیاط سے ہی کیبن سے باہر نکالا ہے مگر وہ صاحب کوئی English Bulley تھے۔ انہوں نے انگریزی زبان میں بدتمیزی کرتے ہوئے جھاڑ پلا دی " تم جیسے لوگوں کی وجہ سے کوئی پی آئی اے میں سفر نہیں کرتا۔ اوقات ہی نہیں تم لوگوں کی ایسی۔ جیسے جہاز ویسا ہی بدتمیز عملہ۔ تم کو پتا بھی ہے یہ کتنا مہنگا کیک ہے ؟"۔

وہ صاحب نان سٹاپ برسنے لگے۔کیبن کریو ان سے معذرت در معذرت کرتا رہا مگر ان کی زبان بند ہی نہیں ہو رہی تھی۔ مسافروں کی توجہ بھی ان صاحب کے چیخنے چلانے کے سبب اس جانب ہو گئی۔ ایک دوسرے کیبن کریو نے کیبن کا پردہ لگا دیا تا کہ پیچھے بیٹھے مسافر آگے نہ جھانک سکیں۔ مجھے یہ سن کر بہت تپ چڑھی۔ ایک تو بندہ اپنے سے بڑے کے ساتھ بدتمیزی کر رہا تھا وہ بھی ایک کیک کے لئے ، دوسرا یہ english bullying والے لوگ مجھے ذاتی طور پر شدید ناپسند ہوتے ہیں۔ جب ان کی بکواس حد سے بڑھ گئی تو میرا صبر جواب دے گیا۔

میں نے ان صاحب کو مخاطب کرتے کہا " بھائی جان !!! کیبن کریو معذرت کر رہے ہیں۔ اب آپ بھی چپ ہو جائیں۔ مانا کہ قومی ائیر لائن کی سروس اپ ٹو مارک نہیں مگر آپ کو کسی نے مجبور تھوڑی کیا تھا کہ اس ائیر لائن کی ٹکٹ لیں ؟۔ آپ برائے مہربانی بیٹھ جائیں آپ کا کیک محفوظ ہے اسے کچھ نہیں ہوا" ۔۔۔ بس یہ کہنا تھا کہ وہ صاحب پلٹے اور مجھے بولے " don't try to interrupt me mr. I am not talking to you. You should shut your mouth" ۔ یہ تو اب ون ٹو ون میرے سے پنگے والی بات ہو گئی۔ میں نے پھر بھی ان کی عمر کا لحاظ رکھتے مودبانہ کہا " محترم ، آپ بھرے جہاز میں ایک تو اونچا چلا رہے ہیں، دوسرا آپ کا لہجہ مناسب نہیں ہے۔ آپ ٹھنڈا پانی پئیں اور کچھ دیر سکون کریں"۔ انہوں نے پلٹ کر اب کے کیا ہی روایتی جواب دیا " مسٹر، یو ڈونٹ ناو می۔ اوکے۔ سو شٹ اپ" ۔۔

یہ سنتے ہی اب تو فرض ہو گیا تھا کہ ساری مروت و لحاظ سائیڈ پر رکھو اور اس کو اسی کی زبان میں جواب دو۔ میں نے انہیں از رہ طنز کہا " اچھا ؟؟ آپ کرنل کی بیوی ہیں یا جنرل رانی ؟ یا آصف غفور ؟ یا تاجی کھوکھر ہو ؟ یا اجمل پہاڑی ہو ؟۔ تم جو بھی ہو مجھے جان کر کیا لینا ہے ؟ زیادہ خون جوش مار رہا ہے انکل تو جہاز سے نیچے اتر کر فیصلہ کر لیتے ہیں پہلے کہ کون کیا ہے۔ میرے بس میں ہوتا تو تم جیسوں کو آف بورڈ کر دینا چاہیئے جنہیں کسی دوسرے سے بات کرنے کی تمیز بھی نہ ہو" ۔

میرا جواب سن کر کیبن کریو آگے بڑھے ایک دوسرا کیبن کریو بھی آیا اور ایک ہوسٹس بھی آ گئیں۔ تینوں نے مل کر مجھے عرض کہ سر آپ پلیز چپ کر جائیں۔ میں خاموش ہو گیا۔ میرے چپ ہوتے ہی وہ صاحب مسلسل بولتے رہے اور انگریزی میں اول فول بکتے رہے۔ میں برداشت کرتا رہا کہ یہاں کیا تماشہ لگاوں اس کا کہیں باہر ہوتا جہاز سے تو یاد کرتا کہ بدتمیزی کی سزا کیا ہوتی ہے۔ کیبن کریو نے کاک پٹ میں جا کر شکایت کی یا کیپٹن کو ماجرا سنایا ہو گا۔ کیپٹن صاحب آئے۔ فیصل جنجوعہ نام تھا ان کا۔ وہ بھی پچاس سال کے قریب ہوں گے۔ انہوں نے آتے ہی اس بدتمیز شخص کو کہا " پلیز آپ سامان لیں اپنا اور جہاز سے باہر تشریف لے جائیں"۔ ساتھ ہی سیکیورٹی کو کہا کہ ان کو آف بورڈ کریں۔

یہ سنتے ہی وہ بدتمیز انسان پھر چیخنے لگا۔ دو سیکیورٹی اہلکار اندر آئے اور اس کو کہا کہ سر آپ ساتھ چلیں اور کیپ کوائٹ۔ پی آئی اے کو کوستے، عملے کو کوستے اس نے کیبن سے اپنا بیگ نکالا۔ کیک کا ڈبہ اٹھایا اور سیکیورٹی اہلکار اسے لے کر باہر نکل گئے۔ اللہ کرے اس کی کوئی "خاطر مدارت" بھی ہوئی ہو۔ اول نمبر کا بدتمیز ترین انسان تھا۔

ہمارا من الحیث القوم یہ مسئلہ ہے کہ جس شخص کے پاس تھوڑی دولت، کچھ اختیار یا تھوڑے وسائل آ جاتے ہیں وہ دنیا کو زر خرید غلام سمجھنے لگتا ہے۔ ایسے انسان روئے زمین پر چلتا پھرتا بوجھ ہوتے ہیں۔ بدتمیزی کی اجازت کسی شخص کو نہیں۔ مانا کہ ائیر لائن میں یا سٹاف میں سو خرابیاں ہوں گی مگر یہ اجازت کسی کو نہیں کہ وہ ون ٹو ون بدتمیزی پر اتر آئے۔ اور یہ مسئلہ صرف یہیں تک نہیں۔ بدتمیزی ایک لعنت ہے اور اس کا شکار شخص ہر جگہ، ہر مقام پر لعنتی کردار جیسا ہی ہوتا ہے۔ چاہے وہ جہاز کا فرسٹ کلاس پسنجر ہو یا ریل کے تھرڈ کلاس ڈبے کا مسافر، چاہے صاحب ثروت ہو یا غریب، چاہے سوشل میڈیا پر ایکٹویسٹ ہو یا لکھاری، وہ کوئی بھی ہو۔ بدتمیز صرف و صرف بدتمیز ہے۔
سید مہدی بخاری

04/06/2021

پچھلے دنوں فوڈ پانڈا کے ساتھ کچھ عرصہ کام کرنے والے ایک دوست دفتر آئے ہوئے تھے۔ (فیس بک فرینڈ لسٹ میں موجود ہیں) بتانے لگے کئی ریسٹورنٹس والے فوڈ پانڈا ڈیلیوری بوائز کے ساتھ بڑا ناروا سلوک کرتے ہیں۔ کسی نے واش روم استعمال کرنا ہو تو اجازت نہیں دیتے۔ ٹھنڈا پانی نہیں پینے دیتے وغیرہ وغیرہ۔
آج یہ تصویر نظر سے گزری تو یہ ملاقات یاد اگئی۔
فوڈ پانڈا بوائز کو فی ڈیلیوری شاید چند روپے ملتے ہیں۔ یہ نوجوان غلط طریقے سے پیسے کمانے کی بجائے شدید گرمی، سردی میں محنت کرتے ہیں اور روزی کماتے ہیں۔کھانا آپ کی دہلیز پر پہنچاتے ہیں۔ کوشش کریں اگر ممکن ہو سکے تو کچھ بہتر ٹپ دیا کریں اور اگر کوئی ریسٹورنٹ ایسی نامناسب پابندی لگاتا ہے اور آپ کی نظر سے گزرے تو ان سے ریکویسٹ کریں کہ اس طرح نہ کریں۔
طاہر چوہدری

04/06/2021

Aap ki favourite team konsi hy?








Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Faisalabad